Sun. Sep 13th, 2026
?>

سالی پورے گھر والی

 

 

زندگی میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی ہمیشہ
کے لیے بدل دیتے ہیں۔ آپ نے سوچا تک نہیں ہوتا اور وہ ہو جاتا ہے جس کا کبھی گمان بھی
نہیں کیا جا سکتا۔ میرے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔ آج بھی سوچوں تو یقین نہیں آتا لیکن
جو کچھ ہوا وہ میری زندگی کی حقیقت ہے اور میں خوشی سے اسے مان بھی چکی ہوں۔
 

میرا نام منزہ ہے اور آج میں آپ کو وہ کہانی سناؤں گی جو
شاید ہی آپ نے کبھی سنی ہو یا سوچی ہو۔
 

 

میں راولپنڈی، پاکستان کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کی رہنے والی
ہوں۔ میری عمر 19 سال ہے اور میرا جسم اب کچھ بھرا بھرا سا لگتا ہے۔ میرا جسم سچ بتاؤں
تو زرا چبی ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھی ویسے ویسے میرے بوبز بھی بڑے ہوئے۔ ابھرے ابھرے۔
لیکن میں نے کبھی ان پر خاص غور نہیں کیا کیونکہ کبھی اس طرف دماغ ہی نہیں گیا۔
 

 

کہانی شروع ہونے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ میری ایک
بڑی بہن شادی ہو کر کراچی چلی گئی تھی۔ جن سے اس کی شادی ہوئی وہ بہت اچھے ہیں۔ میرے
بہنوئی امجد شاید وہ ایک انسان ہیں جن سے میری بنتی ہے۔ ہمارا رشتہ ہمیشہ سے دوستوں
والا رہا ہے۔ بہت فرینک اور دوستانہ۔ لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ یہ رشتہ سالی اور
بہنوئی سے زیادہ آگے بڑھ جائے گا۔
 

اب چلیں کہانی پر آتے ہیں… 

 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری بہن کراچی سے پنڈی رہنے آئی
تھی۔ اس کے ساتھ اس کے شوہر یعنی میرے بہنوئی بھی آئے تھے۔ ہم بہت خوش تھے کہ خوب مزے
کریں گے اور واقعی ہم نے روز مزے کیے جب تک وہ یہاں رہے۔ ہم لوگ آپس میں گھنٹوں باتیں
کرتے اور وہ میرا اور سب کا بہت خیال رکھتے تھے۔
 

 

ہماری رشتہ داری ایسی تھی کہ اگر میری بہن سو بھی جاتی تھی
تب بھی میں اور امجد بیٹھے باتیں کرتے رہتے تھے۔ اور کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوتا تھا۔
 

سب کچھ ایسا اچھا اچھا چل رہا تھا۔ ان کو آئے کچھ دن ہو
چکے تھے اور ہم خوب انجوائے کر رہے تھے۔ لیکن چند ایک دن سے میں نوٹس کر رہی تھی کہ
ان کا میری طرف رجحان کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا۔ وہ جب مجھے اکیلا دیکھتے میرے پاس آ کر
بیٹھ جاتے اور باتیں کرتے۔
 

 

میں بھی ہنس ہنس کر جواب دے دیتی تھی۔ وہ مذاق مذاق میں
کبھی تالی مار دیتے اور بار بار مجھے چھونے کی کوشش کرتے۔ میں نظر انداز کر دیتی تھی
کہ اتفاق ہے لیکن یہ اتفاق بڑھتا ہی گیا۔ اب ان کے ہاتھ کبھی میرے ہپس اور کبھی بوبز
پر بھی پڑ جاتے تھے۔ میں تھوڑا ان کامفرٹیبل محسوس کرتی تھی لیکن بھول سمجھ کر جانے
دیتی تھی… شاید یہ میری بھول تھی
… 

 

پھر ایک دن کچھ ایسا ہوا جس کا مجھے آج تک یقین نہیں آتا۔ 

میں روز کی طرح اپنے واش روم سے نہا کر باہر نکلی اور تولیے
سے اپنے بال سکھانے لگی… یاد رہے کہ میری عادت تھی کہ میں واش روم سے باہر آ کر کپڑے
بدلتی تھی۔
 

 

اس دن نہ جانے کیا ہوا، میرے کمرے کا دروازہ کھلا رہ گیا
اور امجد اچانک سے اندر آ گئے۔ میں گھبرا کر واپس کمرے میں جانے کی کوشش کی لیکن تب
تک بہت دیر ہو چکی تھی… میں نے جلدی سے اپنا جسم جھانکنے کی کوشش کی لیکن جلد بازی
میں میرا تولیہ ہاتھ سے چھوٹ گیا اور میں پوری ننگی اپنی بہن کے شوہر کے سامنے کھڑی
تھی۔ امجد جی یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہے تھے اور اس سب کے دوران ان کا منہ کھلا کا کھلا
رہ گیا۔
 

 

ٹھیک 30 سیکنڈ بعد وہ تیزی سے سوری بول کر دروازہ بند کر
کے چلے گئے لیکن افسوس تب تک انہوں نے اپنی جوان سالی کو ننگا دیکھ لیا تھا۔
 

 

میں اب گھر میں ان سے نظریں چرانے لگی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں
آ رہا تھا کہ میں ان کا سامنا کیسے کروں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا وہ تیزی سے میرے
قریب آنے لگے۔ اب ان کا میرے بوبز اور ہپس پر روز کا کام بن چکا تھا۔ جہاں جہاں میں
ہوتی وہاں وہاں وہ آ جاتے تھے۔ اور میں فوراً وہاں سے بھاگ جاتی تھی۔ لیکن آخر بکری
کب تک اپنی خیر مناتی
… 

 

ایک دن کی بات ہے کہ میری امی اور بہن کو پاس کے بازار جانا
پڑا۔ امی مجھے کہہ کر گئیں کہ منزہ امجد کا خیال رکھنا۔ میں بہت پریشان تھی کیونکہ
اب میرے اور ان کے علاوہ گھر میں کوئی نہیں تھا… لیکن میں نے ۔۔۔ کا نام لیا اور اپنا
الگ پڑھنے بیٹھ گئی۔
 

 

چند منٹ گزرے ہوں گے امی اور بہن کو گئے ہوئے اور امجد جی
میرے کمرے میں آ گئے۔ میں بغیر دوپٹے کے بیٹھی تھی اور میرے تازہ دودھ بھرے بڑے بوبز
کھلم کھلا ان کے سامنے تھے۔ میں جلدی سے دوپٹہ ڈھونڈنے کے لیے اٹھی تو دیکھا کہ امجد
کمرے کی کنڈی لگا رہے ہیں۔ اب مجھے اور گھبراہٹ ہونے لگی۔
 

 

میں۔۔۔ آپ… آپ کنڈی کیوں لگا رہے ہیں، مجھے باہر جانا ہے۔ 

امجد۔۔۔ ہاں ہاں منو، چلی جانا، جلدی کیا ہے۔ 

میں۔۔۔ نہیں، مجھے ابھی جانا ہے، کھولیں دروازہ۔ 

میں خوف سے کانپ رہی تھی… مجھے ڈر لگ رہا تھا۔ 

 

جیسے ہی میں نے یہ کہا تو امجد آگے بڑھنے لگے۔ قریب آئے
اور کہا، بہت دن سے تمہیں دیکھ کر ترس رہا ہوں، آج تو تمہیں لڑکی سے عورت بنا کے رہوں
گا۔
 

ان کا یہ کہنا تھا کہ میری تو جان ہی نکل گئی۔ مجھے نہیں
پتا تھا میرا کیا انجام ہونے والا ہے۔
 

 

میں۔۔۔ میرے ساتھ کچھ مت کریں، میں… میں بہن کو بتا دوں
گی۔
 

 

لیکن میری کسی بات کا اثر ان پر نہیں ہو رہا تھا۔ وہ تھوڑا
اور آگے بڑھے اور مجھے بستر پر گرا دیا۔
 

 

امجد۔۔۔ جس کو بتانا ہے بتاؤ لیکن ابھی تم صرف میری ہو اور
تمہیں میں نے نہیں چھوڑنا۔
 

 

اب امجد میرے اوپر آ چکے تھے۔ میں نے اپنے آپ کو چھڑانے
کی بہت کوشش کی لیکن سب بیکارد۔ انہوں نے کتوں کی طرح مجھے کاٹنا اور چومنا شروع کر
دیا۔ میں بے بس تھی اور میرے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ میری سسکیاں نکل رہی تھیں کیونکہ
میرے امجد میری عزت لوٹ رہے تھے۔
 

 

کچھ دیر میں روتی رہی اور جیسے ہی میں نے اپنے آپ کو چھڑانے
کی کوشش کی تو انہوں نے میرے کپڑے پھاڑ دیے۔ اب میں پوری ان کے سامنے ننگی تھی اور
وہ مجھے اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے میں ان کا شکار ہوں۔
 

 

امجد۔۔۔ آج تو جتنا چیخ لے کوئی تجھے بچانے نہیں آئے گا۔
اپنی بہن کی طرح تو بھی سارا وقت چد کر میری رنڈی بن جائے گی۔
 

 

امجد نے کپڑے تو میرے پھاڑ ہی دیے تھے، اب وہ خود ننگے ہونا
شروع ہو گئے۔ انہوں نے جیسے ہی اپنی پینٹ اتاری تو میرے سامنے ان کا تنا ہوا لنڈ آ
گیا۔ یہ سب میرے ساتھ پہلی دفعہ ہوا تھا۔ ان کا 7 انچ لمبا لنڈ دیکھ کر تو میں چھوٹی
سی معصوم بچی کانپ اٹھی۔ جو لنڈ دیکھ کر ہی کانپ رہی تھی وہ میں اندر کیسے لے سکتی
تھی؟
 

 

میں۔۔۔ ۔۔۔ کا خوف کریں، میں آپ کی بہن کی طرح ہوں، مجھے
چھوڑ دیں۔
 

 

امجد۔۔۔ ہاں سالی، تو میری بہن ہے اور میں بہن چود ہوں،
تیرے ممے دیکھ دیکھ کر ترستا رہا ہوں میں۔ رنڈی جیسی تیری چال مجھے پاگل کر دیتی ہے۔
تنگ آ گیا ہوں تیری بہن کو چود چود کر، اب تیری باری ہے۔ تیری موٹی گانڈ اب میری ہے
بھڑوی۔
 

 

یہ کہہ کر مجھے تھپڑ مار کر وہ میری چوت چاٹنے لگے اور اپنے
لنڈ کو تھوک لگانے لگے۔
 

 

جیسے جیسے وہ میری چوت چاٹ رہے تھے میری سسکیاں نکل رہی
تھیں، آآآہہہہہ اُمممم چھوڑیں مجھے اُمممم ۔۔۔ جی
… 

 

کچھ دیر بعد انہوں نے اپنا لنڈ میری چوت پر رکھا اور ایک
زور کا جھٹکا مارا اور پورا کا پورا لنڈ میرے اندر چلا گیا۔ مجھے پانچ منٹ کے لیے لگا
کہ میں مر چکی ہوں، آآآہہہہ اُمممم اُففف آآآہہہہ درد سے مر جاؤں گی میں، چھوڑ دو مجھے
… 

 

امجد۔۔۔ کیسے چھوڑوں کتیا، اتنے دن کے انتظار کے بعد تو
ہاتھ لگی ہے۔
 

میں۔۔۔ آآآہہہہ چھوڑیں مجھے، ۔۔۔ کا واسطہ چھوڑیں، میری
جان نکل جائے گی
… 

 

لیکن افسوس، میری چیخنے سے ان کی سپیڈ کم ہونے کے بجائے
تیز ہوتی جا رہی تھی۔ وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ برسوں
سے اندر چھپا جوش باہر آ رہا ہو۔ زوردار طریقے سے جھٹکے مار رہے تھے، اور ہر ایک جھٹکے
میں میری جان نکل جاتی تھی۔
 

 

ہاں مانا کہ میں جوان ہو رہی تھی لیکن میں آخر تھی تو
19 سال کی لڑکی۔ کبھی زندگی میں انگلی تک نہیں ڈالی تھی میں نے اپنی کنواری چوت میں
اور آج 7 انچ لمبا لنڈ میرے اندر تھا۔ مجھے ذرا برداشت نہیں ہو رہا تھا لیکن امجد کہاں
رکنے والے تھے۔ انہوں نے جتنی دیر مجھے چودا، بڑے زور سے چودا اور میری جان نکل دی
… 

 

10
منٹ اور گزرے ہوں گے اور پھر انہوں نے اپنے لنڈ سے گرم گرم
لیکویڈ میری چوت میں چھوڑ دیا۔ میں لیٹی رہی اور سوچ رہی تھی کہ اب میں کسی کو منہ
دکھانے کے لائق نہیں رہی ہوں لیکن امجد کو کیا فرق پڑنا تھا، وہ تو اٹھے، کپڑے پہن
کر کمرے سے باہر چلے گئے
… 

 

کچھ وقت بعد بہن اور امی گھر آئیں لیکن تب تک بہت دیر ہو
چکی تھی۔ میں لنڈ کے درد سے بیحال تھی اور میری چوت میں بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ مجھ
سے چلا نہیں جا رہا تھا اور دل چاہ رہا تھا کہ مر جاؤں۔ میری عزت میری ہی بہن کے شوہر
نے لوٹ لی تھی اور مجھے یقین تھا کہ اس سب کے بعد ان کی ہمت اور بڑھ جائے گی اور ایسا
ہی ہوا
… 

 

لیکن میں اپنی بہن کی زندگی برباد نہیں کرنا چاہتی تھی۔
دل میں تو ان کو گالیاں دے سکتی تھی لیکن سب کے سامنے سب ٹھیک ہے کا ڈرامہ کرنا تھا۔
یہ میرے لیے بہت مشکل تھا۔
 

 

کچھ دن گزر گئے اور سب پہلے جیسا چلتا رہا۔ میں بھی نارمل
ہو گئی تھی لیکن امجد کی حرکتیں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ وہ کبھی مجھے کمرے میں
اکیلا دیکھ کر دبوچ لیتے تو کبھی میرے ایش پر ہاتھ رکھتے۔ کوئی ایک دن نہیں تھا جب
انہوں نے میرے جسم کو چھوا نہ ہو۔ مجھے ان سے نفرت تھی۔ میں ان کو جواب دینا چاہتی
تھی لیکن بہن کی محبت میں خاموش تھی لیکن وہ اس بات کا غلط فائدہ اٹھاتے تھے۔
 

 

کافی دن گزرے اور میں اس سب کو نارمل سمجھنا شروع کر دیا۔
آخر میں کرتی بھی کیا۔ پھر ایک دن میں رات کے کپڑے پہن کر سونے والی تھی۔ وہ پہلی دفعہ
تھا کہ میں نے اپنے ننگے جسم کو ایک 19 سال کی بچی نہیں بلکہ ایک عورت کی نظر سے دیکھا۔
میرے بڑے بوبز جو کہ اب 34
B ہو
چکے تھے اپنی شان کے ساتھ موجود تھے، میرے پنک نپلز بھی کھڑے ہونا شروع ہو گئے تھے۔
 

 

مجھے یہ منظر دیکھ کر کچھ ہونے لگا اور تھوڑی شرم آنے لگی۔
میں نے سوچا شاید میرا جسم ہے ہی اتنا پیارا کہ ہو سکتا ہے امجد جی سے واقعی نہ رہا
گیا ہو۔
 

یہ پہلی دفعہ تھا کہ میں امجد جی کے بارے میں نفرت نہیں
بلکہ محبت سے سوچ رہی تھی۔ مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آ رہا تھا کہ کیوں میرے امجد جی مجھ
پر اپنا ہاتھ صاف کرنے کے لیے بے تاب تھے۔
 

پھر کیا تھا، مجھے احساس ہوا کہ شاید مجھے امجد جی کا ساتھ
دینا چاہیے تھا۔ ان کو اپنی بہن کے شوہر سے بڑھ کر دیکھنا چاہیے۔
 

 

پھر میں نے آہستہ آہستہ خود سے ہی ان کے قریب ہونا شروع
کر دیا۔ جس طرح پہلے وہ میرے پیچھے پیچھے ہوتے تھے، میں ان کے پیچھے پیچھے جانے لگی۔
جہاں وہ ہوتے میں ان کے پاس بیٹھ جاتی۔ ان کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ میں
ان کو اپنے آپ کو چھونے سے منع کرنا بند کر دیا تھا۔ سچ تو یہ تھا کہ ان کا چھونا مجھے
اچھا لگنے لگا تھا۔
 

 

زندگی میں پہلی بار کسی مرد کے چھونے سے میری چوت پانی چھوڑنے
لگ گئی تھی۔ اب میں اور امجد جی آنکھوں آنکھوں میں باتیں کرنے لگے تھے۔
 

 

اب میں ان کے بارے میں ایک امجد کی طرح نہیں بلکہ ایک عاشق
کی طرح سوچتی تھی۔ کبھی بہن کا خیال آتا تو اس بات کو سوچ کر دل بہلا لیتی کہ میرا
بھی حق ہے خوش رہنے کا۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ امجد جی ہی مجھے خوش رکھتے تھے۔ بہت
خوش۔
 

 

ایک دفعہ میں اور امجد روم میں اکیلے تھے۔ انہوں نے موقع
دیکھتے ہی مجھے چھونا شروع کر دیا اور میں چپ چاپ ان کی انگلیوں کا مزہ لے رہی تھی۔
 

 

پھر میں نے ان سے کہا۔۔۔ 

میں۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟ 

امجد۔۔۔ ہاں۔ 

میں۔۔۔ اگر میں آپ کو وہ کچھ کرنے دوں جو آپ چاہتے ہیں تو
بہن کو تو پتا نہیں چلے گا۔
 

امجد (خوشی سے قریب آتے ہوئے)۔۔۔ نہیں۔ بالکل نہیں۔ کون
بتائے گا اس کو؟
 

میں۔۔۔ ہم ٹھیک ہے۔ 

امجد۔۔۔ تو کب پوری طرح اپنے آپ کو میرے حوالے کرو گی منزہ
جان؟
 

میں (شرماتے ہوئے)۔۔۔ بہت جلد۔ جب کوئی نہیں ہوگا۔ 

 

پھر وہ ایک دن ۔۔۔ ۔۔۔ کر کے آ گیا۔ بہن کو کراچی واپس جانا
تھا تو وہ جلدی جلدی شاپنگ کے چکر میں باہر چلی گئی۔ ایک بار پھر میں اور امجد اکیلے
تھے اور اس بار تو ہم دونوں کی مرضی شامل تھی۔
 

 

بس پھر کیا تھا؟ جس لمحے وہ گھر سے باہر گئی، امجد میرے
کمرے میں آ گئے اور مجھے دبوچ کر چومنے لگے۔
 

 

زندگی میں پہلی بار مجھے ان کا اپنے آپ کو چھونا اچھا لگ
رہا تھا۔ مجھے مزہ آ رہا تھا۔
 

 

کچھ دیر اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑنے کے بعد سسکیوں کے ساتھ
میں بھی ان کو کسی بھوکی کتیا کی طرح چومنے اور چاٹنے لگی۔ آآآہہہہ اُمممم امجدااا
آآآہہہہہہ
… 

 

میری جان نکل رہی تھی لیکن مزہ آ رہا تھا۔ میں لوہے کی طرح
گرم ہو رہی تھی اور امجد کا لنڈ فولاد کی طرح میری چوت میں جانے کو تیار تھا۔ ہم دونوں
اس طرح ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے جیسے ہم کوئی میاں بیوی ہوں۔ لیکن سچ کہوں تو اتنا
مزہ مجھے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔
 

 

امجد نے مجھے بستر پر لٹایا اور کہا، سالی کتی لیٹ جا، مجھے
تیری چوت چاٹنی ہے۔
 

میں۔۔۔ گالی مت دو سور آدمی۔ 

 

میرے منہ سے یہ نکلنا تھا کہ انہوں نے مجھے بیلٹ سے مارنا
شروع کر دیا۔
 

حیرانی کی بات یہ کہ مجھے درد میں مزہ آ رہا تھا، آآآہہہہ
ماریں مجھے، ماریں، اور ماریں، میری چوت پھاڑیں امجد جی
… 

 

میں چیخ رہی تھی، رو رہی تھی لیکن مجھے مزہ آ رہا تھا۔ میں
ایک رنڈی کی طرح سسکیاں لے رہی تھی۔
 

میں لیٹ کر اپنی چوت کو چاٹتا دیکھ کر میرے دل میں امجد
کے لیے محبت جاگ رہی تھی۔ وہ اپنی لمبی زبان سے میری چوت چاٹ رہے تھے۔
 

جیسے ہی انہوں نے میری چوت چاٹنا بند کی، میں نے ان سے کہا۔۔۔ 

میں۔۔۔ چاٹیں، اور چاٹیں، مجھے جنت دکھا دیں۔ 

امجد۔۔۔ جنت تو تو اب دیکھے گی۔ 

 

ان کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے آرام سے ایک پل میں اپنا
لنڈ میری چوت کے اندر سلائیڈ کر دیا۔ میں پہلے ان کا لنڈ برداشت کر چکی تھی تو وہ کافی
آرام سے اندر چلا گیا۔
 

 

بس پھر کیا تھا، میں چیختی رہی اور میری ہر ایک چیخ کے بعد
ان کی سپیڈ بڑھتی رہی، آآآہہہہ ۔۔۔ مر گئی اُمممم جی جااا جیییی اُمممم میرے سرتاج
اُممممم چو… چوڑیں مجھے… ان کے ہر جھٹکے کے بعد بیڈ سے ایسی آواز آتی تھی کہ ابھی ٹوٹ
جائے گا جیسے۔
 

 

امجد۔۔۔ چد بہن کی لوڑی، اپنی بہن کے شوہر سے چد سالی رنڈی۔ 

میں۔۔۔ ہاں ہاں چد… چدوں گی ہزار بار چدوں گی اُفففف اُمممم
چودیں  مجھے زور سے چودیں، پھاڑ دیں میری چوت اُفففف آہ ہ ہ ہ ۔۔
 

امجد۔۔۔ اب کبھی اپنے آپ کو ہاتھ لگانے سے منع کرے گی؟ 

میں۔۔۔ میں خود آپ کی دہلیز پر اپنا سب کچھ قربان کرنے آئی
ہوں۔ سب کچھ تو آپ کو دے دیا، کیا آپ کو ایسا لگتا ہے میں آپ کو کبھی روکوں گی؟
 

امجد۔۔۔ نہیں۔ 

میں۔۔۔ آپ بھلے ہی میری بہن کے شوہر ہوں لیکن یہ لنڈ میرا
ہے۔ صرف میں اس لنڈ کو چوس سکتی ہوں اور اس پر میرا حق ہے۔
 

امجد (مجھے کس کرتے ہوئے میرے بوبز دباتے ہوئے)۔۔۔ ہاں میری
سالی ہاں، سب تیرا ہے۔ میں بھی اور میرا لنڈ بھی۔
 

میں۔۔۔ اگر اتنے ہی بے تاب تھے مجھے پانے کے لیے تو اتنی
دیر کیوں کی؟
 

امجد۔۔۔ میں تو کافی دن سے یہ چاہتا تھا کہ تم پر ہاتھ صاف
کروں لیکن موقع نہیں مل رہا تھا۔
 

 

انہوں نے یہ کہتے ہی میرے ممے اور ان کو زور سے کاٹا تو
میری آواز ایسی نکلی، سسساااہہہ بسسسس آآآآآ۔
 

 

امجد۔۔۔ منزہ جان، تو مجھے اپنی بہن سے کئی زیادہ مزہ دیتی
ہے۔
 

میں۔۔۔ سچ؟ 

امجد۔۔۔ ہاں میری جان، میں تو کب سے تیرے آسروں میں تھا۔ 

میں (شرارت سے)۔۔۔ میں تو یہیں تھی آپ کے پاس۔ آپ نے کبھی
غور ہی نہیں کیا۔
 

امجد۔۔۔ اب میرا سارا ٹائم، لنڈ، نظریں تیرے لیے ہیں۔ تجھ
میں تیری بہن سے زیادہ مال ہے اور مجھے ہر حال میں تو چاہیے میری جان منزہ۔
 

 

میں یہ سن کر حیران تھی لیکن خوش بھی تھی کہ میں امجد جی
کی جسمانی خواہشات ان کی بیوی سے زیادہ اچھی پوری کرتی ہوں۔ مجھے شرم آ رہی تھی لیکن
اس بات کا یقین تھا کہ امجد میرے پیچھے پاگل ہیں۔ اس بات کو سوچ سوچ کر میں شرم سے
نڈھال تھی۔ مانو میں ان کی بیوی کی جگہ لے چکی تھی۔
 

 

ہم نے ٹھیک ایک گھنٹے تک ایک دوسرے کو پیار کیا اور نہ جانے
کتنی پوزیشنیں بدلیں، یاد بھی نہیں ہے… جب تک بہن واپس نہیں آئی ہم دونوں ایک دوسرے
کی آغوش میں پڑے رہے، ایک دوسرے کو چومنے چاٹنے لگے۔ یہ وہ موقع تھا جب میرے اندر کی
عورت کو صرف اور صرف پیار اور امجد جی کا لنڈ چاہیے تھا۔ مجھے کوئی ہوش نہیں تھا کہ
میرا ان سے رشتہ کیا ہے۔ وہ بھی مجھ میں ڈوبے تھے۔ تب سے ہمارا ایک نیا رشتہ شروع ہوا۔
ہوس کا رشتہ۔ چدائی کا رشتہ۔ وہ رشتہ جو شاید میرے لیے میری بہن سے بھی زیادہ اہم تھا۔
 

 

اس کے بعد تو ایسا ماحول ہو گیا کہ ہم اس بات کی پروا بھی
چھوڑ دیتے تھے کہ میری بہن گھر پر ہے۔ امجد اور میں بہن کو نیند کی گولیاں کھلاتے تھے
اور ساری ساری رات چدائی مچاتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ امجد جی سوتے تک میرے ساتھ تھے
جب تک وہ راولپنڈی تھے اور صبح اٹھ کر بہن کے روم میں چلے جاتے تھے۔
 

مزے کی بات یہ کہ ہم نے گھر کا کوئی کونا نہیں چھوڑا جہاں
چدائی نہ ہوئی ہو۔
 

 

کیا کروں، سکون ہی نہیں ملتا تھا جب تک ان کے لنڈ کے دیدار
نہ کروں۔ ہم ساتھ ساتھ رہتے اور جب موقع ملتا چدائی کرنا شروع کر دیتے۔ ٹھیک بتاؤں
تو کہتے ہیں کہ سالی آدھی گھر والی ہوتی ہے لیکن میں امجد کی پوری گھر والی بن چکی
ہوں۔ اب جب بھی وہ آتے ہیں یا میں کراچی جاتی ہوں تو ہم خوب چدائی کرتے ہیں۔
 

کبھی کبھی تو بزنس کے بہانے وہ اکیلے ہی پنڈی آ جاتے ہیں۔
سب کے سوجانے کے بعد جو کچھ ہمارے بیچ ہوتا ہے وہ بتانا مشکل ہے۔
 

 

میں جانتی ہوں کہ یہ ایک ناجائز رشتہ ہے۔ لیکن جتنا لطف
اس میں ہے شاید ہی کسی اور رشتے میں ہو… اب میرے امجد کی دو بیویاں ہیں۔ ایک گھر میں
سکون دیتی ہے اور میں ان کے بستر میں ان کی رنڈی بن کر ان کے لنڈ کی پوجا کرتی ہوں۔
 

 

ہوئی نہ پھر سالی پوری گھر والی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *