Sat. Sep 12th, 2026
?>

میں بن گئی اپنے جیٹھ کی بیوی

 

 

ہیلو دوستو، میرا نام سائرہ ہے اور میری
عمر 25 سال ہے۔ میں کراچی کے علاقے گلشن میں رہتی ہوں۔ آج جو داستان آپ کو میں بتانے
جا رہی ہوں وہ میرے اور میرے جیٹھ کے درمیان ہوئی ایک ایسی شرارت کی کہانی ہے جس نے
میری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ تو بس آپ سب اپنے لن سنبھال کر بیٹھیے کیونکہ بہت
مزہ آنے والا ہے۔ چلیں اب کہانی پر آتے ہیں۔
 

 

میرا رنگ ہمیشہ سے صاف ہے اور فگر 36B-24-36
ہے۔ جب میں 16 سال کی ہوئی تب سے ہی میرا فگر بہت پیارا اور
بوبز بھرے بھرے سے ہیں۔ جب میں اپنے کالج میں تھی تو سب لڑکے مجھے گھورتے تھے اور سچ
بتاؤں تو مجھے نوٹس ہونے کا شوق بھی بہت تھا۔ ایک عجیب سی بجلی دوڑ جاتی تھی جب لڑکے
مجھے دیکھتے تھے اور کمنٹس پاس کرتے تھے۔ جب ایک لڑکی کو ایپریشیئٹ کیا جائے تو مانو
نہ مانو دل ہی دل میں خوشی بہت ہوتی ہے، اُف
 

 

جب میری پڑھائی ختم ہو گئی اور جوانی اپنے
ٹھیک جو بن پر تھی تو میرے ماں باپ نے میری شادی کرنے کا سوچا۔ شروع شروع میں تو مجھے
عجیب لگا لیکن آخر کب تک میں اپنی پیاسی چوت کو انگلیوں کا سہارا دیتی۔ آخر کار تھوڑی
ضد زبردستی کر کے میری شادی ہو گئی۔ اگر میرے سسرال والوں کی بات کی جائے تو وہ ٹھیک
ٹھاک لوگ تھے۔ خیال بھی رکھتے تھے۔ میرے شوہر کی فیملی میں صرف دو لوگ اور تھے۔ ایک
میری ساس اور دوسرے جیٹھ۔ دونوں بہت ہی نیک طبیعت کے تھے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
 

 

میرے شوہر ایک آرمی آفیسر تھے جن کو شادی
کے ایک ہفتے بعد ہی بارڈر پر جانا پڑ گیا۔ شروع شروع میں تو خوب سیکس ہوا تھا اور مزہ
بھی خوب آیا لیکن ان کے جانے کے بعد سے میرے دن سوکھے سوکھے گزرتے تھے۔ میں اکیلی بیٹھی
کبھی اپنی ساس سے بات کرتی تھی تو کبھی اپنی سہیلیوں سے۔ میری دوستیاں اپنی چدائی کے
قصے مجھے بتاتی تھیں اور میں یہ سوچتی تھی کہ مجھے کب نصیب ہوگا اپنے شوہر کے لن کی
پوجا  کرنا۔ لیکن مجھے کیا پتا تھا کہ قدرت
کو کچھ اور ہی منظور ہوگا۔
 

 

ایک دن میں صبح سو کر اٹھی تو پتا چلا
میرے شوہر بارڈر پر شہید ہو چکے ہیں، کچھ ہی دن میں میں نئی دلہن ایک بیوہ بن چکی تھی۔
میرا دل ٹوٹ چکا تھا اور میری چوت کی آگ بھڑک رہی تھی۔ چند دن گزرے اور میں اپنی سیکس
اسٹوریز اور پورن کے ذریعے اپنے اندر کی آگ کو بجھانے کی کوشش کی۔ لیکن ان دنوں میں
نے ایک عجیب بات پر غور کیا کہ میرے شوہر کے انتقال کے بعد سے میرے جیٹھ مجھ سے دن
بہ دن قریب ہو رہے تھے۔ اب وہ مجھ سے گھنٹوں باتیں کرتے اور جب میں کچن میں ہوتی تو
جان بوجھ کر ٹکرانے کا ناٹک کرتے۔ میں نے تھوڑا سوچا اور پھر اتفاق سمجھ کر جانے دیا۔
لیکن یہ میری بھول تھی۔
 

 

ایک دن میری ساس کو کسی کام سے باہر جانا
پڑا۔ میں اور میرے جیٹھ گھر میں بالکل اکیلے تھے۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھی موبائل استعمال
کر رہی تھی کہ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور میں نے دیکھا تو وہ میرے جیٹھ تھے۔
پہلے تو میں تھوڑا گھبرائی اور میں نے ان سے پوچھا آپ کو کچھ چاہیے؟ انہوں نے سر سے
لے کر پاؤں تک پہلے میرا ایکسرے کیا اور پھر بولے نہیں۔
 

 

میں نے کچھ دیر انتظار کیا اور دروازے
پر کھڑی رہی۔ انہوں نے پھر ایک دم سے کہا میں تم سے ایک بات کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں
نے ہچکچا کر بولا جی؟
 

 

جیٹھ: اندر آ جاؤں؟ 

میں: جی آ جائیں۔ 

 

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک دم سے وہ
بولے، دیکھو ایسی باتیں اکثر جیٹھ کرتے نہیں ہیں لیکن میں تمہارے لیے کچھ کہنا چاہتا
ہوں۔
 

 

میرے تو ہوش اڑ گئے کہ پتا نہیں کیا بولیں
گے یہ۔ میں نے کہا جی کیا بات ہے؟
 

 

جیٹھ: میرے بھائی کے جانے کے بعد میں دیکھ
رہا ہوں تم کچھ کھوئی کھوئی سی ہو۔
 

میں: ہوم۔ 

جیٹھ: میں جانتا ہوں کہ اس عمر میں بیوہ
ہو جانا کیسا ہوتا ہے۔ کتنے ارمان ہوں گے تمہارے۔
 

میں نے ہلکے سے سر ہلایا اور رونے لگی۔ 

 

جیٹھ: میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمہیں
جب بھی میری ضرورت ہو میں حاضر ہوں۔
 

میں: میں کچھ سمجھی نہیں۔ 

جیٹھ: دیکھو سائرہ، تم نہ بچی ہو نہ میں
بیوقوف ہوں۔ مرد اور عورت کا رشتہ میاں بیوی سے بڑھ کر سیکس کا ہوتا ہے۔ اور میں سمجھتا
ہوں کہ اتنے دن بغیر سیکس کے رہنا کیسا ہوتا ہے۔ میں دیکھتا رہا ہوں تمہیں اور اس جسم
کے ساتھ انصاف ہونا ضروری ہے۔ تم دودھ کی وہ نہر ہو جس کو میں حاصل کر کے ہی رہوں گا۔
 

میں: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، یہ سب گناہ
ہے۔
 

جیٹھ: میں کچھ نہیں جانتا۔ میں تمہارے
جواب کا کل تک ویٹ کروں گا۔ امید ہے تم اچھا فیصلہ کرو گی۔
 

 

انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر
رکھا اور میں نے جھٹ سے ہٹا دیا۔ اس رات میں یہ سوچتی رہی کہ یہ ہوا کیا ہے۔ مجھے بالکل
نیند نہیں آئی۔ مجھے غصہ بھی تھا لیکن ایک عجیب سی بے چینی تھی جو مجھے پاگل کر رہی
تھی۔ میں نے رات گئے اپنے آپ کو پہلی بار غور سے دیکھا۔میں صرف اکیس سال کی بھرپور
جوان تھی ۔ میرے ابھرے ہوئے بوبز اور گورا  چٹا رنگ مجھے پہلی دفعہ اچھا لگ رہا تھا۔ میں خوش
تھی کہ کسی نے اتنے برسوں بعد مجھے نوٹس کیا۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا رہی تھی
جیسے مجھے نئی زندگی مل گئی ہو اور میری چوت کو ایک نیا لن۔ میں مدہوش ہو گئی تھی۔
 

 

دن گزرا اور پھر میرا سامنا اپنے جیٹھ
سے ہوا۔ میں ان سے نظریں ملا نہیں پا رہی تھی۔ اور میں نے بھاگنا چاہا لیکن انہوں نے
مجھے زور سے پکڑا اور پوچھا تم نے کیا فیصلہ کیا۔ میں کچھ نہ بول سکی اور ہاں بول کر
مسکراہٹ کے ساتھ بھاگ گئی۔
 

 

ہم نے رات کا کھانا کھایا اور سب اپنے
روم میں چلے گئے۔ مجھے نہیں پتا تھا جو میرے ساتھ ہونے والا ہے وہ میری زندگی اور میرا
جیٹھ سے رشتہ ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
 

 

رات جیسے ہی گہری ہوئی تو میرے کمرے میں
جیٹھ جی آئے اور مجھے دبوچ لیا۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی۔ یا شاید وہ میری
چوت کا ہی پانی تھا، ۔۔۔  انہوں نے مجھے دبوچا
اور کہا، آج رات تم بس چیخو گی اور میں تمہیں چودوں گا۔
 

 

جیسے ہی انہوں نے مجھے دبوچا، میں نے کوشش
کی کہ میں اپنے آپ کو ان سے چھڑا لوں لیکن میں کب تک اپنے آپ سے جھوٹ بولتی کہ مجھے
یہ سب ہی چاہیے تھا۔ مجھے یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔ میں کچھ دیر چھڑانے کی کوشش کی پھر
اپنا جسم ان کے حوالے کر دیا۔ پھر کیا تھا، انہوں نے ایک جھٹکے میں میرے کپڑے پھاڑے
اور میرے اوپر چڑھ گئے۔ میں دیوانی ہو چکی تھی۔ میرے بس میں کچھ نہیں تھا بس آآآہہہہ
ہنننن اُفففف کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ وہ تو مجھے اس طرح چود رہے تھے جیسے میں ایک
رنڈی ہوں۔ میرے بوبز کو اس طرح چوس رہے تھے جیسے وہ اصل میں دودھ کا فوارہ ہوں اور
سچ کہوں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ وہ مجھے کسی دیوی کی طرح پوج  رہے تھے۔ میں نے یہ سب پہلے کبھی محسوس نہیں کیا
تھا۔ ایک نئی بجلی، ایک نیا جوش سا جاگ گیا تھا۔ جیسے کہ میں اس سب کے لیے ہی تو ترس
رہی تھی
 

 

میں: آآآہہہہ جیٹھ جییی بس کریں نہ اُففف
یا ۔۔۔۔
 

جیٹھ: آج تو موقع ملا ہے تجھے اپنا بنانے
کا جب سے نظر تھی میری تجھ پر۔
 

میں: میں نے سسکیوں کے ساتھ پوچھا ک… کک…
کب سے؟
 

جیٹھ (مجھے اپنی طرف کھینچتے ہوئے): بہن
کی لوڑی، جب سے آئی ہے تب سے تیرے نام کی مٹھ مار رہا ہوں۔
 

میں (شرارت بھری آواز میں): تو پہلے کیوں
کیوں نہیں کیا… میرا جسم تو کب سے ایک مرد کی آغوش میں جانے کو بے قرار تھا۔
 

جیٹھ: میں گھبرا رہا تھا لیکن اتنے دن
صبر کر کے کچھ نہ ملا تو سوچا تمہیں موقع دیکھ کر اپنے دل کی بات بتاؤں۔ میں تمہیں
حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
 

میں (شرماتے ہوئے): اور کتنا حاصل کرنا
ہے؟ آپ کے بھائی کی بیوی آپ کے سامنے ننگی بستر پر پڑی آپ سے اپنا جسم چٹوا اور چوت
چسوا رہی ہے… جیٹھ جی آپ دیر لیکن درست آئے ہیں… آپ نے میری چوت کو نئی زندگی دی ہے۔
 

 

میرا یہ کہنا تھا کہ وہ مجھے پاگلوں کی
طرح چومنے لگے اور کہا، ذرا ادھر تو آؤ میری سائرہ بھابی جان… تمہارے مخملی سفید جسم
کو لوٹ لوں۔ کھا جاؤں۔
 

 

انہوں نے مجھے بیڈ پر آرام دہ پوزیشن میں
لٹایا اور تھوک لگا کر میری پیاسی چوت میں لنڈ آہستہ آہستہ گھسانے لگے۔
 

میں: آآآہہہہ آہہہ آرام سے بھابی جان کی
جان… اُمممم۔
 

 

ان کا لن اس طرح کا سکون پہنچا رہا تھا
کہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی… میں کبھی آآآہہہہ کرتی تھی تو کبھی چادر کو زور
سے اپنے ہاتھ میں پکڑ اُفففف کرتی تھی۔ اب تک میں نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔
میں بھی کھل کر مزے لینے لگی تھی اور اپنے اور ان کے جسم کی گرماہٹ کا لطف لے رہی تھی۔
میرا یہ حال دیکھ کر جیٹھ نے کہا، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے میری جان… ان کا یہ کہنا
ہی تھا کہ ان کا لن میری چوت پھاڑتے ہوئے راکٹ کی طرح اندر گھس گیا۔ اب میں بھی کسی
پاگل کتیا کی طرح ان کو نوچ رہی تھی، چیخ رہی تھی آآآہہہہ اُمممم اُفففف کر رہی تھی۔
 

 

میں: آآآہہہہ آپ جانتے نہیں ہیں آپ مجھے
جنت میں لے گئے اُففف ہائے میں مر گئی جیٹھ جی اُففف چوڈو مجھے چوڈو اپنے بھائی کی
بیوہ کو اپنا بنا لو
 

وہ زور زور سے جھٹکے مار رہے تھے، میرے
بوبز چوس اور کاٹ رہے تھے، میری جان نکل رہی تھی
 

جیٹھ: کس کی جان ہو تم؟ 

میں: صرف آپ کی آآآہہہہ۔ 

جیٹھ: کس کا حق ہے اس چوت پر؟ 

میں: آپ کا، صرف آپ کا، آپ ہی میرے سب
کچھ ہیں… آآآہہہہ اُمممم جیٹھ… جییی۔
 

میں: میں اس پیار کے لیے اتنا ترسی ہوں،
آج مل گیا ہے تو میری روح اور جسم کو سکون مل رہا ہے
 

 

جیٹھ جیسے جیسے مجھے چود رہے تھے ان کی
سپیڈ تیز ہوئی جا رہی تھی اور میری چیخیں نکل رہی تھیں، آآآہہہہ اُفففف مر گئی یا ۔۔۔
اُفففف جنت مل گئی ہائے۔۔ وہ گالیاں دیتے، کبھی چنال، کبھی رنڈی تو کبھی کتیا کہہ رہے
تھے لیکن یہ سب سچ ہی تو تھا، میں ایک بیوہ عورت اپنے شوہر کے بھائی سے اسی گھر میں
چد رہی تھی جس میں شادی ہو کر آئی تھی۔
 

 

جیٹھ جی کبھی کبھی مجھے مارتے لیکن سچ
پوچھو جو مزہ آیا وہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے میں ان کی ہی
ہوں اور وہ مجھ پر اپنا حق جتا رہے ہیں… ان کی ہی ہوں سچ پوچھو تو۔ میرے جسم کا ہر
ایک حصہ ان کا ہے اور ان کا لن میرا۔ میری ساس میرے روم میں نہیں آتی تھی، اس کا فائدہ
اٹھا کر میرے جیٹھ نے مجھے رات بھر چودا اور زور زور سے اچھل کر میرا حلوہ بنا دیا۔
رات بھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور صبح تک ہم بازوؤں میں بازو ڈال کر لوورز کی طرح سو گئے۔
رات میں کبھی وہ میرے ہونٹ چوستے تھے تو کبھی چوت۔ مجھے رانیوں کی طرح پیار کر رہے
تھے اور میں بھی ان کو چوم رہی تھی۔ مانو جیسے ان کو میں نے اپنا سب کچھ دے دیا ہو۔
 

 

اس دن کے بعد سے تو سمجھو کوئی ایسی جگہ
نہیں تھی جہاں ہم نے چدائی نہ کی ہو۔ ہم میری ساس کو ان کی بہن کے گھر بھیج کر پوری
رات پورا دن چدائی کرتے تھے اور اپنی پیاس بجھاتے تھے۔ اب تو ایسی سلسلہ ہو گیا تھا
کہ میں اپنے جیٹھ کی بن بیائی دلہن سے بھی بڑھ کر تھی۔ ان کی رانی، جو کبھی ان کی پیاری
بھابی تھی اب وہ عورت سائرہ ان کی محبت، ان کی بن بیائی بیوی، رنڈی اور محبوبہ بن چکی
تھی۔
 

 

کچھ دن گزرے اور میرا پیریڈ چھوٹ گیا۔
ہمیں سمجھ نہیں آیا کیا کریں لیکن سیکس چلتا رہا۔ میرے انہوں نے کہا تم فکر مت کرو،
میں کچھ کرتا ہوں۔ مجھے یہ فکر تھی کہ میں اب اپنے گھر والوں اور دنیا کو کیا منہ دکھاؤں
گی… لیکن… انہوں نے میری ساس سے بات کی اور یہ تو نہیں بتایا کہ میں پیٹ سے ہوں لیکن
انہوں نے کہا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اب مجھ بیوہ سے کون شادی کرے
گا؟ ساس کو کیا پتا تھا کہ ہم دونوں کا پیار میرے پیٹ میں پل رہا ہے۔ میری ساس نے کچھ
دن سوچا اور پھر کہا ٹھیک ہے تم اس سے شادی کر لو۔
 

 

جب یہ بات مجھے پتا چلی تو میری خوشی کا
ٹھکانہ نہیں تھا۔ ہمارا ناجائز رشتہ اب پاک ہونے لگا تھا اور میرے بچے کو ایک باپ کا
نام مل گیا تھا۔ یہ سب تو ٹھیک لیکن ہم دونوں کو اس بات کی خوشی زیادہ تھی کہ اب ہم
کسی ڈر کے بغیر کھلم کھلا رہ سکیں گے، ایک کمرے میں، ایک بستر میں، ایک چھت کے نیچے
سو سکیں گے اور سب سے بڑھ کر پیار کر سکیں گے۔ سیکس کر سکیں گے اور دو جسم ایک جان
ہو سکیں گے۔
 

 

ٹھیک 8 ماہ 20 دن بعد ہمارے یہاں بیٹا
پیدا ہوا۔ سب بہت خوش تھے اور ہم میاں بیوی نے اس خوشی کو دھوم دھام سے سیلیبریٹ کیا۔
رات بھر اس بچے کے سو جانے کے بعد ہم سیکس کرتے اور پلنگ پر اچھل اچھل کر وہ مجھے کبھی
گھوڑی تو کبھی کتیا بنا کر چودتے۔ ایسا سمجھ لیں کہ میں ان کے لن کی داسی بن چکی تھی۔
چوس چوس کر مموں کو اتنا بڑا کر دیا تھا انہوں نے۔ ہم خوب مزے کرتے اور نئی نئی سیکس
پوزیشنز ٹرائی کرتے۔ مجھے ان کے لن کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ جب تک یہ میرے چوتڑ پر
نہ ماریں اور لن میرے منہ اور چوت میں جائے میں سو نہیں پاتی۔
 

 

کچھ دن پہلے مجھے پتا چلا ہے کہ میں ایک
بار پھر ان کا پیار اپنے پیٹ میں لے کر گھوم رہی ہوں۔ ہم سب بہت خوش ہیں اور مجھے پتا
ہے چاہے 10 بچے ہو جائیں، یہ مجھے اسی جوش کے ساتھ رنڈیوں کی طرح چودیں گے کیونکہ یہ
میرے ہیں اور ان کا لن ہی میرا سب کچھ ہے ۔
 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *