کیسے ہیں سب؟ میرا نام اسمہ ہے، اور میں ہری پور کی رہنے والی ہوں۔ میری شادی کو دو سال ہو گئے ہیں۔ میرا شوہر مجھ سے بہت محبت کرتا ہے، اور ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ہم اکثر سیکس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور نئے نئے طریقوں سے سیکس کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب ہم گرمیوں میں مری گئے تھے۔ ہم نے وہاں کوٹلی میں ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا اور خوب انجوائے کر رہے تھے۔
وہاں ہماری ملاقات کراچی سے آئے ہوئے ایک جوڑے سے ہوئی، جو ہم سے سوئپنگ سیکس کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ میرے شوہر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہم بھی سوئپنگ سیکس کریں؟ میں نے کہا کہ میں تمہاری ہر مرضی میں شامل ہوں۔ ہم نے اس جوڑے کے ساتھ ایک ہی ہوٹل میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے مری میں ایک دور دراز مقام پر ایک گھر کرائے پر لیا، جہاں ہم پورا ایک مہینہ رہے۔ اس جوڑے کی بھی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ لڑکے کا نام وسیم تھا، اور لڑکی کا نام جویریہ۔ جویریہ ایک ہنس مکھ لڑکی تھی، اور وسیم ایک کڑیل جوان تھا، جس کا قد تقریباً چھ فٹ تھا، جبکہ جویریہ کا قد تقریباً پانچ فٹ تھا۔
جب ہم رات کو ملے تو میرے شوہر نے جویریہ کو گلے لگایا، اور میں وسیم کی بانہوں میں چلی گئی۔ وسیم نے میری کمر پکڑی اور مجھے اٹھا کر صوفے پر لے گیا۔ اس نے میری قمیض اتار دی اور میرے سینوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ اس نے میری شلوار میں ہاتھ ڈال کر میری چوت کو مسلنا شروع کیا۔ اس کی انگلیاں میری چوت کو بہت نشیلی بنا رہی تھیں۔ میں اس کے ہونٹ چوسنے لگ گئی۔ اس کی گھنی مونچھیں اور ہونٹ مجھے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ میں اس کے ہونٹ چوس رہی تھی، اور وہ میرے ہونٹ چوس رہا تھا، ساتھ ہی میرے سینوں کو دبا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ بہت طاقتور تھے، جس سے میرے جسم میں ایک نئی طاقت ابھر رہی تھی۔ میں جلد سے جلد اپنا جسم اس کے حوالے کرنا چاہتی تھی۔
وسیم نے میری شلوار بھی اتار دی، اور اب میں اس کے سامنے بالکل ننگی کھڑی تھی۔ میں نے وسیم کے کپڑے اتارنے میں اس کی مدد کی۔ ادھر میرا شوہر، جس کا نام جابر ہے، جویریہ کے کپڑے اتار رہا تھا۔ جابر کا سات انچ کا لن جویریہ اپنے ہاتھ میں لے کر مسل رہی تھی۔ جب میں نے وسیم کے کپڑے اتارے تو اس کا نو انچ کا ہتھیار دیکھ کر میری چیخیں نکل گئیں۔ اتنا بڑا ہتھیار دیکھ کر خود پر قابو رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے اس کے ہتھیار کو اپنے ہاتھ میں لے کر مسلنا شروع کیا اور جلد سے جلد اسے اپنی چوت میں لینا چاہتی تھی۔
اسی دوران وسیم میرے پورے جسم کو اپنے منہ میں لے رہا تھا اور دانتوں سے کاٹ رہا تھا۔ اس کی ان حرکتوں سے میری چوت گیلی ہو رہی تھی۔ اب میں کسی بھی طرح اس کے ہتھیار کو اپنے اندر سما دینا چاہتی تھی۔ وسیم نے مجھے نیچے لٹایا، میری ٹانگیں کھولیں، اور میرے اوپر آ کر میری چوت چاٹنے لگ گیا۔ اس کے چاٹنے سے مجھے ایک نیا نشہ چڑھ گیا۔ اس کا چاٹنے کا انداز بہت پیارا تھا۔ پھر میں نے وسیم کا لن اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگی۔ جب اس کا لن موٹا اور تگڑا ہو گیا تو میں نے اپنی ٹانگیں کھول کر وسیم کو اندر ڈالنے کا اشارہ کیا۔
وسیم کا لن جابر کے لن سے بہت بڑا تھا، اس لیے مجھے یقین تھا کہ یہ میری چوت میں مشکل سے جائے گا۔ وسیم نے میری چوت پر اپنا لن رکھا اور زور سے دبایا۔ مجھے لگا جیسے میری چوت کی دیواریں پھٹ رہی ہیں، لیکن میں نے اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھا اور وسیم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی وسیم نے اپنا ٹوپا میری چوت میں ڈالا، مجھے شدید درد ہوا، اور میری چیخ نکل گئی۔ جویریہ، جو میری حالت دیکھ رہی تھی، فوراً میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر چوسنے لگی۔ اس وقت جویریہ کی پوزیشن گھوڑی جیسی تھی۔ جابر نے جویریہ کی چوت میں اپنا لن ڈال رکھا تھا اور زور زور سے ہلا رہا تھا۔ جویریہ کے لیے جابر کا لن مشکل نہیں تھا کیونکہ وسیم کا لن نو انچ کا تھا، جبکہ جابر کا سات انچ کا، اور جویریہ بہت آسانی سے جابر کا ساتھ دے رہی تھی۔
وسیم نے ایک جھٹکا دیا اور آدھا لن میری چوت میں اتار دیا۔ میری چیخ نکل گئی، لیکن وہ جویریہ کے ہونٹوں میں سما گئی۔ وسیم نے پورا لن نکالا اور ایک زور دار جھٹکے سے سارا لن میری چوت میں ڈال دیا۔ میری آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ وسیم نے کچھ دیر انتظار کیا تاکہ میرا درد کم ہو۔ جب میری چوت کی جلن کم ہوئی تو میں نے وسیم کو اشارہ کیا کہ اب وہ اپنا کام شروع کرے۔ وسیم نے لگاتار میری چدائی شروع کر دی، اور جویریہ میرے ہونٹ چوس رہی تھی، جبکہ وسیم میری چوت میں اپنا لن ڈال رہا تھا۔ اسی طرح دس منٹ تک میں لیٹی رہی۔
پھر وسیم نے جابر سے کہا کہ دونوں لڑکیوں کی چوت اور گانڈ میں لن ڈال کر ایک ساتھ چدائی کرتے ہیں۔ جویریہ نے کہا کہ پہلے اس کی باری ہے۔ جویریہ جابر کے لن پر بیٹھ گئی اور اسے اپنی چوت میں لے لیا۔ وہ جابر کے ہونٹ چوسنے لگی۔ وسیم نے جویریہ کی گانڈ میں اپنا لن ڈال دیا اور ہلانے لگ گیا۔ جب جابر نے جویریہ کی گانڈ پر اپنا لن رکھا اور زور سے اندر دبایا، میں وسیم کے ٹٹوں کو چوس رہی تھی۔ مجھے وسیم کے ٹٹے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ مجھے بہت مزہ آ رہا تھا کیونکہ میں اپنی آنکھوں سے کسی لڑکی کو دونوں طرف سے چدتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ جویریہ بہت مزے سے اپنے دونوں سوراخوں میں لن لے رہی تھی۔
تقریباً 15 منٹ چدائی کے بعد میری باری آئی۔ میں وسیم کے لن پر سوار ہوئی اور اس کا لن اپنی چوت میں لے لیا۔ جابر میرے پیچھے آیا اور میری گانڈ میں اپنا لن ڈال دیا۔ جابر کا لن میری گانڈ میں پہلے بھی جا چکا تھا، اس لیے مجھے تکلیف نہیں ہوئی۔ اس طرح 20 منٹ تک میری چدائی ہوتی رہی۔ جویریہ وسیم اور جابر کے ہونٹ باری باری چوس رہی تھی، اور میں جویریہ کے سینے چوس رہی تھی۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔
ہم پورے ایک مہینے تک وہاں رہے اور روزانہ فورسم سیکس کرتے تھے، جس کا ہم نے بہت مزہ لیا اور خوب انجوائے کیا۔

