دوستو، میری عمر 28 سال تھی، قد اچھا اور شکل و صورت بھی اچھی تھی۔ ہمارے باپ نے دوسری شادی تب کی جب میری عمر 28 سال، اور میری بڑی بہن عظمیٰ کی عمر 33 سال تھی، اور پھر سب سے چھوٹی بہن ثانیہ جس کی عمر 24 سال تھی، اور ہم سب غیر شادی شدہ تھے۔ ہمارا گھر ایک مذہبی گھر سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ہمارے باپ ایک مسجد کے امام تھے اور یہ گھر بھی مسجد کی طرف سے ملا ہوا تھا۔
ہمارے پاس 3 کمرے تھے۔ مگر باپ نے اپنی شادی ایک جوان لڑکی سے کر لی جو ہماری بڑی بہن عظمیٰ کی عمر کی تھی، 33 یا 34 سال کی۔ اب وہ بھی ہماری ماں بن گئی تھیں۔ ویسے تو کافی پیاری تھیں، بڑی بہن عظمیٰ کی طرح، مگر عظمیٰ تھوڑی سی صحت مند ہو گئی تھیں۔ آخر خود کو کتنا سنبھالتیں، اور باپ کی شادی کے 3 مہینے بعد بہن تھوڑی اداس رہنے لگی تھیں۔ ہم لوگ غریب تو تھے مگر ہمارے گھر دیسی گھی، پھل اور دودھ وغیرہ کافی آتا تھا۔ اور بہن جو پہلے خود پر کنٹرول رکھتی تھیں، اب اپنی شادی سے نا امید ہو چکی تھیں۔ اور مجھے تو خود کو نہیں پتا تھا کہ میری شادی بھی ہو گی یا نہیں۔ باپ کا ڈر ہم 3 بہن بھائیوں پر کافی تھا، اس لیے ہم چپ رہے۔ بہنوں کی کوئی دوست نہیں تھی، میرے کچھ دوست تو تھے مگر باپ ان سے ملنے نہیں دیتا تھا، بس چپ کر ہی مل لیتا تھا۔ بہرحال، ہمارے 2 کمرے تو اب ہماری نئی ماں کے کنٹرول میں تھے۔ ایک میں ہماری نئی ماں اور باپ رہتے تھے، اور دوسرا کمرہ جو چھوٹا تھا اس میں ہماری نئی ماں کا سامان تھا، صوفہ سیٹ اور کچھ اور چیزیں۔ اور مجھے اپنی بہنوں کے کمرے میں اپنی ایک چارپائی ڈال دی گئی، جو ڈبل بیڈ کے ساتھ ہی تھی۔ ڈبل بیڈ بھی کافی پرانا تھا، بس نیا میٹرس تھا وہ بھی سردی کا موسم شروع ہوتے لیا تھا ہم بہن بھائیوں نے پیسے ملا کر۔
اور دوسری طرف رات کو ہمیں کبھی کبھی باپ یا ماں کی آوازیں آتی تھیں۔ بہرحال وہ میرا باپ تھا اور ان کا عضو تناسل کتنا بڑا ہو سکتا ہے، وہ مجھ سے اندازہ لگا سکتے ہیں، میرا عضو تناسل کوئی 9 انچ سے لمبا اور اچھا موٹا اور بھاری تھا۔ جب چلتا تھا تو لٹکا ہوا عضو تناسل شلوار قمیض سے محسوس ہوتا تھا۔ اور ویسے بھی ہر گھر میں ہر بہن بھائی کو ایک دوسرے کا پورا اندازہ ہوتا ہے مگر کوئی منہ سے بولتا نہیں یا کسی اور کو بتا نہیں سکتا۔ جیسے جب میں بغیر قمیض کے گھر میں چلتا تھا تو شلوار سے میرا موٹا لمبا سویا ہوا عضو تناسل جو 5 انچ تک لٹکا ہوا ادھر ادھر کو ہلتا تھا اور میں نے خود کافی بار محسوس کر چکا تھا کہ باجی دیکھ رہی ہے یا چھوٹی بہن بھی۔ اور دوسری طرف میری باجی جو پیاری تھیں، لمبے بال جو کولہوں کے نیچے تک تھے، اور ان کی لمبی موٹی آنکھیں، کافی ناک اور لمبی گردن، باجی کے پستان جو اب کچھ نرم محسوس ہوتے تھے اور برا یا قمیض میں سے ہلتے ہوئے کافی بار نوٹ کر چکا تھا، کیونکہ جب سے باپ کی شادی ہوئی اور ماں اور باپ کی سیکس کی آوازیں رات میں سنتا تھا تو ہمارے احساسات بھی کافی بدل گئے تھے۔ اور اوپر سے ہم کچھ فری بھی ہونے لگے تھے، کیونکہ ہماری نئی ماں اور باپ خود کبھی بازار جاتے تو کبھی رات میں اٹھ کر کھاتے تھے اور ہم بچے نہیں تھے جو ہم نہ سمجھتے۔
عظمیٰ باجی کے پستان کوئی 38C کے تھے، گورا چٹا رنگ، ان کو آٹا گوندھتا دیکھتا تھا، جسم سڈول اور ریشم سے بھرا ہوا تھا، کولہے تھوڑے موٹے کوئی 38 سائز کے تھے، باہر کو نکلے ہوئے، چوڑی کریک لائن تھی چوتڑوں میں، جس میں اکثر ان کی لمبے بالوں والی چوٹی پھنسی ہوتی تھی۔ اور دوسری طرف میری چھوٹی بہن جو 24 کی تھی، وہ باجی سے زیادہ پیاری گوری چٹی، اور اس کے پستان 36 کے تھے، بہنوں کے سوٹ وہ تھے جو لوگ ان کو دیتے تھے اور یا خود فٹنگ کر کے پہنتی تھیں۔ اس لیے ان کے کھلے گلے والی کچھ قمیضوں سے ان کا گورا موٹا پستان یا پھنسے ہوئے قمیضوں میں موٹے موٹے کولہے اور تھرتھراتے ہوئے چوتڑ نظر آتے، بہرحال مختصر کہانی کرتا ہوں۔ موسم کافی بدل گیا تھا جس پر میں نے ابھی چارپائی بہنوں کے کمرے میں سیٹ کی، میں رات کو شرٹ یا قمیض کو اتار کر سوتا تھا، صرف شلوار ہی ہوتی تھی، رات کو ہم بہن بھائی اپنی اپنی جگہ لیٹے ہوئے باتیں کرتے اور پھر میں سو جاتا یا کبھی دونوں بہنیں جو ایک ہی بیڈ پر سوئی ہوتی تھیں وہ آپس میں باتیں کرتی رہتیں۔ یا رات میں چپس کا پیکٹ یا کبھی مونگ پھلی، یا کوئی پینٹس کھاتی رہتیں۔ ادھر میں اب کچھ دنوں سے کچھ زیادہ فری تو ہو گیا تھا، جو میں اٹھ کر ساتھ لگا ہوا بیڈ پر آ جاتا لیٹتے ہوئے، اور باجی کے ساتھ چپک جاتا، پہلے کچھ دن تو میں اور باجی کچھ ایزی نہیں رہے، مگر پھر دھیرے دھیرے میں باجی جو سائیڈ بدل کر اپنا چہرہ چھوٹی بہن کی طرف کر کے باتیں کر رہی ہوتی تو میں باجی کی کمر کی طرف سے ساتھ چپک جاتا۔
ایک تو میرا عضو تناسل موٹا اوپر سے لمبا جو باجی کے کولہوں میں پھنستا یا ساتھ چپک جاتا مگر سویا ہوا، یا کبھی نیم سخت۔ اور جب مونگ پھلی کا شاپر دونوں بہنوں کے بیچ میں ہوتا تو میں اپنا ہاتھ کو باجی کی بغل کے پاس سے گزار کر باجی کے موٹے پستان کی طرف سے دباتا ہوا آگے شاپر میں ہاتھ ڈال دیتا جیسے میرا ہاتھ باجی کے پستان کی طرف سے دباؤ ہوتا ہوا جاتا، باجی ایک بار ہل جاتی اور مجھے باجی کا پستان جو سخت اور سوفٹ اچھی طرح محسوس ہوتا اور پھر میں اپنا بازو سے پستان کو دبانے لگتا۔ ابھی کچھ دن ایسے طرح گزرا تھا کہ ہمارے علاقے کی لوڈ شیڈنگ شروع ہو گئی، رات 10 بجے سے 12 بجے تک بجلی چلی جاتی اور ہر طرف اندھیرا ہو جاتا۔ جس رات پہلی بار بجلی گئی، اس رات اس اندھیرے کا مزہ کچھ اور تھا، میں باجی کے پیچھے ساتھ چپکا ہوا تھا ہمارے اوپر کمبل تھا، اور میرا عضو تناسل نے کوئی شرم نہیں کی جو اپنی 33 سال کی باجی کی نرم موٹی گانڈ کے چوتڑ میں کھڑا ہوتا گیا، اور باجی دوسری بہن سے باتیں تو کرتی رہی مگر اس انداز میں نہیں جس میں وہ پہلے کر رہی تھی، ادھر میرا بازو باجی کے بائیں پستان کی طرف سے دبا ہوا تھا، اور پھر میں نے اپنا ہاتھ کو جیسے باجی کے پستان کا آگے رکھ دیا تو باجی بولتی ہوئی لمبی سی سانس لیتے ہوئے خود سمٹ گئی، اور ادھر میرا عضو تناسل باجی کے کولہوں جو 33 سال کی ہو چکی تھی جو نرم بھی تھی اور موٹی بھی ان کا کریک لائن کی لمبائی میں پورا پھنسا ہوا سخت ہوا تھا۔
ادھر چھوٹی بہن نے ایک فضول سا مذاق سنا تو میں جھوٹا سا ہنستا ہوا باجی کے کولہوں میں اپنا عضو تناسل کو اچھی طرح رگڑ لیا اور ساتھ اس بار باجی کا موٹا پستان کو آگے سے پورا ہاتھ میں پکڑ کر تھوڑا سا دبایا تو باجی کی اوہ ہلکی سی نکلی اور باجی نے میرے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ کو رکھ دیا، میں نے کچھ دیر تک ہاتھ کو ویسے رکھا اور پھر باجی بولی اب سو جاؤ تم لوگ اتنا اندھیرا ہے، میں دھیرے سے بولا کتنا مزے کا اندھیرا ہے، جس پر چھوٹی بہن ہنستی ہوئی بولی، لو سن لو باجی اندھیرا بھی کوئی مزے کا ہوتا ہے؟ مگر باجی کچھ نہ بولی، اور میں نے باجی کا پستان کو پھر سے دھیرے دھیرے دبانا شروع کر دیا اور ساتھ اپنا عضو تناسل کو باجی کے کولہوں میں دھیرے دھیرے رگڑنا شروع کر دیا۔ باجی کی شلوار کے اوپر اوپر اپنی شلوار کے اوپر سے اپنا عضو تناسل کو مزہ لے رہا تھا اور باجی کو مزہ دے رہا تھا، اور اب اپنا ہاتھ کو باجی کا موٹا پستان کو اپنا ہاتھ کی پوری گرفت میں پکڑ کر دباتا تو باجی اپنا آپ کو اور سمٹ لیتیں۔ ادھر چھوٹی بہن بولی باجی تو جیسے سو گئی ہے، میں نے باجی کا پستان سے اپنا ہاتھ اٹھا کر ساتھ لیٹتے ہوئے بہن کا پیارا سا منہ کا اوپر رکھ کر بولا تم بھی چپ ہو جاؤ، آج کوا کھایا تھا،
ادھر باجی کی ایک ران اور ٹانگ کے اوپر میں نے اپنی ٹانگ کو فٹ کر دیا، اور باجی آرام سے لیٹی رہی ادھر میں نے دوسری بہن کا منہ سے ہاتھ اٹھا کر اس کا چہرہ اور گال پر ہاتھ رکھ دیا، اور اس کے گورے سے گال کو تھوڑا سا سہلا کر ہاتھ کو واپس باجی کا پستان کو پکڑ لیا مگر اس بار ذرا زور سے اور پورا ہاتھ کھول کر پکڑ لیا، بہرحال یہ پہلی وہ رات تھی جس میں باجی کا کافی قریب آ گیا تھا اور باجی کچھ نہ بولی، یہاں تک کہ چھوٹی بہن کا گال کو پہلی بار سہلایا تھا۔ اگلی رات میں جان بوجھ کر باجی کے اوپر چڑھ گیا اور میرا عضو تناسل باجی کے پیٹ سے لگتا ہوا میں دونوں بہنوں کے بیچ میں آ کر دونوں کے بیچ سیدھا لیٹ گیا، بجلی گئی ہوئی تھی اندھیرا کمرے میں فل تھا۔ تب میں نے اپنی چھوٹی بہن جو 24 کی تھی اس کا ہاتھ کو اپنا ہاتھ میں پکڑ لیا جو باجی کے ہاتھ سے زیادہ لمبا اور نرم تھا، اور دوسری طرف اپنی ایک ٹانگ کو اپنی چھوٹی بہن کی ٹانگ کا اوپر رکھ دیا اور دوسری ٹانگ باجی کی ٹانگ پر، چھوٹی بہن پہلے کچھ ٹائم تک اپنی ٹانگ کو سیدھا رکھی رہی کیونکہ بہن بھی سیدھی لیٹی ہوئی تھی، مگر بہنوں کی نرم ریشم سے بھری رانوں اور ٹانگوں کو ہم بہن بھائی جلد محسوس کر گئے تھے۔ اور یہ اندھیرا ہم بہن بھائی کا لیے بہت سے رازوں کو چھپا دیتا تھا اور یہاں تک کہ ہمارے احساسات کو بھی، تب میں نے اپنا ہاتھ کو اپنی چھوٹی بہن کے پیٹ پر لے آیا اور اس کے موٹے پستان کے اوپر رکھا تو چھوٹی بہن نے بھی اپنا ہاتھ کو میرے ہاتھ پر رکھ دیا، تب میں نے اس کا پستان کو دھیرے سے دبایا جو کافی سخت اور موٹا تھا، تو بہن نے میرا ہاتھ کو اپنا ہاتھ سے اور زور سے پکڑ لیا، تب میں نے تھوڑا مڑ کر اس کے گال پر بوسہ لیا اور خود رول کرتا ہوا باجی کے اوپر چڑھ گیا۔
باجی کی نرم موٹی رانوں میں میرا موٹا لمبا عضو تناسل پھنس گیا اور میں اوپر چڑھ کر لیٹ گیا کچھ دیر کے لیے، نیچے باجی ہلکی آواز میں بولی، پیچھے ہو جاؤ، اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر میں نے باجی کی رانوں کو تھوڑا کھول کر اپنا موٹا عضو تناسل کا ٹوپا کو باجی کی چوت کے منہ پر رگڑا باجی کی ریشمی شلوار کے اوپر سے اور ساتھ باجی کے دونوں پستانوں کو قمیض کے اوپر سے پکڑ لیا، یہ کھیل ہمارا 3 منٹ تک رہا تو چھوٹی بہن بولی، تم نے باجی کے اوپر سونا ہے؟ کیا کر رہے ہو؟ جس پر میں بولا تم کو کیا مسئلہ ہے؟ اتنا میں باجی اپنی خشک آواز میں بولی، اب پیچھے ہٹو مجھے سانس نہیں آ رہا، مگر میں بولا اوہ سوری باجی، اور ساتھ اپنی شلوار کو نیچے کر دیا شلوار میں لاسٹک تھا اور میرا لمبا موٹا عضو تناسل باجی کی ریشمی شلوار کے اوپر سے اپنی باجی کی نرم اور کافی موٹی لمبی چوت کے ہونٹوں میں جب رگڑ دی تو باجی کچھ نہ بول سکی، صرف باجی کے گلابی ہونٹ کھلے ہوئے تھے منہ کے جن سے ہوا لے رہی تھی، اور آنکھیں بند تھیں، ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں اور رانیں کھلی ہوئی پیچھے کو تھیں بیچ میں میرا ننگا عضو تناسل رگڑ کھاتا ہوا آگے پیچھے ہو رہا تھا، اور باجی کی چوت کا پانی ریشمی شلوار سے نکل کر میرا عضو تناسل کو لگ رہا تھا۔ مگر اس رات میں نے بس اتنا کیا۔ اگلی رات باجی اپنے اسی انداز میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی اور بستر پر میرا لیٹنے کے لیے بھی جگہ پہلے سے بنا رکھی تھی، میں اپنے بستر سے اٹھ کر باجی کے کمبل میں چلا گیا، باجی کی کمر میری طرف تھی اور چہرہ دوسری چھوٹی بہن کی طرف۔
میں باجی کے پیچھے ساتھ چپک گیا اور اپنا چہرہ کو باجی کے کندھے اور گردن کے پاس رکھ دیا، آج روم میں موم بتی جل رہی تھی، جس کی روشنی سے میری آنکھیں اور میرا سامنا لیٹی ہوئی چھوٹی بہن کی پیاری سی آنکھوں میں تھی، وہ مجھے نوٹ کر رہی تھی ساتھ دھیرے دھیرے باجی سے باتیں کر رہی تھی۔ میں نے کچھ دیر بعد اپنی شلوار کو نیچے کر دیا کمبل کا نیچے سے اور اپنا عضو تناسل کو باجی کی نرم چوڑی چوتڑ کے ساتھ دھیرے دھیرے رگڑنا شروع کر دیا اور پھر اپنا ہاتھ کو باجی کی بغل سے گزار کر باجی کے پستان کی طرف سے سہلاتا ہوا باجی کا پستان کو پکڑنا شروع کیا تو باجی جانتی تھی کہ آج روم میں روشنی ہے اس لیے باجی نے کمبل کو ٹھیک طرح اور اوپر کر لیا اپنا پستان کی طرف، اور آج باجی نے برا بھی نہیں پہنا ہوا تھا، باجی کا موٹا سخت اور نرم بھرا ہوا پستان کو میں نے پیار سے دبانا شروع کر دیا، سامنا لیٹے ہوئے بہن اپنی کالی لمبی موٹی آنکھوں سے کبھی باجی کو دیکھتی تو کبھی مجھے، شاید باجی مزہ میں اپنی آنکھیں بند کر رہی تھی۔ اور جب میں باجی کی قمیض کو اوپر کر رہا تھا تب بہن کمبل کو ہلتا ہوا محسوس کر رہی تھی، اور اپنے ہونٹ دبا تی ہوئی مجھے دیکھتی۔ میں مسلسل اسے کو دیکھتا اور کبھی اپنی باجی کی گوری گردن پر زبان پھیرتا تو وہ تھوڑا ہنستی ہوئی اور حیران ہوتی ہوئی دیکھتی اور پھر اپنی نظروں کو باجی کا چہرہ کی طرف لے جاتی۔ ادھر میں نے آج باجی کی شلوار کو بھی نیچے کرنا شروع کر دیا، جس پر باجی نے 2 بار مجھے ہاتھ سے روکنا چاہا۔ مگر میں نے باجی کی شلوار کو نیچے کر دیا تھا اور اپنا لمبا موٹا عضو تناسل کو باجی کی رانوں میں پھنسا دیا تھا۔
باجی کافی ہوشیار تھی، باجی نے کوئی بات کرنا شروع کر دی چھوٹی بہن سے، مگر باجی سے بات ٹھیک طرح سے نہیں ہو رہی تھی، اور ادھر میں نے باجی کی دونوں رانوں کو ٹرن کر کے باجی کے پیٹ سے لگا دی تھی یا باجی خود آگے کو لے گئی تھی۔ میں نے باجی کی چوت پر ہاتھ رکھا تو، باجی کی چوت کے ہونٹ کافی موٹے اور بیچ میں گہری لائن تھی، آخر کار باجی 33 سال کی ہو گئی تھی ان کی چوت کافی نرم ہو گئی تھی اور موٹی تو تھی ہی۔ اور پانی سے بھی بھر چکی تھی، ادھر چھوٹی بہن باجی کی وہ باتیں جو کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی ان کو سنتا ہوا مجھے چھوٹی بہن مسکرا کر اور شرارتی نظروں سے دیکھتی ہوئی اشارہ کیا کہ باجی فل مزہ میں ہے، جس پر میں نے اپنے ہونٹ سے چھوٹی بہن کو بوسہ کا اشارہ کیا تو بہن مسکرائی، ادھر باجی کی چوت میرے لیے بالکل نئی تھی وہ بھی اپنی اصلی باجی کی، یہ چوت پہلے 1 مولوی کا نیچے 1 مہینہ تک آتی رہی تھی، جب باجی 21 سال کی تھی، اور تب ہمارے باپ کو پتہ چل گیا تو تب سے کوئی بہن باہر نہیں نکلی اور نہ کوئی آدمی گھر آیا۔ اور آج یہ پھدی جو اب 33 سال کی ہو گئی تھی اب بھائی کا لمبا موٹا ظالم عضو تناسل کا سامنا آ چکی تھی، جس کا موٹا ٹوپا اپنی بہن کی ریشم کی طرح کی نرم موٹی اور گیلی ہونٹ والی پھدی کا منہ پر دھیرے دھیرے رگڑ کھا رہا تھا۔ اور باجی کی چوت موٹا ٹوپا کو محسوس کر رہی تھی، ادھر چھوٹی بہن باجی کا سامنا جس الٹی ہوئی اسٹائل میں لیٹی ہوئی ہم دونوں کو دیکھ رہی تھی اور کمبل ہلتا ہوا محسوس کر رہی تھی تو میں اس کا موٹا گورا پستان اس کا کھلا گلا سے دیکھ کر گرم اور زیادہ ہو رہا تھا، کیونکہ یہ چھوٹی بہن سب جان چکی تھی، اور اس لیے یہ اپنا کمبل سے آدھی باہر تھی، اور الٹی بھی اس اسٹائل میں تھی کہ پستان بھی نظر آ رہا تھا اوپر سے اس کا دیکھنا کا اسٹائل بھی کچھ اور تھا۔
ادھر میں نے اپنے عضو تناسل کو اپنی جوان 33 سال کی باجی کی نرم اور پیاسی چوت کے منہ میں موٹا ٹوپا کو پھنسا کر کچھ دیر رک گیا، اور باجی کا پستان کو چھوڑ کر باجی کی کمر میں ہاتھ ڈال لیا اور اپنا دایاں بازو کو باجی نے نیچے لے گیا اور باجی کا دایاں پستان کو پکڑ لیا۔ جب باجی کا نیچے سے اپنا بازو کو لے جا رہا تھا باجی تھوڑی خود اوپر اٹھی تھی جس پر باجی کا کمبل تھوڑا نیچے ہو گیا تھا اور باجی کی قمیض سے نکلا پستان کو جب میں نے پکڑا تو سامنا لیٹے ہوئے بہن دیکھتی رہ گئی، اور وہ بھی اپنی آنکھیں بند کیے اپنا چہرہ کو تکیہ میں دبا لیا تھا۔ ادھر میں نے باجی کی کمر پکڑ کر اپنا موٹا لمبا عضو تناسل کو باجی کی نرم چوت میں ڈالنا شروع کر دیا، باجی کی جو کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی مگر میرا عضو تناسل اس انداز میں سیدھا کھڑا ہوا تھا کہ سیدھا اندر نہیں جا رہا تھا، صرف 3 انچ تک جب عضو تناسل باجی کی بہت گرم اور نرم گیلی چوت میں گیا تو باجی کی چوت کو بہت مزہ آیا کیونکہ بہت سالوں کے بعد آج باجی ایک اچھا لمبا موٹا عضو تناسل لے رہی تھی، باجی کے احساسات بہت بدل گئے تھے، باجی میرا اندر کو گھس رہی تھی تو کبھی مچل اٹھتی، اور دوسری طرف بستر کی چادر کو پکڑ رکھا تھا۔ ادھر میں باجی کی پیاسی چوت میں 3 انچ عضو تناسل ڈال کر خود کو سیٹ کر رہا تھا، کہ میرا عضو تناسل جیسے ٹھیک پوائنٹ پر آیا، اور میرا تھوڑا زور کا جھٹکا سے میرا عضو تناسل باجی کی چوت کا منہ کو پورا کھولتا ہوا چوت کی اندر تک سلپ جیسے ہوتا گیا تو، باجی نے ایک لمبی اور سیکسی آہhhhh… نکالتی ہوئی آگے کو ہوتی گئی اور ساتھ ہی الٹی لیٹتی گئی، کیونکہ جتنا موٹا لمبا عضو تناسل تھا اور باجی جتنا ٹائم کے بعد آج اتنا لمبا موٹا عضو تناسل لے رہی تھی باجی کی جان نکل رہی تھی۔
باجی جس زور سے پورے طرح ہلتی ہوئی پورے طرح الٹی لیٹتی جا رہی تھی ساتھ ساتھ میں بھی باجی کے اوپر ساتھ چپکا ہوا اوپر لیٹتا جا رہا تھا، ادھر مجھے اور باجی کو خبر نہیں تھی کہ باجی ہمارے چھوٹی بہن ثانیہ کے ساتھ چپک چکی تھی، اور بیچاری ثانیہ بستر کے ساتھ دیوار سے لگے ہوئے ہمیں دیکھ رہی تھی، اور باجی اپنی پوری رانوں کو کھولا ہوا تھی کہ چوت کو جتنا کھلنا چاہ رہی تھی اپنی رانوں سے اتنا عضو تناسل اندر جائے گا، میں باجی کے اوپر لیٹا ہوا باجی کے اندر کوئی 8 انچ تک عضو تناسل سلپ کر چکا تھا اور باجی کا دونوں موٹا پستان اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ رکھا تھا۔ اور اپنا عضو تناسل کو پھنسا کر میں رک گیا تھا، ادھر ثانیہ جو اب میرا ساتھ اور باجی کے ساتھ چپک چکی تھی، اور باجی کو کوئی ہوش نہیں تھی، میں نے اپنا ایک ہاتھ کو باجی کا پستان کا نیچے سے نکال کر ثانیہ کی پتلی نرم کمر پر پیار سے پھیرنا شروع کر دیا، اور ادھر ثانیہ مجھے دیکھتی ہوئی اپنا چہرہ کو پھر تکیہ میں دبا لیا۔ میں نے اپنا ہاتھ کو ثانیہ کا پستان کی طرف لے آیا اور پستان کو سائیڈ سے سہلانا شروع کر دیا۔ ادھر باجی کی نرم چوت میرا عضو تناسل کو دبانے لگی جس سے محسوس ہوا باجی اب مزہ میں آ گئی ہیں، میں نے تب پھر سے باجی کا دونوں پستان پکڑ کر باجی کی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں میں جکڑ لیا اور باجی کی نرم پیاسی گرم چوت میں عضو تناسل کو اندر باہر زور سے کرتا تو ساتھ چدائی والی آواز آتی جسے سن کر ثانیہ مجھے دیکھتی اور اپنے گلابی ہونٹوں پر زبان پھیرتی یا ہونٹوں کو اپنے دانتوں میں دبا لیتی۔
ادھر میں اور باجی کوئی 28 منٹ تک ایک دوسرے کا مزہ لیتے رہے اور پھر میرا عضو تناسل نے باجی کی چوت کے اندر تک زور دار وہ پچکاری ماری جو دوسرا لوگ ہماری بہنوں کے اندر منی کی پچکاری مارتے ہیں، جیسے میرا عضو تناسل نے اندر تک باجی کی نرم موٹی 33 سال کی چوت کو دودھ سے بھر دیا باجی اتنی ریلیکس ہوتی گئی اور میں بھی۔ باجی کے اوپر میں اور 10 منٹ تک لیٹا رہا اور باجی میرا عضو تناسل کو دباتی رہی اور 2 بار باجی فارغ ہو چکی تھی، تب میں باجی کے اوپر سے اٹھ کر اپنے بستر پر چلا گیا، اور چھوٹی بہن نے کوئی کپڑا باجی کو دیا جس سے باجی خود کو صاف کر کے سو گئی۔ اگلا دن باجی تو مجھ سے شرماتی رہی ساتھ چھوٹی بہن مجھے دیکھتی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی رہی۔ یہ 24 سال کی ہو گئی تھی آگ تو اس کے اندر بھی بہت تھی اور اوپر سے پیاری بھی اتنی تھی، باجی سے زیادہ گرم اور سیکسی لگتی تھی، جیسے یہ روم میں گئی کسی کام کا، میں بھی پیچھے چلا گیا، شام سے 6 بجے ہوئے تھے، اندھیرا چھا چکا تھا، جیسے بہن روم میں گئی میں نے بہن کو پیچھے سے پکڑ کر ساتھ لگا لیا اور اپنے دونوں بازو میں اس کو جکڑ لیا اور اس کی گردن اور گال چومنے لگا۔ اور بہن شرماتی اور ہلکی مسکراتی ہوئی کھڑی رہی، اور میں نے دھیرے دھیرے اپنے ہاتھوں کو اوپر لے گیا اور اس کا سڈول 36 سائز کا گورا پستان پکڑ لیا جس پر بہن کچھ دیر ہلتی رہی اور شرماتی ہوئی بولی بس… بس.. اتنا میں بجلی چلی گئی اور دوسرے روم سے ہماری نئی ماں کی آواز آئی۔ ہمارے 2 رومز کا دروازہ بیچ کے رومز میں کھلتا تھا، بہن اسی ٹائم چلی گئی، اور میرا عضو تناسل کھڑا تھا اس لیے میں وہی کچھ دیر بیٹھا رہا، کیونکہ مجھے اندھیرا میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اوپر سے عضو تناسل بھی فل ہارڈ کھڑا تھا۔
اتنا میں مجھے دروازہ سے باجی آتی ہوئی محسوس ہوئی اور سوچا جب تک بجلی نہیں ہے تھوڑا جلدی باجی سے مزہ لیتا ہوں روشنی میں تو نہ مجھ میں ہمت ہوتی ہے اور نہ باجی میں، باجی جیسے پاس سے گزری جو مجھے تھوڑے سے باہر سے آتی روشنی سے دیکھ بھی رہی تھی، مطلب ہم ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے، میں نے باجی کو پیچھے سے پکڑ لیا، باجی کی نرم ریشم جیسی کمر اور باجی سے ہلکی ہلکی پرفیوم کی خوشبو بھی آ رہی تھی، باجی جیسے آج رات کے لیے میرے لیے ریڈی تھی، میں نے فٹ سے کمر پکڑی اور دوسرا ہاتھ کو باجی کا موٹا پستان پر لے گیا اور فٹ سے باجی کا چہرہ اور ہونٹوں کی طرف زبان پھیرنا شروع کر دیا۔ باجی کچھ دیر تک مجھے پیچھے کرتی رہی اور بولنا چاہ رہی تھی کہ پیچھے ہٹو، مگر میں کبھی ان کا منہ پر ہاتھ رکھ دیتا تو کبھی ان کا سخت موٹا پستان کو پکڑ لیتا، باجی کا پستان کل رات کو نرم اور موٹا تھا اور آج اتنا ٹائٹ اور سیدھا کھڑا ہوا ہارڈ پستان ان کی قمیض سے پکڑ رکھا تھا، باجی تھوڑے تھوڑے ہنس بھی رہی تھی اور بول رہی تھی پاگل ہو تم تو۔ ابھی تمہارا باپ آ جائے گا۔ میں کان میں بولا تو کیا آج جتنا جوش آیا ہوا ہے آپ کو دیکھ کر کوئی سزا بھی قبول کر لوں گا، اور میں نے باجی کی گردن پر زبان پھیرنا شروع کر دیا۔ اور ساتھ باجی کا موٹا ہارڈ اور لمبا پستان دباتا ہوا حیران بھی تھا اور خوش بھی کہ کیا موٹا اور ہارڈ ہو جاتا ہے جب باجی کھڑی ہوتی ہیں، میں نے باجی کی قمیض کو اوپر کرنا شروع کیا تو دھیرے سے جیسے کوئی وشپر کرتا ہے ویسے بولی کہ ادھر چلو، اور میں باجی کو پکڑا ہوا دوسرے روم میں لے آیا جدھر سٹور تھا ادھر چارپائی پر ہمارے کافی بستر رکھے تھے۔
میں نے باجی کو بستروں کی طرف کھڑا کر دیا اور باجی نے اپنی کمر سے بستروں پر ٹیک لگا لی، اور میرا عضو تناسل جو پورے طرح سیدھا کھڑا تھا اپنی شلوار سے نکال کر باجی کی نرم سڈول رانوں کے بیچ میں جیسے دبایا تو میرا عضو تناسل باجی کی نرم چوت سے رگڑ کھاتا ہوا رانوں میں پھنسا تو باجی نے مجھے زور سے گلے لگاتے ہوئے بولی، ہائے، میں نے باجی کی قمیض اوپر کی اور برا کو کھولا تو سچ میں باجی کا موٹا لمبا اور ہارڈ پستان اور نپل فل ہارڈ تھے میں نے منہ میں ایک نپل لیا اور زور زور سے چوسنا شروع کر دیا اور ساتھ دوسرا پستان دباتا گیا۔ باجی نے اپنے دونوں نازک نرم بازوؤں کو میرا گلا میں ڈال دیا تھا اور کبھی میرا سر کو چومتی تو کبھی میرا گال چومتی۔ کوئی 7 منٹ گزرا تو باجی دھیرے سے کان میں بولی، بس ہو گیا ہے جلدی کر لو کوئی آ جائے گا۔ میں نے باجی کی شلوار کو نیچے کر دیا ان کی رانوں کے نیچے تک شلوار کو لے آیا تو۔ اور ادھر باجی نے اپنی دونوں رانوں کو کھول لی تھی، جیسے میرا لمبا موٹا عضو تناسل کا موٹا ٹوپا باجی کی چوت پر لگا تو باجی دھیرے سے بولی، افففف…. اللہ…. بہت موٹا ہے…. ذرا آرام سے…. مار ڈالو گے تم تو مجھے…. باجی آج پہلی بار اس طرح بولی تھی۔ اور جب میں اپنا عضو تناسل کا موٹا لمبا ٹوپا کو باجی کی چوت پر رگڑ رہا تھا تو محسوس کیا، یہ چوت ویسے موٹی نہیں ہے، اور اس پر ہلکے ہلکے بال بھی ہیں جب کہ رات کو باجی کی کلین شیوڈ تھی اور موٹی پھدی تھی۔
تب میں نے عضو تناسل کا موٹا ٹوپا کو چوت کا منہ میں پھنسا دیا جو ٹائٹ بھی تھی اور زیادہ موٹی بھی نہیں تھی۔ اتنا میں مجھے آواز آئی اب دھیرے دھیرے کرنا، میرا عضو تناسل اب محسوس کر رہا تھا یہ چوت کافی ٹائٹ تھی اور ساتھ موٹی بھی نہیں تھی جتنی باجی کی تھی، اور جیسے میرا زور اندر کو ڈالنا پر لگتا ویسے باجی بھی چوت کو زور سے عضو تناسل پر دباتی جس سے میرا عضو تناسل اندر تک پھنستا ہوا جا رہا تھا، جیسے میرا آدھا عضو تناسل اندر گیا اور باجی کی دونوں ٹانگوں کو اٹھا کر اوپر اپنی رانوں اور کولہوں کی طرف لے آیا ادھر بستروں کا اوپر باجی کے کولہے آ گئے جس سے باجی بیٹھنے کی پوزیشن میں آ گئی تھی، باجی کچھ ہیلدی تھی اس سے، اور ان کا جسم بہت نرم تھا اور ٹائٹ جسم والی کون تھی، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ یہاں تک کہ چوت اتنی نرم نہیں تھی جتنی باجی کی نرم موٹی چوت تھی۔ ادھر جیسے باجی ریلیکس ہوئی اور میرا ساتھ چمٹ گئی اور میرا گلا میں اپنا نرم نازک بازو گلے کے ساتھ لگائے تو بولی، تم اتنا مجھے چاہتے تھے، اس لیے تم میرا ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرتا رہے ہو، قسم سے میں تمہارا باپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مجھے تو تمہاری فوٹو دیکھی گئی تھی۔ ادھر میرا آدھا عضو تناسل اندر جا چکا تھا اور یہ باجی کی چوت نہیں تھی، یہ ہماری نئی ماں کی تھی جو 33 کی نہیں 30 سال کی تھی۔ جس کی نازک سی نرم پھدی میں عضو تناسل آدھا پھنسا ہوا تھا اور اس کا موٹا لمبا پستان پر اپنے دانت سے کاٹ رہا تھا۔ میرا ایک دم ہوش اڑ چکے تھے، اور ساتھ ایک شیطانی والی خوشی تھی کہ جو مجھ سے کبھی ہو نہیں سکتا تھا وہ اب انجانے میں کر رہا ہوں، ادھر میں نے اپنی نئی ماں کی سڈول سی گوری جوان رانوں کو کھولا اور اپنا عضو تناسل کو زور دے کر اندر ڈالنا شروع کر دیا تو نئی جوان ماں اب پورا زور سے پیچھے کو بستروں پر کبھی گرتی تو کبھی میرا گلا سے چپک کر بولتی مار دیا ہے تم نے…. افففف…. مر گئی…. ذرا رکو اور مت ڈالو… اتنا لوہا جیسا…. آاہhhh….
دوسری طرف یہ مجھے اپنا پستان میرا منہ میں ڈالتی کہ اس کو دباؤ اور کاٹو، چوسو اس کو… میں نے کبھی دھیرے دھیرے اپنا عضو تناسل اندر باہر کیا تو کبھی زور سے ڈالتا تو میری نئی جوان ماں پورے طرح ہلتی اور وہ اب تک 2 بار فارغ ہو گئی تھی، اور میں نے اب تک 7 انچ تک اپنا عضو تناسل ڈال کر اس کے اندر اپنا عضو تناسل کا منی کو گرا رہا تھا۔ جیسے اس کی چوت تھی اور جس طرح اس کو اپنی گود میں اٹھا رکھا تھا دل کرتا تھا اپنا باقی کا پورا عضو تناسل اندر ڈال دوں مگر عضو تناسل موٹا تھا جس سے چوت پورے طرح کھلی ہوئی تھی اور وہ پورا عضو تناسل اس ٹائم نہیں لے سکتی تھی۔ اس کا سڈول جسم جو میری جکڑ میں تھا اور جسے میں چھوڑنا نہیں چاہ رہا تھا، ادھر یہ میری نئی ماں بھی مجھے چوم رہی تھی اور اپنی ٹائٹ چوت سے میرا عضو تناسل کو دبا رہی تھی۔ اس کی چوت باجی کی چوت کی طرح نہیں تھی، یہ کافی ٹائٹ لگ رہی تھی میرا موٹا عضو تناسل سے چپکی ہوئی چوت کا گوشت باہر تک آتا۔ کوئی 28 منٹ بعد میں نے اپنا عضو تناسل کو باہر نکالا تو بوتل کھولنا کی آواز آئی اور ساتھ چوت سے میرا منی نیچے گرنا شروع ہو گیا، میں اسے چومتا رہا اور وہ مجھے چومتی ہوئی اپنی شلوار کو اوپر کر رہی تھی۔ اب روم میں باہر سے تھوڑی روشنی آ رہی تھی اس کی نظر میرا عضو تناسل پر گئی تو ایک بار شاکڈ ہوئی مگر کچھ نہ بولی،
میں سمجھ گیا اور بولا کیا مولوی صاحب کا بھی ایسا ہی ہے؟ تو مسکرائی اور بولی نہیں، بالکل نہیں…. وہ بس کوئی دوا کھاتا ہے اور پھر مجھے 10 منٹ تک ڈیوٹی دینی پڑتی ہے ان کا کھڑا کرنا میں اور 5 منٹ میں فارغ ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ میرے ممّا جی نے دھوکہ کیا تھا فوٹو تمہاری تھی اور شادی والے دن بولا وہ لڑکا کسی لڑکی کو لے کر بھاگ گیا ہے مجھے پھر تمہارا باپ سے شادی کر دی گئی۔ اس لیے وہ نہیں چاہتا کہ تم میرا سامنا آؤ یا میں تمہارا سامنا آؤں۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے اپنا گلا سے لگا لیا تو یہ نئی ماں جیسے پیار کو ترسی ہوئی تھی یا سچ میں پیار کرتی تھی، میرا ساتھ چپک کر میرا گال چومتی رہی، میرا عضو تناسل اس کی چوت کے پانی سے گیلا ہوا لٹک رہا تھا، میں نے پھر سے اس کا ایک پستان کو پکڑ کر دبایا اور بولا، پھر کب ملو گی؟ تو مجھے بولی جب تم چاہو مگر اپنی بہنوں کو پتہ نہ چل سکے، میں نے سر کو ہاں میں ہلا دیا اور وہ اپنا کپڑا ٹھیک کرتی ہوئی اپنا روم میں چلی گئی اور میں شلوار پہن کر سوچتا رہ گیا۔ کوئی اور آدھا گھنٹہ بعد بجلی آ گئی میں نے اپنی بہنوں کے ساتھ کھانا کھایا اور باہر نکل گیا اور سوچتا رہا سچ میں وہ میری نئی ماں تھی؟ جب رات 9:35 پر گھر آیا تو، کچن میں ہماری نئی ماں مولوی صاحب کے لیے دودھ گرم کر رہی تھی، مجھے دیکھتا تھوڑی سی مسکراہٹ دی تو میں کچن میں چلا گیا، مجھے دیکھتے ہی نئی ماں کچن کی شیلف کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کا سڈول سا جسم اور قد لمبی تھی اور چہرہ پر ایک شرم بھی تھی اور آنکھوں میں ایک پیار کی لہر محسوس ہوئی۔ میں نے جاتے ہی پھر اس کا گلا جیسا لگایا تو اس نے مجھے اپنا گلا سے لگاتا ہی دھیرے سے بولی، مولوی صاحب باتھ روم میں گئے ہوئے ہیں۔ میں نے اس کے گالوں کو چومتا ہوا اپنا روم کی طرف چلا گیا۔
ہاتھ میں مونگ پھلی کا شاپر بیگ تھا، اور عضو تناسل پھر سے نیم سخت ہو چکا تھا۔ اور اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ میری نئی ماں ہی تھی۔ اور دل میں ایک خوشی بھی تھی۔ جیسے روم میں آیا تو میں نے مونگ پھلی کا شاپر دونوں بہن کے بیچ میں رکھ دیا اور خود قمیض اتار کر باجی کے ساتھ لیٹ گیا، باجی کا نرم جسم اور گرم بستر نے مجھے کچھ دیر سکون دیا تو بجلی چلی گئی، جیسے بجلی گئی تو میں باجی کے اوپر چڑھ گیا، باجی سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور میں اپنی ٹانگیں کھول کر باجی کی نرم رانوں پر اپنی رانیں رکھ کر لیٹا اور ساتھ باجی کا موٹا پستان کو ساتھ میں پکڑ لیا، باجی پہلے تھوڑی ہلتی رہی جیسے باجی کو کچھ پتہ نہ ہو اور ایکٹنگ کرتی رہی، مگر میرا موٹا لمبا عضو تناسل جو میری شلوار سے نکلا ہوا تھا باجی کی رانوں میں پھنس گیا تھا۔ ادھر چھوٹی بہن بولی کیوں باجی کو تنگ کر رہا ہو؟ اترو باجی کے اوپر سے… میں بولا اچھا اتر جاتا ہوں پہلے باجی مجھے چھوڑے تو اتروں گا… اتنا زور سے باجی نے مجھے پکڑا ہوا ہے… اصل میں باجی کی نرم رانوں میں میرا عضو تناسل پھنسا ہوا تھا، جس پر باجی ہنستی ہوئی بولی، کتا دفع ہو، پیچھے کرو اس کو۔ دیکھو ثانیہ یہ گھوڑا میرا اوپر چڑھ گیا ہے، جس پر میں باجی کا پستان کو دباتا ہوا بولا، باجی میں گھوڑا ہوں؟ تو باجی ہنستی ہوئی بولی، ہاں تم گھوڑا کی طرح کا ہی ہو… میں پھر باجی کی رانوں میں اپنا عضو تناسل کو رگڑتا ہوا بولا میں گھوڑا ہوں یا گھوڑا کی طرح کا ہے آپ کی رانوں میں..؟
جس پر باجی ہنستی ہوئی بولی، تو اور کیا… پورا گھوڑا کی طرح کا ہے اتنا میں ثانیہ بستر سے اٹھی اور موم بتی جلانے کے لیے، اسے موم بتی نہیں مل رہی تھی، ادھر میں نے باجی کی شلوار کو نیچے کرنا شروع کیا تو باجی بولی ثانیہ آ جائے گی کیا تنگ کر رہا ہو… اتنا بڑا گھوڑا جیسا ہے تیرا برا حال کر دیتا ہو، مگر باجی اپنی شلوار کو اتارنا بھی خود دے رہی تھی، جیسے باجی کی شلوار نیچے ہوئی میں نے باجی کی دونوں رانوں کو کھول کر اپنے عضو تناسل پر تھوک لگائی اور باجی کی موٹی نرم پانی نکلتی ہوئی چوت کا منہ میں اپنا ٹوپا فٹ کیا اور باجی کو اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور اپنا عضو تناسل کو دھیرے دھیرے اندر ڈالنا شروع کر دیا، اپنی بہن کی نرم موٹی ریشم جیسی چوت دھیرے دھیرے میرا موٹا عضو تناسل کا ٹوپا کھولتا ہوا جیسے جیسے اندر جاتا گیا، باجی لمبی سانسیں لیتی گئی اور ساتھ مزہ میں اپنی آنکھیں بند کرتی گئی اور اپنے ہاتھ میں میرا سر کے بالوں پکڑ لیتی تو کبھی میری کمر میں اپنی انگلیوں کو دبا لیتی، باجی کی نرم چوت جو کافی گیلی ہو گئی تھی جس سے میرا موٹا لمبا عضو تناسل آرام سے اندر جیسے جیسے جا رہا تھا باجی کے اندر کی آگ اور گرمی کو محسوس کر رہا تھا 33 سال کی چوت کی آگ بہت زیادہ ہوتی ہے یہ اب میرا عضو تناسل محسوس کر رہا تھا۔ ادھر چھوٹی بہن موم بتی جلا کر رکھ کر بستر پر آ گئی اور باجی اور مجھے دیکھتی ہوئی بولی، تم لوگ یہ کیا کرتے ہو؟ میں اور باجی کچھ نہ بولے کیونکہ اس ٹائم باجی میرا 7 انچ تک موٹا لمبا عضو تناسل لے چکی تھی، اور باجی کا موٹا پستان قمیض سے باہر نکال کر ان کا پستان پر کاٹ رہا تھا، مجھے باجی کا موٹا سڈول پستان پر کاٹنا اچھا لگتا تھا۔
ادھر سونیا بار بار جان بوجھ کر ہمیں تنگ کر رہی تھی، اور پوچھتی ہوئی ہمارے قریب آدھی سائیڈ لیٹی ہوئی تھی۔ اور اپنا ایک پتلا گورا ہاتھ کو اپنے سر کے نیچے رکھ کر کبھی باجی کو دیکھتی تو کبھی مجھے، تب میں نے باجی کے اوپر لیٹا ہوا اپنا بایاں ہاتھ کو اپنی چھوٹی 24 سال کی بہن کی طرف کیا اور اس کی گردن کو سہلاتا ہوا اس کی نرم کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور باجی کا پستان سے اپنا چہرہ اٹھا کر چھوٹی بہن کا گال کو چومتا ہوا بولا، باجی کا اندر گیا ہوا ہے، باجی کو ذرا مزہ لینے دو…. جس پر میری چھوٹی بہن دھیرے سے اور اسٹائل سے بولی، کیا گیا ہوا ہے باجی میں؟ تب باجی نے اپنا چہرہ گھما کر چھوٹی بہن کو دیکھا تو چھوٹی بہن نے اپنی پیاری سی مسکراہٹ سے پوچھا کیا اندر گیا ہوا ہے؟ ادھر میرا ہاتھ اس کے موٹے اٹھے ہوئے کولہوں کا اوپر اس کا ایک چوتڑ کو اپنا ہاتھ سے دباتا ہوا بولا، وہی اندر گیا ہوا ہے، جس کے لیے ہر جوان ہوتی ہوئی بہن کا دل کرتا ہے اور جو ہر لڑکی کو عورت بنا دیتا ہے۔ ادھر باجی کی چوت اور گیلی ہوئی اور میرا عضو تناسل اور اندر باجی کی چوت میں گیا تو باجی کی آاہhh نکلی اور باجی نے میری کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا۔ اتنا پھر چھوٹی بہن بولی، کیا ہوا باجی؟ کیوں اس طرح آاہhh کی؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟ میں نے اس ٹائم اپنا ہاتھ کو اپنی اس بہن کا چوتڑ کا بیچ اس کی کریک لائن میں ڈال دیا اور بولا، جب اندر جا کر ٹوپا لگتا ہے اور اپنا راستہ اندر بناتا ہے تو بہنیں آاہ کرتی ہیں….. اور ساتھ میں نے ثانیہ کی موٹی چوڑی چوتڑ میں اپنا ہاتھ سے اس کی گانڈ کو سہلانا شروع کر دیا، میری انگلی اس کی گانڈ کا ہول پر تھی مگر بیچ میں اس کی شلوار تھی۔
اس وقت میں ایک طرف اپنا عضو تناسل کو دھیرے دھیرے اندر باہر کر رہا تھا تو دوسری طرف ساتھ لیٹے ہوئے چھوٹی بہن کی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر اس کی شلوار نیچے کرنا شروع کر دیا اور بہن بھی اپنی موٹی گوری گانڈ کو ہلا ہلا کر شلوار کو نیچے ہونے دے رہی تھی، اور ساتھ ساتھ باتیں کر رہی تھی، کہ باجی کو کیا بہت زیادہ مزہ آ رہا ہے تو میں بولا.. ہاں، باجی نے زور سے جکڑ رکھا ہے باجی آسمانوں کی سیر کر رہی ہے، ادھر سچ میں باجی کی نرم موٹی چوت نے میرا عضو تناسل کو آگے سے اندر سے جکڑ لیا ہوا تھا اور باجی جھٹکا کھا رہی تھی، اور دوسری طرف میں چھوٹی بہن کے چوتڑ کے نیچے اس کی نرم موٹی اور گوری چوت کے ہونٹوں میں اپنی ایک انگلی کو دھیرے دھیرے پھیر رہا تھا۔ اور اس کی نرم گوری چوت میں پانی آ رہا تھا، ادھر باجی آج میرا 8 انچ عضو تناسل لے چکی تھی، یہ الگ بات تھی اس سے باجی کو میٹھا درد اٹھ رہا تھا اور چوت پورے طرح کھلی ہوئی عضو تناسل کو جکڑ رکھا تھا، ابھی اور بھی عضو تناسل ڈالنا چاہتا تھا مگر باجی اتنا بھی مشکل سے لے گئی تھی۔ باجی کی چوت میں اپنا عضو تناسل کو 22 منٹ تک اندر رکھا اور باجی 2 بار فارغ ہو گئی تھی مگر میں فارغ نہیں ہوا تھا تب میں نے باجی کی چوت سے اپنا موٹا لمبا عضو تناسل کو نکال لیا جو باجی کا چوت کے پانی سے پورے طرح گیلا ہوا تھا اور چکنا بھی، جیسے میں نے عضو تناسل باہر نکالا تو باجی کو سکون ملا اور ادھر میں فٹ سے اپنی 24 سال کی بہن کی گوری رانوں کے اوپر اپنی رانیں کھول کر بیٹھ گیا، میری اس بہن کی گانڈ بہت ہی پیاری اور سڈول اٹھی ہوئی گانڈ تھی، اور نیچے باہر کو نکلی ہوئی موٹی چھوٹی سی چوت جو شیوڈ چوت تھی۔
موم بتی کی روشنی سے اس کی گوری سڈول گانڈ اور رانیں چمک رہی تھی اور کمبل میں نے پیچھے کیا ہوا تھا اور خود اس کی رانوں پر بیٹھا ہوا اپنا موٹا لمبا عضو تناسل جو پہلے کا باجی کی چوت کے پانی سے چکنا ہو کر چمک رہا تھا، ادھر بہن کی کمر پکڑ کر اس کے کولہوں کو اوپر کو تھوڑا اٹھا دیا اور بہن سمجھدار تھی جو اپنی رانوں کو کھول رہی تھی، جیسے جیسے ران کو کھولتی اس کی نرم گوری پھدی باہر کو آ گئی تھی، میں نے اپنی ایک انگلی کو اس کی چوت کے ہونٹوں میں ڈالی تو اس کی چوت کے ہونٹوں نے میری انگلی کو جیسے پکڑ لیا، میں نے پھر دو انگلیوں سے اس کی چوت کے ہونٹوں کو کھول کر اس کی پھدی کا منہ کو دیکھا جو چھوٹا سا اور گلابی رنگ کا تھا جس پر میں نے کافی سارے منہ سے تھوک نکال کر چوت کا منہ پر اور اپنا عضو تناسل کے اوپر لگائے اور موٹا لمبا عضو تناسل کا موٹا لمبا ٹوپا جیسے رکھا تو بہن کو ایک بار کرنٹ لگا اور مڑ کر مجھے دیکھا کہ یہ سچ میں عضو تناسل ہے جو اتنا موٹا محسوس ہوا ہے، میں نے تب اپنا عضو تناسل کا ٹوپا کو دھیرے دھیرے اس کی چوت کا ہونٹوں میں اوپر نیچے رگڑنا شروع کر دیا جس پر بہن اور مزہ میں آتی گئی اور چوت سے پانی کا قطرہ نکلنا شروع ہو گیا۔
اس وقت میں نے اپنے موٹے لمبے عضو تناسل کے موٹے ٹوپا کو چھوٹی بہن جو اب 24 سال کی مکمل عورت بننے والی تھی، اس کی چوت کے چھوٹے سے گلابی منہ کے اوپر ٹوپا کو رکھ کر بہن کی کمر پر تھوڑا سا جھکا اور اپنے عضو تناسل کو اپنی جوان بہن کی کنواری چوت کے اندر اتارنا شروع کر دیا، جیسے میرا عضو تناسل کا ٹوپا پھنستا ہوا بہن کی چوت کے اندر گیا تو بہن نیچے سے زور سے ہلی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے تکیہ کو پکڑ لیا اور دوسرا ہاتھ کو ادھر ادھر چلا رہی تھی، اور تب میں نے ایک ہلکا سا جھٹکا مارا تو میرا چکنا عضو تناسل آرام سے بہن کی ٹائٹ کنواری پھدی میں 3 انچ اندر چلا گیا اور بہن زور سے آاہhh کر اٹھی، اور نیچے سے نکلنے لگی… میں نے اپنے دونوں بازو کو اس کے نیچے لے گیا اور اس کے پستان کو اس کی قمیض سے پکڑ لیا، اور پھر اپنے عضو تناسل کو تھوڑا باہر کر کے اندر ڈالا تو.. بہن کی آاہhh نکلی اور بولی…. اوئییی ماں…. اوئییی مر گئی…. بہت بڑا ہے… ادھر جب بہن اپنا ایک ہاتھ کو بستر پر چلا رہی تھی، تب باجی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور چھوٹی بہن باجی کا ہاتھ کو زور سے پکڑ رکھا تھا،
عضو تناسل کو آج تیسری چوت مل رہی تھی، اور یہ چوت تو اچھوتی تھی، اور وہ بھی اپنی چھوٹی 24 سال کی بہن کی، اور اس کی گرم مگر باجی کی چوت جتنی گرم نہیں تھی، اور ساتھ ٹائٹ بھی کافی اور گیلی ہونے سے میرا عضو تناسل دھیرے دھیرے اندر جا رہا تھا مگر چوت کو پورے طرح کھولتا ہوا اندر دھیرے دھیرے جا رہا تھا، بہن 3 بار آگے کو نکلی مگر میں نے اس کو اپنی بانہوں میں لے لیا ہوا تھا اور اس کا موٹا پستان کو پکڑ رکھا تھا۔ ادھر میں نے 5 انچ اپنا عضو تناسل ڈال کر رک گیا تھا اور اس کے گالوں کو چومتا ہوا بولا، بس تھوڑی دیر رک جاؤ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے 7 منٹ اپنے عضو تناسل کو ایسے رکھا تب تک اس کے پستان دبائے اس کی گردن کو چاٹا اور پھر اپنے عضو تناسل کو دھیرے دھیرے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ اب میں نے اپنی بہن کے پتلے گورے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ ڈالا رکھا تھا اور اپنے عضو تناسل کو کبھی کچھ زیادہ اندر ڈالتا جس سے بہن کو درد ہوتی کیونکہ بہن جب کنواری ہوتی ہے اس کی چوت اور اندر کی نالیاں بھی ٹائٹ ہوتی ہیں اور پھر میرا جیسا کا عضو تناسل اپنے سائز کی چوت اور نالی کو کھولتا ہوا اندر جا کر ایڈجسٹ ہوتا ہوا تھوڑا ٹائم لگتا ہے، میں آج اپنی ہی جوان بہن کو عورت بنا رہا تھا۔ اس کی چوت کا جو مزہ آ رہا تھا دل کر رہا تھا میرا عضو تناسل اندر ہی رہے، کیونکہ اب اس کی ٹائٹ چوت میرا عضو تناسل کو دبا رہی تھی، جس سے محسوس ہو رہا تھا میری اپنی بہن میرا ہی عضو تناسل سے مزہ لے کر فارغ ہو رہی ہے۔
کوئی 5 منٹ بعد میں نے پھر سے اپنے عضو تناسل کو دھیرے دھیرے اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور چاہ رہا تھا جتنا آج اس کے اندر جائے گا اتنے جلدی نیکسٹ ٹائم زیادہ لے گی، مگر میرا عضو تناسل موٹا ہی کافی تھا جو صرف 6 انچ تک بہن آرام سے لے رہی تھی، بہن میرا نیچے الٹی لیٹی ہوئی تھی اور میں اس کے اوپر آدھا وزن ڈال کر اپنا عضو تناسل کو اندر باہر کر رہا تھا تب میری نظر باجی پر گئی جو مجھے دیکھ رہی تھی اور میرا عضو تناسل کو اندر باہر ہوتا کو دیکھ رہی تھی۔ میں نے تب اپنے ایک ہاتھ سے باجی کا موٹا پستان پکڑ لیا جو گورا چٹا تھا، باجی مجھے دیکھ کر مسکرائی اور اپنا پستان کو مزہ سے دبواتی رہی، ادھر دل کر رہا تھا یہ ٹائم ادھر رک جائے، مگر میرا عضو تناسل کو بہت ٹائم آج ہو گیا تھا اور اب میں فارغ ہونے والا تھا جس سے میرا عضو تناسل کا جھٹکا ذرا زور کا ہوا تو نیچے لیٹے ہوئے بہن کو درد ہونے لگا اور سائیڈ پر ہونا چاہ رہی تھی، مگر میرا عضو تناسل 7 انچ اندر جاتے ہی اپنی پچکاری مار ڈالی اور بہن کی جوان کنواری چوت کو عورت کی چوت بنا دی تھی، اور بہن ہلتی ہوئی خود بھی دوسری بار فارغ ہو گئی۔ اور میں اپنا عضو تناسل ڈال کر اوپر ہی لیٹ گیا۔ کوئی 8 منٹ تک اوپر لیٹا رہا اور میرا عضو تناسل ویسے ہی طرح ہارڈ اندر کھڑا رہا۔
میں نے پھر اپنا عضو تناسل کو باہر نکالا اور باجی کی سائیڈ پر لیٹ گیا، ادھر میری بہن کچھ دیر تک لیٹے ہوئے اپنی چوت اور چوت کا خون کو صاف کرتی رہی، میرا عضو تناسل جتنا لکی تھا آج، اتنا ہی ہارڈ تھا، میں باجی کے ساتھ پیچھے چپکا ہوا تھا اور میرا عضو تناسل باجی کی موٹی نرم گانڈ کے چوتڑ میں اس کا ٹوپا سلپ ہوتا ہوا اوپر نیچے ہو رہا تھا، اور باجی بھی آرام سے لیٹی ہوئی تھی جب میں اپنا عضو تناسل کو باجی کی نرم موٹی گانڈ کا نرم گانڈ کا منہ پر اپنا ٹوپا کو فٹ کر رہا تھا، میں دھیرے دھیرے اپنا ٹوپا کو ہلکا سا اندر دباتا تو موٹا ٹوپا جو پہلے کا گیلا تھا وہ سلپ ہو جاتا۔ شاید باجی کو مزہ آ رہا تھا، اور اسی لیے تو بولتے ہیں یہ بڑے عمر کی لڑکی بہت گرم ہوتی ہے۔ اتنا میں نے پھر سے اپنا ٹوپا کو گانڈ کا منہ پر رگڑ کر تھوڑا زور لگایا تو باجی کا نرم جسم اور گانڈ کی نرم اور ڈھیلی گرفت سے میرا عضو تناسل کا ٹوپا باجی کا اندر جیسے گیا تو باجی زور سے ہلی اور میں نے باجی کو پستان سے اور گردن سے پکڑ لیا اور پھر زور لگا کر اپنا 3 انچ موٹا لمبا عضو تناسل کو باجی کی پیاری ورجن گانڈ کا اندر ڈال دیا تھا۔ باجی آاہhhیااا…. کیا کر رہا ہو….. درد ہو رہی ہے….. مگر میں صرف 3 انچ عضو تناسل ڈال کر رک گیا جس پر باجی بھی کوئی 6 سے 7 منٹ بعد تھوڑے ریلیکس ہو گئی اور ان کی گانڈ میرا موٹا عضو تناسل کو ایڈجسٹ کر چکی تھی، مگر گانڈ پورے طرح میرا لوہا جیسا عضو تناسل کو اپنی ٹائٹ گرفت میں پکڑ رکھا تھا۔
جب بھی میں اپنے عضو تناسل کو سخت کرتا تو میرا عضو تناسل تھوڑا اور پھول جاتا تو باجی کی گانڈ کے ہونٹ اور کھل جاتے، باجی کی گانڈ سچ میں اندر سے بہت ہی گرم تھی، باجی کی عمر تھوڑی زیادہ ہونے سے ان کا جسم تھوڑا ڈھیلا ہو گیا تھا اور نرم جس سے ان کی گانڈ بھی نرم ہو گئی تھی۔ میں باجی کے گال اور گردن چاٹتا رہا میرا عضو تناسل کی بس ہو چکی تھی اب میں فارغ ہونے والا نہیں تھا، اس لیے میں نے اپنے عضو تناسل کو 12 منٹ تک اندر رکھ کر دھیرے دھیرے باہر کرتا رہا جس پر باجی اپنی چوت کو رگڑاتی رہی اور باجی دوسری بار فارغ ہو گئی تھی۔ تب میں نے باجی کی گانڈ سے اپنا عضو تناسل نکالا اور باجی کو گال چومتا ہوا اپنے بستر پر آ گیا۔ اگلا دن 1 بجے اٹھا، چھوٹی بہن اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کبھی مجھے شرماتی ہوئی دیکھتی تو دوسری طرف باجی بھی مجھ سے شرماتی ہوئی پھیر رہی تھی، ادھر ہماری نئی ماں جو ایک جوان 30 سال کی لڑکی تھی، وہ بھی مجھے دیکھ کر ہنستی اور مجھے گھر کی چھت کے اوپر جانا کا اشارہ کر رہی تھی۔ اس دن ہم دونوں کو ہمارے باجی بھی دیکھ رہی تھی جو ہم نے نوٹس نہیں کیا، جب ہم اوپر گھر کی چھت کا چھوٹا سا روم میں گئے، اور اپنی نئی ماں کو چود رہے تھے تب باجی نے اوپر سے پکڑ لیا۔ میرا پورا عضو تناسل نئی ماں کے اندر تھا اور نیچے لیٹی ہوئی ماں پورا زور سے مچل رہی تھی۔ میں نے اور ہمارے نئی ماں نے باجی کو ہم راز رہنے کا وعدہ کیا اور نئی ماں نے جلد باجی کی شادی کروانے کا وعدہ کیا۔
آخر کار 1 مہینے بعد نئی ماں نے اپنے ایک کزن سے باجی کی شادی کروا دی، مگر باجی اور میں جانتے تھے باجی میرا منی لے چکی تھی اور میرا بچہ کی ماں بن چکی تھی، اور ادھر ہمارے نئی ماں بھی میرا منی سے ماں بن رہی تھی یہ راز باجی اور میں اور ہمارے نئی ماں جانتی تھی۔ باجی اور نئی ماں نے 8 مہینے کے بعد بچہ پیدا کیا، اور دونوں کو پتہ تھا یہ کس کا بچہ ہے، ادھر چھوٹی بہن کو ہر 3 سے 4 دن بعد چودتا رہا اور یہ پریگننٹ نہ ہو اس کو دوائی لا کر دیتا تھا۔ میں نے 1 سال باجی اور نئی ماں کا دودھ بھی پیا اور ساتھ چدائی بھی کی اور نیکسٹ بچہ کے لیے منی ان میں گرا دیا۔ نئی ماں بہت خوش تھی کیونکہ ہمارا باپ مولوی صاحب بس کبھی کبھی دوائی کھا کر کچھ کر لیتا تھے اور وہ یہی سمجھتا تھے کہ دوسرا بچہ بھی ان کا ہونے والا ہے۔ ماں 2 مہینے کی پریگننٹ تھی جب چھوٹی بہن کی بھی شادی ہو گئی، اور گھر میں اب میں اور نئی ماں ہوتے ان کی گانڈ بھی مارتا اور پھدی بھی اور ساتھ دودھ بھی پیتا۔ باجی جب بھی گھر آتی تو نئی ماں کا سامنا باجی کو روم میں لے جاتا اور نئی ماں چپ چپ کر ہم بہن بھائی کی چدائی دیکھتی اور جب باہر آتے تو نئی ماں بولتی منی ڈال دیا ہے اپنی باجی میں؟ اور باجی بھی جان چکی تھی یہ راز نئی ماں کو مل گیا ہے مگر ایک دوسرے کو وہ دونوں کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔
کیونکہ میں اپنی باجی کا سامنا اپنی نئی ماں کی موٹی چوتڑ میں ہاتھ ڈال دیتا یا انگلیاں ڈال دیتا تھا۔ دونوں دوست بھی بن گئی تھی اس لیے یہ دونوں زیادہ تر وقت مل کر گزارتی جب باجی گھر آتی۔ میرا 2 بچہ نئی ماں سے اور 2 بچہ باجی سے ہوا اور ایک بچہ چھوٹی بہن سے