Tue. Sep 15th, 2026
?>

میں نے امی کوفنگرنگ کرتے پکڑ لیا

 

 

میرا نام دانش ہے۔ میں اپنی امی  کی چدائی کی کہانی آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے جا
رہا ہوں۔ تو چلیے بغیر وقت ضائع کیے سیدھے کہانی پر آتے ہیں۔

یہ کہانی 2 سال پہلے کی ہے، جب میں 21 سال کا تھا۔
کہانی شروع کرنے سے پہلے میں آپ کو اپنی امی کے بارے میں بتا دیتا ہوں۔ میری امی کا
نام انیقہ  ہے، اور وہ 46 سال کی ہیں۔ رنگ
ان کا گورا ہے، اور جسم بھرا ہوا ہے۔ وہ ایک اوسط دکھنے والی گھریلو خاتون ہیں۔
لیکن ان کی گانڈ غیر معمولی ہے۔ ان کا فگر سائز 34-32-38 ہے۔

ویسے تو میری امی زیادہ تر  شلوار قمیض پہنتی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ٹائٹ ٹراؤزر
بھی  پہن لیتی ہیں ۔ جس دن وہ شلوار کی جگہ
ٹراؤزر  پہنتی ہیں، اس دن تو ان کی گانڈ
قہر ڈھاتی ہے۔ دل کرتا ہے کہ ان کی گانڈ کو کاٹ کر کھا جائے بندہ۔

تو ہوا یوں کہ پچھلے ایک سال سے میں اپنی امی کے بارے
میں سوچ سوچ کر  مٹھ  مار رہا تھا۔ میرے اور میرے دوست ایک دوسرے کی امی
کی فوٹو شیئر کرکے ان کے بارے میں گندی باتیں کرتے تھے۔ لیکن کبھی بھی کسی نے اپنی
امی کے ساتھ کچھ کیا نہیں تھا۔ کرتے بھی کیسے؟ اتنی ہمت کہاں سے لاتے؟ پر ایک دن
مجھے موقع ملا اپنی امی کو چودنے کا۔

میں اس دن کالج سے جلدی گھر آ گیا تھا۔ گھر آکے دیکھا
تو امی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ پہلے میں ان کے کمرے میں گیا، لیکن وہ وہاں
نہیں تھی۔ پھر میں نے کچن میں دیکھا، اس کے بعد اسٹور روم میں دیکھا، لیکن وہ کہیں
نہیں ملی۔

ہمارے گھر میں 2 فلور ہیں۔ جب امی نیچے نہیں ملی تو میں
اوپر چلا گیا۔ اوپر ہم نے ایک چھوٹا سا گارڈن بنایا ہوا ہے، جہاں تھوڑے سے گملے
رکھے ہوئے ہیں، اور تھوڑی گھاس بھی اگائی ہوئی ہے۔

میں نے گارڈن میں دیکھا تو امی مجھے وہاں دکھائی دی۔ ان
کی پیٹھ میری طرف تھی۔ میں بغیر کچھ بولے امی کے قریب جانے لگا۔ جب میں ان کے
نزدیک پہنچ رہا تھا تو وہ آہیں بھر رہی تھی۔

امی: آہ آہ آہ۔

ان کی آہوں کی آواز سن کر میں حیران ہونے لگا، اور دبے
پاؤں آگے بڑھنے لگا۔ اور پاس گیا تو پتا چلا امی کی شلوار ان کے پیروں تک تھی، اور
ساتھ میں پینٹی بھی تھی۔ میں امی کے سائیڈ میں جاکے کھڑا ہوا تو دیکھا ان کا ہاتھ
ان کی چوت پر تھا، اور وہ آنکھیں بند کرکے اس کو سہلا رہی تھی۔

یہ سب دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ میں ویسے ہی دبے پاؤں
پیچھے ہونے لگا، اور پیچھے کمرے میں جاکے سوچنے لگا کہ اب کیا کروں۔ پہلے میں نے
سوچا کہ امی کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر ان کو چودوں گا۔ پھر میں نے سوچا کہ ایسا تو
پورن ویڈیوز میں ہوتا ہے، اصلی زندگی میں ایسا کہاں ہو سکتا تھا۔

آخر تک میں نے سوچا کہ ایک بار کوشش تو کرنی ہی چاہیے۔
ورنہ زندگی بھر اس پل کے لیے خود کو کوستا رہوں گا۔ پھر میں نے ہمت  پیدا کی ، اور پھر سے امی کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ
گھاس پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ان کے قریب پہنچ کر میں بھی ان کے پیچھے ٹانگیں کھول کر
بیٹھ گیا۔

میں نے اپنی ٹانگیں ان کے آس پاس کی، اور ان کے پیچھے
جاکے چپک گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی، میں نے اپنا ہاتھ ان کی چوت پر
رکھا، اور تیزی سے رگڑنے لگا۔ امی ایک دم سے حیران ہو گئی، اور انہوں نے مڑ  کر پیچھے دیکھا۔

جب انہوں نے پیچھے مجھے دیکھا، تو وہ بولی: دانش  یہ تو کیا کر رہا ہے؟ پیچھے ہٹ!

میں نے ان کی بات کو ان سنا کیا، اور اپنا کام جاری
رکھا۔ میں ان کی چوت کو رگڑتا رہا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی، لیکن میں نے ان کو
جکڑ رکھا تھا۔ ایک دو بار اور انہوں نے مجھے ہٹنے کو کہا، لیکن پھر وہ چپ ہو گئی۔
ان کی چوت کی گرمی بہت بڑھ چکی تھی میرے رگڑنے کی وجہ سے۔

کچھ دیر میں وہ پہلے کی طرح آہیں بھرنے لگی، اور انہوں
نے آنکھیں بند کر لیں۔ میں سمجھ گیا کہ میری امی خود کو میرے حوالے کر چکی تھی۔
میں ان کی چوت کے دانے کو رگڑتا رہا، اور ان کی گردن پر بوسہ دینے لگا۔

کچھ دیر ایسے ہی کرنے کے بعد میں جلدی سے ان کے پیچھے
سے اٹھا، اور ان کی ٹانگوں کے بیچ آکے ان کی چوت پر منہ لگا لیا۔ اس سے ان کی سسکی
نکل گئی، اور میں ان کی چوت کو چاٹنے چوسنے لگا۔ انہوں نے مجھے روکا نہیں، بلکہ وہ
میرے سر میں ہاتھ رکھ کر اس کو سہلانے لگی۔

اب میں سمجھ چکا تھا کہ امی مجھ سے آرام سے چد جائے گی۔
میں اور جوش سے ممی کی چوت کو چوسنے لگا۔ وہ آہ آہ کرتی رہی، اور کچھ دیر بعد ان
کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔ میں ان کا سارا پانی پی گیا۔

اب امی کچھ  ڈھیلی پڑ گئی، اور وہیں پر ٹانگیں کھولے ہوئے
سیدھی لیٹ گئی۔ لیکن مجھے تو ابھی امی کو چودنا تھا ۔ میں نے جلدی سے اپنی پینٹ
اور انڈرویئر اتارا، اور اپنا کھڑا لنڈ لے کر امی کی ٹانگوں کے بیچ آ گیا۔ امی نے
آنکھیں بند کر رکھی تھی، جس کو میں نے چدائی کی رضامندی سمجھا۔

پھر میں نے اپنا لنڈ امی کی چوت پر ٹچ کیا، تو وہ میری
طرف دیکھنے لگی۔ وہ کچھ بول نہیں رہی تھی، بس دیکھے جا رہی تھی۔ مجھے لگا شاید وہ
میری ہمت چیک کر رہی تھی، کہ میں لنڈ چوت میں ڈالوں گا کہ نہیں۔

لیکن میں آج نہیں رکنے والا تھا۔ میں نے لنڈ کو چوت کے
منہ پر رکھا، اور زور کا دھکا مار کر پورا لنڈ ایک ہی بار میں گھسا دیا۔ امی کی
چیخ نکل گئی، اور میرا لنڈ ان کی گیلی گرم چوت کے اندر چلا گیا۔

اب میں نے دھکے مار کر چودنا شروع کیا۔ مجھے تو جنت کا
احساس مل رہا تھا۔ امی بھی آہ آہ کر رہی تھی۔ پھر چوت کو چودتے ہوئے میں امی کے
ہونٹ چوسنے لگا۔ وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی۔ میری امی وائلڈ کسنگ کر رہی تھی۔

میں بوسہ کرتے ہوئے دھکے مارتا گیا، اور مزا لیتا گیا۔
کچھ دیر بعد میں نے لنڈ چوت سے باہر نکالا۔ میرا لنڈ امی کی چوت کے پانی سے لبالب
بھیگا پڑا تھا۔ پھر میں نے امی کو گھوڑی بننے کو کہا۔

امی میری بات مانتے ہوئے گھوڑی بن گئی۔ پیچھے سے امی کی
گانڈ کمال کی لگ رہی تھی۔ پھر میں نے پیچھے سے امی کی چوت میں لنڈ پیلا، اور چودنا
شروع کر دیا۔ میں امی کے کندھے پکڑ کر زور زور کے دھکے مار رہا تھا۔ امی آہ آہ آہ
کر رہی تھی۔

اب میرا نکلنے والا تھا، تو میں نے لنڈ باہر نکالا۔ امی
نے جلدی سے میرا لنڈ منہ میں لے لیا۔ میں امی کے منہ میں جھڑ گیا، اور وہ میرا
سارا پانی پی گئی۔

اس دن شروع ہوا چدائی کا سلسلہ آج تک نہیں تھما۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *