Tue. Sep 22nd, 2026
?>

سُسر اور بیوہ بہو

میرا بیٹا جوانی میں ہی ایک کار ایکسڈنٹ میں جان بحق ہو گیا تھا ہم شدید صدمے میں تھے اس کی موت کے کچھ ہی عرصے کے بعد میری بیوی یعنی میرے بیٹے کی ماں صدمہ برداشت نا کر سکی

اوراس دنیا سے چلی گئی اپنے بیٹے کے پاس میری بہو جسکا نام تھا فرح جوان وہ پاکستانی خوبصورت زندہ دل لڑکی تھی لیکن اب بجھی بجھی رہنے لگی تھی سیکس کے لیئے بہت ہی خوبصورت تھی

اسکا ایک دودھ پیتا بچہ بھی تھا اور میرے بیٹے کو فوت ہوئے ایک سال ہو گیا تھا ہمارے گھر کئی رشتہ دار آتے رہتے تھے دل لگا رہتا تھا ان دنوں اتفاق سے کوئی نہیں آ رہا تھا ایک دن میں نے دیکھا

کہ بہو چھت پہ ساتھ والے جوان لڑکے میں دلچسپی لے رہی ہے میری غیرت گوارا نا کی لیکن میں سمجھ گیا کہ اب ا سنے سیکس ہر صورت کرنا ہے اس کی مجبوری ہے

لیکن بچہ چھوٹا ہے ا سلیئے ابھی شادی بھی نہٰں کرنا چاہتی میں پریشان ہو گیا کیا کروں ایک دن کیا ہوا میں اور میری بہو گھر پر اکیلے تھے رات کے بارہ بجے ہونگے

میں اپنے کمرے سے نکل کرنیچے واشروم کی طرف جارہا تھا میرے ساتھ والا کمرہ میری بہو کا تھا ہوا یوں کہ میں اسکے کمرے کے پاس سے گزر رہا تھا کے اچانک میری نظر فرح کے روم میں پڑی تو وہ سورہی تھی

وہ اپنے بچے کو اپنا دودھ پلاتے پلاتے شاید سوگئی تھی اور اپنے بوبزکو اندر کرنا بھول گئی تھی اسکے پاکستانی سیکس والے مست ممے نظر آرہے تھے گورے گورے نہائیت خوبصورت مجھے اپنی جوانی والی بیوی کی طرح نظر آنے لگی

لیکن وہ میری بہو تھی میں نا چاہتے ہوئے بھی اس کو دیکھ رہا تھا مجھے وہ چھت والی حرکت ذہن میں آئی اور میں کچھ اور ہی طرح سے سوچنے لگا تھایار میری تو نیت خراب ہونے لگی تھی اسکے گورے ممے اور اسکے اور گلابی نیپل میرا دل کر رہا تھا کہ جاکر دودھ کو چوسنے لگ جاؤ

پھر میں نے سوچا کہ اگر وہ اٹھ گئی اور وہ برا مان گئی تو میں نے سوچا کوشش کرنے میں کیا ہرج ہے میں دھیرے سے کمرے میں گیا اور بستر کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا

وہ سوتے ہوے بہت خوبصورت لگ رہی تھی میں نے دھیرے سے اسکے بچے کو اٹھایا اور صوفے پر لٹادیا میری قسمت اچھی تھی کہ اسکا بچہ اٹھا نہیں تھا

میں بیڈ پر بیٹھا اس کو پاکستانی سیکس کرنے کے لیئے اسکے ساتھ لیٹ گیااسکے بوبزکو پاکستانی سیکس کرنے کے لیئے ٹھرکی کی طرح چوسنے لگ پڑا

مجھے اپنی جوانی کے دن یاد آگئے جب میں اپنی کے ساتھ اسی طرح دوران نیند کئی بار سیکس کرتا تھابڑا مزہ آرہا تھا اسے یہ لگ رہا تھا کے اسکا بچہ ہی ہے جو ممے لے رہا ہے میں سافٹ طریقے سے ممے لے رہا تھا

میں نے تھوڑی دیر کے بعد اپنا ہاتھ اسکے دوسرے بوبز پر رکھا اور آرام آرام سے مسلنے لگا اسے مزہ تو آرہا تھا پھر اچانک اسکی آنکھ کھلی وہ مجھے دیکھ کر ڈر گئی

اور بولی کے یہ آپ کیا کر رہے ہے میں نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسکے ممے کو پکڑ کر چوسنے لگا تھوڑی دیر کےبعد وہ گرم ہوگئی پھر میں اسکے ممے کو دبانے لگا

میرا کمزور ہو چکا لن بھی توانائی محسوس کرنے لگا تھا اور میرا دل کر رہا تھا کہ ایک دم سے اس کی جوان گرم ترستی چوت میں لن ڈال دوں دونوں کو سکون مل جائے

کیا مزہ آرہا تھا اسکے نرم نرم ممے کو دبا کر میں تھوڑی دیر تک دباتا رہا پھر بہو کو بستر پر لٹایا اور اسے کس کرنا شروع ہوگیا وہ بھی مجھے چومنے لگی

اور میں دس پندرہ منٹ تک اسکو چومتا رہا پھر اسکی قمیض اتاری کیا ممے تھے جیسے کبھی کسی نے استعمال ہی نہیں کیا تھا میں تو اسکے خوار بڑے ممے کو پاگلوں کی طرح پاکستانی سیکس کرتا ہوا اس کو چوسنے لگا

وہ گرم ہوچکی تھی جب میں اسکے ممے کو دبا رہا تھا تو اسکی آوازیں نکل رہی تھی اور وہ بھی سیکس کرنے کی خواہش مند ہو چکی تھیں پھر میں کھڑا ہوا اپنی پینٹ اتاری وہ اٹھ کر نیچے جھکی میں نے پاکستانی سیکس کرنے کے لیئے لوڑا نکالا اسکے منہ میں ڈال د یاوہ چوسنے لگی کیا مزہ مل رہا تھا

جب وہ لوڑا کو چوس رہی تھی تو میتا لورا اور بھی توانا ہونا شروع ہو گیا تھا اور فل کھڑا ہو چکا تھا کئی منٹ تک مجھے پاکستانی سیکس کرنے کے لیئے لوڑا کو چوستی رہی

پھر اسکی چدائی کا وقت ہو گیا تھااور مجھے ا سکو چود کے ا سکی جوانی کی پیاس کو ختم کرنا تھاپھر وہ بستر پر سیدھی لیٹ گئی میں نے اسکی شلوار اتاری لوڑا اسکی پھدی پر رکھا اور آرام سے اندر باہر کرنے اسکو لگا پھر ایک زبردست دھکے سے اندر ڈال دیا اسکی زور دار چیخ نکلی

میں اپنی گانڈ کو زور زور سے آگے پیچھے کرنے لگا اسکی چیخیں نکلتی رہی شائد اس نے چوت دوبارہ سے کنواری کی طرح ہو گئی تھی ایک سال سے چدائی نہیں ہوئی تھی

میں اسے ایک گھنٹے تک چودتا رہا پھر اسکے نکیلے نپلز والے ممے کو دبانے لگا پھر پاکستانی سیکس کرنے کے دوران لوڑا نکالا اور اسےسے چسے لگوانے لگا

بڑا مزہ آرہا تھا اسے چود کر پھر جب مجھے محسوس ہوا کہ میری مٹھ نکلنے لگی ہے تو میں لوڑا کو ہاتھ میں پکڑا اور خوب ہلاتے ہوے منی اسکے ممے پر نکال دی میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنی بہو کو حاملہ کروں.

Une sortie hebdomadaire est devenue la norme chez les grands fournisseurs. Derriere ce calendrier se cache une logique commerciale simple, une nouveaute attire l'attention quelques semaines avant de rejoindre le fond de catalogue. Le tri revient ensuite au joueur.

Pourquoi un nouveau titre chaque semaine

Une nouveaute beneficie d'une place en tete de page et d'une campagne de tours gratuits, ce qui ne dit rien de sa qualite. Le taux de retour et la volatilite restent les seuls reperes utiles. Les joueurs qui veulent ces donnees peuvent Casino Rivo et retrouver la fiche technique avant de tester le titre.

PeriodeSorties typiques
Par semaine1 a 3 titres
Par an50 a 150 titres
  • Cherchez le taux avant de suivre la mise en avant
  • Essayez le mode demo quand il est disponible

Tester une sortie recente fait partie du plaisir, a condition de la juger sur les memes criteres qu'un ancien titre. La nouveaute n'ameliore jamais les probabilites. Gardez une mise reduite pour la decouverte et fixez le nombre de tours que vous accordez a un essai.