Fri. Sep 11th, 2026
?>

مولوی اور اس کی بیٹی

 

 

یہ کہانی ایک مولوی صاحب کی ہے جن کی عمر کوئی 47 سال
تھی۔ ایک طرف تو وہ بہت مذہبی مولوی تھے، لیکن دوسری طرف ان کے اندر بہت آگ بھری
ہوئی تھی۔ مولوی صاحب کی لمبی داڑھی تھی، قد لمبا اور کافی صحت مند جسم تھا۔ ان کی
بیوی ہر وقت بیمار رہتی تھی، اور مولوی صاحب کبھی کبھار اپنے ہاتھ سے گزرا کر
لیتے، یعنی خود کو مطمئن کر لیتے، یا پھر کوئی پیارا سا معصوم بچہ ہاتھ لگ جاتا تو
اسے اپنی گود میں بٹھا کر اپنا لن اس کے پیچھے رگڑ کر سکون حاصل کرتے۔ ایک بار
مولوی صاحب کو زیادہ جنون چڑھا اور انہوں نے ایک بچے کے پیچھے اپنا لن ڈال دیا۔
بچے کے پیچھے صرف لن کا موٹا لمبا سر ہی گیا تھا کہ بچے کی گانڈ پھٹ گئی ۔

بچے کی عمر کوئی 13 سال تھی، لیکن مولوی صاحب کا اتنا
لمبا اور موٹا لن تھا کہ اسے کوئی جانور یا بڑی عمر کی عورت ہی برداشت کر سکتی
تھی۔ بہرحال، باقی مولویوں نے مل کر مسجد والوں سے مولوی کی چھٹی کروا دی۔ مولوی
صاحب کو شہر کے آخری سرے پر ایک دوسری مسجد دے دی گئی، جہاں انہیں ایک چھوٹا سا
کوارٹر بھی دیا گیا، جو ایک کمرہ اور باتھ روم پر مشتمل تھا۔ مولوی صاحب کی بیوی
نے کئی بار پوچھا کہ آپ کو اتنی بڑی مسجد سے اس چھوٹی مسجد میں کیوں لایا گیا؟
لیکن مولوی صاحب نے کوئی نہ کوئی جھوٹ سنا کر بیوی کو چپ کروا دیا۔ لیکن مولوی
صاحب کی ایک جوان اور بہت پیاری بیٹی بھی تھی، جو نہ صرف جوان تھی بلکہ اسے کچھ شک
بھی تھا، اور اب اسے یقین ہو گیا کہ اس کا باپ ضرور پکڑا گیا ہوگا۔

کیونکہ ایک بار وہ اپنے باپ کے لیے چائے بنا کر دوسرے
کمرے میں لے جا رہی تھی تو اس کی نظر پڑی کہ ایک پیارا سا موٹا بچہ اس کے باپ کی
گود میں بیٹھا ہے اور مولوی صاحب عجیب سا جھٹکا نیچے سے مار رہے تھے۔ وہ یہ دیکھ
کر کھڑی ہو گئی اور کچھ دیر بعد واپس آ گئی۔ کیونکہ بیٹی بھی 22 سال کی تھی اور اس
پر بھی جوانی کا زور تھا۔ اس نے اپنی دوستوں اور کچھ موسویوں سے بھی سنا تھا کہ
مولوی بچوں کے پیچھے لگ کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کوئی عورت نہیں ملتی، اس لیے
وہ یہ کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کی ماں ہر وقت بیمار رہتی ہے، تو مولوی
صاحب کیا کرتے ہیں۔ ایک بار اس نے اپنے باپ کی زبان سے سنا تھا کہ جب دل کرے تو
اسی وقت سیکس  کر لینا چاہیے، ورنہ جتنا
انسان سوچتا رہے گا، اتنا ہی گناہ ملے گا۔ یہ بات اس نے اپنے باپ کو اپنی ماں سے
کرتے ہوئے سنی تھی۔

بہرحال، یہ چھوٹا سا گھر جو کافی پرانا بھی تھا، اس میں
کوئی بیڈ نہیں تھا۔ ایک بیڈ تھا جس پر مولوی صاحب اور ان کی بیوی سوتے تھے، اور
کمرے کی دوسری طرف ایک چارپائی تھی، جس پر 22 سال کی جوان بیٹی سوتی تھی۔ ایک رات
بیٹی کی چارپائی ٹوٹ گئی اور وہ نیچے زمین پر گر گئی۔ اس پر مولوی صاحب نے کہا،
“بیٹی، تم ادھر آ کر لیٹ جاؤ، موسم ٹھیک نہیں، کوئی چیز کاٹ لے گی۔” اس
پر بیٹی بیڈ کے ساتھ دیوار سے لگ کر لیٹ گئی۔ ڈبل بیڈ تو تھا، لیکن پھر بھی تین
لوگوں کے لیے کم تھا۔ مولوی صاحب خود بھی لمبے قد والے اور صحت مند تھے۔ ایک طرف بیوی
لیٹی ہوئی تھی، جو رات کو دوائی کھا لیتی تو اسے کچھ پتا نہیں چلتا تھا۔ اور ساتھ
ہی مولوی صاحب اور دوسری طرف بیٹی تھی، جو دیوار کے ساتھ لگ کر اور دیوار کی طرف
منہ کر کے لیٹ گئی۔ اس کی سڈول پیٹھ اپنے باپ کی طرف تھی اور ساتھ ہی موٹی جوان
سڈول کولہے بھی، جو کبھی کبھار مولوی صاحب کے کولہوں سے لگ جاتے تھے۔ رات کے بارہ
بجے ہوں گے کہ مولوی صاحب نے سائیڈ بدلی اور اپنا منہ بیٹی کی طرف کر کے لیٹ گئے،
اور ساتھ ہی اپنی ایک ٹانگ اپنی ہی جوان بیٹی کی ران پر رکھ دی۔

ادھر بیٹی کی آنکھ لگ چکی تھی کہ وہ اچانک جاگ اٹھی اور
اپنے باپ کی ٹانگ کو اپنی ران پر محسوس کیا، اور ساتھ ہی مولوی صاحب کو اپنے ساتھ
چپکا ہوا بھی محسوس کیا۔ موٹی اور سڈول گانڈ جیسے مولوی صاحب کی دونوں ٹانگوں کے
بیچ میں آ گئی ہو، جیسے گود میں جوان گانڈ پھنس گئی ہو۔ بیٹی کی دل کی دھڑکن تو
تیز ہوئی، لیکن اب کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا۔ آگے دیوار تھی اور پیچھے بالکل
ساتھ چپکا ہوا باپ تھا، جو سو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں بیٹی نے خود کو ریلیکس کیا
یہ سوچ کر کہ پھر کیا ہوا، باپ ہی تو ہے اور وہ اب سو رہا ہے۔ سوتے ہوئے ایسا ہو
جاتا ہے۔ لیکن کچھ ہی دس منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ بیٹی کی سڈول موٹی اور نرم
گانڈ پر کچھ سخت چیز محسوس ہونے لگی، جو ہر اس وقت اور زیادہ سخت ہوتی جب جب مولوی
صاحب اپنی اوپر رکھی ہوئی ٹانگ کو بیٹی کی ران پر رگڑتے۔ اور کچھ ہی دیر گزری تو
بیٹی کو محسوس ہوا کہ یہ تو اس کے باپ کا لن ہے، جو بہت موٹا اور لمبا ہے۔ اس پر
بیٹی پہلے پہلے تو کوشش کرتی رہی کہ کسی نہ کسی طرح سائیڈ پر ہو جاؤں، لیکن اب اس
کے دل میں بھی کچھ اور چلنے لگا۔

وہ اب پورے طور پر نیند سے جاگ گئی تھی، اور اب وہ اپنے
باپ کے لن کا زور اپنی کولہوں کی دراڑ میں محسوس کر رہی تھی۔ اتنے میں مولوی صاحب
سوئے ہوئے کچھ زیادہ ہلے پیچھے سے اور اپنے ہاتھ سے اپنے لن کو اچھی طرح دبایا،
اور پھر جیسے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی ہی بیٹی کی گانڈ کی دراڑ میں اوپر
سے نیچے تک لن کا موٹا سر رگڑا۔ اچھا تھا کہ بیٹی نے شلوار پہن رکھی تھی۔ اس پر
بیٹی کی دل کی دھڑکن بھی تیز ہو گئی تھی اور وہ خود کو کچھ سکون بھی لے رہی تھی۔
اور اب وہ خود سوئے ہوئے کا بہانہ کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے باپ کے لن کو بھی
محسوس کر رہی تھی۔ اور کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب نے اپنی دھوتی کو تھوڑا اور
پیچھے کر کے لن کو اپنی بیٹی کی ریشمی شلوار کے اوپر سے رگڑتا ہوا اس کی گانڈ کے
نیچے اور رانوں کے بیچ میں اپنا لمبا گھوڑے جیسا موٹا لن زور سے بیچ میں ڈال دیا۔
شلوار کافی ریشمی تھی، جس سے لن آرام سے موٹی اور نرم ریشمی رانوں کے بیچ میں چلا
گیا۔

ایسی فیلنگز سے بیٹی کو بھی آگ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ
اپنی سڈول موٹی رانوں کو کچھ کھولنا چاہ رہی تھی، جو وہ سائیڈ بدل کر لیٹتے وقت
کرتی تھی۔ لیکن اس کی رانوں کے اوپر باپ کی ران تھی، جو کافی بھاری تھی، جس سے وہ
اپنی رانوں کو اوپر کھول نہ سکی۔ اور نہ ہی اپنے باپ کو بتا سکی کہ اس کی پھدی کے
ہونٹ اوپر کی طرف ہیں اور لن تھوڑا آگے سے جو نکلا ہوا ہے وہ دوسری طرف جا رہا ہے۔
لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ اب لن اور باپ دونوں آگے پیچھے ہل رہے ہیں۔
مولوی صاحب آرام آرام سے ہل کر اپنے لن کو اپنی بیٹی کی رانوں کے پیچھے رگڑ رہے
ہیں۔ اس پر اب بیٹی بھی پورے طور پر گرم ہو چکی تھی اور خود کو سوئے ہوئے کا بہانہ
کر رہی تھی، بس وہ یہی چاہ رہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس کا باپ اب اس کے جوان
مموں کو پکڑ لے زور سے۔ تب ہی سکون ملے گا۔ لیکن اتنے میں مولوی صاحب کی بیوی کو
کھانسی آ گئی اور مولوی صاحب نے اپنا لوہے جیسا سخت اور گھوڑے جیسا بڑا لن بیٹی کی
رانوں سے نکال کر بیڈ سے اٹھا اور بیوی کو پانی دیا، اور بیوی پھر سو گئی۔

ادھر مولوی صاحب کا لن جو ان کی دھوتی سے باہر نکلا ہوا
ہوا میں لہرا رہا تھا، اسے دھوتی کے نیچے چھپا کر بیڈ کے پاس کھڑے ہو کر اپنی بیٹی
کی طرف کچھ دیر دیکھتا رہا۔ ادھر بیٹی جتنی گرم ہو گئی تھی، اس نے دل سے اپنے باپ
کو اپنی جوانی دینے کو بھی تیار تھی، لیکن اس کی ماں کو کھانسی نہ آتی تو۔ مولوی
صاحب اپنی بیٹی کے گورے چٹے پاؤں کو دیکھتے تو محسوس کرتے کہ اس بیٹی کی گانڈ کتنی
گوری چٹی ہو گئی ہے، نرم بھی بہت ہے اور موٹی بھی محسوس ہوتی تھی۔ ادھر اس کی نظر
پڑی اپنی بیٹی کی گانڈ پر جو ویسے ہی ویسے کے انداز میں تھی، حتیٰ کہ اس بار بیٹی کی
ٹانگیں کچھ فولڈ تھیں، جس سے بیٹی کی گانڈ اور بھی باہر کو نکلی ہوئی تھی۔ مولوی
صاحب اپنی الماری کی طرف چل پڑے اور اپنی الماری سے ایک تیل کی چھوٹی سی بوتل نکال
کر کچھ تیل اپنے لمبے موٹے لن پر اچھی طرح مالش  کی اور پھر ایک ریزر لے کر بیڈ پر آ کر بیٹی کے
ساتھ ویسے ہی لیٹ گئے۔

ادھر ساتھ سوئی ہوئی بیوی کو کچھ خیال نہیں تھا کہ اس
کا پیچھے لیٹا ہوا شوہر اپنی ہی بیٹی سے کیا کر رہا ہے اور کس قسم کا تیل لن پر
لگایا ہے۔ یہ تیل تو وہ تھا جب کبھی مولوی صاحب زیادہ موڈ میں ہوتے تھے تو یہ تیل
لگا کر ایک گھنٹے تک چدائی  کرتے تھے اور
تیل اتنا چکنا ہوتا کہ لن کسی بھی سوراخ میں آرام سے اندر چلا جاتا۔ ادھر بیٹی کی
نیند ختم ہو گئی تھی اور وہ بھی دوبارہ اپنے باپ کا لن محسوس کرنا چاہ رہی تھی،
اور ساتھ ہی اپنی اس 22 سال کی عمر میں 36 کے مموں کی مالک بن چکی تھی۔ اور صرف وہ
چھوٹے بچوں سے نپل چسوا کر مزا لیتی رہی، کسی مرد کا ہاتھ کس طرح مموں کو پکڑتا ہے
وہ صرف سوچ ہی سکتی تھی۔ کیونکہ مولوی صاحب اپنے گھر میں کسی بھی بڑی عمر والے
لڑکے کو اندر نہیں آنے دیتے تھے۔

ادھر اب مولوی صاحب آرام سے پھر سے بیٹی کی پیٹھ سے لگ
گئے اور اس بار تو سیدھا اپنا ایک لمبا چوڑا ہاتھ اپنی ہی بیٹی کی گانڈ پر بڑے
پیار سے سہلانے لگ پڑے۔ اور بیٹی بھی آرام سے مزا لیتی رہی، لیکن کبھی کبھی محسوس
کرتی جیسے اس کی شلوار کو پھاڑ رہا ہو۔ لیکن بیٹی چاہ رہی تھی کہ کچھ بھی ہو، اب
مجھ سے جوانی نہیں سنبھالی جا رہی۔ جو ہونا ہے ہو جائے۔ کچھ دیر بعد بیٹی کو محسوس
ہوا کہ نہ تو میری شلوار کو نیچے کیا اور نہ ہی میں نے شلوار اتاری، لیکن پھر بھی
کیا، سچ میں میرے باپ کا لمبا اور موٹا لن میری شلوار میں سوراخ کر کے کیسے اندر آ
گیا ہے، اور وہ بھی اتنا گرم، اتنا موٹا، اتنا لمبا… اوہ… … اور یہ اتنا زیادہ
چکنا کیسے ہے؟ مولوی صاحب کا لن جو بیٹی کی شلوار کو اس کی سڈول موٹی گانڈ کی طرف
سے پھاڑ کر ایک سوراخ بنا دیا تھا، اس میں سے 3 انچ موٹا لن پھنس کر اندر گھسا ہوا
تھا۔

مولوی صاحب جب جب لن کو تھوڑا سا اپنی بیٹی کی موٹی
گوری گانڈ کے سڈول چوتڑ کے بیچ رگڑتا تو شلوار کا سوراخ لن پر پھنسا ہوا پوری
شلوار کو کھینچ کر باہر لے آتا پیچھے سے۔ ادھر بیٹی کی گرم اور ملائم گانڈ کے
دونوں چوتڑ میں لن کا موٹا ٹوپہ سیدھا بیٹی کی گانڈ کے چھوٹے سے ہلکے بھورے سوراخ
سے جا لگتا۔ لن بہت زیادہ چکنا تھا، اوپر سے مولوی صاحب نے اپنی تھوک کافی ساری لن
نکال کر لگا دی تھی۔ اور اس بار وہی ہوا کہ مولوی صاحب نے اپنے ہاتھ کو اپنی بیٹی
کے بازو کو سہلاتے ہوئے اس کے جوان لمبے موٹے مموں کے اوپر، قمیض کے اوپر سے مموں
پر رکھ دیا۔ اس بیٹی کے اس ممے کو مولوی صاحب جیسے ہاتھ کی ضرورت تھی۔ کیونکہ مما
جتنا سخت اور لمبا موٹا تھا، کسی چھوٹے ہاتھ میں پورا بھی نہ آنا تھا۔ ادھر مولوی
صاحب کا لمبا موٹا لن کا ٹوپہ جتنی بار بیٹی کی گانڈ کے چھوٹے سے سوراخ پر ٹکر مار
چکا تھا، اس سے بیٹی کو بھی گانڈ کے اوپر ٹوپے کی چوٹ سے مزا آتا اور اب جیسے گانڈ
کا سوراخ بھی نرم ہو گیا تھا۔

ادھر مولوی صاحب نے جب اپنی ہی بیٹی کے موٹے ممے پر
لمبا چوڑا ہاتھ رکھ کر ممے کو دبایا، تو بیٹی کو اتنا سرور اور مزا آیا کہ اس نے
اپنی دونوں ٹانگوں کو اور آگے اپنے پیٹ سے لگاتی گئی اور ادھر پیچھے کو اپنی گانڈ
کا زور لگایا تو مولوی صاحب کا لن جب رگڑ کھاتا ہوا دوبارہ بیٹی کی گانڈ کے منہ پر
آیا، ادھر بیٹی کو مزا آیا ممے دبانے سے جیسے تھوڑا پیچھے کو ہوئی تو مولوی صاحب
کا لن پورے طور پر اور پورا زور لگا کر بیٹی کی نرم موٹی جوان اور کنواری گانڈ کا
منہ کھولتا ہوا اتنی زور سے اندر گیا کہ بیٹی کی ایک زور دار چیخ نکل گئی…
“اوئی… ماں… اوئی…” بیٹی اتنی زور سے ہلی۔ ادھر مولوی صاحب نے بیٹی کا
مما چھوڑ کر بیٹی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ ادھر مولوی کی بیوی جو کبھی کسی شور سے
نہیں اٹھی تھی، آج اٹھی اور بولی، “یہ کیسی آواز ہے؟” ادھر مولوی صاحب
کو تین ماہ کے بعد ایک سوراخ ملا تھا اپنے لن کے لیے، وہ اپنے لن کو روکنا نہیں
چاہ رہا تھا۔ غصے سے بولا، “ہاں، تیری بیٹی کی گانڈ پھٹی ہے۔” جس پر
بیچاری بیوی دوائی کے نشے میں تھی اور بولی، “اچھا
…”

ادھر مولوی اپنے 3 انچ لن کو بیٹی کی تنگ کنواری گانڈ
میں پھنسا کر لیٹا رہا اور ادھر بیٹی اپنی ٹانگوں کو زور سے ہلاتی رہی۔ ادھر مولوی
صاحب نے بیٹی کی قمیض اوپر کر کے بیٹی کا گورا چٹا لمبا مما جو ایک آم کی طرح تھا
پکڑ کر اچھی طرح دبایا۔ لیکن جتنا موٹا لن بیٹی کی کنواری گانڈ میں گیا ہوا تھا،
اس سے بیٹی کو سکون نہیں ملنا تھا۔ ادھر بیٹی بولی، “مجھے… بہت… درد ہو رہی
ہے… آہ… پلیز…” تو مولوی صاحب بولے، “بیٹی، جب لن کو رگڑ رہا تھا تو تم
کو مزا تو آ رہا تھا… اب تھوڑا انتظار کرو۔” اتنے میں مولوی صاحب نے پھر سے
اپنے لن کو بیٹی کی گانڈ میں اور اندر ڈالا تو بیٹی پھر سے چیخی اور بولی،
“مر جاؤں گی، مجھے چھوڑ دو… اوئی ماں… میری گانڈ پھٹ گئی…” ادھر مولوی
صاحب بیٹی کے ممے کو زور سے دباتا تو کبھی بیٹی کا چہرہ چومتا۔ مولوی صاحب کا لمبا
موٹا لن جو صرف 4 انچ تک بیٹی کی نرم اور بہت ہی گرم گانڈ کے اندر پھنسا ہوا تھا،
بیٹی کی گانڈ کا منہ نے مولوی صاحب کے لن کو ایک انگوٹھی کی طرح زور سے باہر سے
جکڑ رکھا تھا۔

مولوی صاحب اپنے لن کو اب بہت ہی آرام سے تھوڑا سا باہر
نکالتے اور پھر اندر ڈال دیتے۔ صرف 4 انچ تک اندر باہر کرتے رہے اور ساتھ بیٹی کا
مما دباتے رہے۔ ادھر بیٹی کی موٹی کالی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل رہے تھے درد
سے۔ مولوی صاحب نے اپنے لن کا ایک جھٹکا زرا زور سے مارا جس سے لن 5 انچ سے کچھ
زیادہ اندر گیا اور بیٹی کو محسوس ہوا جیسے بہت گرم لاوا کا سمندر اس کی سڈول نرم
گانڈ میں آ گیا ہو۔ اور مولوی صاحب کافی دیر تک کانپتے رہے اور جھٹکے کھاتے رہے،
اور پھر لن کو گانڈ سے آہستہ نکال دیا۔ بیٹی کی گانڈ کا منہ بند نہیں ہو رہا تھا
اور گانڈ سے باپ کا لن کا دودھ نکلتا جا رہا تھا۔ مولوی صاحب نے بیٹی کی گانڈ اس
طرح پھاڑ دی تھی کہ بیٹی تین دن تک بیڈ پر لیٹی رہی اور مولوی صاحب اسے دوائی لا
کر دیتے رہے۔ اور ساتھ سوتے رہے، صرف مما دبا کر بیٹی کو سکون دیتے رہے۔ بیٹی کو
دو دن تک تو بہت غصہ آتا رہا، لیکن بعد میں مولوی صاحب نے منا لیا۔ کچھ دن گزرے تو
مولوی صاحب کو صبح سے جوش پھر اٹھا ہوا تھا۔

گھر شام کو آیا تو دیکھا بیٹی کچھ چھوٹی بچیوں کو پڑھا
رہی تھی۔ بیٹی نہا کر آئی ہوئی تھی اور بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔ بیٹی کو دو
بار اندر کمرے میں بلایا، لیکن بیٹی ایک بار جب اندر گئی تو اسے مولوی صاحب نے پکڑ
کر چومنا شروع کیا تو وہ بھاگ کر دوسرے کمرے چلی گئی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان
بچیوں کو شک ہو اور ویسے بھی کچھ شرم ہونی چاہیے بیٹی اور باپ میں، رات کی بات تو
کچھ اور ہے۔ ادھر مولوی صاحب نے اپنا کپڑا بدلا اور دھوتی اور کرتا پہن کر بیٹی کے
اس کمرے کے دروازے میں کھڑے ہو گئے، اور اپنی دھوتی سے اپنا لمبا موٹا بھورا رنگ
کا گھوڑے کا لن جیسا لن بیٹی کو دکھاتے۔ بیٹی سامنے بیٹھی تھی ایک صوفے پر، جو
اپنے باپ کی طرف دیکھتی اور ہنستی تو کبھی شرما کر اپنی نظریں نیچی کر لیتی۔ اور
دل ہی دل میں ڈر بھی جاتی اور سوچتی کہ اس کی گانڈ میں اتنا موٹا لن گیا تھا… جتنا
لمبا ہے، اگر اتنا جائے تو مر ہی جاؤں گی۔ ادھر جو بچیاں سپارہ پڑھنے آئی ہوئی
تھیں، وہ بھی کئی بار مڑ کر دروازے کی طرف دیکھتیں تو بیٹی ان کو ڈانٹ دیتی کہ
پیچھے کیوں دیکھتی ہو۔

کیونکہ ان میں سے ایک بچی وہ تھی جو بہت پیاری بھی تھی
اور 13 سال کی تھی، جس کے ممے بھی بن چکے تھے اور کافی پیارا سڈول جسم کی مالک
تھی۔ مولوی صاحب نے اسے آواز دی، “ہیرا بیٹی، تم ادھر آ جاؤ، میں پڑھاتا
ہوں۔” اور مولوی صاحب اسے لے کر ساتھ والے اپنے کمرے میں لے گئے، اور اس بچی
کا چہرہ چوما اور پیار کیا۔ اور جب مولوی کو محسوس ہوا کہ بچی بالکل ریلیکس ہے، تو
بچی جو ساتھ بیٹھی تھی، اس کی چھوٹی سی کمر کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے سہلانے لگ
پڑے، جیسا کہ مولوی بچوں کے ساتھ کرتے تھے۔ یہ بچی جوان ہو رہی تھی اور اسے جلدی
محسوس ہوا اور گرم اور مست ہونے لگ پڑی۔ مولوی صاحب نے اسے پیار سے اپنی گود میں
بیٹھنے کو کہا تو وہ بچی شرماتے ہوئے مولوی صاحب کی گود میں جیسے بیٹھی تو مولوی
صاحب کا 10 انچ لمبا اور 3 انچ موٹا لن سیدھا اس کی سڈول نرم کولہوں پر لگا اور
کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب نے اپنا لن اس بچی کی رانوں میں پھنسا لیا اور اپنا ایک
ہاتھ اس کے اٹھتے ہوئے مموں پر سہلانے لگ پڑا۔ بچی بہت جلد مست ہوتی گئی اور اس کی
آنکھیں بند ہونے لگ پڑیں۔

ادھر بیٹی کو شک ہوا کہ میرا باپ پہلے میرا پیچھا لگا
ہوا تھا صبح سے، اب وہ کیا کر رہا ہے، دیکھوں تو ذرا۔ مولوی صاحب کی بیٹی اٹھی اور
دوسرے کمرے میں پاؤں دبا کر چلی اور جب دروازے پر آئی تو دیکھا کہ وہ بچی مولوی
صاحب سے ساتھ لگے ہوئے آنکھیں بند کیے گود میں لیٹے ہوئے ہے، اور اس کی سڈول رانوں
میں اس کے باپ کا گھوڑے جیسا لن سیدھا کھڑا ہوا رانوں سے باہر نکلا ہوا ہے۔ اور
باپ اس بچی کے چھوٹے مموں پر اپنی انگلیوں سے سہلا رہا ہے۔ بیٹی نے اپنے گلابی
ہونٹ دبا لیے اور باپ کی طرف دیکھا تو باپ تھوڑا ہنسا اور اشارے سے بیٹی سے پوچھا،
“میرے اوپر جو بچی ہے، یہ مست ہو گئی ہے کیا؟” تو بیٹی نے اشارے سے ہاں
کی اور آگے کو چلتی آئی۔ اور اس بچی کو بولی، “اٹھو ہیرا، اب گھر جاؤ۔”
ادھر وہ بچی مستی میں آئی ہوئی اٹھی اور چپ چاپ کمرے سے باہر چلی گئی۔ بیٹی بولی،
“آپ یہ کیا کر رہے تھے؟” تو مولوی صاحب نے بیٹی کو پکڑ کر اپنی گود میں
بٹھا لیا اور اپنا لن بیٹی کی گانڈ پر اچھی طرح رگڑا، ممے پکڑنے لگا تو بیٹی اٹھ
گئی اور بولی، “اب رات کو…” اور باہر کو بھاگ گئی۔

رات ہوتے ہی مولوی صاحب نے بیوی کو کھانے کے بعد دوائی
دی اور بیوی سو گئی۔ ادھر بیٹی بھی ماں کے ساتھ بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنے باپ کا
انتظار کرنے لگ پڑی۔ اور سوچتی بھی اور ڈر بھی رہی تھی کہ اتنا بڑا لن کیسے جائے
گا۔ ادھر مولوی صاحب اپنے لن پر تیل کی مالش کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد پر آتے ہی
بیٹی کے اوپر آج سیدھا لیٹ گئے اور بیٹی کا چہرہ چومتا اور ساتھ ممے دبتا ہوا بیٹی
کا کپڑا اتارتا گیا۔ بیٹی کو اپنی رانوں میں باپ کا نرم موٹا لمبا لن سخت ہوتا ہوا
محسوس ہوتا گیا اور پھر وہ وقت آیا جب باپ کا 10 انچ لمبا لن بن کر چھوٹی سی موٹی
ہونٹوں والی پھدی کے دونوں ہونٹوں کو پورے طور پر کھول کر بیچ میں لن کی لمبائی
رگڑ کھاتی اور لن کا ٹوپہ پیٹ پر رگڑ کھاتا۔ بیٹی بولی، “مجھے ڈر لگ رہا
ہے…” مولوی صاحب بولے، “تمہاری پھدی تو پانی نکال رہی ہے، تو تم کو کیوں
ڈر؟ جیسا تمہاری ماں کو چودتا تھا، ویسے تم کو بھی چودوں گا۔

اتنے میں مولوی صاحب نے اپنا لمبا موٹا لن کا موٹا ٹوپہ
پھدی کے منہ میں پھنسا کر ایک جھٹکا زور سے مار کر اندر ڈالا تو بیٹی نیچے سے اچھل
کر اوپر کو اٹھی اور مولوی صاحب اس پر اپنا پورا وزن ڈال کر لیٹ گئے۔ اور بیٹی کا
لمبا موٹا ممہ دبتا رہا اور ساتھ نپل چوستا رہا۔ بیٹی نیچے سے کچھ دیر کے لیے
مچھلی کی طرح تڑپتی رہی، لیکن کچھ دیر بعد کچھ سکون میں آ گئی۔ لیکن اس کی پھدی
جتنی کھل سکتی تھی، اتنی پورے طور پر باپ کے لن سے کھلی ہوئی تھی۔ اور پھدی اندر
سے نرم اور گرم بھی ہوتی جا رہی تھی جیسے جیسے لن تھوڑا تھوڑا اندر باہر ہوتا۔
بیٹی کو درد بھی ہوتا اور ساتھ مزا بھی آتا۔ کوئی 7 انچ تک مولوی صاحب اپنا لن
اپنی بیٹی میں ڈال چکا تھا کہ مولوی صاحب کے گھوڑے جیسے لن نے ایک زور دار پچھکاری
مار دی بیٹی کی پھدی کے اندر اور بیٹی کو بھی گرم گرم دودھ اپنی پھدی میں گرتا ہوا
محسوس ہوا۔

بیٹی جو ایک عورت بھی تھی، وہ اس وقت خود ایک بیٹی
نہیں، ایک عورت بن چکی تھی اور لن کا سرور اور درد محسوس کر رہی تھی اور ساتھ یہ
بھی جانتی تھی کہ جو گرم آگ جیسا لاوا اس کا باپ اس کی 22 سال کی جوان پھدی کے
اندر گرا رہا ہے، اس میں کتنا بچہ ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے جوش میں تھی اور جو ہو
گا دیکھا جائے گا۔ اس لیے وہ باپ کے نیچے لیٹے رہی اور اس کا باپ اپنے لن کے زور
سے اپنی جوان بیٹی کی جوانی کا رس اپنے لن سے چوس رہا تھا۔ بیٹی کی پھدی سے خون کا
قطرہ بھی نکلا جب باپ کا دودھ پھدی سے باہر نکلا۔ بیٹی آج خود کو ایک عورت محسوس
کر رہی تھی اور خوش بھی تھی کہ میری اس پھدی نے اتنا موٹا لن لیا ہے، کیسے کھلی
ہوئی ہے۔

بیٹی نے اگلے دن سکون لیا، لیکن پھر سے بیٹی کو بھی مزا
آنے لگ پڑا اور باپ کو تو جوان عورت ایک بیٹی میں مل گئی تھی۔ روز رات کو ایک اچھی
چدائی بیٹی کرواتی رہی اور دوسرے ماہ پتا چلا کہ بیٹی حاملہ ہو گئی ہے۔ تب بیٹی کو
ڈر لگا، لیکن باپ نے کہا، “تم میری بیوی رہو گی، ہم یہاں سے کسی اور شہر چلتے
ہیں، وہاں تم بولنا کہ تم دونوں میری بیوی ہو۔” بیٹی کو باپ سے پیار تھا اور
اب تو باپ بھی مل گیا تھا اور مرد بھی جس کا گھوڑے جیسا لن جو روز رات کو لے کر
سوتی تھی۔ جو اس کے پیٹ کے اندر پورا جاتا تھا اور گانڈ جو اتنی نازک تھی وہ بھی
اب پورے طور پر کھل گئی تھی۔ بیٹی نے اپنے باپ کی ایک اور بیٹی پیدا کی۔ اور جب
ایک رات مولوی صاحب اپنی بیٹی کی چدائی کرنے لگے تو بیٹی اپنی بچی کو دودھ پلا رہی
تھی تو مولوی صاحب نے اپنی بیٹی کا ایک مما  پکڑ کر اپنے منہ سے لگا لیا، اور لمبا موٹا ممے
کا لمبا نپل سے دودھ پینے لگ پڑا۔ بیٹی کو برا تو لگا کہ یہ ٹھیک نہیں، لیکن بیٹی
کو مزا اتنا آیا کہ وہ روک نہ سکی اور مولوی صاحب اپنی بیٹی کا دودھ پیتا اور ساتھ
اپنا گھوڑے جیسا لن بیٹی کی پھدی کے اندر ڈالتا۔

دونوں باپ بیٹی روز دودھ پیتا اور پلاتا رہا۔ اور ابھی
سال نہ ہوا کہ مولوی صاحب کی بیٹی پھر سے حاملہ ہو گئی تھی۔ باقی کہانی پھر کبھی…
دوستو، کہانی کیسی لگی؟

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *