ہیلو دوستو! میری ایج 38 ہے اور میرے لن کا سائز 9 انچ لمبا اور 4 انچ موٹا ہے اور میرے لن کا ٹوپہ موٹا اور لال اور نرم ملائم ہے۔ میری تین بہنیں ہیں اور میں تینوں بہنوں سے بڑا ہوں اور میں بچپن سے اپنی تینوں بہنوں کو بہت پیار کرتا اور باہوں میں بھرتا۔ لیکن جب میں ماہم کو باہوں میں بھرتا تو مجھے بہت مزہ آتا، اصل میں میری دو بہنیں تو چھوٹی تھیں لیکن میری بہن ماہم بڑی تھی یعنی جوان تھی اور ممے بھی بڑے تھے اور گانڈ بھی موٹی تھی اور ماہم بہت خوبصورت ہے۔ ماہم کا خوبصورت سا چہرہ بہت پیارا ہے۔ نیلی نیلی آنکھیں ہیں اور بھرے بھرے گال ہیں۔ رس سے بھرے رسیلے ہونٹ ہیں۔ اور ماہم کے بڑے مموں کی کیا بات ہے! ماہم کی گانڈ نرم ملائم اور لچکدار ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم گاؤں میں رہتے تھے۔ میں نے جاب کے لیے اپلائی کیا ہوا تھا اور مجھے فون آیا اور مجھے سب بتا دیا، سیلری بھی بہت تھی اور اپارٹمنٹ میں فلور بھی ملا اور گاڑی بھی ملی۔ مما پاپا کو بتایا اور میں نے جانے سے انکار کیا، میں نے کہا باہر کا کھانا، آفس کا کام، گھر میں کام، میں نہیں کر سکتا۔ پھر پاپا مما نے مشورہ کر کے کہا، بیٹا! تم ایسا کرو، ماہم کو ساتھ لے جاؤ۔ میں نے ماہم سے پوچھا تو ماہم نے خوشی سے ہاں کہا۔ پھر ہم ایک ایئرپورٹ سے دوسرے ایئرپورٹ اترے، ٹیکسی لی اور ہم اپنے اپارٹمنٹ آئے، ٹیکسی والے کو کرایہ دیا، پھر ہم لفٹ سے اپنے فلور میں آئے، سامان رکھ کر ماہم نے سارا گھر دیکھا اور تعریف کی اور صرف ایک روم میں ڈبل بیڈ تھا، اس بیڈ پہ ہم دونوں ساتھ سوتے۔۔۔ ماہم کو بہت گھمایا پھرایا، پھر میں گھر سے آفس اور آفس سے گھر، پھر جب سیلری ملی تو ماہم کو بہت شاپنگ کرائی، اچھے اچھے کپڑے اور سینڈل اور ڈھیر سارا میک اپ لے کر دیا تو ماہم بہت خوش ہوئی۔ چھٹی کے دن ماہم کو فلم دکھانے لے جاتا، پھر ہم ایک بیڈ پہ اور ایک ہی رضائی میں سوتے، پھر صبح کو ماہم اٹھ کر پہلے تیار ہوتی، پھر سَج سَنور کر ناشتہ بنا کر مجھے اٹھانے آتی تو جب میں آنکھ کھول کر دیکھتا تو ماہم اپنے خوبصورت سے چہرے کے ساتھ مسکرا کر کہتی، ناشتہ کر لو۔ پھر جب میں آفس سے گھر آتا تو ماہم سَج سَنور کر اپنے خوبصورت چہرے کے ساتھ مسکراتی ہوئی مجھے ملتی۔ جب میں گھر ہوتا تو ماہم اسی طرح سَج سَنور کے رہتی اور میں ماہم کو باہوں میں بھر کر چوم کر ماہم کی بہت تعریف کرتا۔ ہمارے سوا اور کوئی گھر میں نہ تھا تو اس لیے ماہم اور میں ہمیشہ کھیلتے اور ہم بچپن سے کشتی کرتے، تو ماہم میرے اوپر ہوتی تو میں نیچے ہوتا، تو کبھی میں ماہم کے اوپر ہوتا تو ماہم میرے نیچے ہوتی اور اب بھی ہم ویسے ہی کشتی کرتے اور پکڑن پکڑائی اور چھیڑ چھاڑ، مستی مذاق کرتے۔ جب کہ میرے اور ماہم کے سوا گھر میں کوئی نہیں تھا اور میں ہر وقت ماہم کا خوبصورت سا چہرہ دیکھتا اور ماہم میرے سامنے سَج سَنور کے آتی۔۔۔
اور اب میں ماہم کو جب دیکھتا تو مجھے کچھ ہونے لگتا اور من کرتا دیکھوں، یعنی اب میں گھر میں صرف ماہم کو دیکھتا، ماہم کے چہرے کو دیکھتا اور ماہم کے بڑے مموں کو دیکھتا، پھر ماہم کی گانڈ پر بھی نظر پڑتی۔ اب من میں کبھی خیال آتا دیکھنے کا تو جب دیکھتا تو من میں عجیب طرح کے خیال آتے کہ اب ماہم کے بڑے مموں کو دیکھتا، گانڈ کو دیکھتا اور ماہم کے فگر کو دیکھ کر سوچتا رہتا۔ اب میرا لن بھی اس سوچ میں جاگنے لگا۔ اب ماہم جب سامنے آتی تو میں ماہم کو دیکھتا تو میرا لن جاگنے لگتا، پھر اسی کشمکش میں رہتا۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ صبح میں نیند میں تھا اور میرا لن فل مستی میں کھڑا تھا اور مجھے مست کیا ہوا تھا۔ پھر جب ماہم اٹھانے آئی تو میں نے ماہم کو دیکھا، مموں پہ نظر گئی، پھر جب ماہم جا رہی تھی تو ماہم کی گانڈ دیکھی، تو اس کے بعد پھر تو میرا لن ماہم کے لیے گھر میں ہمیشہ کھڑا رہتا۔ اب میں ماہم کو دیکھتا تو بس من کرتا کہ ابھی ماہم کو چودوں۔ اب گھر میں میرا لن کھڑا رہتا اور جب ماہم آتی تو میں کبھی ادھر ادھر ہوتا تاکہ ماہم میرے کھڑے لن کو نہ دیکھے۔ پھر آخر کھڑے لن کو چھپاتے چھپاتے من میں خیال آیا کہ اب ماہم کو لن کی طرف متوجہ کرو۔ اب ماہم میرے سامنے ہوتی اور میرا لن کھڑا ہوتا۔ اب ماہم بھی میرے کھڑے لن کو دیکھتی۔ جب میں دیکھتا کہ ماہم میرے کھڑے لن کو دیکھ رہی ہے تو پھر ماہم کو باہوں میں بھر کر دباتا اور ماہم کے بڑے ممے میرے سینے میں دب جاتے، پھر ماہم کو چوم کر تعریف کرتا اور میں مست ہوتا۔ اب من میں آیا کہ ماہم کو لن ٹچ کروں۔ میں آفس سے آیا اور ماہم کو دیکھا اور ماہم کے فگر نے میرا لن کھڑا کر دیا اور میں مستی میں تھا، تو میں نے ماہم کو باہوں میں بھر لیا اور لن کو آہستہ آہستہ ٹچ کرنے لگا اور ماہم کو چوم کر تعریف کرتا اور ماہم مسکراتی۔۔۔ اب میں ماہم کو جب باہوں میں بھرتا تو میرا کھڑا لن ماہم کو ٹچ ہوتا لیکن ماہم نے کوئی بات نہ کی اور نہ ہی موڈ خراب ہوا، اب تو میں ماہم کو گھنٹے دو گھنٹے بعد باہوں میں بھر کر پیار کرتا اور اپنا کھڑا لن ٹچ کرتا، پھر دن رات بس ماہم کے آگے لن کھڑا ہوتا اور ماہم بھی میرے کھڑے لن کو بار بار دیکھتی اور مسکراتی اور کبھی مجھ سے مستیاں کرتی، پھر جب ہم پکڑ جھکڑ کرتے تو میرا لن کھڑا ہوتا اور ماہم کے جسم کو اچھے طریقے سے ٹچ ہوتا اور لن مستی میں ہوتا، تو کبھی ماہم کی گانڈ پہ لن لگتا، کبھی ٹانگوں پہ، کبھی چوت پہ اور کبھی مموں کو لن لگتا اور کبھی ماہم کے ہاتھوں کو تو کبھی چہرے کو لن لگتا، مجھے بہت مزہ آتا اور ماہم اب ہر بار کہتی، آج کھیلنے کا بہت مزہ آیا۔ پھر ایک رات کو ہم بیڈ پہ سونے گئے، باتیں کرنے لگے اور میرے کھڑے لن کو ماہم بار بار دیکھتی، پھر کہا کشتی کریں؟ میں نے کہا ہاں، تو ماہم میرے لن پہ بیٹھ کر میرے ہاتھوں کو پکڑ کے کہا دس مرتبہ کون اوپر آتا ہے؟ پھر تو کبھی میں نیچے تو ماہم اوپر، کبھی ماہم نیچے تو میں اوپر۔ ہم کشتی میں ایک دوسرے کو فل دبوچتے اور ماہم کے ممے مجھے مست کرتے اور میرا لن تو فل مستی میں کھڑا ہوتا، ماہم کی گانڈ تو مجھے پاگل کر دیتی۔ کبھی کشتی میں ماہم الٹی ہوتی تو میں اپنا کھڑا لن ماہم کی گانڈ کے ہِپ میں گھسیڑتا۔ اب میں نے لن کی حرکت کی اور جب دیکھا ماہم نے کچھ نہیں کہا تو میں اب لن کی حرکت کرتا اور مجھے بہت مزہ آتا۔ پھر جب ہم کشتی سے تھک کر لیٹتے تو اب ماہم گانڈ میری طرف کر کے سوتی تو میں اپنے کھڑے لن کو ماہم کی گانڈ کے ہِپ میں گھسا کر حرکت کرتا، تو کبھی ماہم مجھے باہوں میں بھر کر سوتی اور اپنی چوت کو میرے لن سے لگا کر سوتی، میں دھیرے دھیرے لن کی حرکت کرتا۔ اب میں نے سوچا کہ ماہم کو سیکس ڈریس پہنا کر اس کا جسم دیکھوں۔ پھر میں نے ایک رسالہ لیا جس میں سب سیکس ڈریس تھے اور ہر پیج میں الگ الگ مرد عورت تھے، عورت مرد سیکس ڈریس پہن کر چومتے ہوئے، ننگے ہو کر چودائی کرتے۔ مرد عورت کی چوت کو پیار کرتا اور عورت لن کو منہ میں لے کر چوپے مارتی اور اس رسالہ میں بہت کچھ تھا جو ماہم کو ہوٹ کرنے کے لیے کافی تھا۔ پھر میں گھر آیا اور ماہم کو رسالہ دے کر کہا، اس میں ڈریس ہیں، گھر میں پہننے کے ہیں، تم کو جتنے پسند کرنے ہیں کر لو، میں نے بھی لینے ہیں۔ پھر ڈریس لینے چلیں گے۔ ماہم نے رسالہ لیا اور کچن چلی گئی، پھر کھانے کا کہا، ہم کھانا کھا رہے تھے، میں نے کہا رسالہ کیسا ہے؟ تو ماہم نے کہا، بھائی، رسالہ تو بہت اچھا ہے، تسلی سے دیکھوں گی، کروں گی، اس میں بہت اچھے ڈریس ہیں۔ میں نے کہا پھر کوئی پسند آیا؟ کہا ابھی تو میں نے پسند نہیں کیا، میں نے کہا چلوں تیرے لیے میں پسند کروں؟ کہا، ٹھیک ہے۔ پھر میں نے ماہم کے لیے کچھ سیکس ڈریس پسند کیے، پھر ہم لینے گئے، میں نے بھی چڈیاں لیں جس میں لن صاف نظر آتا، پھر ہم گھر آئے اور ماہم سے کہا، ڈریس پہن کر آؤ۔ پھر ماہم ڈریس پہن کر آئی، جب میں نے دیکھا تو ماہم کا جسم کمال کا لگ رہا تھا، میں ماہم کو باہوں میں بھر کر دبایا اور لن کو ٹانگوں میں گھسیڑ کر لن کو سلو سلو رگڑنے لگا۔ ماہم نے کہا تم بھی پہن کر آؤ، میں بھی دیکھوں، پھر میں چڈی پہن کر آیا اور میرا کھڑا لن چڈی میں صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔
ماہم نے میرے کھڑے لن کو دیکھ کر چڈی کی تعریف کی، پھر ماہم چائے بنا رہی تھی تو میں نے ماہم کو باہوں میں لے کر اپنے کھڑے لن کو ماہم کی گانڈ کے کوہلوں میں گھسیڑ کر لن رگڑنے لگا اور میرے دونوں ہاتھ ماہم کے مموں پر تھے۔ ماہم سے کہا، تم اس ڈریس میں کمال کی لگ رہی ہو، پھر ماہم سیدھی ہو کر مجھے باہوں میں لے کر اور اپنی ٹانگوں میں میرے کھڑے لن کو لے کر ہونٹوں کو چوم کر کہا، بھائی! آپ بھی تو اس چڈھی میں کمال کے لگ رہے ہو، میں نے کہا کشتی کریں؟ تو ماہم نے کہا، چائے بعد میں پیئیں گے، پھر ہم نے کشتی کی، مزہ آیا۔ پھر اب تو ماہم خود میرے لن سے ٹچ ہوتی تو میں ماہم کو سہی کا لن ٹچ کر کے رگڑتا۔ ایک رات ہم بیڈ پہ سونے گئے، تو میں اور ماہم مستیاں کرتے، پھر ماہم کہتی، کشتی کریں، پھر جب ہم کشتی کرتے تو مزہ آتا۔ کشتی میں ہم دونوں نے ایک دوسرے کو باہوں میں دبوچا ہوا ہوتا، کبھی ماہم میرے اوپر ہوتی تو ماہم کی چوت اور گانڈ میرے لن پر ہوتی اور ماہم اپنی چوت اور گانڈ کو میرے لن پہ سلو سلو ہلاتی اور میں بھی اپنے لن کو آہستہ آہستہ رگڑتا، پھر جب میں ماہم کے اوپر ہوتا تو میرا لن ماہم کی چوت پر ہوتا اور میں لن کو رگڑتا۔ کشتی کرتے ہوئے ماہم جب الٹی ہوتی تو میں اپنے لن کو ماہم کی گانڈ کے دونوں ہپ میں لن گھسیڑ کر رگڑتا، پھر جب ماہم تھک جاتی تو سونے کا کہتی۔ اب ہم ایک دوسرے کو باہوں میں بھر کر سوتے، تو کبھی ماہم اپنی گانڈ میری طرف کرتی تو میں ماہم کو باہوں میں بھر کر اور ماہم کی گانڈ کے دونوں ہپ میں لن گھسیڑ کر حرکت کرتے، ماہم کے مموں پہ ہاتھ رکھ کر سلو سلو مموں کو سہلاتا دباتا، پھر ماہم میری طرف منہ کرتی اور میری اوپر والی ٹانگ کو اٹھا کر میرے کھڑے لن کو اپنی ٹانگوں میں لے کر کہتی، سو جاؤ۔ اب میں اور ماہم ایسے سوتے جیسے میاں بیوی کی طرح سوتے۔ اب تو ماہم کو اور سیکس ڈریس پہناتا، اب تو گھر میں ہمیں کام تو نہیں ہوتا تھا اور ہم اکیلے ہوتے، تو پھر ہم کھیلتے اور سکون ملتا۔ اب ہم کبھی کبھی ایک دوسرے کو چوم لیتے۔ اب ہم لابی میں فلم دیکھنے کے لیے صوفے پہ ایسے بیٹھتے کہ ایک دوسرے کو باہوں میں بھر کر بیٹھتے اور میرا لن کھڑا ہوتا۔ جب ہم صوفے پہ لیٹ کر فلم دیکھتے تو میری ایک ٹانگ ماہم پر ہوتی اور ماہم کے لب پہ میرا کھڑا لن ہوتا اور میں لن کی حرکت کرتا۔ پھر ماہم میری طرف اپنی گانڈ کر کے فلم دیکھتی، تو میرا کھڑا لن ماہم کی چوت اور گانڈ کے ہپ میں سلو سلو حرکت کرتا، تو پھر ماہم کہتی، یہی کشتی کریں، پھر ہم کشتی کرتے تو بہت مزہ آتا۔ آج میں آفس میں خوش تھا، مجھے چھٹیاں ملنے والی تھیں، سوچا کہ آج ماہم سے کشتی کھیلوں گا اور ماہم سے خوب مزے کروں۔ جب یہ سوچا تو لن کھڑا ہو گیا، پھر جب گھر آیا تو ماہم کو دیکھا تو باہوں میں بھر کر کہا، کشتی کریں؟ تو ماہم نے کہا، کھانا میں نے کہا بعد میں کھائیں گے، تو ماہم نے مجھے چومتے ہوئے کہا، ڈریس پہن لیتی ہوں اور تم بھی وہ والا چڈا پہن لو، تم اس میں بہت اچھے لگتے ہو۔۔۔ یہ چڈا ایسا تھا کہ جیسے چڈا پہنا ہی نہیں ہوا اور لن صحیح کھڑا نظر آتا، اس لیے ماہم نے کہا وہ والا چڈا پہننا، پھر پہن کر ہم نے خوب کشتی کر کے مزے کیے۔ اب تو ہم دونوں سیکس آئی بھی لیتے، اب میں ماہم کو چودنے کے لیے من میں سوچتا کہ اگر ماہم کو اچھا نہ لگا تو۔۔۔ اب تو میں اس کشمکش میں تھا کہ ماہم کو چودوں۔ جب ماہم اٹھانے آئی تو میں نے ماہم کو دیکھا تو میں نے ارادہ کر لیا کہ آج ماہم کو چود دوں گا۔
میں اور ماہم صوفے پہ بیٹھ کے فلم دیکھ رہے تھے، ہم نے ایک دوسرے کو باہوں میں بھرا ہوا تھا، میرا لن کھڑا تھا اور ماہم لن کو دیکھ کے مجھے باہوں میں بھر کر بیٹھی اور میں نے چھٹیوں کا بتایا تو ماہم نے مستی کرتے مجھے کہا گاؤں چلتے ہیں، میرا آج ماہم کو چودنے کا موڈ تھا۔ ماہم کے ہونٹوں کو چوما کرکے کہا کشتی کریں؟ تو ماہم نے مسکراتے کہا ہاں، تو میں نے کہا روم میں چل کے کشتی کریں، کہا چلو۔ پھر روم کے بیڈ پہ آئے، میں نے بیڈ پہ جاتے ہی ماہم کو باہوں میں بھر کے چومنے لگا اور بریزر کے اوپر مموں کو دبانے اور چومتے چوستے ہوئے ماہم کی چوت پہ اپنے لن کی فل جوش سے رگڑتے ہوئے ماہم کے مموں کو بریزر سے باہر نکال کر چومنے لگا۔ کچھ دیر بعد ماہم سٹپٹائی، میں نے ماہم کی چڈی کو زور سے کھینچا تو ڈوریاں ٹوٹ گئیں۔ ماہم نے کہا، بھائی! کیا کر رہے ہو؟ میں نے جب ماہم کی چوت پہ ٹوپہ اندر کیا تو ماہم نے غصے سے کہا چھوڑو مجھے۔ اور ماہم نے مجھے ہٹانے کے لئے جھٹکا دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئی اور غصے سے کہا، تم کیا کر رہے تھے؟ میں نے سوری کی۔ ماہم نے کہا مجھے گھر جانا ہے، میں نے کہا کل ٹکٹ کرتا ہوں، پھر رات کو بیڈ پہ ہم سونے آئے، تو میں نے ماہم سے کہا کشتی کریں؟ تو ماہم نے نہیں کہا، میری طرف گانڈ کر کے لیٹی، تو ماہم کی گانڈ کے دونوں کوہلوں کے بیچ میں لن رکھ کے ماہم کو منانے کو کہا، کہ ابھی تک ناراض ہو؟ ماہم نے کہا مجھ سے بات نہ کرو، اپنی جگہ پہ لیٹو۔ پھر میں اپنی جگہ پہ سو گیا اور ماہم نے مجھ سے بات نہیں کی، پھر ہم گاؤں گئے، کچھ دن رہے، پھر پاپا مما سے واپس جانے کو کہا۔ پھر میں نے سوچا کہ ماہم سے پوچھوں، چلے گی یا نہیں؟ پوچھا تو ماہم نے خوشی خوشی چلنے کو کہا، پھر ہم واپس آئے۔ ماہم سیکس ڈریس پہن کر کھانا بنا کر ٹیبل پہ کھانا لگا کر کہا، کھانا کھا لو۔ پھر ہم کھانا کھا رہے تھے، تو ماہم نے ایک ڈریس دکھایا، میں نے ڈریس دیکھا، اس میں سب کچھ نظر آ رہا تھا، پھر کہا، مجھے یہ ڈریس لینا ہے، میں نے کہا، ماہم! تم اس ڈریس میں کمال کی لگو گی، یہ تم کو بہت اچھا لگے گا، لیکن ماہم نے کوئی جواب نہ دیا، اس دوران ماہم نے نہ مجھ سے بات کرتی اور نہ جواب دیتی۔ پھر ہم ڈریس لے کے آئے اور روم گئی، دوسرا ڈریس پہن کر لابی میں صوفے پہ بیٹھ کر فلم دیکھنے لگی، میں چڈی پہن کر ماہم کے ساتھ بیٹھ کر ماہم کی کمر میں ہاتھ ڈال کر تھوڑا سا اپنی طرف کیا تو ماہم آگے ہو کر مجھے باہوں میں بھر کر اپنے بڑے مموں کو میرے جسم میں گھسا کر پھر مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا، میں نے ماہم کے مسکراتے ہونٹوں کو چوم کے کہا، میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور تیری اجازت سے تم کو پیار کرنا چاہتا ہوں، ماہم مجھے دیکھ رہی تھی، پھر میں نے ماہم کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھے تو ماہم نے اپنا منہ کھول کر اپنی زبان کو میرے منہ میں دی، میں چوسنے لگا، پھر میں نے اپنی زبان ماہم کے منہ دی تو ماہم میری زبان کو چوسنے لگی، کچھ دیر ہم مست رہے، میں نے کہا تم پریگننٹ ہونے کی فکر نہ کرو، ہم اس کا اچھے سے خیال رکھیں گے، ماہم نے کہا، مما پاپا کو پتہ چلا یا کسی اور کو پتہ چلا تو میں نے کہا، ہم دونوں کے سوا یہاں کون رہتا ہے جو ہمیں دیکھے گا، کون کسی سے کہے گا، ہم ہر روز مزے کریں گے، ماہم نے کہا بھائی، پھر بھی یہ غلط ہے، پھر میں ماہم کے ہونٹوں کو چوم کر کہا، پھر تم کیوں آئی؟ ماہم نے کہا آپ کا خیال کون رکھتا، میں نے ماہم کو باہوں میں دبوچ کر کہا، یہ خیال نہیں آیا کہ اب بھائی تیرے لیے پاگل ہو گیا ہے، اب گئی تو بھائی مجھے چود دے گا؟ ماہم نے مجھے باہوں میں دبوچ کے کہا، بہت سوچا کہ نہ جاؤں اور یہ بھی سوچا کہ مما پاپا کو بتاؤں، پھر سوچا اگر کسی کو بتاؤں گی تو ہنگامہ ہو جائے گا، پھر مجھے اپنا کھیلنا، مستی کرنا، یہ سب کچھ یاد آیا تو سوچا اگر نہیں جاؤں گی تو مزہ نہیں آئے گا، پھر میں نے پکا سوچا کہ میں جاؤں گی، پھر میں نے چلنے کو کہا، میں نے ماہم کو چومتے کہا روم میں چلیں؟ تو ماہم نے کہا چلو۔ ہم روم میں آئے، ماہم نے کہا، تم کرسی پہ بیٹھو، میں دوسرا ڈریس پہنتی کر تم کو اپنا جلوہ دکھاتی ہوں، پھر شروع کریں گے، ماہم ڈریس لے کر واشروم میں پہن کر آئی، پھر تو کھڑے ہو کر اپنے جلوے دکھانے لگی اور بیڈ پہ اپنے جلوے دکھانے لگی۔۔۔
پھر ماہم لیٹ کر اپنی چوت دکھائی، تو ماہم کے یہ جلوے دیکھ کے میں پاگل ہو گیا اور جا کے چڈی اتار کے ماہم کو دبوچ کر چومنے لگا، پھر ہم ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے، ہم دونوں ایک دوسرے کو چوم چوس رہے تھے، کبھی ماہم کے مموں کو چومتا چوستا، تو کبھی ماہم کے چہرے کو اور تعریف کرتا، ماہم مجھے چومتی، میرے لن کو پکڑتی اور تعریف کرتی۔ پھر جب میں نے ماہم کی چوت دیکھی تو ماہم کی طرح ماہم کی چوت بھی بہت کیوٹ ہے، میں نے بہت تعریف کرتے ماہم کی چوت کو چومتا، چوستا، چاٹتا رہا اور ماہم مستی میں غرّا رہی تھی۔ پھر ماہم کو کہا لن کو پیار کرو، تو ماہم نے میرے لن کو منہ میں لے کر چومتی، چوپے مارتی، مموں میں گھساتی، پھر ماہم کو کہا، تیری چوت میں لن ڈالوں؟ تو ماہم نے کہا، جلدی کرو۔ پھر میں نے ماہم کی چوت کے سوراخ پہ لن کا ٹوپہ رکھ کر ماہم کو مست کرنے لگا اور جب ماہم مست ہوئی تو میں نے ایک زور کا جھٹکا لن کو دیا تو میرا لن ماہم کی چوت کی سیل توڑتا، خون نکالتا ہوا سارا اندر چلا گیا، ماہم نے برداشت کیا اور بیڈ خون سے لال ہو گیا اور ماہم درد سے غرّا رہی تھی، تو میں ماہم کو چومنے لگا اور لن کو سلو سلو اندر باہر کرنے لگا۔ پھر جب ماہم کو درد ختم ہوا تو پھر ماہم نے کہا اب چودائی کرو، مجھے بہت مزہ آ رہا ہے۔ پھر ہم نے جو چودائی کی کہ مزہ آ گیا، اب تو ہمیں ہر وقت گھر میں چودائی کے سوا کوئی کام نہ تھا، تو بس ہم ہر وقت چودائی چودائی، بس چودائی کرتے رہتے۔ پھر میں نے ماہم کو کہا مجھے گانڈ دو، پھر گانڈ کی سیل توڑ کے خوب چودتا۔ میں آفس میں تھا تو ماہم نے فون کیا اور کہا، میں بہت ہوٹ ہوں، ابھی آؤ اور میری چوت کو ٹھنڈا کرو۔ میں آیا۔
چودائی کی، جب ماہم کی چوت نے رس نکالا تو۔۔۔ ماہم نے کہا، میں تم سے کچھ باتیں شیئر کرنا چاہتی ہوں، میں نے کہا کہو۔ ماہم نے میرے لن کے پاس لیٹ کر میرے لن کو ہاتھوں میں لے کر چوما، چوپہ مار کر کہا، بھائی! آپ کے لن نے مجھے بہت مست کیا، ایک بار میں نے آپ کے کھڑے لن کو چڈی میں دیکھا تو بہت اچھا لگا، پھر بار بار لن دیکھنے کو من کرتا، پھر میں آپ کے لن کو بار بار دیکھتی اور ہوٹ ہوتی، پھر جب پہلی بار آپ کا لن مجھے ٹچ ہوا تو مجھے بہت مزہ آیا، پھر جب آپ کے لن کی رگڑائی ہوتی تو سکون ملتا، پھر جب ہم کشتی کھیلتے، میں مست ہو کر خوب مزے کرتی، لیکن من میں مما پاپا کا ڈر بھی تھا۔ پھر اس دن جب تم مجھے چودنے والے تھے، تو میں ڈر گئی تھی، پھر جب گاؤں گئے تو سوچا نہ جاؤں، پھر مجھے آپ کا لن یادوں میں مست کرنے لگا، تو پھر میں نے سوچا کہ ہمارے سوا کون کسی کو بتائے گا، ویسے بھی مزہ تو بہت آتا ہے، اگر بھائی کی بات مان لوں تو پھر بہت مزہ آئے گا، صرف مجھے فکر تھی کہ میں کہیں پریگنینٹ نہ ہو جاؤں، پھر سوچا کہ بھائی سے پریگنینٹ کی بات کروں گی، پھر ہم نے خوب چودائی کرکے سو گئے۔ میں نے اور ماہم نے 6 سال تک چودائی کرتے رہے، ہم نے کتنے رشتوں کو ٹھکرایا، ایک بار ہم گھر والوں سے ملنے جانا تھا، ماہم نے کہا وہاں ہم ساتھ سوئیں گے، تو ماہم اور میں نے مما سے کہا ایک روم میں سہی کرنے کو کہا۔ پھر ہم آئے تو سب سے ملے، پھر رات کو میں اور ماہم نے خوب چدائی کی، صبح مما اٹھانے آئی اور ہم کو ننگا دیکھ چلی گئی، پھر ہم اٹھے، فریش ہو کر ناشتہ کر رہے تھے تو مما نے شادی کا کہا، ماہم نے کہا ابھی میں بھائی کے ساتھ خوش ہوں، پہلے بھائی کرے گا تو مجھ سے، مما نے کہا، میں نے کہا، میں اور ماہم جب ایک دوسرے کو خوش رکھ سکتے ہیں، تو شادی کی عمر چلی جائے گی، ماہم نے کہا بھائی ہے نا مرے ساتھ عمر گزارنے کے لیے، مما نے کہا تم کب تک آپس میں کرو گے؟ میں نے کہا ماہم سے میں بہت پیار کرتا ہوں، جب ماہم کی پسند ہی میری پسند ہے، مما نے کہا کیا تم ساری عمر ایسے رہو گے؟ ماہم نے کہا میں بھائی کے ساتھ خوش ہوں۔ پھر ہم دونوں بہنوں کے ساتھ گھومنے گئے، واپس گھوم کر آئے، پھر میں اور ماہم چدائی کرنے لگے، ماہم نے کہا بھائی ان دو سے کچھ نہ کرنا، میں ماہم کی چوت سے لن نکال کر ماہم کی گانڈ میں لن ڈال کر چودتے کہا، ماہم! مجھے صرف تم سے پیار ہے۔ چودائی کرکے سو گئے۔ پھر پاپا نے ہم سے بات کی، کہ تم اور ماہم کب تک کرتے رہو گے؟ ہم نے کہا ہمیں وقت دو، پھر بتائیں گے، پھر میں اور ماہم گھر آئے اور پھر سے چدائی کرنے لگے اور پتا نہیں ماہم کتنی مرتبہ پریگنینٹ ہوئی اور ابارشن کرایا۔ ایک مرتبہ مما کا فون آیا اور اپنی قسم دے کر شادی کا کہا، کہ وہ بھی دونوں بہن بھائی ہیں، پھر میں اور ماہم جب چودائی کرتے، تو میں ماہم سے کہتا، اب تو تم دوسرا لن لو گی اپنے شوہر کا؟ ماہم کہتی، کے تم بھی دوسری چوت چودو گے؟ میں کہتا، اگر تیسرا لن لینا ہو تو لے لینا، ماہم نے کہا میں تیسرا لن نہیں لونگی، میں نے کہا جب دوسرا لن تیری چوت میں گیا، تو تیری چوت تیسرا لن لینے کے لیے تڑپے گی، ماہم نے کہا، میں تیسرا لن نہیں لونگی، میں نے کہا اگر لیا تو؟ کہا پہلے تم کو بتاؤں گی، پھر ہماری شادی ہو گئی۔ جب میں نے سوہاگرات کی چودائی کی، تو چوت اور گانڈ کے کھلے راستے تھے اور اب ماہم اپنے شوہر کے ساتھ رہتی، میں نے فون کر کے پوچھا کے شوہر نے کیسی جودائی کی؟ کہا اچھی کی، پھر کہا بھابھی نے سہی کا چودواتی ہے، میں نے کہا ہاں، اور اپنی بیوی کا بتایا کے اس کے دونوں راستے کھلے تھے، کہا پوچھا، میں نے کہا کسی دن پوچھ کے بتاؤں گا، پھر ایک دن فون کر کے کہا، آفس سے لڑکا آتا ہے، من کرتا ہے چودواؤں، تم بتاؤ کیا کروں؟ میں نے کہا جس پہ دل آئے تو آسرا نہ کرنا، بس مزے کرنا۔ ایک رات کو بیوی نیچے لیٹی تھی اور میں بیوی کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر بیوی کی چدائی کرتے کرتے کہا میری جان کتنے لن لیے ہیں؟ مسکرا کر کہا ایک کا، میں نے کہا بتاؤ کس کا؟ مسکرا کر کہا اپنے بھائی کا، میں نے کہا کیسے؟ پھر بیوی نے اپنی ٹانگیں نیچے کر کے مجھے باہوں میں بھر کر کروٹ لے کر اوپر آ کر اپنی چوت میں لن لے کر چودتے کہا رات کو جب میں سوتی تھی، تو مجھے ایسا لگتا کہ کوئی مجھے ننگا کرکے خوب سیکس کرتا ہے، پر صبح جب میں اٹھتی تو پینٹی پہنی ہوتی، مجھے رات کو کسی نے میری چوت میں لن ڈال کر چدائی کی، مجھے بھی مزہ آیا، پھر صبح کو میں اٹھی تو اپنی شلوار کو خون میں دیکھا، پر میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا، پھر تو میں جب اٹھتی تو میری چوت اور شلوار منی سے بھری ہوتی، اب میرا شک بھائی پہ تھا، کیونکہ بھائی میرے لیے شیک لاتے، ایک رات کو بھائی شیک لائے، میں نے شیک میں اسٹرو لگا کر اور اسٹرو کو اپنے ہونٹوں میں لے کر باہر گئی اور شیک کو پھینک کر کچھ دیر بعد آئی تو بھائی سے باتیں کی، پھر سونے کا کہا کہ مجھے بہت نیند آ رہی ہے، پھر میں جا کر لیٹ گئی، کچھ دیر بعد بھائی میری چوت سہلاتے ہوئے، مجھے چوم رہا تھا اور مجھے مزہ آ رہا تھا، پھر میری شلوار اتار کر میری چوت کو پیار کر کے اپنا لن میری چوت میں ڈال کر چود رہا تھا، پھر میں نے غرّلاتے بھائی کو باہوں میں بھر کر کہا اور چودو بس چودتے رہو، پھر گانڈ کا کہا، تو گانڈ چودتا، پھر ہم ہر روز چودائی کرتے، پھر تم سے شادی ہوئی، پھر ماہم نے بتایا کہ تیری بیوی اور میرا شوہر یہ بھی چدائی کرتے ہیں، میں نے کہا ہاں، رات کو مجھے بتایا، ماہم نے کہا میں نے بھی بتا دیا ہے، اب ہم پھر چودائی کیا کریں گے، پھر بیوی سے میں نے شیئر کیا اور کہا ان کو بلائیں، بیوی نے کہا ہاں، پھر وہ ماہم اور بیوی کا بھائی، ہم نے مل کے چودائی کی، اب تو ماہم آتی تو مہینہ رہتی، میں بیوی اور ماہم کو مل کے چودائی کرتا، ماہم کا شوہر اپنی بہن کو چودتا، تو میں ماہم کو چودتا، پھر میری بیوی ماہم کے شوہر سے، یعنی اپنے بھائی سے چُدواتی، پھر ہمارے بچے ہوتے گئے۔۔۔

