Mon. Sep 14th, 2026
?>

چار بجے مجھے باجی نے ہی جگایا میں اٹھا اور ہاتھ منہ دھو کر چھت پر آگیا آج باجی اور امی نے کپڑے دھو رکھے تھے تو چھت پر کپڑے سوکھنے کو رکھے تھے باجی نیچے سے میرے پیچھے آئی اور بولی دینی کھانا کھاؤ گے میں بولا باجی بھوک تو بہت لگی ہے کھلا دو باجی چلی گئی باجی نے آج نہا کر نئے کپڑے ڈال رکھے تھے انجانے میں میری نظر باجی کی مٹکتی گانڈ پر پڑی تو میں کھل سے گیا باجی نصرت کی چوڑی گانڈ دیکھ کر میرے لن نے جھٹکا مارا پتا نہیں کیوں باجی پر میں گرم ہو رہا تھا شاید گرل فرینڈز سے دور رہنے کا اثر تھا میں نے موبائل نکالا اور میسج کردیا ہائی ہیلو۔ رپلائی تو نا آیا لیکن باجی سعدیہ کھانا لے کر آگئی میں پوچھنے لگا پھر رک گیا بے چینی سی ہونے لگی۔ جانے کیوں۔ میں نے پھر میسج کردیا ہیلو نصرت جی 

باجی کا فوراً میسج آیا 

جی جی 

میں بولا کیا بات ہے کوئی لفٹ ہی نہیں باجی بولی نہیں ایسی بات نہیں بس تھوڑی مصروف تھی میں بولا اچھا جی کیا کر رہی تھیں باجی بولی کچھ نہیں گھر کے کام کیے ہیں کپڑے وغیرہ دھونے میں بولا پھر تو آپ کے پاس وقت نہیں آج باجی بولی نہیں ابھی فری ہوں میں بولا اچھا جی پھر ہماری دوستی اب ہو گئی نا باجی بولی ظاہری بات ہے اب کوئی کسر رہتی ہے۔ میں بولا اچھا جی ایک بار پوچھوں باجی بولی پوچھیں میں بولا پہلے بھی کوئی دوست بنایا ہے باجی بولی نہیں ابھی آپ ہی پہلے ہو۔ میں بولا جی نہیں میں نہیں مانتا باجی بولی کیوں میں بولا آج کل کی لڑکیاں تو بہت اڈوانس ہیں ایک وقت میں چار چار لڑکوں سے افئیر چلاتی ہیں باجی بولی جی نہیں میں ان میں سے نہیں میری تو ابھی پہلا ایکسپئیرنس ہے میں بولا دیکھ لیں باجی بولی کیسے دیکھنا ہے میں بولا ملو گی تو پتہ چلے گا کہ کتنے۔ ہیں باجی بولی ارے ارے یہ ملنے ملانے والی باتیں مجھ میں نہیں۔ میں بولا کیوں ملنا کیوں نہیں باجی نصرت بولی بس فون پر ہی بات چیت ہوگی یہ ملنے ملانے والا چکر مجھ میں نہیں میں بولا یہ تو کوئی بات نا ہوئی باجی بولی کیوں میں بولا نصرت جی دیکھیں ملنے سے ہی تو ایک دوسرے کا پتہ چلتا ہے باجی بولی بس ابھی سے ملنے پر آگئے دکھا دی نا لڑکوں والی بات میں بولا ہاہاہا تو میں لڑکا ہی ہوں باجی بولی تم لڑکوں کو لڑکیوں سے ملنا ضرور ہوتا ہے میں بولا ظاہری بات ہے دوستی تعلق ملنے سے ہی تو مضبوط ہوتا ہے باجی بولی کچھ بھی ہو میں تو فون پر ہی بات کروں گی میں بولا ٹھیک ہے پھر میں یہ دوستی نہیں رکھ سکتا جس میں میل جول۔ہی نا ہو۔ مجھے کیا پتہ آپ لڑکا ہو اور مجھے بے وقوفی بنا رہے ہو باجی بولی یہ بھی ٹھیک ہے اب تمہیں یقین نہیں مجھ پر تمہارے سامنے نمبر میں نے ہی پھینکا تھا تم نے ہی اٹھایا تھا میں بولا ہوسکتا ہے کسی لڑکے کو دے دیا ہو میرا نمبر باجی بولی اب تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں میں بولا اعتبار مل کے ہی آئے گا باجی بولی یار یہ مجھ سے نہیں ہوگا میں بولا اوکے بائے میں نے فون رکھ دیا میسج باجی کا بھی نہیں آیا میں بولا بس اتنے میں ہی ہوا نکل گئی باجی کچھ نا بولی میں کھانا کھا کر ڈیرے کو نکل گیا شام کے قریب باجی کا میسج آیا ہیلو جی میں بولا جی باجی بولی ناراض ہو کیا میں من ہی من میں مسکرا دیا کہ رہ باجی بھی نہیں پا رہی۔ زندگی اکیلے پن میں بور ہو جاتی ہے اب جب کوئی دوست ملا چاہے بھائی ہی ہو پر کوئی تو اکیلا پن دور کرنے والا ملا ہو میں بولا نہیں میں تو ناراض نہیں باجی بولی پھر میسج ہی نہیں کیا میں بولا مصروف تھا باجی کچھ دیر بعد بولی  دیکھ ندیم سمجھو نا ابھی تو ایک دن نہیں ہوا اور تم۔ملنے کی ضد کر رہے ہو اچھی بات تو نہیں میں بولا بری بھی نہیں اور میں نے کونسا آج ہی ملنے آجانا تھا۔ آپ تو ایسے بات دل پہ لے گئیں باجی بولی اچھا بابا سوری سوری میں مسکرا دیا اور بولا سوری کی کوئی بات نہیں باجی بولی نہیں سوری تو بنتی ہے میں بولا پھر ایک کام کرو باجی بولی کونسا میں بولا پھر ایسا کریں مجھے اپنا گھر تو دکھا دیں باجی نا بابا تم چوروں کی طرح ملنے آجا ؤ میں ہنسا اور بولا نہیں نصرت جی میں بس گھر دیکھ کر ہی دل بھر لیا کروں گا باجی ہنس دی اور اپنا گھر بتایا جو کہ میرا ہی گھر تھا میں بولا شام کو چکر لگاؤں گا دروازے پر یا چھت پر ہونا۔ باجی بولی کیوں میں بولا آپ کو دیکھ تو لوں گا نا باجی بولی کیا تاکہ کرنی ہے کہ میں لڑکی ہی ہوں میں بولا بس ایسا ہی سمجھ لیں باجی مسکرا دی میں کام وغیرہ کرکے دودھ کے کر گھر کو آیا میں گلی میں بائیک کھڑی کی اور باجی کو میسج کیا نصرت جی باجی کا کچھ دیر بعد میسج آیا دیکھ لیا میرا گھر میں بولا ہاں جی اب آپ بھی دیدار کرا کر تسلی مرادیں کہ یہ آپ کا ہی گھر ہے باجی بولی کیوں میرا دیدار کرنا ضروری ہے۔ میں بولا جی ضروری ہے باجی کچھ دیر بعد بولی چھت پر ہوں میں نے اوپر دیکھا تو میری سگی بڑی بہن باجی نصرت چھت پر کھڑی مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں اور باجی چند لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے باجی کی آنکھوں میں حیا اور حوس دونوں صاف نظر آ رہی تھی باجی اتنے عرصے سے کسی لڑکے سے کوئی دوسری وغیرہ نہیں کر پائی تھی تو باجی کی حسرتیں نکل رہی تھیں باجی نصرت ہٹ گئی تو میں بھی بائیک لے کر اندر آگیا باجی نصرت چھت سے اتر رہی تھی میری اور باجی کی نظریں چار ہوئی تو باجی کے منہ پر لالی سی پھیل گئی باجی نصرت منہ نیچے کر گئی میں نے باجی کو دودھ پکڑایا میں بولا امی کدے ہے باجی جھکی نظروں سے دودھ پکڑ کر بولی باہر گئی کدرے تے سعدیہ او اندر اے میں بھی باجی کے پیچھے چل پڑا باجی کیچن میں دودھ رکھا باجی مجھ سے نظریں ملا نہیں پا رہی تھی میں بولا باجی پانی ہوا باجی نے مجھے پانی دیا میں پی کر بولا کھانا نہیں بنانا باجی بولی بس بناڑ لگی آں دودھ گرم کر کواں میں بولا بنا باجی بھکھ لگی اے باجی بولی اچھا باجی نے سابق باتیں منہ جھکا کر ہی کیں میں اٹھا اور روم میں آیا تو باجی کا اپنے بند سے میسج آیا دیمی تم مجھ سے آمنے سامنے بات کم کیا کرو میں بولا کیوں باجی بولا اس سے ہمارے دوسرے تعلق میں حقیقت پن ذرا زیادہ رہے گا تم بات کرتے ہو وہ بات نہیں رہتی میں بولا جیسے آپ کہیں اسی لمحے دوسرے نمبر سے باجی کا میسج آیا تو دیکھ کیا مجھے میں بولا جی باجی بولی کیسی لگی میں پھر میں بولا نصرت کی آپ بہت خوبصورت ہیں قسم سے بس ایک کمی تھی باجی شاید تعریف ہی سننا چاہ رہی تھی جو ایک لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ لڑکے سے سنے باجی بولی اچھا جی شکریہ  اور کمی کیا تھی میں بس آپ کوکا ڈال لیں تو قیامت ڈھائیں گی۔ باجی ہنس دی اور بولی اچھا جی صرف چہرہ دیکھ کر ہی آپ کو لگا کہ خوبصورت ہوں میں بولا ارے آپ نے دکھایا ہی چہرہ تو چہرہ تو خوب صورت ہی تھا اور کچھ تو دکھا نہیں باجی بولی بہت بے شرم ہو میں ہنس دیا باجی بولی کیا دیکھنا تھا تمہیں لڑکی کا چہرہ ہی ہوتا ہے دیکھنے کے لیے میں بولا وٹس اپ ہے باجی بولی کیوں میں بولا ضرور ذرا ویڈیو کال لگا دیں باجی بولی جی نہیں اس کی ابھی ضرورت نہیں میں ہنس دیا دیکھ لیں ضرورت تو پڑ سکتی ہے باجی بولی جب پڑے گی دیکھیں گے میں بولا چلیں پھر اپنی تصویر ہی بھیج دیں باجی بولی بس کرو زیادہ کھلو نہیں اور میرے پاس اس وقت کوئی تصویر نہیں میں بولا تو کھینچ لو باجی بولی جی نہیں بائے امی لوگ آگئے ہیں میں کچھ دیر بعد نکلا تو امی کھانا بنا رہی تھی میں کھانا کھا کر دوستوں میں نکل گیا رات کو دس بچے کے قریب لوٹا تو بستر میں جاتے ہیں میسج کردیا باجی کو ہیلو نصرت جی 

سو گئی باجی تو جائے تیار بیٹھی تھیں بولی جاگ رہی ہوں میں بولا میری تصویر باجی بولی بہت صدی ہو میں بولا آپ جیسی لڑکیوں کو دوست بنا کر ضدی ہونا ہی پڑتا ہے باجی بولی وہ کیوں کہ میں بولا بات جو نہیں مانتی باجی بولی کوئی ماننے والی ہو بھی تو میں بولا اب ہم دوست ہیں اگر آپ مجھے تصویر بھیج دیں گی تو کچھ نہیں ہوگا باجی بولی نہیں بابا۔ تم لڑکے اپنے دوستوں سے سب شئیر کرتے ہو میں بولا وعدہ آپ سے کسی کو نہیں شئیر کروں گا باجی بولی پکا پرومس میں بولا پکا باجی بولی رکو بھیجتی ہوں باجی نے کچھ دیر میں اپنی تصویر وٹس ایپ کی تو باجی نصرت نے ناک میں کوکا ڈال کر ہلکا سا میک اپ کر رکھا تھا میں تو باجی نصرت کو دیکھ کر مچل سا گیا اور بولا صدقے جاؤں اتنی خوبصورت 

باجی بولی سچی میں بولا آپ کی قسم باجی اپنی تعریف سن کر پھولی نہیں سما رہی تھی میں تو باجی نصرت کے ناک میں کوکا دیکھ کر دیوانہ سا ہوگیا بے اختیار میرا دل کیا کہ میں باجی نصرت کو چوم لوں مگر میں رک سا گیا میرا دل دھڑکنے لگا اور بے اختیار لن انگڑایاں بھرنے لگا میں اپنی سگی بہن نصرت پر ہی گرم ہو رہا تھا  میں بولا چشم بدور آپ تو دل کو لگ گئی نصرت بولی نظر نا لگا دینا میں بولا ارے چاہنے والوں کی نظر نہیں لگتی باجی نصرت بولی مسکے نا لگاؤ میں بولا ارے سچ کہ رہا ہوں تم لڑکے ایسے ہی کہتے ہو میں بولا آپ کو کیسے پتہ کہ لڑکے ایسے ہوتے ہیں باجی بولی سنا ہی ہے میں بولا اب ہم سے لگائی ہے دیکھ لینا یہ جھوٹ ہوگا باجی بولی اچھا بابا دیکھتے ہیں پہلے اپنی تصویر بھی بھیجو میں نے اپنی بھی بھیج دی باجی بولی تم بھی اچھے ہو میں بولا بس اچھا باجی بولی ارے خوبصورت ہو میں بولا اچھا پھر اس بات پر تو ویڈیو کال بنتی ہے باجی بولی جی نہیں اب گلیے لتر کی طرح بڑھو نہیں میں بولا بڑھنا کیا ہے بڑھ تو چکا ہے باجی بولی جی نہیں میں پلیزززز آپ اتنی خوبصورت ہیں آپ کو لائیو دیکھ کر مزہ ہی دوبالا ہو جائے گا باجی بولی نہیں سب پاس ہیں میں بولا کسی اور روم۔میں چلی جاؤ باجی بولی بہت ضدی ہو میں بولا اوہ تے میں ہوں باجی بولی اچھا رکو ہمارے گھر میں چار روم تھے ایک میں میں اور ایک باجی امیناور سعدیہ سوتے تھے باجی کچھ دیر بعد دوسرے روم میں گئی اور بولی کرو میں نے کال کر دی تو باجی نے اٹینڈ کی جس سے باجی نصرت کا خوبصورت چہرہ سامنے آگیا باجی کی آنکھوں میں لالی اتری تھی اور حیا سے گالیں سرخ تھیں باجی نصرت کے ناک میں کوکا چمک کر مجھے لبھا گیا میں بولا چشم بدور چشم بدور آپ تو بہت خوبصورت ہیں جی باجی مسکرا کر بولی جی شکریہ میں بولا شکریہ جی کیا کر رہی ہیں باجی نصرت بولی دیکھ تو رہے ہیں آپ کو ہی دیکھ کر تو آپ پر مر رہے ہیں باجی بولی مسکے نا لگاؤ اور کال کاٹ دی باجی شاید برداشت نا کر پائی اور کال کاٹ گئی میرا لن تن کر کھڑا ہو چکا تھا باجی نصرت کی تصویر جو ویب کیا اور بے اختیار باجی نصرت کے ہونٹ چوم گیا جس سے ایک سرور میرے اندر اتر گیا بے اختیار میرا ہاتھ میرا لن پر چلا گیا اور میں اپنی بہن کی تصویر کو چومتا ہوا جذبات میں بہ گیا باجی نصرت کو سوچ کر اتنی گرمی چڑھی کہ میں بے اختیار ایک منٹ میں لڑھک گیا باجی نصرت کے ہونٹ تصویر پر چومتا ہوا میں مٹھ کگا کر فارغ ہوگیا مجھے اتنا سرور ملا کہ میں بے اختیار بیڈ پر گر کر سو گیا۔