سردی کے موسم کی کچھ یادیں



اتنا میں وہ آدمی نے کمبل سائیڈ پر کیا اور موم کی گوری چٹی موٹی تھائیز کو کھول کر بیچ آ گیا اور اس کا لمبا موٹا گھوڑا جیسا لنڈ سیدھا کھڑا ہوا تھا، بہن نے مجھے اشارہ کیا تو میں نے بھی سر کو اوپر کر کے دیکھا، ادھر موم نے ماتھے پر بازو رکھا ہوا تھا، پورے ننگے لیٹے ہوئے تھی، اور ہماری طرف دیکھا تو بڑی بہن اور موم کی نظر مل گئی، جس پر موم کو شرم آئی اور اپنی چھوٹی سی چادر کو اپنے ممّو پر ڈال لی، ادھر وہ موم کی نرم اور گرم چوت کا بیچ لنڈ کو جیسے رگڑ رہا تھا اور ساتھ منہ سے کافی تھوک نکال کر جیسے لنڈ اور چوت پر لگا رہا تھا اور پھر موم پر لیٹ گیا اپنا ایک ہاتھ میں لنڈ پکڑ کر اور جیسے موم پر لیٹا، جو کافی ہیوی تھا موم کا نازک جسم نے اس کا ویٹ اٹھا لیا جیسے پھول جیسے ہو، اور ساتھ ہی موم کا منہ کھلتا گیا اور موم نے دونوں بازوؤں سے اس آدمی کا گلے میں بازو ڈال دیا، اور وہ اپنا گھوڑا جیسا لنڈ کو اندر پریس کرتا گیا اور موم نیچے سے اوپر کو اپنی چوت اٹھاتی تو کبھی خود پیچھے کو ہو جاتی… جس پر وہ آدمی بولا…. ابھی تھوڑا سا گیا ہے تمہارے آگ نکلتی چوت میں بہن….. تھوڑا اور چوت کو ریلیکس کرو… ادھر موم تھائیز کو اور زیادہ کھول دی تھی۔

ادھر میں نے بھی لنڈ پر کافی تھوک لگا کر اپنی بڑی بہن کی گانڈ میں لنڈ زور کا جھٹکا سے اندر ڈالا، جو بہن نے اپنی سڈول گانڈ کو ریلیکس کر دی تھی اور میرا لمبا موٹا لنڈ کوئی 2 انچ تک اندر گیا تو بہن کے منہ سے…. آآھھھ…. نکلی تو موم نے مڑ کر بہن کی طرف دیکھا، تو پھر سے موم اور بیٹی کی نظریں ملی… اور ادھر پھر سے اس آدمی نے موم کی چوت میں لمبا موٹا لنڈ کا جھٹکا اندر مارا تو ادھر موم بیٹی سے نظر ملائے ہوئے تھی تو موم کا منہ پھر سے کھل گیا اور آآھھھھ…. کر اٹھی… اور وہ آدمی بولا…. مارے بہن کی اتنی ٹائٹ چوت ہو گی سوچا نہیں تھا…. اور موم کا لپسٹک لگا موٹا پیارا لپس پر اپنا لپس رکھ دیا اور چوسنا لگ پڑا.. ادھر میرا 3 انچ لنڈ اپنی بہن کی گانڈ میں چلا گیا تھا۔ مگر مجھے پھر بھی سکون نہیں مل رہا تھا، کیوں کہ جس کی ماں کو کوئی اور چود رہا ہو وہ بھی گھوڑا جیسے لنڈ سے کون بیٹا اور بیٹی سکون سے رہیں گے… ادھر میں اپنی بڑی بہن کی گانڈ میں فارغ ہو گیا تھا، بہت جلد فارغ ہو گیا تھا جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ مگر بڑی بہن پھر بھی اپنی گانڈ کا چوتڑ کھولا ہوا میرا لنڈ کو اور اندر لے رہی تھی۔

ادھر موم کی چوت میں کتنا لنڈ گیا ہوا تھا کچھ پتہ نہیں بس ان کی آواز اور فیلنگز سے پتہ چل رہا تھا۔ پھر کچھ دیر بعد یہ پتہ چلا کہ آدمی بولا… تم پہلے بھی فارغ ہوئی تھی اب پھر ہو رہی ہو…؟ تو موم نے اپنا سر ہلا کر ہاں بولا اور موم بولی.. بس اتنا ہی رہکو اور نہ ڈالنا… اور موم نیچے سے خود ہل رہی تھی۔ کچھ دیر بعد آدمی کی آواز آئی…. آآھھ….. آآآھھھ……. اور وہ اوپر لیٹ گیا تھا… جب صبح اٹھے تو موم شلوار پہن کر اب قمیض پہن رہی تھی جب میرے اور موم کی نظر ملی، ادھر اس آدمی کو دیکھا تو اس کا کوئی 7 سے 8 انچ لمبا اور کافی موٹا لنڈ اس کی دوسری تھائی پر لیٹا سویا ہوا تھا، موم نے مجھے دیکھا تو میں اس کا لنڈ کو دیکھ رہا تھا… موم نے اس کا کمبل کو اس کے اوپر ڈال دیا اور اس کا لنڈ کو چھپا لیا۔ ادھر مجھے موم بولی اٹھو تم لوگ کچھ جیپ کا پتہ کرو، میں بھی اٹھا تو میرا لنڈ بھی میری جین سے نکلا ہوا تھا اور بڑی بہن کی گانڈ کا نیچے شلوار تھی، موم نے مجھے اور اس کو دیکھ کر تھوڑے مسکرائی اور باہر چلی گئی۔ باہر دھوپ بہت اچھی نکلی ہوئی تھی۔

ہم باہر آئے تو موم نے لمبی سانس لی اور بولی…. کیا ہم لوگ ادھر کی بات ادھر چھوڑ کر چلا…؟ جس پر بہن نے موم کا گلا میں بازو ڈال کر موم کا چہرہ پر کس کی اور بولی….. جی موم ٹھیک بول رہی ہیں، اور میں نے بھی موم کو کس کی۔ ادھر وہ آدمی بھی باہر نکل آیا تو موم اسے دیکھ کر جیسے شرما رہی تھی اور موم کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ موم کو اندر لے گیا تو بڑی بہن نے اندر دیکھا تو ہنسی میں نے پوچھا تو بولی… موم کی یاد میں موم کا برا لے رہا ہے.. اور موم اپنا پنک کلر کا برا اتار کر دے رہی تھی۔ پھر ہم لوگ واپس جیپ کی طرف چل پڑے اور وہ آدمی اور موم ہمارے پیچھے چلتے آ رہے تھے، موم کافی ہنس ہنس کر بات کر رہی تھی۔ موم نے مجھ سے پوچھا ہم جس ایریا میں شفٹ ہوئے ہیں وہ کس طرف ہے؟ تو میں نے بڑی بہن کی طرف ہنستا ہوا پورا ایڈریس بول دیا اور بہن بھی ہنستی رہی۔ ادھر پیچھے وہ موم کی موٹی سڈول ہپس کو دباتا ہوا چل رہا تھا، اور موم بھی ایک لڑکی کی طرح فیل کروا رہی تھی۔

جیسے جیپ کے پاس پہنچے ڈیڈ، چھوٹی بہن اور ایک آدمی آیا ہوا تھا جو جیپ کو چیک کر رہا تھے۔ ڈیڈ ہم سب کو گلے سے لگا کر ملا اور خوش ہوا اور بولا ہم لوگ پوری رات جاگتے رہے تم لوگوں کا کیا ہوا ہو گا۔ ادھر ڈیڈ نے موم کو گلا لگایا تو موم جیسے شرم کھا گئی تھی اور تھوڑے پیچھے پیچھے رہ کر ملی، کیوں کہ موم کے ساتھ ان کا نیو لور بھی تھا جو دیکھ رہا تھا، موم جتنی خوش تھی اب جیسے چپ لگ گئی تھی ان کو۔ ادھر ڈیڈ نے بہت زیادہ تھینکس کیا جس نے ہم کو رات رکھا، مگر ڈیڈ نہیں جانتے تھے کہ پوری رات ان کی بیوی اس کے نیچے رہی، ادھر جیپ کی بیٹری کی تار اتاری ہوئی تھی، وہ لگائی اور جیپ سٹارٹ ہو گئی، موم اور بڑی بہن جیپ میں بیٹھ گئے۔ اور میں جیپ میں آ کر موم کو بولا…. موم اگر آپ بولو تو اس کو آپ کا ایڈریس دے دوں؟ تو موم سنتے ہی ان کا چہرہ پر ہنسی آئی اور ان کی آنکھوں میں جیسے ریکویسٹ تھی کہ ہاں جلدی سے دے دو… میں نے ایڈریس اور فون نمبر لکھ کر اس آدمی کو دے دیا، اور میں نے جیپ کا گیئر لگایا کو جیپ کو بھگا لیا….

راستہ میں موم کو بولا، موم آپ پہلے تو ڈر اتنا رہی تھی پھر کیا ہوا کہ آپ دل دے کر آ گئی ہو…؟ ادھر بڑی بہن نے سیٹ کا پیچھے سے موم کا گلا میں بازو ڈال کر بولی…. ویسے جتنی موم خوش تھی تو میرا دل کر رہا تھا کچھ دن ادھر ہی رہا لیتے. پھر موم کا کان میں بولی… موم وہ تو بہت ہی موٹا اور لمبا تھا….. جس پر موم ہنسی اور شرما گئی.. میں بولا کیا لمبا اور موٹا تھا…؟ تو موم اور بہن دونوں ایک دوسرے کو دیکھتی رہی… اور موم نے اپنا لپس دبا لیا۔ ہم لوگ ہوٹل آ گئے تھے، اور ادھر 3 دن اور رہے اور پھر واپس گھر آ گئے۔ میں نے کچھ دن تک دونوں بہنوں کی اچھی چدائی کی… اور ان کی چوت اب میرا لنڈ پورا لیتی تھی، چھوٹی بہن بڑی بہن سے زیادہ انجوائے کرتی اور کرواتی تھی، کوئی 1 منتھ کے بعد میں دوسرا سٹی چلا گیا سٹڈی کے لیے کوئی 9 منتھ کا کورس تھا۔

مگر جب تک گھر پر تھا اور موم سے میں یا بڑی بہن پوچھتی رہتی موم سے کوئی فون نہیں آیا تو موم بولتی نہیں کوئی فون نہیں آیا، میں ایک مہینے کے بعد دوسرے شہر چلا گیا تو ایک دن کوئی 3 بجے گھر کی ڈور بیل بجی، تو موم گھر پر تھی موم نے دروازہ کھولا تو سامنے وہی لمبے چوڑے آدمی کھڑا تھا۔ موم دیکھ کر پہلے شاکڈ ہوئی اور ادھر ادھر دیکھتی رہی، موم کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی اور موم کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں، جس پر موم اسے بولی… 1 منٹ رکو اور پھر اندر چلی گئی، بڑی بہن اپنے روم میں لیٹی ہوئی تھی، موم کو دیکھ کر بڑی بہن تھوڑے ڈر گئی تھی کہ کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہو؟ موم نے اپنا سانس ٹھیک کیا اور بولی…. وہ، وہ باہر آ گیا ہے… بہن بولی کون وہ اور کیا چاہتا ہے ہم سے پولیس کو کال کرو….. تو موم بولی نہیں نہیں… پھر موم نے کچھ لمبی سانسیں لی اور بولی… ارے… وہ جس کے پاس ہم رات رکے تھے نا….. بڑی بہن بولی…. اوہ… ہووو….. واہ موم… کدھر ہے وہ…؟ تو موم بولی باہر کھڑا ہے… کیا کروں؟ تو بہن بولی موم گھر پر کوئی نہیں ہے تو پھر کیوں ڈر رہی ہیں؟

چھوٹی بہن 5 دنوں کے لیے پھوپھو کے گھر گئی ہے اور ڈیڈ آفس، موم بولی وہ تو ٹھیک ہے مگر تم کو پتہ ہے اس سے ذرا سمیل آتی ہے تو تمہارا ڈیڈ کو پتہ چل جائے گا… جس پر بہن بولی…. پھر آپ اس کو اس روم میں بلا لیں… موم بولی…. سچی؟ تم مائنڈ تووو….. بہن بولی…. ارے موم یار.. کیسے بات کرتی ہو، کبھی آپ نے مائنڈ کیا میرے برے چیز کا… چلو اس کو ہم لے کر آتے ہیں، بہن اور موم اس کو اندر لے آئے اور بہن کے روم میں بٹھا دیا، وہ بہن کے سنگل بیڈ پر بیٹھ گیا۔ ایک بورے میں کافی ڈرائی فروٹس تھے، اور وہ خود سے نہا کر تو آیا تھا مگر اس کے کپڑے پرانے تھے جس سے سمیل آ رہی تھی۔ موم کے ساتھ بیڈ پر بیٹھے رہی اور وہ موم کا گلا میں بازو ڈال کر بیٹھا رہا، اور بڑی بہن اس کے لیے کھانا پکاتی رہی اور وہ موم کے گلابی ہونٹوں کو چوستا رہا اور ساتھ موم کا موٹا بریسٹس دباتا رہا، کوئی 1 گھنٹے تک بہن کھانا لے کر آ گئی اور سب نے کھانا مل کر کھایا۔

وہ جتنا بھوکا تھا اس نے کافی کھانا کھایا۔ موم نے پوچھا کتنے دنوں کے لیے آئے ہو؟ تو بولا جتنے دنوں تک تم لوگ رکھ لو.. جس پر موم اور بہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور بہن بولی ٹھیک ہے۔ مگر آپ اس روم سے باہر نہیں جائیں گے۔ یہ میرا روم ہے ادھر ڈیڈ نہیں آتا۔ آپ بس پلیز پلیز ادھر سے ہلنا نہیں۔ جس پر وہ ایگری ہو گیا، اور موم اس کے لیے ڈیڈ کی کچھ لانگ کرتا اور بھائی کی کھلی شلوار لینا چلی گئی، اور بولی میں ابھی کچھ دیکھ کر لاتی ہوں، پھر کل بازار سے تم کو لا دوں گی، ان کپڑوں کو اتار دو، اور اپنا حال ٹھیک کرو۔ کیا جن سے بنا ہو، اور وہ آدمی ہنستا گیا۔ موم کپڑے لینا چلی گئی، ادھر بہن بولی آپ اپنے داڑھی اتنے لمبے اور پونچھے اتنے بڑے کیے ہوئے ہیں ان کو ٹھیک کرو، آپ اتنے پیارے ہو، اپنا اصل روپ میں آؤ تو کوئی بھی عورت آپ کو دل دے ڈالے گی، بہن کی میٹھی باتیں اور اس آدمی کی میٹھی باتیں ان دونوں کو ملا رہی تھی،

بڑی بہن ان 2 مہینوں میں کافی چینج بھی ہو گئی تھی اور جسم سے بھی اب ایک بھرا بھرا سا جسم اور ہپس موٹی اور ممّوں کا سائز بھی زیادہ ہو گیا تھا، اور موم نے بھی بول دیا تھا بھائی کا لنڈ صرف گانڈ میں تھوڑا سا لے لیا کرو، اور موم نے جس طرح اپنی چدائی کی سٹوری اس بہن کو سنائی تھی، اس کا دل بھی کرتا تھا کہ لمبے موٹے لنڈ میں سچ میں کوئی جادو ہے، اور ادھر اس 42 سال آدمی اپنی میٹھی میٹھی باتوں میں بڑی بہن کو پورے طرح امپریس کر چکا تھا اور بہن اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتی رہی، اتنا میں موم کچھ کپڑے لائے اور اس کو دے دیا اور بولی، اب ان کا آنے کا ٹائم ہو گیا ہے، اور بیٹی تم اندر سے لاک لگا لو روم کا، جب تک وہ سو نہیں جاتا میں شاید نہیں آؤں گی۔ اور پھر اس آدمی کو بولی، جاؤ باتھ روم، جا کر نہاؤ اور ٹھیک انسان کا روپ میں آؤ۔ بہن اٹھی اور ڈور کو اندر سے لاک لگانا چلی تو اس کی موٹی موٹی تھر تھراتی ہپس میں قمیض تھوڑے سے اس کی چوڑ کریک لائن میں پھنسی ہوئی تھی، اور اس کی ریشمی قمیض سے اس کا برا کی چوڑ اور پتلی سٹرپس پیچھے سے نظر آ رہی تھی، اور آدمی اپنی آنکھوں سے بہن کا جسم کو دیکھتا رہا،

جب بہن واپس آئی تو بولی چلو اٹھو آپ۔ یہ میرا واش روم ہے اس میں نہا لو، اور اس آدمی نے اوپر لی ہوئی موٹی چادر اتاری اور اپنی قمیض کو اتار دی، اس کا جسم گورا تھا اور کالے لمبے بالوں سے بھرا ہوا اور پیٹ 6 پیک تو نہیں مگر 4 پیک تھے، بہن دیکھ کر اپنا لپس کو دبا لیا۔ اور ادھر اس آدمی نے ساتھ ہی اپنی شلوار کو نیچے گرا دیا۔ جیسے ہی نیچے گرایا بہن کی آنکھیں کھلی اور ساتھ ہی گھوم گئی دوسری طرف اور منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی…. آپ اندر جا کر کپڑا اتارتے جس پر وہ بولا مجھے نہیں پتہ تھا، اور وہ ننگا باتھ روم میں گیا اور ڈور میں کھڑا ہو گیا اور پیچھے مڑ کر بولا، اس میں نہانا کیسے ہے؟ اور مجھے تو نہ بال کاٹنا آتا ہے اور نہ یہ چیزیں یوز کرنی آتی ہیں، جس پر بہن مڑ کر اس آدمی کو دیکھتی رہی اور سوچتی رہی، مگر اپنی نظریں اب نیچے اس کا لمبا موٹا لنڈ پر تھی۔ اتنا میں اپنا گلا میں دوپٹہ نکال دیا اور بولی چلو میں ہی کچھ کرتی ہوں۔ آپ اندر چلو…

اندر جا کر بہن نے اس کو کموڈ کی سیٹ پر بٹھا دیا اور خود سامنے کھڑی ہو گئی اور قینچی سے داڑھی اور مونچھیں کاٹیں اور جتنی داڑھی اور مونچھیں کاٹ سکتی تھی کاٹ دی، سامنے کھڑی بہن کی ریشمی قمیض سے اس کا برا میں پھنسا موٹا ممّا کی اٹھان اور سائیڈ سے لائٹ پڑ رہی تھی جس سے پیٹ کا اوپر ممّے اوپر کو اٹھا ہوا دیکھتا رہا وہ آدمی۔ پھر بہن شیلف سے ریزر اٹھانا گئی اور پیچھے کو مڑی تو اس نظر پھر اس کے لنڈ پر پڑی جو پورے طرح سیدھا کھڑا ہوا تھا، بہن کی ہارٹ بیٹ پہلے تیز تھی اور اب جب اس نے کھڑا لنڈ دیکھا تو اپنا ہوش جیسے کھو گئی تھی، پھر ہمت کر کے پاس آ گئی اور ادھر اس آدمی نے اپنی دونوں تھائیز کو کھولا ہوا تھا، ان کے بیچ میں کھڑی ہو گئی، اور ایک طرف ریزر سے شیو کر رہی تھی اس آدمی کی دوسری طرف خود فیل کر رہی تھی کہ میرے ننھی سی چوت کا بالکل نیچے لمبا موٹا گھوڑا جیسا لنڈ ہے بیٹی.. کوئی غلطی ہوئی سیدھی اوپر لوگ کی طرح چوت… ذرا بچ کر۔

کوئی 20 منٹ میں بڑی بہن نے اس کا سر کا بال، اور منہ کی شیو اور مونچھیں کاٹ دی تھی، اور بولی… آپ اب بہت پیارے لگ رہے ہو قسم سے، موم دیکھے گی تو آپ کو پہچان نہیں پائے گی۔ جس پر وہ آدمی بھی بہت خوش ہوا اور بار بار اپنا چہرہ پر ہاتھ پھیرتا اور بولتا کتنا عجیب میرا چہرہ لگ رہا ہو گا تو بہن بولتی نہیں آپ بہت ہی پیارے لگ رہے ہو۔ اتنا میں بہن بولی اچھا اب آپ اٹھو اور میں آپ کا بال اس میں فلش کر دوں۔ اور وہ آدمی اٹھا تو باتھ روم بھی کوئی بڑا نہیں تھا، اوپر سے لمبا موٹا لنڈ جو فٹ کے پاس تھا وہ بہن کی تھائیز سے رگڑ کھاتا ہوا اس کے نازک پیٹ سے اس کا موٹا کیپ لگ گیا، ادھر بہن کا چہرہ کا رنگ پہلے ریڈ تھا اور اب تو اس کا برا حال ہو رہا تھا، اور پھر بہن آگے کو ہو گئی اور وہ پیچھے کھڑا تھا، اور اس کا لمبا موٹا لنڈ بہن کی نرم سڈول موٹی ہپس میں پریس ہوا تھا اور بہن نیچے جھکی ہوئی بالوں کو کموڈ میں فلش کر رہی تھی، اور ساتھ فیل کر رہی تھی کتنا موٹا ہے یہ لنڈ۔ اوففف… کبھی دل میں آتا تھوڑے اور پیچھے کو ہو جاؤں اور اپنی ہپس یا تھائیز میں دبا لوں…

یا یہ خود ہی پریس کر دے، اتنا پاک کیوں بنا ہوا ہے، اگر شریف ہوتا تو کیوں کھڑا کرتا اپنا یہ گھوڑا جیسا لنڈ۔ اتنا میں بہن کھڑی ہو گئی اور بولی… لو اب آپ نہا لو، تو وہ آدمی بولا، ابھی تم نے نیچے کی شیو نہیں کی… جس پر بہن کو اور شرم آئی اور کچھ دیر ہنسی اور پھر بولی وہ آپ خود کر لو، تو وہ بولا میں ایسے لیا نہیں کرتا کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔ بہن ہنسی اور بولی اچھا بیٹھو آپ، مگر موم کو نہ بتانا، اور وہ اپنا لمبا موٹا لنڈ کھڑا کیا ہوا پھر سے بیٹھ گیا، اور بہن اس بار نیچے واش روم کا فرش پر بیٹھی اور ہنستی رہی کچھ دیر اور کچھ فری ہو کر ایک چھوٹا سا تھپڑ موٹے لمبے لنڈ پر مار کر بولی، اس کو تو نیچے کرو، کیسے شیو کریں گے۔ جس پر کوئی 5 منٹ لگا اس کو اپنا سیمی ہارڈ لنڈ کرنا میں، اور پھر بولا مجھے پیشاب آیا ہے تو بہن بولی اٹھو اور ادھر کرو، پھر کموڈ کی سیٹ اوپر کی اور وہ کھڑا ہو کر پیشاب کرنا لگ پڑا، اس کا پیشاب کی دھار بھی کسی گھوڑے کی طرح کی ہی تھی،

اور بہن بولی، ارے سیدھے اندر کو دھار مارو… جس سے کچھ پاس کھڑی بہن کی قمیض پر بھی گرا تو بہن جو پہلے سے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑنا چاہ رہی تھی، اس نے اب سیمی ہارڈ سے بھی ہلکا کھڑا لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر سیدھا منہ کموڈ کی طرف کیا، بہن کا چھوٹا سا پتلا نرم ہاتھ میں گرم موٹا لمبا لنڈ تھا، جو اسے مزہ دے رہا تھا۔ کچھ دیر بعد بہن نے شاور سے لنڈ صاف کیا خود اور ساتھ لنڈ کا لمبے بالوں پر بھی پانی ڈالا تاکہ شیو ایزی ہو۔ کچھ دیر بعد بہن نے شیو کرنا لگ پڑے تو ادھر لنڈ پھر سے ہارڈ ہوتا گیا اور بہن کبھی ہنستی تو کبھی پھر سے چھوٹا سا تھپڑ مار دیتی، جس سے لنڈ اور ہارڈ ہو جاتا، اور اس کا دونوں ہاتھوں سے اب لنڈ لگا ہوا تھا اور منہ بھی اب ساتھ لگ رہا تھا، کچھ بہن بھی زیادہ گرم ہو گئی تھی جو اپنا کبھی کسی گال سے لنڈ لگا لیتی تو کبھی دوسرے گال سے،

ادھر وہ آدمی نے پیچھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی اور اس کی آنکھیں بند تھی اور ایسے کا بہن فائدہ لے کر اپنا چہرہ سے لنڈ کو لگا کر مزہ لے رہی تھی، اور بہن کی چوت پورے طرح گرم ہو کر پانی نکال رہی تھی، جیسے بہن اٹھی تو اس آدمی نے بہن کی کمر کو پکڑ لیا جو ریشم سے بھری ہوئی کمر تھی، اور بہن بھی رک کر کھڑی ہو گئی، اور اتنا میں اس آدمی نے بہن کی کمر سے نیچے اپنا بڑا بڑا ہاتھ لے آیا اور اس کی موٹی چوڑ سڈول ہپس پر رکھ کر دبایا اور ساتھ شلوار کو نیچے کر دیا، بہن یہی چاہتی تھی، ایسے لیا روک نہ سکی۔ بہن نے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھی اور پورا مزہ اور آگ میں جل رہی تھی، تب اس آدمی نے بہن کی تھائیز کو کھولا اور بہن بھی اپنی تھائیز کو کھولتی گئی اور اس کی نرم موٹی چوت گوری چٹی کا ہونٹ تھوڑا سا کھل گئے تھے جس سے گلابی رنگ کا بیچ کا ماس نظر آ رہا تھا، بہن کو آگے لے آیا اور اپنی تھائیز کو بند کر لی، جس سے بہن اس کی گود میں بیٹھ سکی، ادھر اس نے اپنا لنڈ پر کافی تھوک لگا دی، ادھر بہن بیٹھنے لگی،

اس کی چوت اب اس کا لمبا موٹا لنڈ کا کیپ سے لگی ہوئی تھی اور چوت کا ہونٹ پورا کھول دیا تھا موٹا لنڈ کا کیپ نے اور چوت کا پانی کا ایک ڈراپ لنڈ کا کیپ پر لگا اور موٹا کیپ چوت کا منہ کا اندر آرام سے سلپ ہوا مگر چوت کا پورا منہ کو کھول کر اور پھنس کر اور بہن کی سانس اور تیز ہو گئی تھی، بہن کی ٹانگوں میں جان نہیں رہی تھی، جس سے اس آدمی نے اپنا دونوں ہاتھ بہن کی تھائیز کا نیچے سے اپنا ہاتھوں سے پکڑ رکھا تھا اور بہن کا ویٹ اٹھا رکھا تھا، ادھر بہن لنڈ کو آرام آرام سے اندر لیتے ہوئے اوپر بیٹھ رہی تھی اور ساتھ لمبی سانسیں اور اپنا ہونٹ کو کبھی اپنا گورا دانت سے دباتی تو کبھی ہونٹ کو دبا لیتی، نیچے چوت پورے طرح کھلی ہوئی تھی کہ 1 بال بھی اندر نہیں جا سکتا تھا۔ ابھی آدھا لمبا موٹا لنڈ گیا ہی تھا، اور بہن تھوڑے سے اوپر کو ہوئی کیوں کہ وہ پورا مزہ لے رہی تھی اور چوت کا پانی سے لنڈ کو گیلا کر کے اپنی چوت میں لنڈ سلپ کروانا چاہ رہی تھی، کہ روم کا ڈور نوک ہونا لگ پڑا، ادھر جس طرح بہن گرم اور جیسے بادلوں میں اڑتی پھر رہی تھی اور اپنی چوت کو جس طرح ایک موٹا لنڈ میں پھنسا چکی تھی، اب اس کا دل نہیں مان رہا تھا کہ اس کو چھوڑ کر زمین پر آ جاؤں،

اتنا میں پھر اس کو ڈیڈ کی آواز آئی، بیٹی کدھر ہو؟ کیا کر رہی ہے میری بیٹی…. اپنا باپ کو کیسے بتائے کہ ابھی ابھی جوان ہوئی تھی اور ابھی سے ایک لمبا موٹا جہاز پر بیٹھے ہوں ڈیڈی….. ڈیڈی…. آپ کی بیٹی کی نازک سی جوانی سے بھری ہوئی بیٹی کی چوت عین ایک پہاڑے آدمی کا لمبا موٹا لنڈ پر اٹک گئی ہوں. پلیز مت مجھے تنگ کرو، چلا جاؤ…. مجھے ابھی بہت لمبے سیر کرنے ہیں، اتنا میں بہن کو اپنا موٹا ممّو پر بڑا بڑا ہاتھ فیل ہوا اور جیسے مجھے اوپر کو ہوا میں لے جا رہا تھے اور میرا میرا ممّا جو برا کو پھاڑ کر باہر نکلنا چاہ رہا تھے….. اوفففف کیا کروں… ادھر پھر سے لمبا موٹا لنڈ اور اندر کو جا رہا تھا اور چوت میں اور لنڈ اپنا راستہ خود بنا رہا تھا اور ادھر اس آدمی کا ہاتھوں نے بڑی بہن کا ممّو کو ذرا زور سے دبایا تو بہن نے آنکھیں کھولی اور وہ بولا کوئی تم کو بلا رہا ہے، جس پر بہن نے چھتاتے ہوئے اٹھی تو اس کی گلابی ٹائٹ چوت کا کوئی 1 انچ تک گلابی اندر کا ماس لنڈ کا ساتھ چپکا ہوا باہر کو اوپر جا رہا تھا اور بہن کی ٹانگیں کام نہیں کر رہی تھی،

وہ واش روم کا ڈور بند کر کے اپنا ڈور کا آدھا ڈور کھول کر بولی… ڈیڈ میں نہا رہی تھی، آتی ہوں۔ اور ڈور لاک کر کے خود بیڈ پر الٹی لیٹ گئی، اور چوت جس طرح پھول گئی تھی اس پر اپنا ہاتھ سے تھپڑ مارتی رہی، کوئی آدھا گھنٹہ تک لیٹی رہی، پھر جب اس آدمی نے نہا لیا اور نیا سوٹ پہن کر باہر آیا اور اس نے بہن کو اٹھایا۔ تو بہن کو بھی ڈریم لگا، بہن کچھ دیر تک اسے دیکھتی رہی یہ کون ہے پھر جب اس آدمی نے بہن کی سڈول موٹی گانڈ کو دبایا تو بہن کو یاد آ گیا۔ بہن نے اس کو کس کی اور بولی باہر ڈیڈ مجھے بلا رہا ہیں تم سو جاؤ میرا بیڈ پر میں لائٹ آف کر دیتی ہوں، بہن کا نرم سنگل بیڈ پر لیٹ کر بہن کا جسم کی خوشبو سے بھرا ہوا گرم بلینکٹ اوپر لیا اور وہ سو گیا۔ ادھر بہن اپنا آپ کو سیٹ کر کے باہر چلی گئی، موم اور ڈیڈ بیڈ پر لیٹے تھے سائیڈ لیمپ جل رہا تھے، اور اوپر بلینکٹ لیا ہوا موم ڈیڈ سے نخرہ کر رہی تھی،

موم نہا کر اور لپسٹک لگا کر بیڈ پر ٹیک لگا کر بہن سے اشارہ سے پوچھ رہی تھی کہ میرا یار کیسا ہے؟ تو بہن نے اشارہ سے بتایا کہ وہ سو گیا ہے، آج موم جس طرح چمک رہی تھی آج سے 2 مہینے سے اس طرح فیل نہیں ہوا تھا، موم نے اپنا کالا لمبا بال کھول رکھا تھا اور برا کی سٹرپس کو بھی لوز کیا ہوا تھے جس سے موم ہلتی تو ساتھ ممّا بھی اسی سائیڈ کو ہو جاتا، ڈیڈ بہن سے باتیں کرتا رہا سٹڈی کا پوچھتا رہا تو موم بولی آپ اپنی دوائی کھا لو، تو ڈیڈ بولا اس سے نیند جلد آ جاتی ہے، اور تم آج بہت پیاری لگ رہی ہو تو تھوڑی دیر اور تم کو دیکھ لوں…. جس پر سب ہنس پڑے۔ پھر ڈیڈ بولا مجھے پانی لا دو میں دوائی کھا ہی لوں، موم بیڈ سے اٹھی اور پانی لے آئی، موم کو دیکھ کر بہن بولی، موم اس سوٹ میں آپ کچھ زیادہ ہی سمارٹ اور پیاری لگ رہی ہو، تو موم تھوڑے شرمائی تو بہن کان میں بولی، موم پھر ریڈی ہو؟ موم اور بہن صوفہ پر بیٹھی تھی اور ڈیڈ بیڈ پر دوائی کھا کر ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ موم نے بیٹی کی تھائی پر ہلکا سا تھپڑ مار کر بولی…. چپ کر اور پھر ہنس پڑے،

ادھر ایک گھنٹے تک بہن موم اور ڈیڈ باتیں کرتے رہے، اصل میں بہن کی چوت کی آگ اس کو پاگل کر رہی تھی اور وہ موم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی، اگر بہن کو ڈیڈ نہ بلاتا نہ ڈور نوک کرتا تو بہن اب تک ٹھنڈی ہو گئی ہوتی، مگر اب وہ موم کو اتنا پیارا اور ریڈی دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ موم آج تو فل مزہ لیں گی لمبا موٹا ہارڈ لنڈ کا، ادھر ڈیڈ بولا ٹھیک ہے بیٹی تم جاؤ، بہن اٹھی تو موم کو بولی کب آ رہی ہیں آپ اپنی آگ ٹھنڈی کرنا… جس پر موم ہنسی اور بولی… شرم کرو…. جاؤ تم میں آتی ہوں، آج ان کا بھی دل مجھ پر آ گیا ہے، بہن روم سے باہر آ گئی تھی مگر تھوڑا سا ڈور کھلا رہ گیا تھا، ادھر ڈیڈ نے موم کو پکڑ لیا اور ان کے ہونٹ چوسنا چاہتا تھے، موم کا بریسٹ تو پکڑ رکھا تھے، مگر موم بولی… آپ سے کچھ ہوتا ہے نہیں، بس اندر بھی مجھے پکڑ کر ڈالنا ہوتا ہے، آپ اب ریسٹ کرو میں بیٹی کے روم میں جا رہی ہوں.. مگر ڈیڈ موم کو نہیں چھوڑ رہا تھے، بہن یہ دیکھ کر اپنے روم میں آ گئی، ادھر وہ بہن کا کمبل لیا سویا ہوا تھا، بہن صوفہ پر اپنی ٹانگیں اوپر کر کے بیٹھی گئی اور اوپر اپنی گرم شال لے لی۔

کچھ دیر گزری تو موم بھی آ گئی روم میں اور ڈور کو لاک کر دیا اور بہن کے پاس بیٹھ گئی، کچھ دیر موم اس آدمی کو سویا ہوا دیکھتی رہی اور بولی… کتنا چینج لگ رہا ہے یہ.. تو بہن بولی موم اس کو میں نے ریڈی کیا ہے، تو موم بولی سچ میں؟ تو بہن بولی اور کیا، دونوں ساتھ بیٹھے تو موم نے بیٹی کا گلا سے لگ کر کس کی… بہن بولی موم کیا آپ بھی ریڈی ہو؟ آئی مین اس کی شیو کی ہے کہ نہیں…؟ بہن نے موم کی قمیض کا اوپر سے ہاتھ ان کی چوت کا اوپر دبا کر رکھ دیا… تو موم ہنسی اور بولی… شرم کرو…. تم تو آج کیسے باتیں کر رہی ہو؟ تم سب جانتی تو ہو… تو بہن موم کا بریسٹ پر سر رکھ کر بولی… موم سوری…. اصل میں جب سے یہ آیا ہے تو مجھے آپ کی فیلنگز کو فیل کرنا چاہ رہی ہوں، اور ہم فرینڈز بھی تو ہیں نا… جس پر موم بولی ہاں تم ٹھیک بول رہی ہو، اور موم بیٹی کے گال پر کس کرنا لگی تو بہن نے اپنا لپس آگے کر دیا اور موم کا لپس پر زور سے کس کی تو موم ہنسی اور بولی… آج تم باپ بیٹی کو کیا ہو گیا ہے؟ تو بہن بولی اتنے ہاٹ اور پیارے آپ پہلے نظر نہیں آئے تھے۔ اس لیے ہم آپ پر مر گئے ہیں۔ جس پر دونوں ہنسے، ان دونوں کا ہنسنا سے وہ پہاڑے آدمی جاگ گیا اور موم کو اپنے پاس بلا لیا۔

موم بھی اٹھ کر اس کے پاس گئی تو اس آدمی نے جاتے ہی موم کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا اور ساتھ موم کا موٹا 38 سائز کا ممّا دبانا لگ پڑا، اور موم کچھ ہی دیر میں اس کی ہو گئی تھی اور بیڈ پر لیٹ گئی تھی، اور وہ موم کے جسم کو ان کے سوٹ کے اوپر سے چومتا ہوا نیچے تک آیا اور پھر موم کی قمیض کو اوپر کر کے ان کی شلوار میں اپنا ہاتھ ڈال دیا، ادھر بہن لائٹ آف کر کے خود سامنے صوفہ پر بیٹھ گئی اور موم کو اور اس پہاڑے آدمی کو دیکھنے لگی، روم میں زیرو کی لائٹ تھی جو سب کچھ نظر آ رہا تھا، اور موم کا کپڑا اس نے سب اتار کر نیچے پھینک رہا تھا جو موم نے اتنا پریس کر کے پہنا تھا، اور صرف برا کو اس نے اپنے پاس رکھ لیا تھا، موم کا موٹا ممّا کو دباتا اور نپلز چوستا رہا اور اپنا کپڑا اتار دیا اور لمبا موٹا لنڈ کو موم کے منہ کے پاس لے آیا تھا، جو کچھ دیر پہلے بہن کی ننھی سی چوت میں گیا تھا، اور موم اپنا پورا منہ کھول کر لنڈ کو تھوڑا سا ہی چوس رہی تھی، ادھر وہ موم کی گوری چٹی اور شیوڈ چوت کو کبھی اپنی لمبی زُبان سے چاٹ رہا تھا تو کبھی انگلیاں ڈال دیتا اور پھر موم کی چوت کے پاس آ گیا اور تھائیز کھول کر لنڈ کا موٹا کیپ رگڑتا رہا اور پھر موم پر لیٹ گیا۔

موم پر لیٹتے ہی اس نے اپنا لنڈ کو اندر کو دبانا شروع کیا تو موم تھوڑے تھوڑے ہل کر پیچھے کو ہوتی، اور پھر جب موم کے اوپر لیٹ کر موم کی ایک تھائی کو پیچھے کو لے گیا اور ساتھ ایک جھٹکا اور مارا تو موم بولی….. آآھھھ….. آآررام سے….. اوھھھ… تو وہ آدمی بولا…. نہی…. تمہاری چوت میرا پورا لورا مانگ رہی ہے…. اس کو اندر جانا دو…. تیرا ہسبینڈ کا کیا چھوٹا سا لن ہے.. اور پھر اس نے جھٹکا مارا تو موم پھر…. آآھھھ…. کر اٹھی.. اور وہ اوپر کچھ دیر لیٹا رہا… ادھر موم بولی…. تمہارا بہت زیادہ اندر چلا گیا ہے….. کچھ دیر رکو…. بہت اندر تک گیا ہوا ہے……. بہت موٹا لنڈ ہے تمہارا…. تو وہ بولا… موٹا لنڈ کا مزہ بھی تو ہے…. پورے چوت کھلا تو ہی فیل ہوتا ہے لنڈ اندر ہے… ادھر موم کی اور اس کے یار کی باتیں ان کی بیٹی سن رہی تھی اور فل گرم ہوئی ہوئی تھی… اور سوچ رہی تھی موم کو جلد یہ چودے اور پھر میری باری آئے۔ ادھر بہن نے اپنی شلوار کو اتار دی تھی اور قمیض سے اپنا برا کو بھی نکال لیا تھا، اپنی ٹانگیں صوفہ پر رکھ لی جس سے اس کی چوت جو موٹے ہونٹوں والی تھی وہ تھائیز سے باہر نکلی ہوئی تھی اس میں کبھی اپنی پتلی سی انگلی کو چوت کا ہونٹ میں ہلکا سا پھیر لیتی۔

ادھر اب موم کا سانس تیز ہوا تھے، اور بول رہی تھی، پھاڑ رہا ہے تیرا لنڈ میرے چوت کو… اس کو تھوڑا باہر کرو…. آآھھاھھایا….. ادھر موم کی دونوں تھائیز کو موم کا شولڈر، اس کی طرف لے گیا تھا جس سے موم کی موٹی گوری گانڈ اوپر کو اٹھ گئی تھی اور چوت اور اوپر اٹھی ہوئی تھی اور لمبا موٹا لنڈ کبھی پورا اندر ڈال کر رکتا تو موم کی آوازیں نکلنا لگ پڑتیں، موم کا ہونٹ کو چوس چوس کر ان کی لپسٹک اتر گئی تھی، اور چوت جو شیو کی ہوئی تھی اس چوت کا منہ پورے طرح کھلا ہوا اور پانی سے بھرا ہوا تھا، چوت پورے گیلی ہو گئی تھی، ادھر بہن اٹھ کر بیڈ کا پاس نیچے جا کر بیٹھ گئی اور اپنا بازو بیڈ پر رکھ کر ہاتھ اپنا پیارا چہرہ کا نیچے رکھ دیا اور اس آدمی کا لمبا موٹا لنڈ اپنی موم کی چوت میں جاتا دیکھ رہی تھی۔ ادھر اب اس نے اپنا پتلا لمبا گورا ہاتھ کو آگے کیا اور اس آدمی کا لنڈ کو پیچھے سے پکڑ لیا جو اس کی موم کی چوت سے باہر تھا۔ ادھر اس آدمی نے بہن کی طرف دیکھا، تو اس نے اپنا ہاتھ کو بہن کا چہرہ پر رکھ دیا، بہن نے اس کے ہارڈ ہاتھ پر کس کی، ادھر وہ اب موم کی چوت میں اپنا آدھا سا کچھ زیادہ لنڈ ڈال کر اندر باہر کر رہا تھا وہ بھی آرام آرام سے۔

بہن بولی…. موم آپ کتنے بار فارغ ہوئے ہو…؟ جس پر موم پہلے چپ رہی اور پھر بہن نے پوچھا تو موم بولی… 2 بار ہو گئی ہوں اب.. تو بہن بولی… موم بس کر دو پھر… مجھے بہت نیند آئی ہے…. باقی کل پھر مزہ لے لینا… جس پر موم بولی… میرے بس ہو گئی ہے اب تو… یہ فارغ نہیں ہو رہا اس لیے لیٹی ہوئی ہوں… بہن بولی… تم نکالو میرے موم سے یہ گھوڑا سا لنڈ…. باقی کل کر لینا.. اور بہن نے لنڈ کو زور سے پکڑ لیا جو اس کے پورے ہاتھ میں نہیں آ رہا تھا، اور لنڈ کو باہر نکال دیا، لنڈ جیسے نکلا تو چوت سے بوتل کھلنا کی آواز آئی، اور وہ آدمی موم کے ساتھ اوپر سے اتر کر لیٹ گیا، پیچھے کو، ادھر جتنی گرم بہن ہو گئی تھی، اس نے اپنا ہاتھ کو موم کی پانی سے بھری ہوئی چوت پر رکھ دیا اور موم کی موٹی چوت کو اپنا ہاتھ سے سہلنے لگ پڑی، موم کی چوت کا منہ موٹا لنڈ سے کھلا ہوا تھا، ادھر موم کو شرم بہت آ رہی تھی، اور ساتھ کچھ مزہ بھی، اور اپنی ہی بیٹی کا ہاتھ آج اس کی چوت پر ہے اور وہ بھی اس چوت پر جو پانی سے بھری ہوئی ہے اور بہت چکنی ہوئی تھی، ادھر بہن موم کی چوت کو کچھ فیل کر چکی تھی تو باقی اب بہن اپنا پتلا سا ہاتھ کی 4 انگلیوں کی گرفت بنائے اور اپنی ہی موم کی چوت کا اندر ڈال دی.. جس سے موم ایک بار تو اوپر کو ہوئی، اور پھر اپنا ہاتھ کو اپنی بیٹی کا ہاتھ پر رکھ دیا۔

اور ادھر بیٹی اپنا ہاتھ کو اب کچھ تیز اور کبھی سلو اندر باہر موم کی چوت میں کرنا لگ پڑی، کچھ ہی دیر گزری تو موم پھر سے فارغ ہو گئی اور بیٹی نے اپنی انگلیاں باہر نکال لی، کوئی 20 منٹ تک موم اٹھی اور اپنی شلوار قمیض پہن کر کھڑی ہو گئی، ادھر بیڈ پر جو دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھا، اس دیوار کے ساتھ وہ پہاڑی آدمی اپنا لمبا موٹا لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلا رہا تھا، اور بہن کو دیکھ رہا تھا، ادھر بہن نے موم کو کس کی اور موم نے بھی بیٹی کو کس کی اور بہن موم کو روم کا ڈور تک گڈ بائے کرنا آئی۔ تو موم بولی… تم ادھر نیچے سو جانا.. اگر بولو تو اس کو میں بول دوں یا نیچے سو جائے؟ تو بہن بولی موم کوئی بات نہیں میں ایڈجسٹ کر لوں گی، موم نے نوٹس نہیں لیا کہ بیٹی نے اپنی شلوار اتاری ہوئی ہے یا پہنی رکھی ہے، موم تو بیٹی کو بہت انوسنٹ سمجھ رہی تھی. مگر بیٹی شلوار اور اپنا برا اتار چکی تھی، موم کو گڈ بائے کیا اور ڈور کو لاک کیا اور موم کا یار کی طرف بیڈ کی طرف بڑا مزہ سے چلتی آ رہی تھی، ادھر موم کا یار جو اپنا لمبا موٹا لورا کو ہاتھ میں لیا اپنا لورا کو لہرا کر دکھا رہا تھا میری بہن کو۔

ادھر بہن نے اپنی قمیض بھی اتار دی اور صرف برا ہی پہنے رکھا تھا، اور فل مستی میں تھی، لنڈ کو کچھ دیر دیکھتی رہی اور پھر نیچے ڈوگی سٹائل میں آ گئی اور اس کی طرف اپنی موٹی گوری گانڈ کو ہلا کر ٹائیگر واک میں جیسے چلنا لگ پڑی اور ساتھ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتی، ادھر وہ بھی بیڈ سے اتر آیا تھا اور وہ بھی ڈوگی سٹائل میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا اس کی موٹی گانڈ کی کریک لائن میں زُبان پھیرتا اور اس کی چھوٹی سی گانڈ کا ہول کو چاٹتا تو کبھی اس کی پانی سے بھری ہوئی جوان چوت کا اندر اپنی لمبی زُبان ڈالتا تو بہن پورے طرح ہل جاتی مزہ سے۔ اور پھر تھوڑا آگے کو چلی جاتی، اتنا میں اس آدمی نے جیسے زُبان کو اب بہن کی چوت سے نکالا تو وہ بہن کے اوپر چڑھ گیا اور اپنا لمبا موٹا لنڈ کو چھوٹی سی چوت پر رکھ کر بہن کا موٹا گورا لٹکا ہوا ممّو کو اپنا بڑا ہاتھوں میں پکڑ لیا اور لنڈ کو اندر کو ڈال دیا.. اور بہن جو آگ میں جل رہی تھی اس کو فیل ہوا جیسے اس کی نازک اور نرم چوت میں کوئی لوہا جیسا لمبا اور موٹا ڈنڈا کسی نے ڈال دیا ہو، بھائی کا لنڈ سے بہت موٹا بہت ہارڈ اور کافی لمبا تھا، جو ابھی صرف 6 انچ تک گیا تھا مگر چوت پورے طرح کھول کر رکھ دی تھی اور چوت کی ساری آگ جیسے اس لنڈ نے پی لی تھی،

اور ادھر ممّا بھی جیسے اصل مرد کا ہاتھ میں آ گئے تھے۔ کچھ دیر تک اس نے لنڈ ویسے رکھا تو اب بہن لنڈ کو خود سے اپنی چوت کو پیچھے کر کے اور لے رہی تھی، کچھ دیر بعد پھر سے اس آدمی نے لنڈ کو ہلکا اندر باہر کرنا لگ پڑا اور پھر ایک جھٹکا مارا تو بہن کی چوت کو فیل ہوا جیسے لنڈ چوت کو اندر سے کاٹتا ہوا اندر تک گھس گیا ہے اور بہن کے منہ سے آآھھھ نکلی… اور بہن کی چوت میں کوئی 8 انچ سے کچھ زیادہ لنڈ چلا گیا تھا جو اس کی چوت کے لیے بہت بڑا تھا کیوں کہ جتنا وہ موٹا تھا اس کی چوت پورے طرح کھلی ہوئی تھی، اور بہن لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی اور درد بھی اٹھ رہا تھا اور خود فارغ ہونا چاہ رہی تھی مگر لنڈ اس طرح پھنسا ہوا تھا کہ فارغ بھی نہیں ہو رہی تھی، ایک اپنا اندر ایک ہیٹ پر آئی ہوئی کتیا فیل کر رہی تھی خود کو۔ ادھر پھر سے ڈور نوک ہوا جو اس کی موم تھی، وہ بول رہی تھی مجھے اندر دوپٹہ اور برا پکڑا دو.. ادھر بہن جس طرح گرم ہوئی تھی وہ بولی ہلکی آواز میں…. تیری بیٹی میں اتنا بڑا لنڈ پھنسا ہوا ہے تجھے دوپٹہ کی پڑی ہے…. اور مجھے چدوانا نہیں دے رہی ہو…. ادھر وہ بھی جان گیا تھا اس کا لنڈ کتنا اندر گیا ہوا ہے، اور وہ بھی لنڈ کو فٹ کیا رکا ہوا تھا،

ادھر بہن نے اپنا بازو نیچے رکھ کر اپنا منہ اوپر رکھ لیا تھا اور اپنی موٹی گانڈ کو اوپر اٹھا رکھا تھا اور چوت اس کا لمبا موٹا لنڈ لیے اٹکی ہوئی تھی، ادھر کچھ دیر بعد اس آدمی نے اپنا لنڈ کو تھوڑا باہر کو لے آیا تھا جس سے بہن کو کچھ سکون ملا اور 3 جھٹکوں میں بہن فارغ ہو گئی، بہن کچھ دیر تک اسی طرح لیٹی رہی پھر بولی.. مجھے پانی پینا ہے… اس لنڈ کو نکال لو پلیز… اس نے اپنا لمبا موٹا لنڈ کو کچھ جھٹکا اور مارنا لگ پڑا تو بہن بولی مجھے پانی پی لینے دو پھر میری چدائی کرنا، بہن نے قمیض پہنی اور باہر چلی گئی ساتھ موم کا دوپٹہ اور برا بھی لے گئی، پانی پی کر ساتھ پانی کی بوتل پکڑے اور موم کا بیڈروم کا ڈور کھول کر اندر برا اور دوپٹہ پھینک دیا اور پھر سے روم میں آ گئی، ادھر وہ بیڈ پے لیٹا ہوا تھا، بہن نے قمیض اتاری اور بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ایک تھائی کو اوپر کر لیا اور اس نے بہن کی چوت پر لنڈ رکھا اور پھر سے اندر ڈال دیا، اور بہن کی چوت میں زور سے جھٹکا مار رہا تھا۔ ادھر بہن کو پھر سے مزہ آنے لگ پڑا،

اور بہن بھی اپنی چوت کی گرفت کو لوز کرنے کے لیے اپنی چوت کا منہ اپنا ہاتھ سے کھولتی، بہن جوان تھی اور وہ اپنی جوانی کے جوش میں پورے طرح پاگل ہوئی تھی، کچھ ہی دیر میں بہن بھی فارغ ہوئی اور ساتھ وہ آدمی بھی فارغ ہو گیا… بہن کی چوت اس کے گرم لاوے سے بھر گئی تھی جب اس نے اپنا سیمی ہارڈ لنڈ کو باہر نکالا تو چوت سے جیسے دودھ کا جھرنا پھوٹ پڑا ہو۔ دونوں ایک ہی بیڈ پر سو گئے… صبح جب ڈیڈ آفس چلا گیا تو موم نے ڈور نوک کیا تو بہن نے اٹھ کر اپنا کپڑا پہن لیا اور ایک بلینکٹ کو فرش پر ڈال دیا جیسے وہ ادھر سوئی ہو… اب بہن بھی دوسری چالاک لڑکیوں کی طرح ڈرامہ کر رہی تھی، مگر اس کی چوت فیل کروا رہی تھی کہ کیسے چدائی ہوئی تھی۔ کیوں کہ اپنا بھائی کے ساتھ وہ سمپل سیکس کرتی تھی جیسے بہت شرمیلی سی لڑکی ہو اور بھائی کے پیار میں مجبور ہو۔ مگر رات کو اس کے اندر کی لڑکی نکل کر باہر آ گئی تھی۔ اینی وے۔ موم کے ساتھ باہر بہن چلی گئی اور موم نے بریک فاسٹ بنا کر دیا، تو بولی مجھے 2 ایگز کھانا ہیں، جس پر موم ہنسی اور بولی تم کو 2 ایگز کھانا ہیں جیسے پورے رات تم مزہ لیتی رہی ہو… تو بہن بولی ہاں دل تو کرتا رہا مگر اپنی چوت میں فنگرز ڈال کر سو گئی۔

موم ہنسی اور بولی… اچھی بات ہے… پھر بہن بولی… اب آج رات کا مجھے نہیں پتہ کنٹرول کرتی ہوں یا پھر لمبا موٹا لنڈ لے ہی لوں… جس پر موم نے ادھر ادھر دیکھ کر بولی….. کمینے اپنی بات سوچ کر بولا کرو، تم کو روکتی ہوں ایسے طرح بولنا کی عادت پڑ جائے تو انسان کا منہ سے نکل جاتا ہیں ورڈز… تو بہن بولی… موم صرف تمہارا ساتھ مزہ آتا ہے، سچ پوچھو تو تم پر مر گئی ہوں، اگر لڑکا ہوتی تو تم کو چھوڑتی نہ… جس پر موم بھی ہنسی اور بہن بھی… اور موم بولی…. ہاں رات کو میں نے فیل کر لیا تھا کہ تو لڑکا ہوتی تو سچ میں تم سے بچنا مشکل تھا۔ اور دونوں پھر سے گلے سے لگ گئے… بہن بولی… موم تم اس سے ایک بچہ تو لو… جس پر موم بولی کیوں؟ تو بہن بولی…. بس ایسے ہی اس کا لنڈ کا اتنا دودھ نکلتا ہے، بچہ تو ایزی دے گا… موم بولی… تمہارا ڈیڈی کا بھی دل ہے مگر وہ ٹرائی کرتا ہیں مگر ان میں اب جان نہیں رہی… پھر بہن بولی موم ویسے رات کو میں نے برا کیا نا تمہارا ساتھ؟ اس کو تمہارا اندر فارغ ہونا چاہیے تھا، پھر ہی آگ ٹھنڈی ہوتی ہے نا…. سوری موم… جس پر موم بولی کوئی بات نہیں۔

بہن پھر بولی موم.. کیا میں اس کا موٹا لمبا لنڈ گانڈ لے سکتی ہوں؟ یا تو میری بند پھاڑ ڈالا گا…. جس پر موم بولی… نہیں نہیں… میری بیٹی یہ بہت بڑا اور ہیوی لنڈ ہے، میرے تو اب بھی اندر سے جیسے ڈھیلے ہو گئے ہو.. اور تو جوان ہے اور تیری چوت اگر بڑا لنڈ لے گی اور وہ بھی اس کا تو کل کو تیرا ہسبینڈ کو مزہ نہیں آیا گا، باہر سے سب کی ٹائٹ ہوتی ہیں چوت مگر اندر سے چوت کی ٹیوب موٹا لمبا لنڈ سے لوز ہو جاتی ہے اور ہسبینڈ کا لنڈ فیل نہیں ہو گا اور ساتھ خود کو مزہ نہیں آیا گا اور نہ اس کو… پھر بہن بولی… تو موم اس کا کبھی کبھی بڑا لنڈ لے لوں…. قسم سے رات کا برا حال ہو گیا ہے… جس پر موم پہلے تھوڑے چپ رہی اور پھر بولی مگر تھوڑا سا… ادھر موم بولی لگتا ہے وہ اٹھ گیا ہو گا اس کے لیے بریک فاسٹ بنا لوں۔ موم نے 3 ایگز کا آملیٹ بنا کر لے گئی۔ اور وہ بیڈ پر ننگا بیٹھا بریک فاسٹ کرتا رہا اور موم اور بہن پاس بیٹھے رہی..

پھر اس کو پورا گھر دکھایا اور جب ماں اور باپ کا بیڈروم دیکھا تو بولا اس روم میں تمہاری چدائی کرنا چاہتا ہوں، تو ماں بولی، ادھر تو وہ بھی سوتے ہیں اور رات کو ان کا ہاتھ میرے اوپر نہ ہو تو اٹھ جاتا ہے اور آوازیں دیتا ہے… نہ بابا ادھر پرابلم ہو جائے گی.. جس پر بہن بولی، نہیں ہوتی، میں بیڈ پر آپ کی طرح سوئی رہوں گی اور آپ دونوں نیچے چدائی رکھنا جس پر وہ آدمی تو خوش ہوا مگر ماں تھوڑی سی اپسیٹ تھی، رات ہوئی تو ماں بولی، بیٹی یہ ٹھیک نہیں…. مجھے صرف تمہاری فکر ہے، کیوں کہ تیرے ڈیڈی خود تو سویا ہوتا ہے مگر ان کا ہاتھ چلتا ہے اور کبھی کبھی، وہ کچھ اور بھی کر جاتا ہے؟ بہن بولی وہ کیا؟ تو ماں بولی یا تو اپنا لنڈ رگڑ لیا یا ممّا پکڑ لیا، یہ سب بہت بڑا پاپ ہو گا… تو بہن بولی اگر ایسا ہوا تو میں آپ کو اشارہ کروں گی آپ ادھر لیٹ جانا ورنہ میں اپنی بیک ڈیڈی کی طرف رکھوں گی اور سویا ہوا اگر ان کا ہاتھ کمر پر لگ بھی گیا تو کیا.. ماں بولی پھر بھی ڈر ہے نا مجھے. بہن بولی اگر ایسا ہوا تو میں اٹھ کر آپ کے پاس نیچے آ جاؤں گی اور آپ اوپر چلی جانا۔

ادھر رات کو ماں پھر سے پیارے بنے ہوئے پرفیوم لگا رہی تھی، اور آج رات کو میں نے ماں والا پرفیوم لگا لیا، اور دوپٹہ بھی ماں کا لے لیا کیوں کہ ڈیڈ کو اسی کی سمیل کا پتہ تھا، ڈیڈ کو ماں نے زبردستی آج 1 اور ساتھ آدھی گولی بھی زیادہ کھلا دی، اور ڈیڈ کچھ ہی دیر میں سو گئے تھے، کوئی ایک گھنٹے کے بعد میں ماں کا یار کو لے کر ماں کا بیڈروم کا دروازہ کھولا تو ماں سیدھے لیٹی ہوئی تھی اور ڈیڈ سائیڈ بدل کر دوسری طرف سوئے تھے۔ ادھر ماں نے اپنا بلینکٹ سے آرام سے اٹھی اور نیچے ووڈ فلور تھا، بیڈ کے اگلے ایریا میں لیٹ گئی، اور لائٹ آف کر کے میں ماں کی جگہ لیٹ گئی مگر جیسے ماں لیٹتی تھی، ڈیڈ کے ساتھ اور تھوڑے ساتھ لگ کر سیدھے ہو کر لیٹ گئی۔

ادھر ماں اپنے کپڑے اتار کر اپنے یار سے گرم ہو رہی تھی جو مجھے نظر نہیں آ رہی تھی، اور ادھر میں لیٹے ہوئے جیسے خود کو ماں فیل کر رہی تھی اور اس گھر کی مالکن فیل کر رہی تھی، کوئی 20 منٹ گزرا تو ڈیڈ نے سائیڈ چینج کی اور انہوں نے اپنا ہاتھ سیدھا میرے جوان ممّے پر رکھ دیا، میں شلوار قمیض میں ہی تھی۔ میرے رائٹ ممّے پر ہاتھ کی گرفت ذرا ٹائٹ ہوئی، تو میری ہارٹ بیٹ جو پہلے تیز تھی اور بھی تیز ہو گئی۔ کیوں کہ باپ کا ہاتھ اپنی ہی جوان بیٹی کے موٹے اور جوان ممّے پر تھا، اور پھر کچھ دیر بعد ڈیڈ میرا موٹا ممّا پر اپنا ہاتھ کی گرفت کو ٹائٹ کرتا تو کبھی ممّے کو سہلا رہا تھے۔ مجھے بھی ایسے ٹائم کا انتظار تھا اور میں یہ فیلنگز لینا چاہ رہی تھی. اور ماں کے پاس اٹھ کر جا سکتی تھی مگر لیٹی رہی، کچھ دیر ہوئی تو ڈیڈ نے اپنی ایک ٹانگ میرے تھائی پر رکھ دی اور میرا ممّا کو پکڑتا تو کبھی سہلا رہا تھے۔

میری ہارٹ بیٹ تیز ہوتی جا رہی تھی کہ میرا ایک ممّا پر اپنا منہ رکھ دیا اور دوسرا ممّا کو دباتا رہا… اور کبھی کبھی میرے تھائی کو بھی گُدگُدی لیتا، میں نے ماں کا دوپٹہ سے اپنا منہ چھپا رکھا تھا، اور اب میں بیڈ سے اٹھنا چاہ رہی تھی کہ ممّا کو بلا لوں… مگر ڈیڈ نے میری قمیض کو اوپر کرتا جا رہا تھا.. اور میرا کچھ برا حال بھی ہو رہا تھا اور ساتھ آج پہلی بار اپنے ہی ڈیڈ کا ہاتھوں کو اپنے جوان ممّے پر فیل کر رہی تھی جو مجھے اٹھایا کرتے تھے۔ پھر ڈیڈ جیسے نیند یا نشہ میں تھے بولا… میری رنڈی…. قمیض اوپر کر… میں نے پہلے ماں کی طرف دیکھا مگر وہ اپنی مستی میں تھی اور ڈیڈ ہلکی آواز میں بولا تھا، میں نے فُٹ سے تھوڑی اٹھ کر قمیض اوپر کر لی، اور ڈیڈ نے میرا برا کا اندر ہاتھ ڈال لیا اور میرا دوسرا ممّا کا نپل کو آج پہلی بار کوئی چوس رہا تھا وہ بھی میرا ڈیڈ۔.

میرے نپل بھی جیسے فُٹ سے کھڑے ہو گئے تھے اور میرا نپل کو چوستا تو کبھی رک جاتا… پھر مجھے جیسے نشہ والا بولتا ہیں، وہ بولا… تیری بہن کو چودوں…. آآھ…. اور پھر میرا نپل کو چوسنا شروع کر دیا اور ساتھ دوسرا ممّا کو دباتا رہا۔ اور اپنی ٹانگ کو میرے تھائی پر رگڑ لیتا، اور کبھی میرا پیٹ پر ہاتھ پھیرتا اور ممّا کو چومتا۔ میں پورے طرح گرم ہو گئی تھی اور ساتھ ساتھ ماں کو دیکھتی کہ یہ سب دیکھ رہی ہیں یا نہیں… مگر ماں busy تھی۔ ادھر پھر ڈیڈ بولا… رنڈی… میرا لنڈ کو کیوں نہیں پکڑتی….. تیری بہن کی گاند ماروں…. میں نے ہمت کر کے اپنا ہاتھ اپنے ڈیڈ کی نیکر کی طرف لے گئی، اور ان کی نیکر نیچے کو کر دی جو کافی loose تھی…. اور ان کا کوئی 7 انچ کا لنڈ اور موٹا بھی ٹھیک ہی تھا اس کو پکڑ لیا اپنے ہاتھ میں.. اور ڈیڈ کو جیسے سکون مل گیا ہو… میرا میرا ہاتھ کی loose گرفت میں اپنا لنڈ کو آگے پیچھے کر رہا تھے۔

پھر کچھ دیر گزری تو بولا…. بول نا رنڈی… کیوں چپ ہے…. تیری بہن کی چوت مار لوں…. تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ڈیڈ کیوں ایسے گالیاں دے رہا ہیں اور ماں نے بھی نہیں بتایا تھا، اسی لیے ماں نہیں بتا رہی تھی اور چپ تھی کہ اگر ہاتھ فیل کرو تو مجھے اٹھا لینا. تو میں پہلے بھی کبھی ماں کی آواز نکال لیتی تھی تو اب میں بولی… ہلکی آواز میں، کہ… کیوں میری بہن کو چودنا چاہتا ہے؟ اپنی پیاری سی بیٹی کو چود لو… میری یہ بات سن کر ڈیڈ جیسے چپ ہو گئے، اور مجھے فیل ہو رہا تھا کہ یہ نشہ میں بھی ہیں، ورنہ آنکھیں تو ضرور کھولتا۔ مگر ڈیڈ کو جیسے کچھ جوش آیا اور میرا نپل پر جیسے اس بار bite کی اور ساتھ ان کا لنڈ اور بھی hard ہو گیا اور میرا ہاتھ سے نکل کر میرے تھائی پر رگڑ رہا تھے، اور پھر بولا…. ک ک کون سی بیٹی… کو… تو میں بولی…. کس بیٹی کو چود لو گے… اس کو منا لوں گی…. ادھر ڈیڈ جیسے full جوش میں آ گئے تھے میرا ممّہ کو زور سے دبا رہا تھے.. جس پر ڈیڈ بولا… سب اچھی ہیں… تو میں بولی…. بڑی بیٹی کو چود لو…. اس کا جسم ایک عورت والا بن گیا ہے…

وہ آپ کا لنڈ لے لے گی…. ادھر ڈیڈ جیسے فل مدہوش ہو گئے تھے اور، آنکھ کھولنا چاہ رہا تھے.. میں نے دوپٹہ ان کی آنکھوں پر ہلکا سا باندھ دیا تھا… اور وہ اب میرا اوپر آنے کی تیاری کر رہا تھے، کیوں کہ میری شلوار کو آدھا اتار چکا تھا اور اپنی جوان بیٹی کی پیاری چوت کا اوپر انگلی پھیر رہا تھا اور میں مزہ سے لیٹی تھی بس ماں کو دیکھ لیتی اور ڈیڈ کی انگلی چوت پر فیل کر رہی تھی… پھر ڈیڈ بولا….. ہاں…. وہ بہت پیاری ہے… پھر میں بولی ماں کی آواز میں… اس کی چوت کو چاٹ لو گے؟ تو ڈیڈ فٹ سے بولا ہاں… ہاں… جو وہ بولے گی کروں گا…. پھر میں بولی…. اس کی موٹی گوری گاند میں اپنا لنڈ ڈالو گے….. تو ڈیڈ اب میری چوت میں اپنی انگلی اندر تک ڈال دی تھی، اور میں بھی فل پاگل ہو گئی تھی… ڈیڈ بولا… ممم….. میں سب کچھ کروں گا جو تم بولو گے… مگر تم کچھ کرو نا.. آآھ…. میں نے لمبی سانس لی اور بولی… میں کیا کروں تمہارا لیے؟ تو ڈیڈ بولا… تم اس کو منا لو نا… جو تم بولو گے تم کو لے دوں گا… تم اس کو کل میرے گود میں بٹھا دو تو پھر مانوں گا… میں بولی ٹھیک ہے، مگر تم اکیلا روم میں ہونا میں نہیں ہوں گی… وہ آئے گی روم میں… مگر تمہارا لنڈ ہارڈ ہو اس کی گاند یا چوت میں ضرور لگا… اور اس کو 50000 دینا اور ساتھ ایک packet کنڈوم کا بھی دینا جب pocket سے پیسہ نکالو… اگر وہ کنڈوم کا packet لے گئی تو پھر رات کو چلا جانا اس کا روم میں۔

مگر مجھے نہیں بتانا…. اور نہ میرا سامنا بات کرنا کہ کیا اور کیسے ہوا… وہ تمہاری بیٹی ہے وہ جو مانگے اس کو دینا.. ادھر ڈیڈ میرے جلدی ہوئی چوت پر اپنا دودھ نکال کر گر گئے اور میں جلدی رہی… ڈیڈ پھر بولا کچھ دیر بعد… کل کتنا بجا تو میں بولی، 5 بجا… میں شاپنگ پر گئی ہوں گی… ڈیڈ بولا کل میں ویاگرا کھاؤں گا… میرا دوست لے کر آیا ہے باہر سے… میں بولی ویاگرا پہلے کھا لینا بیٹی کو فیل نہ ہو تمہارے بس ہو گئی ہے… ڈیڈ.. بولا…. ہاں… ہاں… کھا لوں گا…. ادھر ماں کی چدائی کوئی 1 گھنٹے تک چلی اور ماں کی چوت کو اس اپنا سید سے بھر دیا اور میں اس آدمی کو لے کر روم میں چلی گئی، مگر نہ میں نے sex کیا اس آدمی سے صرف ڈیڈ کا سوچتی ہوئی سو گئی.. صبح اٹھے ماں سے سب پوچھا رات کا اور ماں بتایا کہ وہ آپ کی بہن کو گالیاں کیوں دیتا ہیں؟ تو ماں ہنسی اور بولی، اصل میں ان کا دل میں میری USA والی بہن بس گئی ہے.. وہ sex کرنا چاہتا ہے مگر ہمت نہیں.. تو میں ان کو باتوں میں لگا کر فارغ کر دیتی ہوں… یہ سب باتیں سنتی رہتی ہوں… office میں نیٹ پر کچھ sex stories read کرتا ہیں تو مجھ پر وہ سب اپلائی کرتا ہے۔

ماں بولی تم نے رات کو کچھ کیا تھا؟ یا تم کو ڈیڈ نے کوئی touch کیا تھا؟ تو میں بولی نہیں بس ہاتھ میرا ممّے پر رکھا تو میں نے بول دیا صبح شاپنگ پر جانا ہے مجھے پیسہ دینا اور میں تم کو رات کو sexy story سناؤں گی بیٹی کی….. جس پر ہنسی اور بولی وہ کیا بکواس ہے اور وہ مجھے سچ میں شاپنگ کا پیسہ دے کر گئے ہیں. پھر مجھے ماں بولی بیٹی… کیسے گناہ میں نہ پڑ جانا… ان کو تو stories کا چسکا لگ گیا ہے… بس ذرا دور دور سے ہی… شام کو ماں اور اس آدمی کو شاپنگ پر بھیج دیا، اور خود سوچتی رہی اگر ڈیڈ صرف story تک ہوتا تو ماں کو پیسہ نہ دیتا، کیا کروں… میں نے پہلے اپنی چوت کی اچھی طرح shave کی، wax کی سب بال صاف کیا اور نرم اور ملائم اپنا جسم کیا۔ اور پھر میں نے سردی میں گرمی والا dress نکالا جو ایک پتلا سا فراک تھا جو میرے آدھے ٹانگوں تک آتا تھا، یعنی گھٹنوں تک، اور نیچے کو اتارا لی تھی، اور فراک کھلا تھا نیچے سے کافی، جیسے فراک ہوتا ہے، اور loose سا bra پہن لیا جس سے ممّا فیل ہوں ادھر 4 بجا تو ڈیڈ بھی گھر آ گئے اور خود ہی sandwich بنا کر کھا گئے اور ساتھ دودھ کا گلاس بھی تھا۔ مجھے اب کچھ کچھ sure ہو رہا تھا، اور رات کی باتیں اور time یاد آ رہا تھا، میں نے lipstick لگائی اور تھوڑا سا makeup کیا، اور اب 1 منٹ بھی جیسے 1 گھنٹہ کی طرح گزر رہا تھا۔ اور پھر 5 بج کر 7 منٹ ہوا تو میں ڈیڈ کا بیڈروم کا دروازہ knock کیا… پہلے کوئی آواز نہیں آئی… پھر کوئی 3 منٹ تک آواز آئی ہاں آ جاؤ… میں نے دروازہ کھولا تو lights آف تھی، صرف بیڈ کی side table کا 1 lamp کی light تھی، میں نے تھوڑے سے enter ہوئے تو دیکھا بیڈ پر کوئی نہیں تھا، اور پھر اندر گئے تو ڈیڈ کچھ مین صوفہ پر بیٹھا تھے، انہوں نے long t-shirt پہن رکھی تھی، اور رات والی نیکر تھی black colour کی مگر جیسے نیچے کی ہوئی تھی…

میں نے اپنا دونوں ہاتھ پیچھے اپنی ہپس پر لے گئی تھی اور تھوڑے ہلتی ہوئی ڈیڈ کے پاس گئی، ڈیڈ بھی جیسے کچھ shocked تھے اور کچھ ان کی نظریں بھی ایسی تھی کہ میرا ممّا اور میرا dress کو دیکھ رہی تھی، میں بولی ڈیڈ مجھے بھی پیسہ دیں، آپ اپنی بیوی کو شاپنگ کا پیسہ دیتے ہیں، مجھے کیوں نہیں… اتنا میں، میں ڈیڈ کی ٹانگوں سے میرے ننگے ٹانگیں لگ گئی تھی، ادھر ڈیڈ بولا… ارے میری بیٹی تمہارا لیے بہت پیسہ، اور میں اپنی thighs کو تھوڑا کھول کر ڈیڈ کی گود میں بیٹھنے لگی تو ڈیڈ نے جیسے اپنا لنڈ کو شرٹ میں چھپا رکھا تھا، اور جیسے میں اپنی ٹانگیں اور thighs کو کھول کر نیچے کو بیٹھنے لگی ڈیڈ نے اپنا کھڑا ہوا لنڈ شرٹ سے نکال کر آگے کر دیا، اور ادھر میری بھی پینٹی نہیں تھی، اور لنڈ بھی ننگا تھا، تو پہلے میرے گورے موٹے ہپس کا چھوٹا سا hole پر لگا اور پھر میں تھوڑے سے اوپر ہو کر دوبارہ بیٹھی تو پھر میرے گاند پر لگا اور پھر slip ہوتا ہوا رگڑ کھاتا ہوا میرے چوت کے ساتھ لگتا ہوا میرا ساتھ press ہو گیا اور میں ڈیڈ کی گود میں بیٹھ گئی، ادھر ڈیڈ کا رنگ لال ہوا تھا، انہوں نے مجھے اپنی بازوؤں میں لے لیا۔

میرا ممّا ڈیڈ کے ساتھ لگا ہوا تھے اور ڈیڈ کا ہاتھ ہلکا ہلکا اب نیچے آ رہا تھے میرے موٹے گورے ننگے ہپس پر۔ جیسے ہی ہاتھ میرے موٹے ننگے ہپس پر آیا اور ڈیڈ نے ہپس پکڑے میں بولی…. ڈیڈ مجھے پیسہ دو….. اور ساتھ اپنی ہپس اور چوت کو بھی ہلایا تو ڈیڈ کا لنڈ پہلے چوت سے چپکا ہوا تھا۔ ڈیڈ کا لنڈ فل ہارڈ تھا اور کچھ لمبا اور موٹا بھی فیل ہو رہا تھا، ڈیڈ بھی تھوڑا ہلا اور اس طرح ہلا کہ اپنا لنڈ کو میرے چوت پر رگڑا.. اور pocket سے ایک جوش کنڈوم کا packet نکلا اور ساتھ 50000 تھے، اور بولا یہ لو تم رکھ لو… میں نے 50000 کو اپنی bra میں رکھ لیا اور کنڈوم کو پکڑ کر بولی thank you…. اور پھر ڈیڈ سے لگ گئی اور چوت کو تھوڑا سا رگڑا لنڈ پر، اور بولی… اوہ ڈیڈ سوری… نیچے پینٹی نہیں ہے… تو ڈیڈ بھی جھوٹا سا مسکرا اور بولا کوئی بات نہیں… اور پھر میں بولی، ڈیڈ میں اس بیڈ پر لیٹ جاؤں، تو اٹھا ہوا میں نے اپنی چوت کو پھر سے ڈیڈ کا لنڈ سے چوت کو رگڑا اور اٹھ کر ڈیڈ کا بیڈ پر سامنا الٹی لیٹ گئی، ادھر ڈیڈ کا لنڈ فل ہارڈ تھا جو میرا پیچھے چلا آیا اور میں الٹی لیٹے اپنی موٹی گوری چٹی گاند میں انگلی سے خارش کرتی ہوئی بولی… ڈیڈ مجھے صبح سے خارش ادھر اندر ہو رہی ہے ماں کب واپس آئے گی مجھے ڈاکٹر کو چیک کروانا ہے۔

جس پر ڈیڈ بولا مجھے بتاؤ میری جان تو میں نے پیچھے اپنی ہپس کی طرف اشارہ کیا تو ڈیڈ نے فٹ سے میرے موٹے ہپس کو پکڑ کر کچھ دیر چومتا رہا اور پھر میرا ایک چوتڑ کھول کر میرے گاند کا hole پر اپنی زبان رکھ دی اور کافی دیر تک چاٹتا رہا اور میں پورے طرح enjoy کرتی رہی، کہ میرا ڈیڈ کا سامنا صرف ایک جوان جسم ہے جس سے وہ کتنا پیار کر رہا ہے، کچھ دیر بعد میں سیدھے ہو گئی اور ڈیڈ نے میرے جوان چوت کو دیکھا اور پھر اس پر زبان لگا دی، کبھی چوت پر kiss کرتا تو کبھی زبان لگاتا۔ میں بولی ڈیڈ اس میں آج تک کوئی چیز نہیں گئی… اور please آپ مم سے بھی مت بولنا کہ میں نے آپ کو یہ سب دیکھا دیا ہے… تو ڈیڈ کیا بولتا… ڈیڈ بس میرے چوت کو چاٹ رہا تھے اور اور میں فارغ ہونے والی تھی، تو خود پر control کیا اور ڈیڈ کو پیچھے کر دیا اور بولی… ڈیڈ میں جاؤں اب… ڈیڈ کا دل نہیں کر رہا تھا مجھے چھوڑنے کا، تو ڈیڈ بولا اگر تم mind نہ کرو تو… تو تھوڑا ادھر اپنا رگڑ لوں…. تو میں نے ان کو بولا ٹھیک ہے مگر please اندر نہ جائے، تو ڈیڈ نے فٹ سے میرے چوت پر رگڑنا لگا پڑا، اب لنڈ تو لنڈ ہے جب بھی جیسے بھی لنڈ رگڑا جائے گا تو چوت کو مزہ آئے گا، ڈیڈ لنڈ کو رگڑ رہا تھا کہ میں نے خود جان کر اپنی چوت کو تھوڑا اوپر کو کیا تو ڈیڈ کا لنڈ اندر چلا گیا، اور میں نے جھوٹا شور ڈال لیا، اور ڈیڈ کچھ دیر تک رکا رہا پھر میں بولی ڈیڈ یہ کیا کر دیا

اور پھر لنڈ کو آرام آرام سے اندر لیتی رہی اور ڈیڈ پھر ہوش کھو بیٹھا اور میرا اندر فارغ ہو گیا…. ڈیڈ نے کافی request کی کہ اپنی مم کو نہ بتانا اور میں نے وعدہ کر لیا۔ ڈیڈ نے مجھے اور بھی پیسہ دیا اور میں ہلکا ہلکا چلتی ہوئی باہر آ گئی اور اپنے روم میں لیٹ گئی۔ ادھر کچھ دیر بعد مم بھی آ گئی اور وہ آدمی میرا روم میں آ گیا تھا۔ مجھے اس طرح دیکھ کر اس سے رہا نہیں گیا اور میرا اندر پھر سے لمبا موٹا لنڈ چلنا لگا پڑا۔ مجھے آج فیل ہوا تھا کہ بڑا لنڈ کا کیا مزہ ہے، میری چدائی کوئی 26 منٹ تک اس نے کی، جس میں میں دوسری بار فارغ ہوئی، میرے چوت سے جب لنڈ نکلا تھا، میرے چوت جیسے سن ہو گئی ہو… کیوں کہ آج اس نے مجھے ایک عورت والی چدائی کی تھی، میرے چوت میں آدھا سے زیادہ لنڈ باہر نکال کر پھر جھٹکا سے اندر تک لے جاتا۔ اب اگر کوئی آپ کی بہن کو چودے گا تو اس کا بھی وہی حال ہو گا، میرے چوت اس نے پورے طرح ایک بار کھول دی تھی، اور اس کا لنڈ میرے چوت میں جیسے اپنا گھر سمجھ کر آتا اور نکل جاتا، اور اندر سے جتنا اپنا دودھ سے بھر سکتا تھا بھر دیا تھا۔ اس کی ایک چدائی سے میرے چوت کا منہ بند نہیں ہوتا تھا۔ اور چلتا پھرتا فیل ہوتا جیسے ابھی بھی میرا اندر لنڈ ہے۔

اور پھر بھی لنڈ کو اندر تک ڈالنے کی try کرتا رہا۔ مم بولتی تھی nipples کسی کو بھی نہیں چوسوانا، کیوں کہ nipples جلد رنگ بھی بدل لیتا ہیں اور موٹا بھی ہو جاتا ہیں، لڑکیوں کا nipples چھوٹا ہونا چاہیے۔ مگر جس طرح اس آدمی نے nipples چوسے تھے لگتا تھا جیسے سچ میں میرا ممّے سے کچھ نکل رہا ہو۔ رات کو مم کو تھوڑا سا ڈیڈ کا بتایا اور مم نے بولا ہم اس پہاڑی آدمی کا تمہارا بھائی کو نہیں بتائیں گے۔ اس کو جلن ہو گی، اور یہ بات تمہارا اور میرا اندر رہا، جس پر میں نے مم کی چوت پکڑ کر بولی، جیسا اس کا لنڈ آپ اور میرے چوت میں رہا گا… جس پر مم ہنسی اور پھر سے بولی… بس تم نے اپنا بھائی کو کوئی بات نہیں کرنی، اور اگر زیادہ تنگ کیا کرا تو مم نے میرے hips پر تھپڑ مار کر بولی، اپنی اس موٹی گاند میں اس کا لنڈ لے لیا کرو۔ بہن بولی…. اچھا تو میں بھی اس گھوڑا کا لنڈ والا سے بولتی ہوں میرے پیارے سے مم کی آج گاند میں ڈالا، میں بھی تو دیکھوں کیسا لگتا ہے آپ کو… تو مم بولی… نہ بابا… مجھے ڈاکٹر سے اپنی گاند کو stitch کرواتا اچھا لگے گا اس age میں… اور ویسے بھی یہ کل واپس جا رہا ہے، آج کی رات ہی ہے ادھر، جس پر بہن بولی ابھی تو مزہ آنا لگا تھا تو یہ کچھ دن اور رہا لے ادھر تو مم بولی

نہیں کیوں کہ کل شام کو تمہاری چھوٹی بہن بھی آ رہی ہے اور اس کو بھی کچھ کام ہے ادھر، اس نے کسی کا phone number دیا ہے اگر بلوانا ہو گا تو یا پھر آ جائے گا ادھر ڈیڈ اب مم کو آواز دے رہا تھے، مم بولی… میں اس بچہ کو سلا لوں، پھر آتی ہوں، بہن بولی ٹھیک ہے آج پھر میں آپ کی جگہ سو جاؤں گی، رات ہوئی تو مم میرا روم میں آ گئی پھر سے ready ہو کر اور بولی please تم اپنا ڈیڈ کے پاس چلی جاؤ، آج انہوں نے تھوڑے سے drunk بھی ہیں، وہ نہیں ہلتا، میں مم کا دوپٹہ لیا پھر سے ڈیڈ کے پاس جا کر لیٹ گئی، ادھر مم کو وہ پہاڑی آدمی جی بھر کر چدائی کرتا رہا، ادھر ڈیڈ پھر سے میرا ممّے پر ہاتھ رکھ کر بولا، تم میری جان ہو… تم جو بولتی ہو کر دیتی ہو، میں مم کی آواز میں بولی میں نے کیا کیا ہے، تو ڈیڈ میرا ممّا دبا کر بولا آج وہ میرے گود میں سچ میں بیٹھی تھی… اس کی اتنی پیاری چوت…. چوت میرا لنڈ سے لگے…. مجھے تمہاری جوانی یاد آ گئی میری جان…. میں بولی…. شششش… چپ…. next time کبھی بھی ایسے بات نہیں کرو گے مجھ سے…. اب جو بھی ہو تم اور تمہاری بیٹی کو صرف پتہ ہو…

اس کی seal تو نہیں توڑی؟ تو ڈیڈ سچ میں ڈر گئے تھے… اور اب نشہ میں بھی جھوٹ بولا… ن ن نہیں….. نہیں….. کچھ نہیں کیا…. وہ بہت اچھی ہے… پھر میں بولی…. بس تم نے مجھ سے کبھی بھی اس کی بات نہیں کرنی اب…. ورنہ تمہارا بیٹے کو بتا دوں گی…. ڈیڈ سچ میں ڈر گئے تھے اور بولا ن ن نہیں کرتا…. میں بولی… بس جو وہ مانگے اس کو خوش رکھنا… اور پھر کبھی مجھ سے ایسے بات کی اور مجھ سے اس نے بتا دیا کہ تمہارا لنڈ اس کو touch بھی کیا تو کاٹ ڈالوں گی… ڈیڈ سچ میں جتنا ڈر گئے تھے اور میرا کام بھی ہو گیا تھا، جس کا مجھے ڈر تھا کہ مم کو بتا نہ دیں… مم اپنی بیٹی کا اچھا ہی سوچتی ہیں چاہے خود برا کر لیں… story کو close کرتی ہوئی اب یہ کہ، اگلا دن وہ پہاڑی آدمی چلا گیا اور کچھ دنوں تک مم کو بولا میرا جتنا رشتہ آ رہا ہے میری شادی کروا دیں، مم اور ڈیڈ کو جو family اچھی لگے ادھر میری شادی کی ہاں کر دی، کافی rich family تھی. ان کا ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں تھی۔ شادی کے دنوں میں بھائی نے بھی میری گاند اچھی طرح ماری اور ڈیڈ نے بھی ویاگرا کھا کر 10 منٹ میری چوت کو چاٹ کر لنڈ ڈالا اور وہ بھی آرام سے بیٹی کو درد نہ ہو۔ باپ اور بھائی کو خوش کر کے ان کی دوائیاں لے کر اگلا گھر چلی گئی۔

پیاری تو تھی اور شادی کا suit اور make up میں ایک doll بنی ہوئی تھی، شادی کی رات husband کی stories سنی اور اس کی ہاں میں ہاں ڈالی.. اور اس کو اپنا سچ سچ بتا دیا، اب سچ کیا بتایا کہ، میں fingering کرتی تھی جب erotic movie دیکھتی تھی، باقی میری چوت اور آنکھ نے real آدمی کا real لنڈ نہیں دیکھا اور نہ میں نے آج تک کوئی boyfriend بنایا کیوں کہ میری مم اور بھائی بہت strict تھے۔ اور میرا husband نے میری چوت کو اس طرح چاٹا اور اس کا لنڈ بھی میرا بھائی سے کچھ چھوٹا تھا، مگر میں نے درد کا ڈرامہ اچھا کیا اور وہ مجھ پر مر مٹتا تھا، اور جوش میں 5 منٹ میں میرا اندر فارغ ہو گیا، مجھے مزہ آنا لگا تھا تو اس کا لنڈ میرے چوت میں سو گیا تھا، اس نے sorry کی مجھے تو میں بولی… thanks کہ آپ فارغ ہوئے ہو، آپ کا لنڈ بہت موٹا اور لمبا ہے مجھے درد ہو رہی تھی. اب کسی بھی مرد کو یہ بولا جائے تو وہ خود میں hero بن جاتا ہے۔ اور مجھے مم کی باتیں اور اپنا experience full use کیا اور ایک وہ بیوی بنی جس کو دنیا کا کچھ پتہ نہیں جیسے سب بیویوں سے پوچھا جائے تو وہ نہیں جانتی۔ صبح ہوئی تو husband کی بہنیں مجھے مذاق کرنے لگیں اور پوچھیں بھابھی رات کیسے گزری تو بولی… تم لوگوں کا بھائی جانور ہے پورا… جس پر وہ بہت خوش ہوئے کہ ہمارا بھائی نے برا حال کر دیا ہو گا بھابھی کا۔

و جس پر میری ساس کو sure ہوا سچ میں seal ٹوٹی ہے، اپنی finger رات کو sue سے کاٹ لی تھی، درد تو کافی ہوا مگر، اس کا جتنا فائدہ ہوا اپنی مم کو دعائیں دیتی رہی، یہ مجھے مم نے advice دی تھی، bed sheet پر کچھ drop لگا دیا، اور husband جو اتنا چالاک بنا ہوا تھا، جب میرا اوپر اپنا سویا ہوا لنڈ کو اندر ڈالا تھا، تب اس کا لنڈ کو باہر نکالتا ہوا اسے finger کا blood لگا دیا اور اس کا white پجامہ پر تو جیسے fingers کو صاف کر دی، جب اس نے پجامہ پہن کر washroom گیا تو blood دیکھ کر جتنا خوش ہوا، مجھے آ کر چومتا رہا، اور اس کی بہنیں virgin تھی یا نہیں ان کو بھی bed sheet دیکھا دی۔ اور میری new life شروع ہو گئی۔ anyway دوست میری یہ story end ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی

Featured Post