Sun. Sep 13th, 2026
?>

رابعہ کی بے لگام چوت کی بھوک

رابعہ ایک خوبصورت اور شریفیں گھرانے کی عورت تھی مگر اندر سے وہ بہت بڑی رنڈی تھی۔ اس کی چوت ہمیشہ موٹے لنڈ کی بھوک میں جلتی رہتی تھی۔ اس کی کہانی اس دن سے شروع ہوئی جب شاہد نے اس کی چوت چودنا شروع کیا۔

شاہد نے رابعہ کو اپنے اوپر اٹھا لیا۔ رابعہ نے اس کے سینے پر تھوک لگا کر چاٹ لیا اور بولی، “شاہد مجھے پہلو میں لٹنے دو۔” شاہد نے موٹا لنڈ ہلاتے ہوئے کہا، “میری رنڈی، میں تمہاری چوت میں پورا دن لنڈ ڈال کر رکھ سکتا ہوں۔” رابعہ نے فحش مسکراہٹ دی، “شاہد تمہیں کب بلاؤں میری چوت چودنے؟”

شاہد نے کہا، “شام کے بعد تمہاری چوت چودوں گا۔” رابعہ نے کہا، “خطرہ ہے مگر تمہارا لنڈ مجھے پاگل کر دیتا ہے۔” دونوں نے باتیں کیں اور پھر شاہد نے رابعہ کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ رابعہ چیخ اٹھی، “آہ شاہد… پھاڑ دو میری چوت…!” شاہد نے زور زور سے دھکے مارے۔ رابعہ کی چوچیوں کو دباتا رہا اور گانڈ میں بھی لنڈ ڈال دیا۔ رابعہ پاگل ہو کر چیختی رہی، “چودو… زور سے چودو… میری گانڈ پھاڑ دو…!”

شاہد نے رابعہ کی چوت میں تھوک بھر دیا۔ رابعہ نے لنڈ منہ میں لے کر چوسا اور سارا تھوک نگل لیا۔ اس کے بعد دونوں نہائے۔ رابعہ نے شاہد کو الوداع کیا اور سوچنے لگی کہ اب وہ کس طرح روز لنڈ لے گی۔

دوپہر کو فرحان آیا۔ رابعہ نے اسے باورچی خانے میں لے جا کر بوسہ لیا۔ فرحان نے اس کی چوچی دبائی اور لنڈ نکال دیا۔ رابعہ نے فوراً لنڈ منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی۔ فرحان نے رابعہ کو میز پر لٹا دیا اور اس کی چوت میں لنڈ دے مارا۔ رابعہ چیخ اٹھی، “فرحان زور سے چودو… میری چوت بھر دو…!” فرحان نے لمبی چودائی کی اور رابعہ کی چوت اور گانڈ دونوں بھر دی۔

رات کو عمر آیا۔ رابعہ نے اسے بیڈروم میں لے جا کر ننگا کیا۔ عمر نے رابعہ کی چوت چاٹی اور کلیٹ چوسا۔ رابعہ نے کہا، “عمر تمہارا لنڈ مجھے چاہیے۔” عمر نے لنڈ ڈالا اور رابعہ کو زور زور سے چودا۔ رابعہ چیختی رہی، “آہ… پھاڑ دو… مزہ دے رہے ہو…!” عمر نے رابعہ کی گانڈ بھی چودی۔

اگلے دن رابعہ کی چوت میں خارش ہوئی۔ اس نے شاہد کو بلایا۔ شاہد آیا اور رابعہ کو غسل خانے میں لے گیا۔ وہاں شاور کے نیچے رابعہ نے شاہد کے لنڈ پر اچھلنا شروع کیا۔ شاہد نے اس کی چوچیوں کو کاٹا اور لنڈ گہرائی میں ڈالا۔ رابعہ نے کہا، “شاہد تمہارا لنڈ بہت موٹا ہے… میری چوت پھٹ رہی ہے…!” شاہد نے گھنٹوں چودائی کی۔

رابعہ اب روز تین چار مردوں سے چودواتی تھی۔ ایک دن اس نے عمر کے بڑے بھائی کو بھی بلایا۔ تینوں مل کر رابعہ کو چودنے لگے۔ ایک لنڈ چوت میں، ایک گانڈ میں اور ایک منہ میں۔ رابعہ خوشی سے پاگل ہو رہی تھی۔ وہ چیخ رہی تھی، “سب کے لنڈ مجھے دو… میری تمام سوراخ بھر دو…!”

رابعہ کی چودائی کی بھوک بڑھتی گئی۔ وہ کبھی چھت پر، کبھی گھر کے پچھلے حصے میں، کبھی باورچی خانے میں مردوں سے چودواتی رہتی۔ اس کی چیخیں گھر میں گونجتیں۔ وہ کہتی، “مجھے رنڈی بنا دو… روز نئی چودائی دو…!”

اس کی چوچیوں کو مرد چوستے، چوت کو چاٹتے اور لنڈ ڈالتے۔ رابعہ ہر بار جھڑ جاتی اور مزہ لیتی۔ اس کی زندگی اب صرف چوت چودوانے کی رہ گئی تھی۔

رابعہ ایک خوبصورت عورت تھی۔ باہر سے دیکھنے میں بہت شریفیں لگتی تھی مگر اندر سے اس کی چوت ہمیشہ موٹے لنڈ کی بھوک میں جلتی رہتی تھی۔ اس کی چودائی کی کہانی شاہد سے شروع ہوئی۔

ایک دن شاہد نے رابعہ کو اپنے اوپر اٹھا لیا۔ رابعہ نے اس کے سینے پر تھوک لگا کر چاٹ لیا اور بولی، “شاہد مجھے پہلو میں لٹنے دو ورنہ تم تھک جاؤ گے۔” شاہد نے موٹا لنڈ ہلاتے ہوئے کہا، “میری رنڈی، میں تمہاری چوت میں پورا دن لنڈ ڈال کر رکھ سکتا ہوں۔ مجھے تمہاری بھاری چوچیوں اور موٹی چوت کو دبانے کا بہت مزہ آتا ہے۔”

رابعہ نے فحش مسکراہٹ دی اور پوچھا، “شاہد کب بلاؤں تمہیں میری چوت چودنے؟” شاہد نے جواب دیا، “شام چھ بجے کے بعد تمہاری چوت اور گانڈ چودنے کو تیار رہتا ہوں۔” رابعہ نے کہا، “شام کے بعد شوہر گھر میں ہوتا ہے، خطرہ ہے۔” شاہد نے اس کی چوت پر تھپکی ماری، “تب دن میں ہی تمہاری چوت چود لیں گے۔”

رابعہ نے اس کے سینے پر منہ رکھ کر پوچھا، “تم میری چوت کو اتنا یاد کیوں کر رہے تھے؟” شاہد نے لنڈ رابیا کی ران پر رگڑتے ہوئے کہا، “تمہاری چوت نے مجھے پاگل کر دیا ہے۔ تمہاری چوت تنگ، گرم اور بہت خاص ہے۔”

رابعہ نے لنڈ دباتے ہوئے کہا، “میرے لیے بھی یہی ہے۔ تم نے جو میری چوت چودی ہے، شوہر نے کبھی نہیں چودی۔” دونوں نے لمبا بوسہ لیا۔ شاہد نے کہا، “رات کو سوتے ہوئے بھی تمہاری چوت یاد آتی ہے۔” رابعہ نے شرارت کی، “تو رات کو آ کر میری چوت اور گانڈ چودو گے؟”

اب رابعہ مکمل طور پر شاہد کے اوپر لیٹی تھی۔ شاہد کا موٹا لنڈ اس کی رانوں کے درمیان سخت ہو رہا تھا۔ شاہد نے لنڈ سیدھا کیا اور رابعہ کی چوت پر رگڑنے لگا۔ رابعہ نے پوچھا، “دوبارہ چودنا چاہتے ہو؟” شاہد نے کہا، “ہاں تمہاری چوت کی وجہ سے۔” رابعہ نے کہا، “اجازت کی ضرورت نہیں، جب لنڈ کھڑا ہو تو میری چوت تیار ہے۔ چلو غسل خانے میں۔”

غسل خانے میں شاور کے نیچے رابعہ نے شاہد کے موٹے لنڈ پر اچھلنا شروع کیا۔ شاہد نے اس کی چوچیوں کو زور سے دبایا اور کاٹا۔ رابعہ چیخ اٹھی، “آہ شاہد… تمہارا لنڈ بہت موٹا ہے… میری چوت پھٹ رہی ہے…!” شاہد نے پہلے چوت میں پورا لنڈ ڈالا پھر گانڈ میں دے مارا۔ رابعہ پاگل ہو کر چیختی رہی، “چودو… زور سے چودو… میری گانڈ پھاڑ دو…!”

شاہد نے گھنٹوں تک دھکے مارتے رہے۔ رابعہ کئی بار جھڑ گئی۔ آخر میں شاہد نے رابعہ کی چوت میں موٹا گرم تھوک بھر دیا۔ رابعہ نے لنڈ منہ میں لے کر چوسا اور سارا تھوک نگل لیا۔

اس کے بعد رابعہ نے شاہد کو نہلایا۔ شاہد کا لنڈ تیسری بار سخت ہو گیا۔ رابعہ نے لنڈ پکڑ لیا اور بولی، “اب دوبارہ چودو۔” شاہد نے اسے دیوار سے لگا کر لنڈ چوت میں دے مارا۔ رابعہ چیخی، “آہ… پھاڑ رہا ہے…!” شاہد نے پھر چودائی کی۔

دوپہر کو فرحان آیا۔ رابعہ نے فوراً اسے اندر بلایا اور باورچی خانے میں لے گئی۔ فرحان نے رابعہ کی قمیض اتاری اور چوچیوں کو چوسنے لگا۔ رابعہ نے فرحان کا لنڈ نکال کر منہ میں لے لیا اور زور زور سے چوسنے لگی۔ فرحان نے رابعہ کو میز پر لٹا دیا اور اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ رابعہ چیخ اٹھی، “فرحان زور سے چودو… میری چوت بھر دو…!” فرحان نے لمبی چودائی کی اور رابعہ کی چوت اور گانڈ دونوں میں تھوک بھر دیا۔

رات کو عمر آیا۔ رابعہ نے اسے بیڈروم میں لے جا کر ننگا کیا۔ عمر نے رابعہ کی چوت چاٹی، کلیٹ چوسا اور انگلیاں ڈالیں۔ رابعہ نے کہا، “عمر تمہارا لنڈ مجھے دو۔” عمر نے لنڈ ڈالا اور رابعہ کو زور زور سے چودا۔ رابعہ چیختی رہی، “آہ… مزہ دے رہے ہو… میری گانڈ بھی چودو…!” عمر نے گانڈ بھی چودی اور رابعہ کی چوت بھر دی۔

اگلے دن رابعہ کی چوت میں شدید خارش تھی۔ اس نے شاہد کو بلایا۔ شاہد آیا تو رابعہ نے فوراً کپڑے اتار دیے اور بولی، “جلدی سے میری چوت چودو۔” شاہد نے غسل خانے میں لے جا کر رابعہ کو شاور کے نیچے کھڑا کیا اور لنڈ ڈال دیا۔ رابعہ چیختی رہی، “شاہد زور سے… پھاڑ دو…!”

اس دن کے بعد رابعہ روز تین چار مردوں سے چودواتی۔ ایک دن اس نے عمر کے بڑے بھائی کو بھی بلایا۔ تین مرد مل کر رابعہ کو چودنے لگے۔ ایک لنڈ چوت میں، ایک گانڈ میں، ایک منہ میں۔ رابعہ خوشی سے پاگل ہو رہی تھی اور چیخ رہی تھی، “سب کے لنڈ مجھے دو… میری تمام سوراخ بھر دو… مجھے رنڈی بنا دو…!”

رابعہ کی چودائی کی بھوک دن بہ دن بڑھتی گئی۔ وہ کبھی چھت پر، کبھی پچھلے حصے میں، کبھی باورچی خانے میں مردوں سے چودواتی رہتی۔ اس کی چیخیں گھر بھر میں گونجتیں۔ وہ ہر مرد سے کہتی، “آؤ میری چوت پھاڑو… گانڈ پھاڑو… چوچیوں کو چوسو…!”

رابعہ اب مکمل رنڈی بن چکی تھی۔ اس کی زندگی صرف چوت چودوانے اور لنڈ چوسنے کی رہ گئی تھی۔ وہ ہر نئے لنڈ کے لیے بے تاب رہتی تھی اور کہتی تھی، “مزید چودو… اور مزہ دو…!”

رابعہ کی چودائی کی بھوک اب حد پار کر چکی تھی۔ ایک دن اس نے شاہد، فرحان، عمر اور عمر کے بڑے بھائی سب کو ایک ساتھ بلایا۔ چاروں مرد گھر میں آ گئے۔ رابعہ نے سب کے سامنے اپنے کپڑے اتار دیے اور ننگی ہو کر بولی، “آج تم سب مل کر میری چوت اور گانڈ کو پھاڑ دو۔ مجھے مکمل رنڈی بنا دو۔”

شاہد نے سب سے پہلے رابعہ کو بستر پر لٹا دیا اور اس کی چوت میں موٹا لنڈ دے مارا۔ رابعہ چیخ اٹھی، “آہ شاہد… زور سے چودو…!” فرحان نے رابعہ کی چوچیوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ عمر نے رابعہ کا سر پکڑ کر لنڈ منہ میں ڈال دیا۔ عمر کا بھائی رابعہ کی گانڈ میں لنڈ ڈالنے لگا۔

رابعہ چاروں طرف سے بھری ہوئی تھی۔ وہ پاگل ہو کر چیخ رہی تھی، “چودو سب… میری چوت پھاڑ دو… گانڈ پھاڑ دو… منہ بھر دو…!” چاروں مرد زور زور سے دھکے مار رہے تھے۔ رابعہ کی چیخیں گھر میں گونج رہی تھیں۔ وہ بار بار جھڑ رہی تھی مگر مرد تھکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

شاہد نے پہلے رابعہ کی چوت میں تھوک بھر دیا۔ فرحان نے چوچیوں پر تھوک لگا دیا۔ عمر نے منہ میں بھر دیا۔ عمر کے بھائی نے گانڈ میں بھر دیا۔ رابعہ تھوک سے تر ہو چکی تھی۔ وہ خوشی سے بولی، “مزہ آ گیا… تم سب نے مجھے رنڈی بنا دیا ہے۔”

اس دن کے بعد رابعہ نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ اپنی چوت کی بھوک کو کبھی نہیں روکے گی۔ وہ ہر روز مختلف مردوں کو بلاتی اور ان سے چودواتی رہتی۔ کبھی دو، کبھی تین، کبھی چار مرد ایک ساتھ اس کی چوت، گانڈ اور منہ بھرتے۔ رابعہ ہر بار چیختی، “اور چودو… مزید لنڈ دو… مجھے رنڈی سمجھ کر چودو…!”

چند ماہ بعد رابعہ مکمل طور پر ایک بے لگام رنڈی بن چکی تھی۔ اس کا شوہر اور بیٹا باہر رہتے تھے اس لیے گھر اس کی چودائی کا اڈہ بن گیا تھا۔ رابعہ دن رات لنڈ چوسنے اور چودوانے میں مصروف رہتی۔ اس کی چوت ہمیشہ بھری رہتی اور وہ ہمیشہ نئی چودائی کی تلاش میں رہتی۔

رابعہ کی زندگی اب صرف ایک بات پر ختم ہو گئی تھی — چوت کی بھوک۔ وہ ہر مرد سے کہتی، “آؤ مجھے چودو… میری چوت تمہاری ہے… جتنا مرضی چودو…!” اس کی یہ بے لگام چودائی کی کہانی آج بھی گاؤں میں مشہور ہے۔ رابعہ آج بھی اپنی چوت کی بھوک کو پورا کر رہی ہے اور ہر نئے لنڈ کا انتظار کر رہی ہے۔