Thu. Sep 10th, 2026
?>

 

بھائی، یہ تم کیا بول رہے ہو؟ تم ایسی بات سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟ عاطف تو بھائی کی بات سن کر ہی تڑپ اٹھا تھا۔ بات کچھ ایسی تھی کہ اس کا تڑپنا بے وجہ بھی نہیں تھا۔ عاطف کی فیملی میں صرف وہ اور اس کا بھائی امجد ہی تھے۔ امی ابا کچھ سال پہلے انتقال کر گئے تھے۔ امجد اور عاطف کی عمر میں دس سال کا فرق تھا، کیونکہ امجد کی پیدائش کے بعد ان کی امی کو کچھ پیچیدگیاں ہوئی تھیں۔ ڈاکٹروں نے لمبا وقفہ دینے کا مشورہ دیا تھا، اس لیے امجد کے پیدا ہونے کے دس سال بعد عاطف اس دنیا میں آیا۔ عاطف کی عمر اس وقت 25 سال تھی، جبکہ امجد کی 35 سال۔ امی ابا کے انتقال کے بعد عاطف سب کچھ چھوڑ کر امجد کے پاس دبئی آ گیا تھا۔
امی ابا کی زندگی میں ہی امجد کی شادی ان کی ایک کزن راحیلہ سے ہوئی تھی، جو امجد کی ہم عمر تھی۔ اتفاق سے راحیلہ بھابی کے بھی امی ابا اس دنیا میں نہیں تھے، اور ان کا کوئی بہن بھائی بھی نہیں تھا۔ یعنی ان تینوں کی کل ملا کر فیملی بس وہی تھے، اور ساتھ میں امجد کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا۔ بیٹی بڑی تھی، جو سات سال کی تھی، اور بیٹا پانچ سال کا تھا۔ امجد کی شادی کو اب نو سال ہو چکے تھے۔
ہوا کچھ یوں کہ کچھ دن پہلے ایک معمولی لڑائی میں امجد نے غصے میں آ کر راحیلہ کو طلاق دے دی تھی۔ جب تک امجد کچھ سمجھ پاتا، وہ سب کچھ بول چکا تھا۔ گھر میں گویا سانپ سونگھ گیا تھا۔ راحیلہ کا اس دنیا میں ان کے علاوہ کوئی نہیں تھا، اس لیے وہ جاتی بھی تو کہاں؟ اور اب مسئلہ امجد کے بچوں کا بھی تھا۔ امجد اور راحیلہ دونوں پریشان تھے، لیکن عاطف بھی کافی پریشان تھا۔ بچوں کو ابھی تک کچھ پتا نہیں تھا، لیکن گھر کا ماحول دیکھ کر وہ بھی سہمے ہوئے تھے۔
امجد نے ایک جاننے والے سے مشورہ لیا تھا، جس نے بتایا کہ امجد کی شادی اب ٹوٹ چکی ہے، اور اب صرف اسی صورت میں دوبارہ ہو سکتی ہے کہ پہلے راحیلہ اپنی عدت پوری کرے، پھر کسی اور سے شادی کرے، اس سے طلاق لے کر دوبارہ عدت پوری کرے، اور پھر امجد سے شادی کرے۔ سب سے ضروری بات یہ تھی کہ دوسرے مرد سے صرف نکاح کر کے طلاق نہیں لی جا سکتی، بلکہ ان کے درمیان جسمانی تعلق قائم کرنا ضروری ہے، چاہے وہ ایک رات کا ہی کیوں نہ ہو۔
امجد نے بہت سوچا کہ ایسا کون شخص ہو سکتا ہے جسے وہ اس کام کے لیے کہہ سکتا ہے۔ بہت سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں صرف ایک ہی نام آیا، اور وہ تھا اس کا اپنا بھائی عاطف، جس پر وہ اعتبار کر سکتا تھا اور جو اس مشکل وقت میں اس کے کام آ سکتا تھا۔ لیکن وہ اس بات کو عاطف سے کہنے سے گھبرا رہا تھا، کیونکہ اسے عاطف کا ردعمل معلوم تھا۔ اور وہی ہوا، عاطف اس کی بات سنتے ہی بھڑک اٹھا۔
“دیکھ میرے بھائی، ایک تو تم ہی ہو جس پر میں اعتبار کر سکتا ہوں۔ اگر تم اس مشکل وقت میں میرا ساتھ نہیں دو گے تو اور کون دے گا؟ میں مانتا ہوں کہ میری غلطی ہے، اور اس کی سزا تم سب کو مل رہی ہے، لیکن میرے بھائی، مجھے میری غلطی سدھارنے کا موقع دو۔” امجد نے عاطف سے منت کرتے ہوئے کہا۔
“بھائی، سوری، تم میری جان مانگ لو، میری جان حاضر ہے، لیکن یہ میں نہیں کر سکتا۔ تم خود سوچو، میں یہ کیسے کر پاؤں گا؟ یہ میری بھابی ہیں۔ بہت چھوٹی عمر سے میں انہیں اپنے گھر کا ایک بڑا فرد سمجھتا آیا ہوں۔” عاطف نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
امجد نے ہاتھ جوڑ لیے اور بولا، “عاطف، میرے ہاتھوں کی طرف دیکھ یار، مجھے اور ذلیل ہونے سے بچا لے۔”
عاطف کا دل بھی اپنے روتے بھائی کو دیکھ کر بھر آیا۔ اس نے امجد کے ہاتھ پکڑ لیے اور بولا، “بھائی، ایسا مت کرو میرے ساتھ۔ اور تم خود سوچو، کیا بھابی کے لیے یہ سب ٹھیک ہو گا؟ کیا وہ یہ سب کر پائیں گی؟”
امجد بولا، “راحیلہ سے بات کر لی ہے میں نے، وہ راضی ہے۔”
عاطف نے ہاتھ چھوڑ کر کہا، “پتا نہیں تم لوگ کیا چاہتے ہو، جو دل میں آتا ہے کرو۔” اور وہ باہر نکل گیا۔
امجد راحیلہ کے پاس آیا۔ وہ بچوں کے پاس لیٹی ہوئی تھی۔ یہ نہیں کہ امجد راحیلہ کو پسند نہیں کرتا تھا، لیکن اسے غصے پر کنٹرول نہیں تھا، اور اس دن بھی اس نے غصے میں یہ سب بول دیا تھا۔ اس نے راحیلہ کو بتایا کہ عاطف مان گیا ہے۔ اگلے کچھ دنوں میں راحیلہ کی عدت پوری ہوتے ہی عاطف کا نکاح راحیلہ کے ساتھ کر دیا گیا۔ بچے سو رہے تھے، اور سارے ڈرامے کو ان سے چھپایا گیا تھا۔ امجد نے وہ پوری رات انگاروں پر بسر کی۔
صبح کی اذان شروع ہوئی تو راحیلہ کمرے سے باہر آئی۔ امجد، جو باہر ہی بیٹھا تھا، اس کی طرف دیکھنے لگا۔ راحیلہ کو اس پر بہت غصہ تھا، لیکن وہ اس کی حالت بھی دیکھ رہی تھی اور یہ بھی جانتی تھی کہ اس کا اس گھر کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں، اس لیے وہ اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ وہ امجد کے دیکھنے کا مطلب سمجھ گئی۔ اس نے کہا، “وہ رات کو جاتے ہی اپنا کمبل لے کر صوفے پر سو گیا تھا۔”
امجد بولا، “کیا مطلب؟ میں نے تمہیں سب سمجھایا تھا۔” راحیلہ کو بھی غصہ آ گیا۔ اس نے آواز دباتے ہوئے کہا، “تم نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے؟ تم کیا چاہتے تھے؟ وہ مجھ سے دس سال چھوٹا ہے، ایک بچہ ہے۔ جب سے وہ پیدا ہوا ہے، میرے لیے ایک بچہ ہی ہے، اور پچھلے دس سالوں سے وہ میرے لیے تمہارا چھوٹا بھائی ہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ میں پہلی ہی رات…”
راحیلہ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ امجد اس کی مشکل سمجھ گیا۔ پھر دن پر دن گزرتے گئے، اور کچھ نہ ہوا۔ امجد عاطف سے یہ بات کھل کر نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ راحیلہ اس کی بیوی رہ چکی تھی، اور عاطف، جو اب راحیلہ کا شوہر تھا، اس کا چھوٹا بھائی تھا۔ راحیلہ سے وہ کھل کر بات کر سکتا تھا، اور وہ اسے ہر روز کہتا بھی تھا، لیکن وہ ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
امجد نے بہت سوچا، پھر اسے اس مسئلے کا ایک حل ملا۔ اس نے فجیرہ (امارات کی ایک ریاست جو ایک ہل اسٹیشن ہے) میں ایک ہوٹل روم سات دن کے لیے بک کیا اور راحیلہ سے کہا، “تم عاطف کو لے کر وہاں چلی جاؤ۔ وہاں جا کر ماحول بدلے گا تو تم لوگوں کے لیے آسان ہو جائے گا۔”
راحیلہ نے جب عاطف سے بات کی تو پہلے وہ بدک گیا، لیکن آخر کار مان گیا۔ بچوں کو بتایا کہ امی اور چچا کچھ ضروری کام کے لیے کہیں جا رہے ہیں، سات دن کے لیے۔ وہ شام کو ہوٹل پہنچے۔ اپنا سامان روم میں رکھنے کے بعد کھانا کھانے کے لیے باہر نکل آئے۔ رات کو جب وہ ہوٹل واپس آئے تو کمرے میں کافی سردی تھی۔ موسم بھی اچھا تھا، اور اوپر سے ایئر کنڈیشنر چل رہا تھا۔ بیڈ پر کمبل بھی ایک ہی تھا۔ عاطف کپڑے بدل کر بغیر کمبل کے صوفے پر لیٹ گیا۔ راحیلہ بولی، “سردی ہے، ادھر ہی آ جاؤ۔”
عاطف کو بھی محسوس ہو چکا تھا کہ کمبل کے بغیر گزارا نہیں ہو گا۔ وہ اٹھا اور بیڈ کی ایک سائیڈ پر کمبل کے اندر لیٹ گیا۔ راحیلہ سوچ رہی تھی کہ اب کیا کرے۔ امجد نے اسے عجیب حالات میں پھنسا دیا تھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ پھر اس نے کمرے کی لائٹ بند کر دی اور دوسری طرف سے وہ بھی کمبل میں گھس گئی۔ کچھ دیر رکنے کے بعد اس نے جان بوجھ کر اپنے جسم کا پچھلا حصہ عاطف کی پیٹھ کے ساتھ لگا دیا۔ کچھ دیر تک کوئی ردعمل نہ آیا تو اس نے سوتے ہوئے کروٹ لینے کی طرح کروٹ لی اور عاطف کو پیچھے سے گلے لگا لیا۔ اب اس کا اگلا حصہ عاطف کی پیٹھ سے چپکا ہوا تھا، اور اس کا بازو عاطف کے اوپر تھا۔
عاطف ایک جوان مرد تھا، اور اس کے لیے یہ سب برداشت کرنا اب مشکل ہو گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا۔ تبھی راحیلہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی، “کیوں کر رہے ہو ایسا؟ جب تمہیں پتا ہے کہ ہمیں یہ کرنا ہی پڑے گا، اور کوئی چارہ نہیں ہے۔”
عاطف نے دوسری طرف منہ کر کے کہا، “بھا…” وہ شاید بھابی کہتے کہتے رک گیا تھا۔ راحیلہ سمجھ گئی۔ وہ بولی، “عاطف، اب جب تک ہم ایک دوسرے کے نکاح میں ہیں، میں تمہاری بیوی ہوں۔ اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔”
“لیکن میرے سے یہ سب نہیں ہو پائے گا۔” عاطف نے جواب دیا۔
“اچھا، تم ایک منٹ لیٹ جاؤ۔” راحیلہ نے اسے لیٹاتے ہوئے کہا۔ پھر وہ لیٹ گیا تو راحیلہ اس کے ساتھ لگ کر ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھا اور ایک ٹانگ اس کی ٹانگوں پر رکھ دی۔ وہ بولی، “تم کیا سمجھتے ہو، میرے لیے یہ سب کرنا آسان ہے؟ لیکن اب جب حالات نے ہمیں اس چکر میں ڈال دیا ہے تو کیا کر سکتے ہیں؟”
راحیلہ نے یہ کہا اور عاطف کے گال پر بوسہ دیا۔ عاطف کے تو گویا کانٹے نکل آئے ہوں۔ وہ ایک دم بیڈ سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ راحیلہ شرمندگی کے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے، کیونکہ اس نے اپنی ساری شرم ایک طرف رکھ کر بڑی ہمت سے یہ قدم اٹھایا تھا، لیکن اب وہ اپنی نظروں میں بھی گر گئی تھی۔ عاطف اسے ٹھکرا کر چلا گیا تھا۔
وہ ابھی رو رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور عاطف اندر آیا۔ وہ سیدھا بیڈ کی طرف آیا اور آتے ہی اس نے راحیلہ کو پکڑ کر لیٹایا اور چومنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے راحیلہ کی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور اسے نیچے کھینچ دیا۔ اس نے اپنا پاجامہ بھی تھوڑا نیچے کیا۔ راحیلہ کو اس کا لن اپنی چوت پر محسوس ہوا۔ کچھ بھی ہو، دونوں انسان ہی تھے۔ اب ان کی سانسیں تیز ہونے لگی تھیں۔ وہ دونوں اس لمحے ایک دوسرے سے صرف ایک چیز چاہتے تھے، اور وہ تھی چدائی۔
عاطف نے اپنا لن پکڑ کر راحیلہ کی چوت پر رگڑا۔ راحیلہ کی چوت کافی گیلی ہو چکی تھی۔ عاطف نے لن کو سوراخ پر اندازے سے رکھا اور جھٹکا مارا۔ لن پھسل کر سائیڈ پر چلا گیا۔ کمرے میں اندھیرا تھا، اور ویسے بھی عاطف نے کمبل اوپر لے لیا تھا۔ عاطف نے دوبارہ کوشش کی، لیکن پھر ناکام ہوا۔ وہ کانپ رہا تھا۔ راحیلہ نے اسے روکا، پھر ہاتھ اندر کر کے اس کا لن پکڑا اور چوت کے سوراخ پر رکھ دیا۔ عاطف نے اس بار دھکا مارا تو لن گہرائی میں اترتا چلا گیا۔ راحیلہ کے منہ سے ایک سسکاری نکل گئی۔
امجد دونوں بچوں کی پیدائش کے بعد بہت کم سیکس کرتا تھا، اور اب تو بات یہاں تک آ چکی تھی کہ کئی کئی ماہ وہ راحیلہ کو چھوتا تک نہیں تھا۔ اور جب کبھی چھوتا تھا، تو اس کے لن میں اب وہ دم نہیں رہا تھا۔ راحیلہ کو عاطف کا لن جوانی کی یاد دلانے لگا، جب اس کی امجد کے ساتھ نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ عاطف اب دھکے مار رہا تھا، اور راحیلہ نے اسے اپنے بازوؤں میں گھیر رکھا تھا۔ کمرے میں ان دونوں کی آوازیں اور پچک پچک، دھک دھک کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ راحیلہ نے اپنی ٹانگیں اٹھائیں اور عاطف کی کمر پر رکھ دیں۔ عاطف اب زور زور سے چدائی کر رہا تھا۔
راحیلہ نے عاطف کو زور سے جھکڑا اور اس کے کندھے کو دانتوں سے کاٹ لیا۔ اسے جب بھی آرگازم ہوتا تھا، وہ یا تو امجد کو ناخن مارتی تھی یا کاٹ لیتی تھی۔ لیکن اب تو بہت عرصہ ہو گیا تھا اس بات کو۔ پچھلے دو تین سالوں سے شاید ہی راحیلہ کبھی آرگازم تک پہنچی تھی۔ جب وہ فارغ ہو چکی، تو اس نے عاطف کو چھوڑا۔ عاطف ابھی بھی لگا ہوا تھا۔ اس کا لن اب بہت پھسل رہا تھا، کیونکہ آرگازم کے بعد راحیلہ کی چوت میں اور زیادہ پانی آ گیا تھا۔
راحیلہ نے اسے روکا اور اسے تھوڑا اوپر کر کے اپنی شلوار، جو اب صرف ایک ٹانگ پر تھی، اتار دی۔ عاطف کا پاجامہ بھی پورا اتار دیا، جس میں عاطف نے اس کی مدد کی۔ لیکن کمبل کو انہوں نے اپنے جسموں پر رہنے دیا، ویسے بھی کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ راحیلہ نے اپنی شلوار سے اپنی چوت صاف کی اور عاطف کو واپس اشارہ کیا۔ عاطف نے ایک بار پھر اپنا لن اس کی چوت میں گھسایا۔ عاطف اگلے دس پندرہ منٹ تک لگا رہا، جس دوران راحیلہ ایک بار اور فارغ ہو چکی تھی۔ پھر عاطف نے اپنا پانی راحیلہ کی چوت میں چھوڑنا شروع کر دیا۔
تھوڑی دیر بعد عاطف ایک طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اسے اچھا تو لگا تھا، مزا بھی آیا تھا، لیکن اسے عجیب سی شرمندگی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ دوسری طرف راحیلہ بہت سکون میں تھی۔ اسے بہت عرصے بعد جسمانی خوشی نصیب ہوئی تھی۔
صبح راحیلہ کی آنکھ کھلی تو عاطف کمرے میں نہیں تھا۔ اس کے موبائل کی گھنٹی بج رہی تھی۔ اس نے نمبر دیکھا، امجد کا فون تھا۔ امجد نے پوچھا، “ہوا کچھ؟” راحیلہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، “نہیں، آج تو کچھ نہیں ہوا، لیکن فکر نہ کرو، میری بات ہو گئی ہے۔ وہ مان گیا ہے کہ ساتویں دن کر دے گا۔”
امجد بولا، “کیوں ساتویں دن؟” راحیلہ بولی، “یہ سب تمہاری ہی وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہ سب کرنا ہمارے لیے اتنا آسان نہیں ہے۔ اگر اتنی جلدی ہے تو خود اپنے بھائی کو فون کر کے بولو کہ کر دے۔”
امجد بولا، “اچھا، چھوڑو، لیکن پلیز اب یہ کام کر کے ہی واپس آنا۔ اگر اب نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا۔” راحیلہ بولی، “کوشش کر رہی ہوں، تم بے فکر رہو۔” اس نے فون بند کر دیا۔
وہ بیڈ سے اٹھی اور کمبل پیچھے کیا۔ اس نے اپنی شلوار ڈھونڈ کر پہنی۔ تبھی عاطف اندر آیا۔ وہ اسے دیکھ کر شرما گیا۔ راحیلہ، کیونکہ کافی پختہ تھی، جلدی سنبھل گئی۔ وہ بولی، “کہاں تھے؟” عاطف بولا، “ناشتے کا آرڈر دے کر آیا ہوں۔”
راحیلہ بولی، “امجد کا فون آیا تھا، اور میں نے بولا ہے کہ… ابھی کچھ نہیں ہوا۔” عاطف نے سر ہلا دیا۔ راحیلہ ہوشیار ہو گئی، یعنی عاطف بھی وہی چاہتا تھا جو وہ چاہتی تھی۔ اسے دکھ بھی ہوا کہ اس نے امجد سے جھوٹ بولا، لیکن اس سب چکر میں پھنسی تو اس کی وجہ سے تھی۔ اور عاطف اب اس کا شوہر تھا، اس لیے اس کے ساتھ سیکس کرنا کوئی بری بات نہیں تھی۔ وہ اندر سے مطمئن ہو گئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر جائز طریقے سے وہ اپنے جسم کی آگ کو کچھ اور دن ٹھنڈا کر سکتی ہے تو کیا مسئلہ ہے؟
دوسرا دن
راحیلہ ایک مکمل گھریلو اور شریف عورت تھی۔ اس نے آج تک اپنے شوہر سے بے وفائی نہیں کی تھی، حالانکہ بہت سے مردوں کی طرف سے اسے کئی بار اشارے ملے تھے۔ لیکن اس نے ہمیشہ اپنے شوہر کو ہی اپنے جسم کا مالک سمجھا تھا اور اپنی ہر چیز کو اس کی امانت سمجھتی تھی۔ اس نے زندگی میں پہلی بار امجد کے علاوہ کسی دوسرے مرد کا لن اپنے اندر لیا تھا، اور وہ بھی اپنے سے دس سال چھوٹے مرد کا۔ اس کے لیے یہ تجربہ بہت زبردست تھا، اور وہ بہت خوش تھی۔ اس کی جنسی تسکین ایسی کبھی نہیں ہوئی تھی جیسی اسے کل رات کے جلدی جلدی کے سیکس نے دی تھی۔ اب اس نے پکا ذہن بنا لیا تھا کہ اسے اپنی زندگی کے اگلے سات دن مزے سے گزارنے ہیں۔ اسے اپنی زندگی ان سات دنوں میں کھل کر جینی تھی، اور اس میں کچھ غلط بھی نہیں تھا، کیونکہ اب عاطف کوئی نامحرم مرد نہیں تھا بلکہ اس کا شوہر تھا۔
دوسری طرف، عاطف کے لیے اپنی بڑی بھابی، جو اب حالات کی وجہ سے اس کی بیوی تھی، کے ساتھ یہ سب کرنا بہت مزے کا تو تھا، لیکن اسے شرمندگی بھی ہو رہی تھی۔ وہ راحیلہ سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔ لیکن جب صبح راحیلہ نے اسے بتایا کہ اس نے امجد بھائی کو کہا ہے کہ ابھی کچھ نہیں ہوا، تو اسے دل میں بہت خوشی ہوئی۔ کیونکہ رات کے بعد وہ بھی چاہتا تھا کہ اسے راحیلہ کے ساتھ کچھ اور وقت ملے۔
اس کی ایک گرل فرینڈ تھی، عالیہ، جو اس کی ہم عمر تھی، اور عاطف اسے کئی بار چود چکا تھا۔ لیکن جو مزا اسے رات کے اندھیرے میں اور تھوڑے سے وقت کے لیے راحیلہ کو چود کر آیا تھا، ویسا مزا کبھی عالیہ کو دن کی روشنی میں چود کر بھی نہیں آیا تھا۔ اس کی وجہ شاید کچھ نفسیاتی تھی یا کچھ اور، لیکن وہ رات کا واقعہ اسے دن میں بھی گرما رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کب رات ہو اور کب وہ دوبارہ راحیلہ کو چودے۔ وہ تو شاید دن میں بھی کرنے سے باز نہ آتا، لیکن ایک تو راحیلہ اس کی سابقہ بھابی تھی، اور دوسرا، راحیلہ ناشتے کے فوراً بعد اسے لے کر گھومنے نکل گئی تھی۔
عاطف تو پہلے بھی کئی بار فجیرہ آ چکا تھا، لیکن راحیلہ پہلی بار آئی تھی، اس لیے اسے گھومنا تھا۔ عاطف اسے کافی نئی جگہیں دکھا رہا تھا۔ ویسے تو راحیلہ بھی اندر سے بے چین تھی، لیکن وہ بھی تھوڑا کنفیوز تھی، کیونکہ عاطف اس کا دیور تھا، جو اس سے کافی چھوٹا بھی تھا۔ طلاق کے واقعے سے پہلے تک وہ ہمیشہ اسے اپنے چھوٹے بھائی کی نظر سے ہی دیکھتی تھی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی اسے ایسا دن بھی دکھائے گی کہ وہ اسی کے ساتھ یہ سب کرے گی۔
خیر، پورا دن ان دونوں نے زیادہ بات چیت نہیں کی، بس ادھر ادھر گھومتے رہے۔ پھر رات کو ہوٹل واپس جانے سے پہلے انہوں نے ایک پاکستانی ریستوران پر کھانا کھایا اور چائے کا انتظار کر رہے تھے۔ اچانک عاطف بولا، “بھابی، وہ میں یہ…” اس نے ابھی اتنی بات ہی کی تھی کہ راحیلہ نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا، “بھابی مت بولو، میں تمہاری بیوی ہوں، بھابی نہیں۔”
عاطف بولا، “سوری، لیکن آپ پہلے تھیں۔ اور اب کچھ دنوں بعد واپس میری بھابی ہی بننا ہے، آپ کو تو میں عادت کیوں بدلوں؟” عاطف نے آخری جملہ ایسے افسوس سے کہا کہ راحیلہ بھی چونک گئی۔ پھر راحیلہ بولی، “جب واپس بنوں گی، تب کی تب دیکھی جائے گی، لیکن ابھی تو تمہاری بیوی ہوں نہ؟”
عاطف چپ ہو گیا۔ وہ بات جو وہ بولنے والا تھا، وہی رہ گئی۔ لیکن دونوں عاطف کی اس بات کے بارے میں سوچنے لگے کہ “سات دن بعد واپس راحیلہ کو اس کی بھابی ہی بننا تھا۔” راحیلہ کو اب عجیب سی بے چینی ہونے لگی۔ وہ سوچنے لگی کہ اس نے بہت برا کیا ہے۔ اپنی تھوڑی سی جسمانی خوشی کے لیے اس نے صبح امجد سے جھوٹ بولا۔ اگر وہ اب برداشت نہیں کر پا رہی تو تب کیا ہو گا جب وہ واپس امجد کی بیوی بن جائے گی؟
اسی پریشانی میں دونوں نے اپنی اپنی چائے ختم کی اور ہوٹل آ گئے۔ جہاں وہ پورا دن رات کا انتظار کر رہے تھے، اب دونوں مختلف سمتوں کی طرف منہ کر کے لیٹے سوچوں میں گم تھے۔ راحیلہ کا دل عجیب سا ہو رہا تھا۔ ایک طرف وہ عاطف کے ساتھ انجوائے کرنا چاہتی تھی، تو دوسری طرف اسے امجد یاد آ رہا تھا۔ وہ یہ سب سوچتے سوچتے پتا نہیں کب سو گئی۔
اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنی کمر پر عاطف کا ہاتھ پایا، جو اس کی کمر پر آہستہ آہستہ پھر رہا تھا۔ وہ چپ کر کے لیٹی رہی۔ اس کے جسم میں گرمی آنے لگی تھی۔ عاطف نے تھوڑی دیر بعد ہاتھ ہٹا لیا۔ پھر راحیلہ انتظار کرتی رہی کہ عاطف کچھ کرے، لیکن عاطف نے واپس کچھ نہیں کیا۔ ایک گھنٹے سے بھی زیادہ گزر گیا، راحیلہ کو نیند بھی نہیں آئی۔ اب جسم کی بھوک آنکھوں کی نیند سے زیادہ تھی۔ لیکن عاطف نے اس کی بھوک جگا کر خود پتا نہیں سو چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ چیک کروں کہ وہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے۔
“عاطف!” اس نے آہستہ سے پکارا۔
“جی، کیا ہوا؟” عاطف نے جواب دیا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ بھی اسی آگ میں جل رہا تھا جس میں راحیلہ جل رہی تھی۔
“کیا ہوا، نیند نہیں آ رہی؟” راحیلہ نے پوچھا۔
“آپ بھی تو جاگ رہی ہیں۔” عاطف بولا۔
پھر راحیلہ نے کروٹ لی اور منہ عاطف کی طرف کر لیا۔ پھر بولی، “کیا سوچ رہے ہو؟”
عاطف بولا، “جو سوچ رہا ہوں، وہ مجھے گناہ لگتا ہے۔”
راحیلہ نے ایک لمبی آہ بھری۔ اس کا اندازہ درست تھا، عاطف بھی اتنا ہی بے چین تھا جتنا کہ وہ تھی۔ بات سمجھ میں بھی آتی تھی۔ وہ ایک ایسی جگہ پر تھے جہاں انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں تھا، اور سیکس کی بھوک دونوں کے اندر جاگ چکی تھی۔ لیکن دیور کا سابقہ رشتہ ہی انہیں حدود پار کرنے سے روک رہا تھا۔
لیکن پھر راحیلہ کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے عاطف کا ہاتھ پکڑا اور اپنی کمر پر رکھ کر اسے اپنے قریب کر لیا۔ عاطف بھی اپنی اندرونی جنگ سے ہار چکا تھا۔ اس نے بھی دیر نہیں لگائی اور راحیلہ کو پکڑ کر اپنے ساتھ دبا لیا۔ عاطف نے اپنے ہونٹ راحیلہ کے ہونٹوں پر رکھ کر چوسنا شروع کر دیا۔ اندھیرے میں وہ صرف ایک دوسرے کی سانسوں کی آوازیں سن سکتے تھے۔ دیکھنا بہت مشکل تھا، کچھ بھی صاف نظر نہیں آ رہا تھا، صرف ایک عکس ہی نظر آ رہا تھا۔
عاطف نے اپنا ایک ہاتھ راحیلہ کے مموں پر رکھ دیا۔ اس کے ممے بہت بڑے تھے، جتنے ایک سات سال کے بچے کی صحت مند ماں کے ہو سکتے تھے۔ راحیلہ دیکھنے میں کافی خوبصورت تھی، گوری چٹی۔ شادی کے وقت وہ کافی سمارٹ بھی تھی، لیکن جیسے جیسے بچے ہوئے اور عمر بڑھتی گئی، اس کا وزن بھی بڑھتا گیا، اور اب اس کا فگر کافی بڑا تھا۔ وہ 40 کا برا پہنتی تھی، اس کی کمر 36 انچ تھی، اور گانڈ 42 انچ کی تھی۔ ویسے تو کافی مردوں کو بڑی عمر کی موٹی عورتوں میں کشش محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے چہرے میں اتنی معصومیت اور کشش تھی کہ اگر کسی کو موٹی عورت پسند نہ بھی ہوتی تو وہ بھی راحیلہ کو ضرور پسند کر لیتا۔ اس کا جسم موٹا ضرور تھا، لیکن لٹکا ہوا نہیں تھا۔ سخت جسم تھا، یعنی وہ صحت مند ہونے کی وجہ سے موٹی تھی، بیماری کی وجہ سے نہیں۔ قد لمبا ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ موٹی لگتی بھی نہیں تھی۔ اس کا جسم بالکل اداکارہ صائمہ کی طرح تھا۔
عاطف کو اس کے مموں کو ہاتھ میں لے کر بہت مزا آیا، اور راحیلہ کے لیے بھی یہ بہت خوش کن احساس تھا۔ عاطف اس کے مموں کو دباتا رہا اور اس کے ہونٹوں کو چوستا اور کاٹتا رہا۔ کچھ دیر جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ چپکے ایسی حالت میں رہے، تو راحیلہ نے ہاتھ بڑھا کر عاطف کے لن پر رکھا۔ وہ تنا ہوا تھا۔ عاطف نے سونے کے لیے شلوار پہنی ہوئی تھی۔ راحیلہ نے شلوار کے اوپر سے ہی اس کا لن ہاتھ میں لیا۔ کل شاید جوش کی وجہ سے یا جلد بازی کی وجہ سے راحیلہ نے اسے اپنے اندر لینے کے باوجود زیادہ محسوس نہیں کیا تھا، لیکن آج ہاتھ میں لینے کے بعد اسے احساس ہو رہا تھا کہ عاطف کا لن کافی بڑا تھا، امجد سے زیادہ، اور موٹا بھی لگ رہا تھا۔ اس کے دل میں شدید خواہش جاگی کہ اس کا لن دیکھے، لیکن نسوانی شرم نے اسے روکے رکھا۔
راحیلہ کی لن پکڑنے والی حرکت نے عاطف کی رگوں میں خون کی رفتار تیز کر دی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور راحیلہ کے اوپر آ گیا۔ اس نے راحیلہ کے ہونٹوں کو چھوڑا اور اس کی گردن کو چومتا ہوا اس کے سینے کی طرف آ گیا۔ پھر اس نے راحیلہ کے مموں کو کمیز کے اوپر سے ہی چومنا شروع کیا۔ جب راحیلہ کو اس کی سانسیں اور اس کے ہونٹوں کا نرم لمس اپنے مموں پر محسوس ہوا، تو اس کے منہ سے ہلکی آواز میں ایک سسکاری نکل گئی، اور اس کی سانسوں کی رفتار اور بڑھ گئی۔ سانس تیز ہونے کی وجہ سے اس کے مموں نے بھی واضح طور پر اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا۔
اب عاطف نے چومتے ہوئے اس کے پیٹ کی طرف جانا شروع کیا۔ تبھی راحیلہ کی ہمت جواب دے گئی۔ وہ بولی، “عاطف، شروع کرو پلیز۔”
عاطف نے اپنا منہ اس کے پیٹ سے اٹھایا اور پھر ہاتھ نیچے کر کے اس نے راحیلہ کی شلوار اتار دی۔ راحیلہ نے اپنا جسم اٹھا کر اس کا ساتھ دیا تھا۔ عاطف کا بہت دل چاہا کہ وہ راحیلہ کی کمیز بھی اتار دے، لیکن اس نے سوچا کہ پتا نہیں راحیلہ کو برا نہ لگے۔ اس لیے وہ اپنی خواہش کے باوجود اس کام سے باز رہا۔ پھر عاطف نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کیے۔ آج اس نے اپنی شلوار کے ساتھ ساتھ اپنی کمیز بھی اتار دی تھی۔ وہ پورا ننگا ہو گیا تھا۔
پھر وہ راحیلہ کے اوپر آ گیا۔ راحیلہ نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے شروع کر دیے۔ عاطف اپنا لن اس کی چوت کے لبوں پر رگڑ رہا تھا۔ راحیلہ اس کی ہر رگڑ پر اپنی چوت کا منہ کھولتی تھی اور اس کے جسم کو اپنے بازوؤں میں دباتی تھی۔ راحیلہ کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ راحیلہ کی چوت پانی سے تر تھی، اور عاطف کا لن اس کے پانی میں بھیگ چکا تھا۔ لیکن عاطف اس کی حالت کا مزا لے رہا تھا۔ وہ اپنے لن کو بار بار اس کی چوت کے لبوں پر اور اس کے چھولے پر رگڑتا تھا، لیکن اندر نہیں ڈالتا تھا۔
“کیا، مار دو گے؟ کیوں تڑپا رہے ہو؟” راحیلہ کی ہمت جواب دے گئی۔
“کیا کروں؟ تم بولو گی تو کروں گا نہ۔” عاطف بھی مزا لینے کے موڈ میں تھا۔
“وہی کرو جو کل کیا تھا۔” راحیلہ نے سسکاری لیتے ہوئے کہا۔
“کل کیا تھا؟ مجھے تو کچھ یاد نہیں۔” عاطف اس کے گال کو چومتے ہوئے بولا۔
“پلیز عاطف، اندر ڈالو۔” راحیلہ اس بار چلا اٹھی۔
عاطف مسکرا پڑا۔ یہی وہ سننا چاہ رہا تھا۔ اس نے اپنا لن چوت کے منہ پر رکھا اور ایک زور کا دھکا مارا۔ لن کھڑپ کر کے چوت کی گہرائی میں اترتا گیا۔ راحیلہ کے منہ سے ایک لمبی سسکاری نکل گئی۔ لن سیدھا جا کر اس کی بچہ دانی پر لگا تھا، جس سے اسے تھوڑا درد بھی ہوا تھا، کیونکہ عاطف نے بہت زور سے ڈالا تھا۔ لیکن سسکاری درد کی نہیں، اس مزے کی تھی جو اسے ملا تھا۔
عاطف نے اب آگے پیچھے ہونا شروع کر دیا۔ اس کی سپیڈ آج شروع سے ہی بہت تیز تھی۔ وہ ٹھک ٹھک اندر باہر کر رہا تھا، اور راحیلہ بھی اس کا پورا ساتھ نیچے سے ہل ہل کر اور چوت کو گھول گھول کر دے رہی تھی۔ عاطف نے آج نوٹ کیا تھا کہ عالیہ، جو ایک کنواری اور جوان لڑکی تھی، اور راحیلہ میں کیا فرق تھا۔ سب سے بڑا فرق یہ تھا کہ عالیہ چدوا کر مزا لینا چاہتی تھی، جبکہ راحیلہ اپنے تجربے کی وجہ سے مرد کو مزا دے کر اس سے ڈبل مزا لینا جانتی تھی۔
راحیلہ کی نیچے سے ہلنے کی رفتار بڑھنے لگی، اور اس کی سانسوں نے بھی تیز چلنا شروع کر دیا۔ اس نے اچانک عاطف کے سر کو پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کے کندھے میں اپنے دانت گاڑھ دیے۔ عاطف بھی سمجھ گیا کہ وہ فارغ ہو رہی ہے۔ اس نے بھی دھکوں کی رفتار اور تیز کر دی۔ وہ پورا لن باہر کھینچتا اور پھر فل سپیڈ سے اندر ڈالتا۔ راحیلہ کچھ دیر بعد نارمل ہو گئی۔ اسے پہلا آرگازم ہو گیا تھا۔
اس نے عاطف کو رکنے کو کہا۔ عاطف اس کے اوپر ہی لیٹا رہا۔ اس نے اپنا لن باہر نکال لیا تھا۔ راحیلہ نے تھوڑی دیر بعد اسے ایک طرف ہونے کو کہا، اور پھر اس نے اپنی چوت سائیڈ ٹیبل پر پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر صاف کی۔ آج بھی کمرے میں اندھیرا ہی تھا، لیکن آج وہ کل سے تھوڑا آرام دہ تھے، اس لیے کافی آگے پیچھے حرکت کر رہے تھے، بلکہ تھوڑی بہت بات چیت بھی کر رہے تھے۔
راحیلہ نے چوت صاف کر کے کہا، “آ جاؤ۔”
عاطف بولا، “تم الٹا لیٹو۔”
راحیلہ بولی، “کیوں، پیچھے کرنا ہے؟”
عاطف بولا، “نہیں، آگے ہی کروں گا، لیکن پیچھے سے۔”
راحیلہ الٹا لیٹ گئی۔ عاطف اس کے پیچھے آ گیا۔ اس نے راحیلہ کی ٹانگوں کو کھولا اور پھر اپنا آپ ان کے درمیان ایڈجسٹ کیا۔ اس نے اپنا لن اس کی چوت کو ڈھونڈ کر اس پر رکھا اور جھٹکا مارا۔ لن اندر گھس گیا۔ راحیلہ کے منہ سے سسکاری نکلی۔ اس بار یہ سسکاری درد کی ہی تھی، کیونکہ الٹا لیٹ کر لن اس کی چوت کے اگلے حصے سے رگڑ کر گیا تھا، اور چوت نے ابھی پانی نہیں چھوڑا تھا، کیونکہ اس نے ابھی صاف کی تھی، تو اسے تھوڑی تکلیف ہوئی تھی۔
راحیلہ کی گانڈ کیونکہ کافی بڑی اور نرم تھی اور پھیلی ہوئی تھی، عاطف کو بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ واضح طور پر دیکھ تو نہیں پا رہا تھا، لیکن محسوس کر رہا تھا۔ اس نے اپنا لن اس کی چوت میں تھوڑی دیر روک دیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پھر اس نے ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی گانڈ کی لکیر میں اپنی انگلی پھیری۔ راحیلہ کو اس کی اس حرکت نے بہت مزا دیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تکیے کو مضبوطی سے جکڑ لیا۔ اس کی چوت پھر سے گیلی ہو گئی تھی۔
عاطف نے پھر اس کی گانڈ سے ہاتھ اٹھا کر بیڈ پر راحیلہ کے دونوں طرف رکھ کر دھکے مارنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد راحیلہ نے ٹانگوں کو اور کھول دیا۔ اب وہ اس طرح لیٹی تھی کہ عاطف بہت آسانی سے آگے پیچھے ہو سکتا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سے راحیلہ کے بالوں کو پکڑا اور اس کے سر کو ایک طرف کیا۔ اب اس کا منہ کا ایک طرف، یعنی ایک گال، عاطف کے منہ کے بالکل نیچے تھا۔ عاطف نے اس کے کان کو منہ میں لیا اور چوما اور ہلکا ہلکا کاٹا۔ راحیلہ ایک بار پھر آرگازم کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس نے تکیے کو بری طرح اپنے ہاتھوں میں جکڑا ہوا تھا، اور سانسوں کی آواز بہت تیز نکل رہی تھی۔
عاطف نے اپنی رفتار اور تیز کر دی۔ وہ بھی انزال کے قریب تھا۔ اس نے راحیلہ کے کان میں کہا، “میں چھوٹنے والا ہوں۔”
راحیلہ کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلے۔ اس کی سانسیں اتنی تیز تھیں کہ عاطف اس کے الفاظ تو نہ سمجھ سکا، لیکن بات سمجھ گیا۔ راحیلہ نے کہا تھا، “چھوٹ جاؤ، میں بھی قریب ہوں۔”
عاطف اب بہت زیادہ تیز ہو گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں کو واپس بیڈ پر رکھا ہوا تھا اور فل سپیڈ سے اندر باہر کر رہا تھا۔ اچانک راحیلہ نے اپنی گانڈ کو اس طرح اوپر اٹھایا جیسے اگر کسی کو آگے کی طرف کچھ مارا جائے تو وہ پیچھے کو ہوتا ہے۔ راحیلہ کے اس انداز سے اور اس کی چوت نے جیسے عاطف کے لن کو جکڑا تھا، اس سے عاطف کو اندازہ ہو گیا تھا کہ راحیلہ چھوٹ گئی تھی۔ راحیلہ کے چھوٹنے کے ساتھ ہی وہ بھی اپنا پانی اس کی چوت میں پھینکنے لگا۔ پھر وہ اس کی پیٹھ پر اس کے اوپر ہی لیٹ گیا۔ دونوں ہی بہت لمبے سانسیں لے رہے تھے۔
“تمہارا آرگازم بہت ظالم ہوتا ہے۔” عاطف نے تھوڑی دیر بعد کہا۔
راحیلہ کچھ نہ بولی، صرف شرمندہ سی ہو گئی۔ عاطف کو اس کا آرگازم، یعنی انزال پر پہنچنے پر جو ردعمل اس کی طرف سے آتا تھا، واقعی دلچسپ لگا تھا۔ اس نے کل اور آج پہلی بار اس کے کندھے کو جس طرح کاٹا تھا، اس وقت تو عاطف کو بھی محسوس نہیں ہوا تھا، لیکن بعد میں پتا چلا تھا۔ اور پھر آج دوسری بار میں راحیلہ نے جس طرح گانڈ اٹھائی تھی اور جس طرح اس نے اپنے جسم کو حرکت دی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے جسم سے جان نکل رہی ہو۔ عاطف جان گیا تھا کہ راحیلہ بہت ہی گرم عورت تھی۔ اس نے کافی دفعہ سیکس کیا تھا عالیہ کے ساتھ اور اس سے پہلے بھی کئی بار کیا تھا، لیکن راحیلہ جیسی گرم عورت اسے کبھی نہیں ملی تھی۔ یا شاید پہلے کبھی کوئی عورت ملی ہی نہیں تھی، کیونکہ وہ سب لڑکیاں ہی تھیں۔ شاید یہی فرق تھا ایک شادی شدہ 35 سال کی عورت کا اور ایک کنواری 23، 24 سال کی لڑکی کا۔
“بھائی بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ انہیں ملیں۔” عاطف کچھ دیر بعد بولا۔
“لیکن اس حساب سے تو تم ابھی خوش قسمت ہو کہ میں تمہاری بیوی ہوں اور ابھی تمہارے نیچے بھی ہوں۔” راحیلہ نے ہنس کر جواب دیا۔
عاطف بھی ہنس پڑا اور پھر راحیلہ کے اوپر سے اتر کر ایک طرف لیٹ گیا۔
تیسرا دن
عاطف کی آنکھ کھلی تو باہر سے روشنی اندر آ رہی تھی، دن نکل چکا تھا۔ راحیلہ ابھی تک سو رہی تھی۔ عاطف نے اسے غور سے دیکھا۔ اسے راحیلہ پر بہت پیار آیا۔ وہ بڑے مطمئن انداز میں سو رہی تھی۔ عاطف اٹھا اور واش روم میں چلا گیا۔ ہاتھ منہ دھونے کے بعد جب وہ واش روم سے باہر آیا تو اس کی نظر بیڈ پر پڑی۔ راحیلہ ابھی تک سو رہی تھی، لیکن اس نے اپنا رخ بدل لیا تھا۔ اس کی ٹانگوں پر سے کمبل بھی ہٹا ہوا تھا۔ اس کی سڈول رانیں ننگی تھیں۔ اس کی ٹانگوں پر بال نام کی کوئی چیز نہیں تھی، بالکل صاف گوری ٹانگیں تھیں۔ عاطف کا لن اس کی ٹانگوں کو دیکھ کر ہی کھڑا ہو گیا۔
عاطف نے پہلی بار روشنی میں راحیلہ کی رانوں اور ٹانگوں کو ننگا دیکھا تھا۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ عاطف کے دل میں آیا کہ کیوں نہ اس کی گانڈ سے کمبل ہٹا کر اسے بھی دیکھا جائے۔ لیکن پھر وہ اپنی اس سوچ پر خود ہی شرمندہ ہو گیا جب اسے یاد آیا کہ راحیلہ کون ہے اور اس کا اس سے کیا رشتہ تھا۔ عاطف نے اپنے کپڑے پہنے اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
جب وہ ناشتے کا آرڈر دے کر واپس آیا تو راحیلہ بیڈ پر نہیں تھی، اور واش روم میں پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ اس کا مطلب وہ نہا رہی تھی۔ خیر، ان دونوں نے کچھ دیر میں ناشتہ کیا اور حسب معمول گھومنے کے لیے نکل گئے۔ لیکن کل کی نسبت آج ان کے درمیان کافی باتیں ہو رہی تھیں۔ پورا دن وہ مختلف جگہوں پر گھومنے پھرنے کے بعد واپس ہوٹل آ گئے۔ رات کے دس بج رہے تھے، اور آج ان دونوں میں سے کوئی بھی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے کچھ ہی دیر میں وہ کپڑے بدل کر بتی بجھا کر ایک دوسرے کی بانہوں میں تھے۔
وہ ایک دوسرے کے منہ میں اپنا منہ ڈال کر ایک دوسرے کی زبانیں اور ہونٹ چوس رہے تھے۔ عاطف اپنا ہاتھ اس کے جسم پر گھوما رہا تھا اور اس کی گانڈ سے لے کر اس کی پشت اور گردن تک پھیر رہا تھا۔ راحیلہ نے بھی اپنے بازو اس کے گرد جکڑے ہوئے تھے اور ایک ہاتھ عاطف کے سر کے پیچھے اس کے بالوں میں ڈال کر اس کے بالوں میں گھوما رہی تھی۔ عاطف نے اپنے ہاتھ کو راحیلہ کی کمیز کے اندر ڈالا اور اس کی ننگی کمر پر پھیرنے لگا۔ راحیلہ کا جسم بہت نرم اور ملائم تھا۔ عاطف کو اس کے ننگے جسم کو چھونا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے محسوس کر رہا تھا کہ راحیلہ کا جسم کیسا ہے۔
اس نے پھر اپنا ہاتھ نیچے کی طرف لایا اور راحیلہ کی شلوار میں گھسانے لگا۔ راحیلہ کی شلوار ناڑے والی تھی، اس لیے اس کا ہاتھ اندر نہیں جا رہا تھا۔ اسی وقت راحیلہ نے اپنا ایک ہاتھ نیچے کیا اور اپنا ناڑا کھول دیا۔ اس کی شلوار ڈھیلی ہو گئی، اور عاطف کا ہاتھ اندر گھس گیا۔ عاطف کو راحیلہ کی یہ حرکت کافی اچھی لگی۔ اسے راحیلہ کا اس طرح ساتھ دینا بھی بہت اچھا لگا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ عالیہ کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے جب وہ کچھ کرنے لگتا تھا، عالیہ ہزار نخرے کرتی تھی، پھر جا کر مانتی تھی، اور زیادہ تر کام عاطف کو خود ہی کرنے پڑتے تھے۔ لیکن راحیلہ اس کے ہر کام میں اس کا ساتھ دیتی تھی۔
عاطف نے اپنا ہاتھ راحیلہ کی گانڈ پر شلوار کے اندر سے رکھ دیا۔ راحیلہ کی گانڈ بہت بڑی اور نرم تھی۔ عاطف اس کے بڑے بڑے چوتھڑوں کو ہاتھ سے دبانے لگا۔ راحیلہ کی کسنگ اور سانسوں میں تیزی آنے لگی تھی۔ عاطف نے پھر اپنی ایک انگلی راحیلہ کی گانڈ کی لکیر میں ڈال دی اور اسے محسوس کرنے لگا۔ جب عاطف کی انگلی راحیلہ کے گانڈ کے سوراخ پر لگی، تو عاطف نے محسوس کیا کہ راحیلہ کا گانڈ کا سوراخ کافی بڑا تھا اور اندر کی طرف تھا، یعنی کافی گہرا تھا۔ عاطف اپنی انگلی کو اس کے سوراخ پر پھیرنے لگا۔ راحیلہ نے عاطف کے سر کو مضبوطی سے تھام لیا تھا، جس سے عاطف کو اندازہ ہو گیا تھا کہ راحیلہ کو اس کی انگلی اس کی گانڈ پر اچھی لگی تھی۔
عاطف اپنی انگلی کو اس کے گانڈ کے سوراخ کے گرد گھماتا رہا، اور راحیلہ کی سانسوں سے اس کی بے چینی کا اندازہ ہو رہا تھا۔ وہ اس کا منہ تو عاطف کے منہ کے ساتھ جڑا ہوا تھا، لیکن اس کی ناک سے نکلنے والی تیز سانسوں کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ عاطف نے اپنا منہ اس کے منہ سے ہٹا لیا۔ راحیلہ نے لمبی لمبی سانسیں لینا شروع کر دیں۔ عاطف کے لیے راحیلہ کا یہ ردعمل کچھ عجیب تھا۔ اسے یہ تو معلوم تھا کہ کچھ عورتوں کو چوت سے زیادہ گانڈ میں مزا آتا ہے، لیکن صرف عاطف کی ایک انگلی سے راحیلہ کا اس طرح بے چین ہو جانا واقعی عجیب تھا۔
عاطف نے اپنا منہ راحیلہ کے کان کے قریب لے جا کر کہا، “کیا ہوا، اچھا لگ رہا ہے؟”
راحیلہ نے اپنی تیز سانسوں کو سنبھالتے ہوئے کہا، “ہاں۔”
عاطف نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، “تم الٹا لیٹ جاؤ۔”
راحیلہ نے اپنا رخ بدلا اور الٹا ہو کر لیٹ گئی۔ عاطف اپنی جگہ سے اٹھا، اس نے کمبل کو ایک طرف کر دیا اور پھر وہ راحیلہ کی ٹانگوں کے درمیان میں آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے راحیلہ کی شلوار کو اس کی گانڈ سے نیچے کر دیا اور راحیلہ کی کمیز کو اوپر کر دیا۔ باہر بالکنی کی بتی جل رہی تھی۔ عاطف کو بالکل صاف تو نہیں نظر آ رہا تھا، لیکن اس کی روشنی میں وہ کچھ کچھ دیکھ سکتا تھا۔ راحیلہ کی بڑی، اوپر کو اٹھی ہوئی گانڈ عاطف کے سامنے تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور اس کے ایک چوتھڑ کو دبانے لگا۔ پھر اس نے اپنا دوسرا ہاتھ راحیلہ کے دوسرے چوتھڑ پر رکھ دیا۔ وہ اپنی مٹھیوں میں انہیں دبا رہا تھا۔ راحیلہ تکیے پر اپنا منہ ایک طرف رکھ کر لیٹی تھی۔
عاطف نے ایک ہاتھ ہٹا کر ایک ہلکا سا تھپڑ راحیلہ کے ہپ پر مارا۔ راحیلہ کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔ عاطف اب تھوڑی دیر اس کے دبانے کے بعد ایک تھپڑ مارتا۔ راحیلہ ہر تھپڑ پر بے چینی سے سسکارتی تھی۔ عاطف کو راحیلہ کا حساس پوائنٹ مل گیا تھا۔ اس نے کہیں پڑھا تھا کہ ہر انسان، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اس کے جسم میں ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جس پر چھونے سے اسے جنسی ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ راحیلہ کی وہ جگہ اس کی گانڈ تھی۔ چوتھڑ کیونکہ جسم کا سخت حصہ ہیں، انسان ان کے سہارے بیٹھتا ہے اور وہ کافی سخت ہوتے ہیں، اس لیے ان پر چھونے سے زیادہ مارنا اثر انداز ہوتا ہے۔
عاطف انہیں کافی دیر تک اسی طرح تھپڑ مارتا رہا اور مٹھیوں میں دباتا رہا۔ پھر اس نے اس کے دونوں چوتھڑوں کو ہاتھوں کی مدد سے کھولا اور اس کی گانڈ کا سوراخ سامنے کیا۔ اسے نظر تو نہیں آیا، لیکن اس نے انگوٹھے کی مدد سے چھو کر پتا کیا کہ سوراخ کہاں ہے۔ عاطف نے اس کے سوراخ پر تھوکا اور پھر اپنے ایک ہاتھ کی انگلی اس نے سوراخ پر رکھی اور دبا دی۔ انگلی تھوک کو ساتھ لیتے ہوئے گانڈ کے سوراخ میں گھس گئی۔ راحیلہ کی گانڈ کا سوراخ کافی بڑا اور کھلا تھا۔ انگلی آسانی سے اندر گھس گئی تھی، اور جیسے ہی انگلی اندر گئی، راحیلہ کے منہ سے ایک سسکاری نکلی۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں تکیے کو بینچ لیا تھا۔
عاطف تھوڑی دیر تک انگلی کو اندر باہر کرتا رہا۔ راحیلہ کی سانسوں کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ پھر عاطف اٹھا، اس نے اپنا پاجامہ اتارا اور واپس راحیلہ کے اوپر آ گیا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو راحیلہ کے اطراف میں بیڈ پر رکھا اور اپنا لن راحیلہ کی گانڈ کے اوپر رکھ دیا۔ پھر وہ اسی طرح بغیر اندر ڈالے راحیلہ پر لیٹ گیا اور ہلنے لگا۔ اس نے ایک ہاتھ سے راحیلہ کی گردن سے بالوں کو ہٹایا اور اس کی گردن پر چومنے لگا۔ راحیلہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر پیچھے سے اوپر کیا اور عاطف کی کمر کو تھام لیا۔
اچانک راحیلہ نے زور زور سے سانسیں لینا شروع کر دیں اور اس نے اپنے ہاتھوں سے عاطف کی کمر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کے منہ سے اونچی آواز میں سسکاریاں نکلنے لگیں۔ وہ چھوٹ رہی تھی۔ وہ عاطف کے نیچے اس طرح تڑپنے لگی جیسے کوئی مچھلی پانی کے باہر تڑپتی ہے۔ پھر کچھ دیر بعد وہ رک گئی۔ اس کی سانسیں اب بھی تیز تھیں۔ عاطف اس کے اوپر سے ایک طرف گر گیا۔
راحیلہ کچھ دیر تک اسی طرح پڑی رہی۔ پھر جب تھوڑی سانس بحال ہوئی تو اس نے اپنا رخ بدل کر عاطف کی طرف کیا اور اپنے ہونٹ عاطف کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ ایک لمبی کس کرنے کے بعد اس نے اپنے ہونٹ ہٹائے اور بولی، “تم نے اندر کیوں نہیں ڈالا؟”
عاطف بولا، “میں نے سنا ہے کہ پیچھے اندر کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے جب میں نے دیکھا کہ تمہارا حساس پوائنٹ تمہارے پیچھے ہے، تو میں نے اندر ڈالے بغیر ہی یہ سب کیا۔”
راحیلہ بولی، “امجد نے کافی ریسرچ کی تھی۔ وہ تو کہتا ہے کہ نکاح نہیں ٹوٹتا۔ ہاں، بیوی کا راضی ہونا ضروری ہے۔”
عاطف بولا، “پتا نہیں، میں نے تو یہی سنا ہے۔”
راحیلہ بولی، “تم نے اندر نہیں ڈالا، لیکن مجھے بہت مزا دیا۔ شکریہ۔” پھر وہ کچھ دیر رک کر بولی، “اب میری باری۔ اب میں تمہیں مزا دوں گی۔”
پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور عاطف کے اوپر آ کر بیٹھ گئی۔ اس نے عاطف کے لن کو، جو ابھی بھی فل تنا ہوا تھا، ہاتھ میں لیا اور اپنی چوت اس پر رکھ کر اندر لے لیا۔ پھر واقعی جیسے اس نے گھما گھما کر اور جس جس انداز سے اوپر نیچے ہو کر عاطف کو مزا دیا، عاطف نے زندگی میں کبھی سیکس کا اتنا مزا نہیں لیا تھا۔
چوتھا دن
راحیلہ کی آنکھ کھلی تو ہر روز کی طرح عاطف کمرے میں نہیں تھا۔ راحیلہ حیران تھی کہ اتنی جوان عمر میں بھی وہ لڑکا ہو کر اس سے پہلے کیسے اٹھ جاتا تھا ہر روز۔ اور رات کو تو وہ کافی دیر سے سوئے تھے۔ رات کو پہلی بار انہوں نے ایک سے زیادہ بار سیکس کیا تھا۔ راحیلہ اٹھی اور واش روم میں چلی گئی۔ پھر جب وہ واش روم سے فارغ ہو کر واپس آئی تو عاطف کمرے میں آ چکا تھا۔
“گھوم آئے؟ صبح صبح کیا کوئی بہت خوبصورت لڑکیاں مل جاتی ہیں جو ہر روز نکل جاتے ہو صبح صبح ہی؟” راحیلہ نے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا۔
عاطف بھی اس کی بات سن کر مسکرا پڑا۔ پھر بولا، “جب تم کمرے میں ہو تو مجھے باہر خوبصورتی تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟”
راحیلہ کو اس کا یوں فلرٹ کرنا اچھا لگا۔ “اگر میرے اندر تمہیں خوبصورتی نظر آئے تو تم مجھے یوں اکیلا سوتا ہوا چھوڑ کر کیوں چلے جاتے ہو؟” راحیلہ نے بھی اسی ترنگ میں جواب دیا۔
راحیلہ بات کرتے کرتے بالکنی میں نکل آئی تھی، اور عاطف بھی چلتے ہوئے اس کے پیچھے بالکنی میں آ گیا تھا۔ راحیلہ بالکنی میں باہر کی طرف لگے لوہے کے جنگلے پر بازو رکھ کر کھڑی تھی۔ عاطف نے اسے پیچھے سے دیکھا۔ اس نے کالے رنگ کی شلوار کمیز پہنی تھی، جو بہت ٹائٹ تھی۔ اس کی گانڈ بہت واضح نظر آ رہی تھی اور ابھر کر باہر کو نکلی ہوئی تھی۔ شلوار اس کی گانڈ کے ساتھ چپکی نظر آ رہی تھی، کیونکہ شلوار ادھر سے بیلٹ والی تھی، اور کمیز بڑے چاک والی تھی۔
عاطف سے رہا نہیں گیا۔ اس نے راحیلہ کو پیچھے سے اپنے ساتھ لگا لیا۔ اس نے اپنے بازو راحیلہ کے گرد لپیٹ دیے اور اس کی پشت سے چپک گیا۔ پھر بولا، “تمہارے سامنے لڑکیاں کیا چیز ہیں؟ دل تو میرا بھی نہیں کرتا تمہیں چھوڑنے کا، لیکن مجبوری ہے۔ دل کو سمجھا لیتا ہوں۔”
راحیلہ نے اس کے پیٹ پر رکھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور بولی، “خیر ہے، آج تو صبح صبح بہت رومانٹک ہو رہے ہو۔ تم کہتے ہو کہ میں بہت خوبصورت ہوں، قسم سے۔”
عاطف نے آہستہ آواز میں کہا، “تمہیں کیسے پتا؟ تم نے تو میرا حسن کبھی دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔”
راحیلہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ عاطف اس کی بات کا مطلب سمجھ گیا تھا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، دروازے پر دستک ہوئی۔ عاطف نے راحیلہ کو چھوڑا اور جا کر دروازہ کھولا۔ باہر روم سروس بوائے تھا، ناشتہ لے کر آیا تھا۔ پھر کچھ دیر میں انہوں نے ناشتہ وغیرہ کیا۔
ناشتے سے فارغ ہو کر عاطف بولا، “آج کیا ارادہ ہے؟ کہاں جانا ہے آج؟”
راحیلہ بولی، “آج کہیں نہیں جانا ہے۔ آج میں کچھ تھکی ہوئی ہوں۔ آج کمرے میں ہی رہتے ہیں۔”
عاطف خود بھی کہیں نہیں جانا چاہ رہا تھا۔ وہ دونوں ٹی وی دیکھنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد راحیلہ بولی، “تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے؟”
عاطف بولا، “کیوں، تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”
راحیلہ بولی، “ویسے ہی، جنرل انفارمیشن کے لیے۔ تم خوبصورت ہو، جوان ہو، زبردست شخصیت کے مالک ہو۔ اچھی آمدنی ہے تمہاری۔ ایسے لڑکوں پر تو لڑکیاں مرتی ہیں۔”
عاطف مسکرا کر بولا، “تعریف کا شکریہ۔ ہاں، ایک لڑکی ہے تو سہی۔”
راحیلہ فوراً اس کی طرف منہ کر کے بولی، “کون ہے وہ؟ کیا میں اسے جانتی ہوں؟”
عاطف بولا، “نہیں، تم اس سے کبھی نہیں ملی۔ میرے آفس میں کام کرتی ہے۔”
راحیلہ نے سر ہلا کر کہا، “اچھا۔ کیسی ہے؟ خوبصورت ہے؟”
عاطف بولا، “ہاں، خوبصورت تو ہے۔”
راحیلہ کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئی۔ پھر نظریں نیچے کر کے بولی، “وہ جوان ہو گی، تمہاری ہی عمر کی ہو گی۔ تمہیں اچھی تو لگے گی ہی نہ۔”
عاطف اب اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ وہ راحیلہ کے الفاظ کا مطلب نہ سمجھ پاتا۔ اس نے راحیلہ کو اپنے پاس کیا اور اس کے ماتھے پر چوما اور بولا، “تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے وہ۔ بلکہ اس دنیا میں تم سے زیادہ خوبصورت کوئی اور عورت یا لڑکی نہیں ہے۔”
راحیلہ نے اس کے لہجے میں سنجیدگی محسوس کی تھی۔ وہ دل سے بول رہا تھا۔ راحیلہ خوش ہو گئی۔ عورت کو ویسے بھی تعریف ہمیشہ اچھی لگتی ہے، چاہے وہ جھوٹی ہو یا سچی۔ راحیلہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے مصنوعی غصے سے کہا، “مکھن مت لگاؤ۔”
عاطف نے اسے اور قریب کیا اور پھر اسے تھوڑا اٹھایا اور اپنی گود میں بٹھا لیا۔ راحیلہ کی نرم نرم گانڈ اس کی گود میں بہت اچھی لگی۔ اس نے راحیلہ کے پیروں کو زمین سے اٹھا کر صوفے پر رکھا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ راحیلہ نے بھی اپنے بازو اس کے کندھوں کے گرد لپیٹ دیے۔
عاطف بولا، “مکھن نہیں لگا رہا، سچ بول رہا ہوں۔ تمہاری قسم۔”
راحیلہ نے اس کے سینے پر سر رکھ لیا اور بولی، “یہ تم مجھے آپ آپ کیوں بولتے ہو؟ میرا نام لیا کرو۔ میں تمہاری بیوی ہوں، ماں نہیں۔”
عاطف نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، “میرا نام لینا کیا تمہیں اچھا لگے گا؟” وہ بولنا تو چاہ رہا تھا کہ تم میری بھابی تھیں اور کچھ دنوں بعد واپس میری بھابی ہی بن جاؤ گی، اس لیے نام نہیں لیتا، لیکن پھر اس نے یہ بات نہیں بولی کیونکہ وہ راحیلہ کے اتنے اچھے موڈ کو خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
راحیلہ بولی، “ہاں، مجھے اچھا لگے گا اگر تم میرا نام لو گے تو۔ اور تم نے پھر آپ کہا۔ بند کرو یہ آپ آپ کہنا۔”
عاطف لڑکھڑاتی آواز میں بولا، “اچھا، راحیلہ جی، اب نہیں بولوں گا آپ۔”
“یہ تمہاری آواز کو کیا ہوا؟” راحیلہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“وہ پہلی بار تمہارا نام لیتے ہوئے زبان لڑکھڑا گئی۔” عاطف بولا۔
راحیلہ چلا اٹھی، “تم نے پھر آپ بولا۔”
عاطف کو سچ میں بہت مشکل پیش آ رہی تھی اس کا نام لیتے ہوئے اور تم بولتے ہوئے، کیونکہ وہ راحیلہ کو بچپن سے ہی آپ کر کے ہی مخاطب کرتا تھا۔ راحیلہ پہلے اس کی بڑی کزن تھی اور بعد میں اس کی بھابی بن گئی۔ پچھلے کئی سالوں سے تو وہ ہمیشہ اس کے گھر میں ایک بڑے فرد کی طرح رہی تھی۔
عاطف بولا، “سوری بابا، اب کوشش کروں گا تم بولنے کی۔”
پھر بولنے کے ساتھ ساتھ ہی عاطف نے اپنا ایک ہاتھ راحیلہ کی ٹانگوں کے نیچے ڈالا اور ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد اور اسے اٹھا کر صوفے سے بیڈ پر لے آیا۔ اس نے راحیلہ کو بیڈ پر لیٹایا اور بولا، “اگر تمہاری اجازت ہو تو میں ابھی ایک بار کر لوں۔”
اس نے جس طرح پوچھا تھا، راحیلہ کو بہت شرم بھی آئی لیکن اس کی ہنسی بھی چھوٹ گئی۔ وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے کوئی ٹیچر سے واش روم جانے کی اجازت مانگ رہا ہو۔ عاطف نے مسکراتے ہوئے اس کے پاس لیٹ گیا۔ پھر اسے اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے بولا، “تم نے اجازت نہیں دی۔” راحیلہ اس کے ساتھ لپٹتے ہوئے بولی، “کس بات کی اجازت چاہیے تم کو؟” عاطف بولا، “سیکس کرنا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ۔” راحیلہ نے بھی مزا لیتے ہوئے کہا، “وہ کیا ہوتا ہے؟” عاطف بولا، “جب کروں گا تو پتا چل جائے گا۔” راحیلہ بولی، “تم رات کو تھکے نہیں؟ کتنی بار تو کیا تھا۔ مرد کبھی تھکتا نہیں، جانِ من۔” راحیلہ ہنس پڑی، اسے عاطف کے منہ سے “جانِ من” سن کر ہنسی آ گئی تھی۔ پھر وہ بولی، “ابھی کر لو گے تو رات کو کیا کرو گے؟” عاطف بولا، “رات کو بھی کروں گا۔ میرا بس چلے تو میں چوبیس گھنٹے تمہارے ساتھ کرتا رہوں۔” راحیلہ بولی، “مارنے کا ارادہ ہے کیا؟” عاطف بولا، “جانِ من، سیکس کرنے سے تم مرو گی نہیں۔” راحیلہ نے اپنی ٹانگ اس کی ٹانگوں پر رکھ کر کہا، “تو جانِ من، پھر میری اجازت کی کیا ضرورت ہے تم کو؟ میں تو پہلے ہی تین بار ’قبول ہے، قبول ہے‘ بول کر اپنی ہر چیز تمہارے نام کر چکی ہوں۔ تم جب چاہو، جیسے چاہو استعمال کرو۔”
عاطف نے اپنا ہاتھ اس کی کمر پر رکھ دیا اور اس کے جسم پر پھیرنے لگا اور اپنے ہونٹ راحیلہ کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ عاطف آج راحیلہ کے جسم کا ایک ایک حصہ دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ دن کی روشنی کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا، جو کمرے میں آ کر پورا کمرہ روشن کر رہی تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ آج ہمت کر کے راحیلہ کی قمیض بھی اتار دینی ہے۔ عاطف کافی دیر تک باتوں کے ذریعے راحیلہ کو گرم کر چکا تھا۔ راحیلہ اب بالکل تیار تھی۔ عاطف نے اپنا ہاتھ راحیلہ کی چوت پر رکھا تو چوت والی جگہ سے شلوار کافی گیلی تھی۔ عاطف اس کی چوت کو شلوار کے اوپر سے ہی مسلنے لگا۔ راحیلہ عاطف کی زبان کو منہ میں لے کر چوس رہی تھی۔ راحیلہ نے اپنا ایک ہاتھ عاطف کے پاجامے کے اوپر سے اس کے لن پر رکھ دیا، اس نے اس کے لن کو پکڑا اور ہاتھ میں لے کر دبانے لگی۔ عاطف پیچھے ہٹا اور اپنی شرٹ اتار دی اور واپس راحیلہ کے ساتھ لگ گیا۔ راحیلہ اب اپنا ہاتھ اس کی ننگی کمر پر پھیرنے لگی۔ عاطف اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا اور اپنا ہاتھ واپس اس کی چوت پر رکھ دیا۔
پھر عاطف نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے الگ کیے اور بولا، “تم بھی اپنی قمیض اتار دو۔” راحیلہ اپنی جگہ سے بغیر کچھ بولے اٹھی اور اس نے اپنے بازو اوپر اٹھا دیے۔ عاطف بھی اٹھا اور اس نے راحیلہ کی قمیض کو پکڑا اور اوپر کی طرف اتار دیا۔ راحیلہ اب صرف اپنے کالے بریزیئر میں تھی۔ وہ واپس لیٹ گئی۔ عاطف نے پہلی بار راحیلہ کا جسم روشنی میں یوں ننگا دیکھا تھا۔ راحیلہ کا نرم ملائم گورا پیٹ اور بازو ننگے تھے۔ اس کے بڑے بڑے مموں کا اوپری حصہ اس کے برا سے باہر نکل رہا تھا۔ عاطف نے اس کے پیٹ پر اپنی زبان رکھ دی۔ راحیلہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا۔ عاطف اس کی ناف کے سوراخ، جو کہ بہت بڑا اور کھلا تھا، کے گرد اپنی زبان پھیرنے لگا اور اپنے ہاتھ سے راحیلہ کی ٹانگوں کو کھولا اور اپنی انگلیوں کو اس کی چوت اور گانڈ پر پھیرنے لگا۔ کیونکہ عاطف جانتا تھا کہ راحیلہ کو چوت سے زیادہ گانڈ کو چھونا اچھا لگتا ہے، اس لیے وہ چوت سے زیادہ اپنی انگلیوں کو اس کی گانڈ پر پھیر رہا تھا۔ راحیلہ کی سانسوں کی رفتار بڑھنے لگی تھی۔ عاطف اس کے پیٹ پر زبان پھیرتا ہوا اوپر کی طرف آنے لگا۔ اس نے اس کے مموں کے اوپری حصوں کو چومنا شروع کر دیا۔ پھر عاطف نے اس کے برا کو پکڑا اور اس کے مموں سے اوپر کر دیا۔
عاطف اس کے بڑے بڑے مموں کو دیکھ کر خوش ہو گیا۔ اس نے جیسا سوچا تھا، اس سے بھی خوبصورت تھے راحیلہ کے ممے۔ وہ سائز میں بہت بڑے تھے، ان کے نپل کافی بڑے تھے۔ بھورے رنگ کے نپل بہت ہی خوبصورت تھے۔ عاطف نے اپنا منہ راحیلہ کے ایک ممے پر رکھ دیا۔ اس کا ایک ہاتھ مسلسل راحیلہ کی چوت اور گانڈ پر تھا۔ اس نے دوسرا ہاتھ ایک ممے پر رکھ دیا۔ وہ راحیلہ کے ممے کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔ راحیلہ کے ہاتھ اس کے سر کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے اور اس کی چوت مسلسل پانی بہا رہی تھی۔ عاطف اپنی انگلیوں پر بڑھتے گیلے پن کو محسوس کر رہا تھا۔ عاطف کافی دیر تک اس کے مموں کو چوستا رہا، کبھی وہ ایک ممے کو منہ میں لے کر چوسنے لگتا، کبھی دوسرے کو۔ پھر کافی دیر بعد راحیلہ کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بول اٹھی، “عاطف، جلدی کرو پلیز۔” عاطف نے اس کے ممے سے منہ اٹھایا اور اس کے ہونٹوں کو چوما۔ پھر وہ نیچے کی طرف آیا اور اس نے راحیلہ کی شلوار کو پکڑا اور اتار دیا۔
راحیلہ کی چوت بہت ہی کھلی اور بڑی تھی۔ راحیلہ کا پورا جسم بہت گورا تھا، لیکن اس کی چوت کے ہونٹ بہت کالے تھے، لیکن اندر کا گلابی پن اس کی چوت کے کالے ہونٹوں سے نظر آ رہا تھا۔ راحیلہ کی چوت کے تھوڑا ہی نیچے اس کی گانڈ کا سوراخ تھا، وہ بھی کافی بڑا تھا۔ راحیلہ کی چوت کے اوپر اس کا دانہ بہت بڑا تھا اور راحیلہ کی چوت کے ہونٹوں میں سے دونوں اطراف کافی بڑی بڑی گوشت کی پتلی سی دیواریں تھیں۔ عاطف نے اس کی چوت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس کو مسلنے لگا۔ اس کے دانے کو انگوٹھے کی مدد سے مسل رہا تھا اور اپنی ہتھیلی کو اس کی چوت کے منہ پر مسل رہا تھا۔ پھر عاطف نے راحیلہ کو الٹا ہونے کا اشارہ کیا۔ راحیلہ الٹی ہو گئی۔ عاطف نے اپنے ہونٹ اس کی گانڈ پر رکھ دیے۔ جیسے ہی عاطف نے اپنی زبان کو اس کی گانڈ کی لکیر کے اندر ڈالا، راحیلہ کا جسم ایک دم اکڑا اور اس کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں بیڈ کی چادر کو جکڑ لیا۔ عاطف اس کی گانڈ کی لکیر میں اپنی زبان کافی دیر تک چلاتا رہا۔
پھر اس نے اپنا منہ ہٹایا اور راحیلہ کو سیدھا ہونے کے لیے کہا۔ راحیلہ سیدھی ہو کر لیٹ گئی۔ عاطف اٹھا اور اس نے اپنا پاجامہ اتار دیا۔ راحیلہ نے پہلی بار اس کا لن دیکھا۔ وہ کافی بڑا تھا، امجد سے ڈبل تھا اور کافی موٹا بھی تھا۔ راحیلہ اس کے لن کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی جب عاطف کی نظر پڑی۔ عاطف اوپر آیا اور اس کے پیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کا لن اب راحیلہ کے مموں کے اوپر تھا۔ اس نے راحیلہ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے لن پر رکھ دیا۔ راحیلہ اس کے لن کو پکڑ کر ہاتھ میں لے کر ہلانے لگی۔ کچھ دیر بعد عاطف نے اپنا لن اس کے ہاتھ سے نکالا اور واپس نیچے آیا۔ پھر اس نے راحیلہ کی ٹانگوں کو اٹھایا اور اپنے کندھوں پر رکھا اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔ پھر ہاتھ نیچے لے جا کر اس نے اپنا لن راحیلہ کی چوت پر رکھا اور ایک زور دار دھکا مارا۔ لن اندر اترتا چلا گیا۔ راحیلہ کے منہ سے “آہ” نکل گئی۔ راحیلہ کے گھٹنے اس کے سینے سے لگ رہے تھے اور اوپر عاطف لیٹا تھا۔ راحیلہ کے ہاتھ عاطف کی کمر پر تھے۔ عاطف زور زور سے اندر باہر کرنے لگا۔ راحیلہ کے منہ سے “آہ آہ آو ہوں” جیسی آوازیں آ رہی تھیں۔
عاطف کو ابھی اندر باہر کرتے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ راحیلہ کی حالت نے اسے بتا دیا کہ وہ چھوٹنے والی ہے۔ عاطف نے اس کی ٹانگوں کو چھوڑا اور اس کے ساتھ چپک گیا اور اندر باہر کرنے لگا۔ راحیلہ نے اپنی ٹانگوں کو اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیا اور اب ٹانگوں کی مدد سے وہ بھی عاطف کے ہر دھکے پر نیچے سے اوپر کو اٹھتی تھی۔ پھر اس نے عاطف کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنے دانتوں کو عاطف کے کندھے میں گاڑ دیا۔ اس کے منہ سے ایک لمبی لیکن ہلکی آواز میں چیخ نکل گئی۔ کچھ ہی دیر میں وہ واپس نارمل ہو گئی تھی۔ عاطف اس کے اوپر سے اٹھا اور بولا، “تم گھوڑی بن جاؤ، میں پیچھے سے کروں گا۔” راحیلہ اٹھی اور اپنے گھٹنوں پر بیڈ پر گھوڑی بن گئی۔ عاطف کھڑا ہو گیا اپنے پیروں پر۔ وہ راحیلہ کے پیچھے آیا اور اس نے اپنے ہاتھ راحیلہ کے کندھوں پر رکھے اور پیروں پر کھڑے کھڑے ہی وہ تھوڑا سا جھکا اور اپنا لن اس نے چوت کے منہ پر فٹ کیا اور اندر ڈال دیا۔ اب وہ راحیلہ کے کندھوں کو پکڑ کر اپنے پاؤں پر کھڑا لن اندر باہر کر رہا تھا۔ پیچھے سے اس کا لن اندر باہر ہوتا صاف نظر آ رہا تھا۔ عاطف مسلسل اپنی پوری طاقت سے لن کو اندر کی طرف گھسا رہا تھا۔ وہ پورا لن باہر نکالتا اور پھر زور سے اندر ڈالتا تھا۔ راحیلہ اس کے ہر جھٹکے پر چلا رہی تھی، لیکن آواز مدھم ہی تھی۔
کچھ ہی دیر میں راحیلہ کی چوت واپس عاطف کے لن کو جکڑنے لگی اور راحیلہ کی آوازوں سے عاطف کو سمجھ آ گئی کہ وہ پھر سے چھوٹنے والی ہے۔ لیکن اس بار عاطف بھی منزل کے قریب تھا۔ وہ زور زور سے جھٹکے مارتا رہا۔ پھر تھوڑی دیر بعد راحیلہ اس کے زور دار جھٹکوں کے نتیجے میں گر گئی کیونکہ اس کا پورا وزن بھی راحیلہ کے اوپر ہی تھا، اس لیے وہ بھی اس کے اوپر گر گیا۔ راحیلہ کو اس نے گردن سے پکڑا اور اپنا لن، جو گرنے کے باوجود اندر ہی تھا، اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں راحیلہ ایک بار پھر فارغ ہو گئی۔ عاطف نے اسی وقت اپنا لن باہر نکالا اور اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا اور لن ہاتھ میں لے کر ہلانے لگا۔ اس نے لن کی ٹوپی راحیلہ کی گانڈ کے سوراخ پر رکھی ہوئی تھی۔ پھر اس کے لن سے پانی نکلا اور راحیلہ کی گانڈ کے سوراخ پر گرنے لگا۔ عاطف فارغ ہونے کے بعد راحیلہ کے ایک طرف گر گیا۔ وہ دونوں کچھ دیر تک اپنا سانس نارمل کرتے رہے۔
پھر عاطف نے سچ میں اپنی بات ثابت کر دکھائی تھی۔ وہ پورا دن راحیلہ کی چوت کے اندر اپنا لن ڈالے ہوئے اندر باہر ہی کرتا رہا۔ راحیلہ کو یاد تھا کہ شادی کے شروع کے دنوں میں امجد اسے زیادہ سے زیادہ چار بار ہی کرتا تھا، لیکن عاطف نے تو حد کر دی تھی۔ راحیلہ کو ہی مجبوراً اسے روکنا پڑا کیونکہ اس کی چوت اتنا استعمال ہونے کے بعد جلنے لگی تھی۔
پانچواں دن
ٹی وی پر ایک رومانٹک اور سیکسی گانا چل رہا تھا۔ راحیلہ اور عاطف بیڈ پر لیٹے ہوئے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ راحیلہ نے اپنا سر عاطف کے سینے پر رکھا ہوا تھا۔ اس کا ایک ہاتھ عاطف کے پاجامے کے اندر تھا، جس میں اس نے عاطف کا لن پکڑا ہوا تھا اور اس کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ عاطف اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔ راحیلہ کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ آئی اور پھر وہ بولی، “عاطف!”
“کیا ہوا؟” عاطف نے جواب دیا۔
“ایک بات پوچھوں؟” راحیلہ کے چہرے پر وہی شرارتی مسکراہٹ تھی۔
“ہاں، پوچھو۔”
عاطف بولا، “تم کو میری لینے میں زیادہ مزہ آتا ہے یا اپنی گرل فرینڈ کی؟”
راحیلہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا، اس کا سر ابھی بھی عاطف کے سینے پر ہی تھا۔ عاطف اس کی بات سن کر چونک پڑا۔ اسے اس طرح کے جملے کی امید نہیں تھی۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ راحیلہ اس طرح کھل کر ایسی بات اس سے پوچھے گی۔
“ک ک کیا مطلب؟” اس نے اٹک اٹک کر پوچھا۔
“کیا ہوا، شرما کیوں رہے ہو؟ سیدھی سی بات تو پوچھی ہے۔ تم کو میری چوت مارنے کا زیادہ مزہ آتا ہے یا عالیہ کی؟” راحیلہ بولی۔
راحیلہ کے اس جواب نے عاطف کو پہلے سے بھی زیادہ حیران کر دیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دے۔ ایسی بات تو کبھی اس کی کسی گرل فرینڈ نے بھی اس طرح ڈائریکٹ نہیں کی تھی۔ راحیلہ کے ہاتھ میں اس کا لن اکڑنا شروع ہو گیا تھا۔ راحیلہ کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ بڑھ گئی۔ وہ عاطف کی حالت کا مزہ لے رہی تھی۔ جب عاطف نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تو وہ بولی، “کیا ہوا، بول کیوں نہیں رہے ہو؟”
عاطف بولا، “کیا بولوں؟ میری بات کا جواب دو نہ، تم کو میری لینے میں زیادہ مزہ آتا ہے یا عالیہ کی؟”
راحیلہ نے کہا۔ ویسے راحیلہ خود بھی حیران تھی کہ کیسے وہ یہ سب اتنی آسانی سے بول رہی تھی۔ اس طرح کی بات آج تک اس نے امجد سے کبھی نہیں کی تھی۔ عاطف اب تھوڑا سنبھل گیا تھا۔ وہ بولا، “تمہاری۔”
“کیوں؟” راحیلہ نے پوچھا۔
“اب اس کا میں کیا جواب دوں؟ بس تمہاری لینے کا زیادہ مزہ آتا ہے۔” عاطف نے آہستہ آواز میں بولا۔
“اچھا، چلو یہ بتاؤ، اس کی چوت میں اور میری چوت میں تم کو کیا فرق محسوس ہوا ہے؟” راحیلہ نے پوچھا۔
“یہ تم کیسے سوال کر رہی ہو؟” عاطف بولا۔
“کیوں، کیا ہوا؟ شرم آ رہی ہے؟” راحیلہ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
“نہیں، پر مجھے اچھا نہیں لگ رہا اس طرح بات کرنا تمہارے ساتھ۔” عاطف نے جواب دیا۔
“اچھا نہیں لگ رہا تو یہ کیوں کھڑا ہو رہا ہے؟” راحیلہ نے اس کے لن کو دباتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں، میرا مطلب کہ ایزی فیل نہیں کر رہا میں یہ سب تمہارے منہ سے سن کر۔” عاطف نے جواب دیا۔
“اچھا، چلو نہیں بولتی اب۔” راحیلہ نے ہنس کر کہا۔
پھر وہ دونوں کچھ دیر تک چپ چاپ لیٹے رہے۔ کچھ دیر بعد راحیلہ نے اپنا منہ اوپر کیا اور عاطف کی گردن کو چومتے ہوئے اس کے کانوں کے پاس اپنا منہ لے جا کر بولی، “تم کو لن چسوانا اچھا لگتا ہے کیا؟”
عاطف نے سر ہلا دیا۔
“کیا میں چوسوں؟” راحیلہ نے اس کے کان کے قریب اپنے ہونٹ لے جا کر اس کے کان میں آہستہ سے بولا۔
“ہاں۔” عاطف نے صرف اتنا ہی کہا۔
عاطف کو راحیلہ کا انداز مدہوش کر رہا تھا۔ راحیلہ نے اس کے گال کو چوما، پھر اس نے اپنی زبان اس کی گردن پر پھیرنا شروع کر دی۔ پھر اس نے پوچھا، “پورا منہ میں لوں یا صرف ٹوپی؟”
عاطف کی سانسوں کی رفتار بڑھ گئی تھی۔
“اچھا۔” راحیلہ نے اس کو بولا اور پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور چوسنے لگی۔ پھر اس نے اپنا منہ اس کے ہونٹوں سے اٹھایا اور نیچے اس کی ٹانگوں پر آ گئی اور اس کا پاجامہ تھوڑا نیچے کر دیا اور اس کے کھڑے لن کو ہاتھ میں لے لیا اور اس کو ہاتھ میں لے کر مساج کرنے لگی۔ وہ لن کی پوری لمبائی کو ہاتھ میں لے کر مساج کر رہی تھی۔ وہ جس طرح سے ہاتھ چلا رہی تھی، عاطف مزے میں پاگل ہو رہا تھا۔ پھر راحیلہ نے اپنا منہ نیچے کیا اور اپنی زبان نکال کر اس نے لن کی ٹوپی کے نیچے والے حصے پر پھیرنی شروع کر دی۔ عاطف کے لن سے ایک قطرہ نکل آیا تھا۔ راحیلہ نے اپنی زبان اس قطرے پر پھیری اور اس کو چاٹ لیا۔ عاطف راحیلہ کا یہ روپ دیکھ کر حیران تھا۔ اسے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی راحیلہ تھی، جسے وہ پچھلے دس سالوں سے گھر کے کاموں میں ہر وقت الجھے ہوئے دیکھتا تھا۔ اسے کبھی بھی اسے دیکھ کر ایسا نہیں لگا تھا کہ راحیلہ کے اندر ایک ایسی عورت بھی چھپی ہے۔ راحیلہ اس کے لن کو نیچے سے لے کر ٹوپی تک اپنی زبان سے چاٹ رہی تھی۔ پھر اس نے سر اٹھا کر پوچھا، “مزہ آ رہا ہے یا نہیں؟”
عاطف نے اکھڑتی سانسوں کے درمیان بولا، “آج تو پاگل کر رہی ہو تم۔”
راحیلہ نے ایک بار پھر منہ نیچے کر لیا۔ اس بار اس نے لن کو منہ میں لے لیا۔ عاطف کے ہاتھ اس کے سر پر آ گئے تھے اور وہ بہت نرمی کے ساتھ اس کے سر کو اپنے پر دبا رہا تھا۔ راحیلہ کچھ دیر تک اس کی ٹوپی منہ میں لے کر چوستی رہی۔ پھر اس نے پورا لن منہ میں لے کر منہ کو اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا۔ عاطف اس کے منہ کی نرمی اور گرمی اپنے لن پر محسوس کر رہا تھا اور جس طرح سے وہ اپنا منہ اس کے لن پر اوپر نیچے کر رہی تھی، وہ بھی عاطف کے لیے بہت ہی مزے کا باعث تھا۔ عاطف کی یہ پہلی بار نہیں تھی جب کوئی عورت اس کے لن کو چوس رہی تھی۔ اس کی زندگی میں ایسا بہت بار ہو چکا تھا، لیکن آج ایک بار پھر وہ راحیلہ کا فین ہو گیا تھا کیونکہ راحیلہ کے منہ میں اپنا لن دے کر جو مزہ مل رہا تھا، عاطف کو آج تک نہیں ملا تھا۔ شاید یہ وہی نفسیاتی وجہ تھی یا راحیلہ کے چوسنے کا طریقہ، لیکن مزہ بہت ہی زیادہ تھا۔ پھر کافی دیر تک راحیلہ اس کے لن کو منہ میں لے کر چوستی رہی۔ وہ مختلف طریقوں سے منہ کو گھوما گھوما کر اس کی ٹوپی کے گرد اپنے ہونٹوں کو چلا رہی تھی۔
“میں چھوٹنے والا ہوں۔” اچانک عاطف نے اس کو بولا۔
راحیلہ نے اس کے لن سے منہ ہٹا لیا اور ہاتھ میں لے کر اس کو ہلانے لگی اور اس کا منہ لن کے سامنے ہی تھا۔ پھر عاطف کے لن سے منی نکل کر اس کے منہ کے اوپر گرنے لگی۔ اس کے لن سے منی کے فوارے راحیلہ کے گالوں پر اور بالوں پر گر رہے تھے۔
چھٹا دن
قسمت انسان کو کیا کیا وقت دکھاتی ہے۔ راحیلہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی قسمت کبھی اسے ایسے امتحان میں بھی ڈالے گی۔ وہ ایک ایسے موڑ پر آ گئی تھی جہاں فیصلہ کرنا اس کے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا۔ اس کا دل اور جسم عاطف کا ساتھ چاہتے تھے، لیکن دماغ اسے سمجھا رہا تھا کہ اس طرح وہ اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ کئی اور زندگیاں بھی برباد کر دے گی۔ وہ انہی سب سوچوں میں گم لیٹی تھی۔ عاطف ایک طرف سو رہا تھا۔ کھڑکی سے سورج کی روشنی اندر آ رہی تھی۔ راحیلہ نے اپنے ساتھ لیٹے عاطف کی طرف دیکھا۔ کچھ ہی دنوں میں اسے عاطف کے ساتھ اتنا پیار ہو گیا تھا جتنا شاید امجد کے ساتھ شادی کے دس سالوں میں نہیں ہوا تھا۔ راحیلہ نے عاطف کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا اور اپنا منہ عاطف کے قریب کر کے اس کے گال کو چوما۔ عاطف اس کے گیلے ہونٹوں کے لمس کی وجہ سے اٹھ گیا۔
“کیا ہوا؟ صبح صبح پیار آ رہا ہے میرے پر؟” عاطف نے اپنا رخ اس کی طرف کر کے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے پوچھا۔
“میں تم سے بہت بہت زیادہ پیار کرتی ہوں۔” راحیلہ نے بھی اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
“میں بھی۔” عاطف نے اس کے ماتھے کو چوم کر بولا۔
راحیلہ بولی، “عاطف!”
“ہاں، کیا ہوا؟” عاطف نے جواب دیا۔
“کل ہم کو سات دن ہو جائیں گے۔” راحیلہ نے اداس آواز میں کہا۔
اس کی بات سن کر عاطف بھی جیسے اصل دنیا میں آ گیا۔ وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ جس عورت کے ساتھ وہ لیٹا ہے، وہ اس کے بھائی کی سابقہ بیوی ہے اور وہ صرف کچھ دنوں کے لیے اس کی ہوئی ہے۔
“کیا ہوا، کچھ بولو۔” راحیلہ نے اسے چپ دیکھ کر دوبارہ بولا۔
“کیا بولوں؟” عاطف نے آہستہ آواز میں کہا۔
“کیا تم میرے بغیر رہ پاؤ گے؟” راحیلہ نے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا۔
“نہیں، اور تم؟” عاطف نے اس سے پوچھا۔
“پتا نہیں۔” راحیلہ نے اپنا رخ بدل کر سیدھا لیٹتے ہوئے بولا۔
پھر کچھ دیر بعد بولی، “لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس کیا راستہ ہے؟”
“ایک راستہ ہے تو سہی، اگر تم میرا ساتھ دو تو۔” عاطف نے اس کے قریب جا کر اسے اپنی بانہوں میں لے کر بولا۔
“کیا؟” راحیلہ نے ایک دم اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
“پتا نہیں تم کر پاؤ گی کہ نہیں۔” عاطف نے بولا۔
“تم بتاؤ تو سہی۔” راحیلہ نے بے چینی سے بولا۔
“تم مجھے چھوڑو مت، میرے ساتھ رہو۔” عاطف نے کہا۔
“کیا مطلب، یعنی ہم ادھر ہی رہ جائیں؟” راحیلہ نے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
“نہیں، میرا مطلب میں تم کو طلاق نہیں دیتا، تم میری بیوی بن کر رہو۔” عاطف نے کہا۔
تو راحیلہ نے ایک لمبی سانس لے کر منہ دوسری طرف کر لیا۔
“کیا ہوا، تم نے کوئی جواب نہیں دیا؟” عاطف نے اسے چپ دیکھ کر بولا۔
“یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ امجد تمہارا بھائی ہے۔ کیا تم اسے چھوڑ پاؤ گے ساری زندگی کے لیے؟” راحیلہ نے کہا।
“ہاں، میں تمہاری خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔” عاطف نے اس کے چہرے کو پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے بولا۔
“تمہارے دوست، میرے جاننے والے، ہم دونوں کو ایک اور رشتے سے جانتے ہیں۔ میں ان کی نظروں کا سامنا نہیں کر پاؤں گی۔” راحیلہ نے جواب دیا۔
“ہم سب چھوڑ چھاڑ کر کہیں چلے جائیں گے، جہاں ہمیں کوئی جانتا نہیں ہو۔ ہم ایک نئی زندگی شروع کریں گے۔” عاطف نے جوشیلے انداز میں کہا۔
راحیلہ کچھ دیر تک سوچتی رہی۔ دل اس کا بھی یہی چاہ رہا تھا کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر بس اپنی پوری زندگی عاطف کے نام کر دے، لیکن اس کا دماغ اسے روک رہا تھا کہ عاطف تو ابھی نوجوان ہے اور وہ عمر کے اس حصے میں ہے جہاں اس کے لیے اس طرح کا رسک لینا بہت خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
“کیا سوچ رہی ہو؟” عاطف نے اسے سوچ میں ڈوبے دیکھ کر پوچھا۔
“کیا تم میری جیسی عورت کا ساتھ پوری زندگی دے پاؤ گے؟ مطلب ابھی تم جوان ہو اور میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں اب آگے خوبصورتی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔ تم کو جو سب اچھا لگ رہا ہے، یہ کچھ ہی سالوں میں ختم ہو جائے گا۔” راحیلہ نے ایک لمبی سانس لے کر بولا۔
“کیسی بات کر رہی ہو؟ یہ سچ ہے کہ مجھے تمہارا جسم بہت ہی زیادہ اچھا لگتا ہے اور میرا دل کرتا ہے کہ تم کو اپنے سامنے ننگا بیٹھا کر بس دیکھتا اور چومتا رہوں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میرا پیار صرف تمہارے جسم کے لیے نہیں ہے بلکہ تمہاری روح کے لیے بھی ہے۔ میں اتنا ہی پیار تمہاری اندر کی عورت سے کرتا ہوں جتنا کہ باہر کی عورت سے کرتا ہوں۔ تم تو کب سے میرے لیے ایک مثالی عورت ہو۔ میں نے ہمیشہ جب بھی اپنی شادی کے بارے میں سوچا، تمہاری جیسی عورت کے ساتھ کرنے کے بارے میں ہی سوچا۔ اب جب کہ تم میرے اتنا قریب آ گئی ہو تو میں تم کو واپس دور جاتے ہوئے نہیں دیکھ پاؤں گا۔” عاطف نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا۔
راحیلہ چپ چاپ اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔ اس کے لیے فیصلہ کرنا اور بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
“میرا یقین کرو راحیلہ، میں تمہارا خیال اپنی جان سے بھی زیادہ رکھوں گا۔ میں تم کو اپنے ہی گھر میں اپنے سامنے کسی اور مرد کے ساتھ اب نہیں دیکھ سکتا، چاہے وہ میرا بھائی اور تمہارا سابقہ شوہر ہی کیوں نہ ہو۔” عاطف بولا۔
“میرے لیے بھی یہ سب اتنا آسان نہیں ہے اب۔” راحیلہ نے جواب دیا۔
“تو پھر کیا سوچ رہی ہو؟” عاطف نے تیز لہجے میں کہا۔
“مجھے سوچنے دو۔” راحیلہ بولی۔
“ٹھیک ہے، ہمارے پاس کل تک کا وقت ہے، تم سوچ لو۔” عاطف نے کہا۔
پھر وہ کچھ دیر رُک کر بولا، “لیکن ایک بات ذہن میں رکھنا، میں تم سے بہت بہت زیادہ پیار کرتا ہوں اور مجھے تم اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہو۔”
راحیلہ نے اس کی طرف دیکھا، پھر اپنے ہونٹ اس کے منہ پر رکھ دیے اور اپنی زبان اس کے منہ میں گھسا دی۔ کچھ دیر کی گہری کس کرنے کے بعد منہ ہٹا کر بولی، “میں بھی تم کو بہت زیادہ پیار کرتی ہوں۔”
راحیلہ یہ بول کر اٹھنے لگی تو عاطف نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس گرا لیا اور بولا، “کہاں جا رہی ہو؟”
راحیلہ مسکرا کر بولی، “چھوڑو، کپڑے پہننے دو۔ پچھلے تین دن سے تم نے مجھے ننگا کر رکھا ہے۔ کپڑے کیا ہوتے ہیں، میں تو بھول ہی گئی ہوں۔”
عاطف بھی مسکرا کر بولا، “پہن لینا، ایک بار میری پیاس تو بجھا دو۔”
پھر عاطف نے کمبل کو ایک طرف پھینکا اور اس کی چوت کی طرف آیا۔ اس کی چوت خشک تھی۔ عاطف نے اپنی زبان اس پر رکھ دی اور اپنی ایک انگلی اس کے گانڈ کے سوراخ کے گرد گھمانے لگا۔ پھر اس نے تھوڑا تھوک اس کی گانڈ کے سوراخ پر بھی ڈالا اور اپنی انگلی اندر ڈال دی۔ راحیلہ کی چوت گیلی ہونا شروع ہو گئی تھی۔ عاطف اپنی زبان کو اس کے دانے پر اور انگلی کو اس کی گانڈ میں چلاتا رہا۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور اس نے راحیلہ کی ٹانگوں کو پکڑ کر اپنے کندھوں پر رکھا اور اس پر لیٹ گیا۔ اپنا لن اس نے ایک ہاتھ نیچے کر کے اس کی چوت کے سوراخ پر سیٹ کیا اور ایک زور کا دھکا مارا۔ لن گہرائی میں اترتا چلا گیا۔ راحیلہ کے منہ سے “اُف” کی آواز نکلی اور پھر کمرے میں تھک تھک، شڑپ شڑپ، آہ آہ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ عاطف اسے پندرہ منٹ تک چودتا رہا اور راحیلہ بھی اس دوران دو بار فارغ ہو چکی تھی۔ عاطف نے پندرہ منٹ بعد اس کی چوت کو اپنے پانی سے سیراب کر دیا اور ایک طرف گر گیا۔
راحیلہ اپنی جگہ سے اٹھی۔ اس نے ایک طرف پڑا اپنا دوپٹہ اٹھایا اور عاطف کا لن صاف کیا اور پھر اس نے اپنی چوت کے نیچے رکھا تاکہ اندر سے منی باہر نہ گر جائے اور اٹھ کر واش روم کی طرف چلی گئی۔ راحیلہ واش روم میں آ کر باتھ ٹب میں بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ عاطف کی طلب تھی جو اسے عاطف کی طرف کھینچ رہی تھی، لیکن اسے امجد کا پیار بھی یاد تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ وہ اس الجھن میں امجد کی وجہ سے ہی پھنسی ہے۔ پھر اس کے دماغ نے امجد کی صفائی دینا شروع کر دی اور وہ سوچنے لگی کہ امجد چاہتا تو اسے طلاق دے کر گھر سے نکال بھی سکتا تھا، پھر وہ کہاں جاتی؟ امجد نے اس کے لیے ہی تو یہ سب کیا تھا۔ اگر وہ یہ حلالہ والی بات پر عاطف کو راضی نہ کرتا تو وہ کہاں جاتی؟ اس کا دنیا میں اور کوئی ہے بھی نہیں۔ اسے یاد آنے لگا کہ امجد نے کبھی بھی اسے کوئی تکلیف نہیں آنے دی تھی۔ بس کبھی کبھی غصے پر کنٹرول نہیں رکھ پاتا تھا اور اس پر چلا پڑتا تھا، لیکن بعد میں مناتا بھی تھا۔ وہ جیسے جیسے یہ سب سوچ رہی تھی، اس کی الجھن اور بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہو گئے۔ وہ بے آواز رونے لگی۔
امجد بیڈ پر لیٹا تھا۔ وہ کب سے سونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن نیند اس کی آنکھوں سے روٹھ گئی تھی شاید۔ جس دن سے راحیلہ اس کے بیڈ سے گئی تھی، اسے نیند نہیں آئی تھی۔ بس کبھی کچھ دیر آنکھ لگ جاتی تو فوراً واپس کھل بھی جاتی۔ لیکن آج وہ خوش تھا کیونکہ اس کی اپنی غلطی کی وجہ سے جو اس پر مشکل دن آئے تھے، اب جانے والے تھے۔ کل راحیلہ اور عاطف واپس آنے والے تھے اور اس کے بعد ان کی زندگی بہت جلد واپس روٹین پر آنے والی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ اس کا بھائی کتنا اچھا ہے کہ اس نے اس کے مشکل وقت میں اس کا کتنا ساتھ دیا۔ اگر وہ نہ ہوتا یا وہ نہ مانتا تو کیا ہوتا؟ وہ راحیلہ کے بارے میں سوچنے لگا۔ وہ سوچنے لگا کہ میری ایک غلطی کی وجہ سے راحیلہ کو کتنی تکلیف دیکھنی پڑی ہے۔ لیکن ایک بار اب وہ آ جائے تو میں اسے دنیا کی ہر خوشی دوں گا۔ راحیلہ کے بارے میں سوچ کر اس کی آنکھیں نم ہونا شروع ہو گئیں۔
عاطف سڑک کے کنارے لگے ایک بینچ پر اپنے ہاتھوں پر اپنا منہ رکھ کر سوچوں میں گم تھا۔ وہ جان بوجھ کر راحیلہ کو کمرے میں اکیلا چھوڑ کر آیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ راحیلہ کو سوچنے کا موقع مل جائے اور وہ اچھی طرح سوچ کر فیصلہ کرے۔ اسے یقین تھا کہ راحیلہ اس کا ساتھ ہی دے گی۔ لیکن پھر بھی اس کے ذہن میں ایک سوال اسے بڑا بے چین کر رہا تھا کہ اگر راحیلہ نے اس کے حق میں فیصلہ نہ دیا تو وہ کیا کرے گا؟ اس کے لیے اب راحیلہ کے بغیر رہنا ناممکن تھا۔
آخری دن
عاطف صوفے پر نیم دراز تھا۔ اس نے اپنی ٹانگوں کو زمین پر پھیلا رکھا تھا اور سر صوفے کی پشت پر ٹکا رکھا تھا۔ راحیلہ اس کی ٹانگوں کے درمیان زمین پر بیٹھی تھی اور عاطف کے لن کو منہ میں لے کر چوس رہی تھی۔ عاطف کی آنکھیں بند تھیں۔ کچھ دیر تک راحیلہ اسی طرح بیٹھے اس کا لن چوستی رہی۔ پھر راحیلہ اٹھی اور اس نے اپنی شلوار اتار دی۔ قمیض پہلے ہی نہیں تھی، وہ بالکل ننگی ہو گئی تھی۔ وہ عاطف کی ٹانگوں کے اوپر آئی اور اپنی ٹانگوں کو کھول کر اس کے لن کے اوپر اپنی چوت کو فٹ کیا اور بیٹھ گئی۔ لن چوت کی گہرائیوں میں غائب ہو گیا۔ عاطف تھوڑا اٹھا اور اس نے اپنے ہاتھوں کو اس کے چوتڑوں کے نیچے رکھ کر اسے اوپر نیچے ہونے میں مدد کرنے لگا۔ راحیلہ کے بڑے بڑے ممے عاطف کے منہ کے آگے اچھل رہے تھے۔ راحیلہ نے اپنے ہاتھوں سے عاطف کا ہاتھ پکڑا اور عاطف کا منہ اپنے مموں کے ساتھ لگا دیا۔ عاطف نے ایک ممے کے نپل کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ کمرہ راحیلہ کی آواز سے گونج رہا تھا۔ پھر کچھ دیر بعد راحیلہ کی آواز میں اور اس کی رفتار میں تیزی آنے لگی۔ عاطف نے بھی نیچے سے ہلنا شروع کر دیا۔ پھر عاطف کے لن سے نکلنے والے پانی نے راحیلہ کی چوت کو بھرنا شروع کر دیا۔ عاطف نے واپس اپنا جسم صوفے پر گرا دیا اور سر کو صوفے کی پشت پر ٹکا دیا۔ راحیلہ بھی اس کے اوپر لیٹ گئی۔
اپنے دونوں کچھ وقت اپنی سانسوں کو نارمل کرنے میں لگا۔
“میں نے بہت سوچا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہمارے لیے ساتھ رہنا ممکن نہیں۔” راحیلہ نے بولا۔
تو عاطف کو ایک جھٹکا لگا۔ وہ جب کمرے میں آیا تھا تو اس نے راحیلہ سے پوچھا تھا کہ کیا فیصلہ کیا ہے تم نے، لیکن راحیلہ نے ٹال دیا تھا اور تب سے لے کر اب تک جیسے راحیلہ اس کے ساتھ پیش آ رہی تھی، اس سے عاطف کو لگ رہا تھا کہ راحیلہ نے وہی فیصلہ کیا ہے جو وہ چاہتا تھا۔ لیکن اب راحیلہ کی بات سن کر اسے شدید شاک لگا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن راحیلہ نے اسے واپس گرا دیا اور اوپر لیٹی رہی۔ پھر بولی، “دیکھو، مجھے غلط مت سمجھو۔ نہ میں سب خوشی کے ساتھ کر رہی ہوں اور نہ ہی امجد مجھے تم سے زیادہ عزیز ہے، لیکن میرے بچے ہیں۔ میری وجہ سے ان کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔”
عاطف نے اس کی بات کاٹ دی اور دکھی لہجے میں بولا، “اور میری زندگی کا کیا ہو گا؟ تم نے سوچا کچھ اس بارے میں بھی جو میری زندگی برباد ہو جائے گی، اس کا کیا؟”
“پلیز عاطف، میرے لیے اور مشکل مت پیدا کرو۔” راحیلہ نے بھرائی آواز میں کہا۔
“تم لوگوں نے مجھے مذاق سمجھا ہے۔ پہلے میں یہ سب کرنا نہیں چاہتا تھا اور تم نے مجھے مجبور کیا اور اب جب میں تم کو چھوڑنا نہیں چاہتا تو تم مجھ سے دور جانا چاہتی ہو۔” عاطف نے غصے سے کہا۔
راحیلہ نے اس کے منہ کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے گال کو چومنے لگی، لیکن عاطف نے ایک جھٹکے سے اسے ایک طرف کیا اور اسے صوفے پر پھینک کر کھڑا ہو گیا۔
“بند کرو یہ ڈرامے بازی اب۔ تمہاری انہی حرکتوں کی وجہ سے میں پہلے بھی غلط فہمی کا شکار ہو گیا۔ لیکن اب نہیں، میں اب تمہاری اس ڈرامے بازی میں نہیں آؤں گا۔ ارے، اگر تم نے صرف اپنا کام ہی نکلوانا تھا مجھ سے تو پہلے دن ہی کر تو دیا تھا میں نے۔ کیوں تم نے سات دن گزارے میرے ساتھ؟ کیوں مجھے اپنی عادت ڈالی؟” عاطف چلا کر بولا۔
راحیلہ نے رونا شروع کر دیا۔ “تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو۔ کیا تم چاہو گے کہ کل کو ہماری وجہ سے میرے بچوں کی زندگی تباہ ہو جائے؟ تم کیوں نہیں سوچ رہے، یہ معاشرہ بہت ظالم ہے، یہ خاندان نہیں دیکھتا۔” راحیلہ نے روتے ہوئے بولا۔
عاطف غصے میں کھڑا اسے دیکھتا رہا اور پھر واش روم میں گھس گیا۔ وہ واش روم میں شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا اور سچ میں اس نے پہلی بار راحیلہ کی توجہ دلانے کے بعد بچوں کے بارے میں سوچا تھا۔ وہ بچے اس کا خون تھے، اس کے بھائی کی اولاد تھے۔ اور وہ بہت پیار کرتا تھا ان سے۔ اسے راحیلہ کی بات ٹھیک لگنے لگی تھی۔ لیکن اس کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ اب وہ کرے کیا؟ اس کی اپنی زندگی تباہ ہو رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اس کا غصہ کم ہونے لگا اور اس نے سوچا کہ راحیلہ ٹھیک ہی کہہ رہی ہے۔ اپنی ایک خوشی کے لیے انہیں بچوں کی زندگی کو تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ واش روم سے باہر آیا۔ راحیلہ ابھی تک رو رہی تھی۔ وہ سیدھا اس کے پاس آیا، صوفے پر بیٹھا اور اسے اپنے قریب کیا اور اس کے ماتھے پر چوم کر بولا، “چپ کر جاؤ۔ غلطی میری ہی ہے۔ آئی ایم سوری، مجھے تم پر غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
راحیلہ اور تیز آواز میں رونے لگی اور اس کے سینے سے لگ گئی۔ “مجھے معاف کر دینا پلیز۔” راحیلہ نے روتے ہوئے بولا۔
“نہیں، اس میں تمہارا کیا قصور؟ ہمیں تو خاندان کے چکر نے ایسی جگہ لا کر چھوڑا ہے کہ ہم نہ آگے کے رہے نہ پیچھے کے۔” عاطف نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
پھر کچھ دیر تک وہ ایسے ہی ایک دوسرے کے ساتھ لگے سوچوں میں گم رہے۔
“چلو، تیار ہو جاؤ، ہمیں اب نکلنا چاہیے۔” عاطف نے کچھ دیر بعد راحیلہ کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے بولا۔
راحیلہ اٹھی اور واش روم میں چلی گئی۔ پھر اگلے ایک گھنٹے میں وہ دونوں تیار ہو کر ہوٹل کا حساب کلیئر کر کے گاڑی میں آ بیٹھے۔ دونوں چپ اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔ سارا راستہ خاموشی میں ہی گزرا۔ عاطف نے گاڑی اپنے گھر والی بلڈنگ کے نیچے کھڑی کی اور نیچے اتر آیا۔ راحیلہ نے دوسری طرف سے نیچے اتر گئی۔
“تم چلو، میں ابھی آتا ہوں۔” عاطف نے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
راحیلہ نے سر ہلا دیا اور چل پڑی۔ راحیلہ اپنے گھر میں داخل ہوئی تو بچے اس کے ساتھ لپٹ گئے۔ امجد بھی گھر پر ہی تھا۔ وہ بھی راحیلہ کو دیکھ کر خوش ہو گیا، لیکن راحیلہ نے اس کے ساتھ زیادہ بات نہیں کی۔ امجد نے پوچھا کہ عاطف کہاں ہے تو اس نے بتا دیا کہ وہ کہیں گیا ہے اور بولا ہے کہ کچھ دیر میں آ جائے گا۔ پھر شام ہو گئی، لیکن عاطف گھر نہیں آیا۔ امجد نے کئی بار عاطف کے موبائل پر فون کیا، لیکن وہ بند جا رہا تھا۔ خود راحیلہ نے بھی کئی بار کوشش کی، لیکن فون نہیں ملا۔ وہ لوگ اس کا انتظار کرتے رہے۔ پھر یہ انتظار لمبا ہو کر کئی دنوں میں بدل گیا، لیکن عاطف نہیں آیا۔ کچھ دنوں بعد طلاق نامہ ضرور آ گیا۔ راحیلہ کے عدت کے دن پورے ہوئے تو اس کا نکاح واپس امجد کے ساتھ ہو گیا۔ اور یہ کہانی بنا کسی کو پتا چلے ختم ہو گئی۔ راحیلہ جس جگہ سے چلی تھی، وہی واپس آ کر کھڑی ہو گئی۔
کئی مہینے گزر چکے تھے۔ عاطف نے کبھی فون تک نہیں کیا تھا۔ راحیلہ تو جب سے آئی تھی، چپ تھی۔ امجد سے کم ہی بات کرتی تھی۔ بچوں کے ساتھ مصروف رہتی تھی۔ امجد اس سب میں خود کو مجرم سمجھنے لگا تھا اور پھر رہی سہی کسر ایک دن راحیلہ نے نکال دی۔ راحیلہ نے امجد کو سب بتا دیا کہ ان سات دنوں میں عاطف اور اس کے درمیان کیا ہوا تھا۔ امجد کو سب سن کر پہلے تو بہت غصہ آیا، لیکن کچھ دنوں میں وہ اس سب کا ذمہ دار خود کو سمجھنے لگا۔ کئی مہینے گزر گئے۔ راحیلہ کی زندگی واپس اسی رفتار میں آ چکی تھی۔ بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کے کاموں میں پورا دن نکل جاتا۔ لیکن عاطف کی یاد اس کی آنکھوں کو کبھی کبھی نم کر دیتی تھی۔
پھر ایک دن عاطف لوٹ آیا۔ سب خوش تھے۔ بچے اپنے چچا کو اتنی عرصے بعد مل کر بہت خوش تھے۔ راحیلہ بھی اسے دیکھ کر خوش ہو گئی تھی۔ امجد بھی خوش تو تھا، لیکن شرمندہ سا بھی تھا۔ وہ عاطف کے ساتھ بہت کم بات کر رہا تھا۔ وہ پوری شام عاطف بچوں کے ساتھ بیٹھا باتیں کرتا رہا۔ رات کو عاطف اپنے کمرے میں آیا اور بیڈ پر لیٹ گیا۔ اس نے کمرے کو دیکھا، کمرہ اسی حالت میں تھا جس حالت میں وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ پھر کچھ دیر بعد اسے نیند آ گئی اور وہ سو گیا۔ پھر اس کی آنکھ کھلی تو اس کے دروازے پر دستک ہو رہی تھی۔ اس نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا تو رات کے تین بج رہے تھے۔ وہ اٹھا اور اس نے دروازہ کھولا۔ باہر راحیلہ کھڑی تھی۔ اس نے ایک بڑی سی چادر لپیٹی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کہ عاطف کچھ بولتا، راحیلہ کمرے کے اندر آ گئی۔ عاطف بھی اندر کی طرف مڑا۔ راحیلہ بیڈ کے پاس کھڑی تھی۔ پھر اس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑی چادر کو چھوڑ دیا۔ چادر اس کے جسم سے سرکتی ہوئی زمین پر گر گئی۔ نیچے وہ بالکل ننگی تھی۔
امجد کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ راحیلہ بیڈ پر نہیں تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ رات کے اس وقت راحیلہ کہاں جا سکتی ہے۔ وہ اٹھا اور کمرے سے باہر آیا۔ اس نے کچن میں دیکھا، لیکن راحیلہ وہاں نہیں تھی۔ پھر اس کے ذہن میں کچھ آیا اور وہ عاطف کے کمرے کی طرف آیا۔ عاطف کے دروازے کے پاس پہنچا تو اسے ہلکی سی بیڈ کی چرچراہٹ اور پچ پچ کی آواز آئی۔ وہ سب سمجھ گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔ راحیلہ عاطف کے ساتھ چدائی کرنے کے بعد اس کے کمرے سے نکلی۔ اس نے جسم کے گرد وہی چادر واپس لپیٹی ہوئی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں پہنچی تو امجد سو رہا تھا۔ وہ سیدھی واش روم میں گئی اور اپنے کپڑے پہن کر آ کر بیڈ پر لیٹ گئی۔ پھر وہ سو گئی۔ آج کئی مہینوں بعد اسے پرسکون نیند آئی تھی۔
اگلے کچھ دنوں میں گھر کے حالات بدلنے لگے۔ راحیلہ جو چپ رہنے لگی تھی، واپس ہنسی اس کے چہرے پر لوٹ آئی، جسے دیکھ کر بچے بہت خوش تھے۔ عاطف نے بھی واپس کام شروع کر دیا تھا اور اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا تھا۔ امجد بھی اپنے فیصلے پر خوش تھا۔ اس کی ایک چپ ان سب کی زندگیوں میں خوشیاں لے آئی تھی۔ وہ روز رات کو راحیلہ کو عاطف کے کمرے میں جاتے دیکھتا تھا اور پھر واپسی پر راحیلہ کے جسم سے نکلنے والی سیکس کی مہک کو سونگھتا تھا، لیکن اس نے کبھی بھی راحیلہ کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *