Tue. Sep 15th, 2026
?>

 

یہ کہانی ہے راشد اور اس کی امی شازیہ
کی۔

راشد: عمر 22 سال،
سائز 5 انچ کرن
: عمر 29 سال،
سائز 36-28-38 میری امی (شازیہ)
: عمر 48 سال،
سائز 40-38-46

جیسے کہ میں نے پچھلی کہانی میں بتایا
کہ کیسے میں نے اپنی بڑی بہن کرن آپی کی چدائی کی۔ اور امی ایک ہفتے کے لیے خالہ
کے گھر گئی ہوئی تھیں اور ہم دونوں بہن بھائی پورا ہفتہ چدائی کرتے رہے۔

آج صبح امی گھر واپس آ چکی تھیں۔ میں
صبح اٹھا تو دیکھا امی کچن میں کرن آپی کے ساتھ ناشتہ بنا رہی تھیں۔ میں نے ہمیشہ
کی طرح کرن آپی کو پیچھے سے ہگ کیا اور ان کی گردن اور گال پر بوسہ دیا۔

یہ دیکھ کر امی فوراً بول پڑیں:
امی: بہت پیار
کرتا ہے بہن سے اور ماں کو پوچھتا تک نہیں تو۔

میں: فوراً کرن باجی
سے الگ ہوتے ہوئے امی کو پیچھے سے ہگ کیا اور امی کی گردن اور گال پر بوسہ دیا۔

امی: ہاں بس بس کافی
ہے اب ناشتہ کرو اور اسکول جاؤ۔

میں: میں نے ناشتہ
کیا اور اسکول چلا گیا۔ سارا دن میرے دماغ میں ایک ہی بات چلتی رہی کہ اب کیسے
چودوں گا باجی کو، اب امی واپس آ گئی ہیں۔

ایسی سوچ میں سارا دن گزر گیا، گھر
پہنچا تو میرا لنڈ فل ٹائٹ کھڑا تھا اور میں انڈرویئر نہیں پہنتا تھا۔

میں گھر جاتے ہی دیکھا تو امی صحن میں
کھڑی فون پر بات کر رہی تھیں۔ میں نے جاتے ہی امی کو پیچھے سے ہگ کیا اور گردن اور
گال پر بوسہ دیا، میرا لنڈ امی کے بڑے بڑے ہپس (چوتڑوں) میں ٹچ ہو رہا تھا۔

امی کو ہگ کرنے کے بعد میں اپنے روم
میں گیا تو کرن آپی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھیں۔ میں فوراً آپی کے اوپر چڑھ گیا اور
ہونٹوں پر بوسہ دیا۔

کرن آپی: کیا کر رہا ہے
پاگل؟ امی باہر کھڑی ہیں، دیکھ لیں گی۔ رات کو سوتے وقت کریں گے چدائی۔

میں: آپی، مجھ سے
برداشت نہیں ہو رہا اب۔ لیکن چلیں رات تک انتظار کر لیتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میں
باہر کھیلنے چلا گیا اور شام کو گھر واپس آیا۔

گھر آ کر کھانا کھایا اور سونے کے لیے
روم میں آیا تو دیکھا نیچے بستر لگا ہوا تھا اور آپی اور امی نیچے بستر پر لیٹی
ہوئی تھیں۔ میں بھی پاس لیٹ گیا۔

کرن آپی: چھوٹو، اب سے
امی بھی ہمارے ساتھ اسی روم میں سویا کریں گی۔

میں: یہ سنتے ہی میرا
تو دماغ ہی گھوم گیا۔ دماغ میں کرن آپی کی پھدی چل رہی تھی بس۔ اور سوچ رہا تھا کہ
اب کیسے چودوں گا۔

خیر، تین دن گزر گئے اور ہمیں موقع نہ
مل سکا کچھ کرنے کا۔ آج چوتھا دن تھا اور مجھ سے رہا نہیں جا رہا تھا اب۔

میں: آپی، کچھ کرو،
مجھ سے اب مزید برداشت نہیں ہوگا، آج چدائی لازمی کرنی ہے۔

کرن آپی: چھوٹو، امی ہر
وقت پاس ہی ہوتی ہیں۔ مجھے بتا میں کیا کر سکتی ہوں؟ تو ایک کام کر۔ آج امی پر
ٹرائی کر، رات کو سوتے ہوئے اگر امی کی چدائی ہو گئی آج تو امی ہمارے قابو میں آ
جائیں گی، پھر جب دل کرے گا ہم کر لیا کریں گے۔

میں: یہ ٹھیک ہے آپی۔
لیکن کیا امی آرام سے چدائی کروا لیں گی؟

کرن آپی: چھوٹو، تو ٹرائی
تو کر نا۔

میں: اوکے آپی، آج
کروں گا۔

اب ہم تینوں رات کا کھانا کھا کر لیٹ
چکے تھے، امی ہم دونوں بہن بھائی کے درمیان لیٹی تھیں۔

میں نے امی کے سونے کا انتظار کیا۔ جب
مجھے لگا امی سو گئی ہیں تو امی کے دودھ پر ہاتھ رکھا اور اپنی بائیں ٹانگ امی کی
جھانگوں (تھائیز) کے اوپر رکھ دی۔ اب میرا لنڈ امی کی بائیں ٹانگ کی سائیڈ پر ٹچ
ہو رہا تھا۔

کچھ دیر اسی طرح لیٹا رہا میں اور پھر
امی کے دودھ دبانا شروع کیا۔ امی گہری نیند سوئی ہوئی تھیں۔ میری ہمت بڑھی اور میں
نے اپنا ہاتھ امی کی چوت پر رکھ دیا۔ کچھ دیر شلوار کے اوپر سے ہی چوت کو رگڑتا
رہا۔ امی آرام سے سوئی ہوئی تھیں۔ اس بات سے میری ہمت اور بڑھ گئی اور میں نے اپنا
ہاتھ امی کی شلوار میں ڈال دیا۔ اور چوت پر رکھ دیا۔

امی اب تک بالکل آرام سے سوئی ہوئی
تھیں۔ ہاتھ چوت پر رکھنے سے مجھے محسوس ہوا امی کی چوت بالکل صاف تھی، بال صاف کیا
ہوا تھا امی نے۔

اب میں نے چوت کو تھوڑا رگڑا ہاتھ سے
اور پھر دو انگلیاں امی کی چوت کے سوراخ میں ڈال دیں۔ انگلیاں چوت میں جاتے ہی امی
فوراً اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ امی کی چوت سے باہر نکال لیا۔

امی: غصے سے۔ یہ کیا
کر رہا ہے تو؟ پاگل ہے کیا تو؟

میں: سوری امی، غلطی
سے ہو گیا، سوری۔

امی: چل اس طرف منہ
کر کے سو جا۔ اور اب اگر ایسی کوئی حرکت کی تو پھر دیکھنا۔

میں: اوکے، سوتا ہوں۔
یہ کہتے ہوئے میں لیٹ گیا۔ لیکن نیند کدھر آنی تھی، کچھ دیر لیٹا رہا اور پھر باتھ
روم میں گیا۔ مجھے اب امی کی چکنی اور پلین چوت دماغ میں گھوم رہی تھی۔ اور میں نے
اپنی امی کے نام کی مٹھ مار دی۔ اور روم میں آ کر سو گیا۔

صبح آنکھ کھلی تو دیکھا آپی روم میں
ہی تھیں، صفائی کر رہی تھیں۔

کرن آپی: اٹھ گیا تو۔ کیا
کیا رات کو؟

میں: امی کی آنکھ کھل
گئی اور مجھے بہت ڈانٹا۔

کرن آپی: اب امی کچن میں
ہیں۔ میں کچن میں جا رہی ہوں، میرے پیچھے آ جا۔ اور آ کر امی کو ہگ کر لینا جیسے
مجھے کرتا ہے اور اچھے سے اپنا لنڈ امی کے ہپس میں ٹچ کرنا تاکہ امی کو تیرا لنڈ
فیل ہو اور کچھ دیر امی کی گردن پر بوسہ بھی کرتے رہنا۔

میں: اوکے، جاؤ آپ۔ میں
آپی کے پیچھے گیا اور کچن میں جاتے ہی امی کو پیچھے سے ہگ کیا اور گردن پر بوسہ
دیا۔ میرا لنڈ امی کے ہپس کو ٹچ ہو رہا تھا۔ میں نے اپنا لنڈ امی کے ہپس میں دبا
کر کچھ جھٹکے مارے۔ آہستہ آہستہ۔ اور پھر امی نے آہستہ سے میرے کان میں بولا۔

امی: پیچھے ہٹ، کیا
کر رہا ہے؟ تیری بہن دیکھ لے گی، پیچھے ہٹ جلدی ورنہ ماروں گی بہت۔

میں: پیچھے ہٹتے
ہوئے۔ ناشتہ دو جلدی سے آپی، میں نے اسکول بھی جانا ہے۔

آپی نے ناشتہ دیا، میں نے ناشتہ کیا
اور اسکول چلا گیا۔ اسکول سے واپس آیا تو امی اور آپی کپڑے دھو رہی تھیں۔

میں: آتے ہی سب سے
پہلے امی کو پیچھے سے ہگ کیا اور اچھے سے گھسائی لگائی امی کو۔ اور بوسہ بھی کیا
گردن اور گال پر۔ پھر آپی کی طرف گیا تو آپی روم کی طرف چل پڑیں، میں بھی روم میں
آیا۔

کرن آپی: آج امی نے بس یہ
لمبی سی گاؤن پہنی ہوئی ہے، نہ نیچے شلوار پہنی ہے اور نہ ہی پینٹی، تو اپنی شلوار
میں سوراخ کر لے نیچے۔ اور کپڑے دھونے کے بعد جب امی روم میں آئیں گی تو میں بھی
روم میں ہی ہوں گی، تب امی کے اوپر چڑھ جانا اور مذاق کرنا بچوں کی طرح اور اسی
مذاق مذاق میں اپنا لنڈ امی کی چوت کو ٹچ کرتے رہنا، میرے سامنے امی کچھ نہیں
بولیں گی۔

میں: اوکے آپی، اسی
طرح کروں گا۔ اور میں نے فوراً اپنی شلوار میں بڑا سا سوراخ کر لیا اور لنڈ سوراخ
سے باہر نکال لیا۔ اور اب امی اور آپی کے روم میں آنے کا انتظار کرنے لگا۔

کچھ 30 منٹ بعد امی اور آپی روم میں
آئیں اور آ کر لیٹ گئیں۔ میں اٹھا اور واش روم میں گیا اور اپنے کھڑے لنڈ پر بہت
سارا تیل لگا کر روم میں آیا۔

میں: آج امی کی گود
میں سر رکھ کر لیٹوں گا، یہ کہتے ہوئے میں امی کے پاس آیا۔

امی: آ جا لیٹ جا۔

میں: امی نے چادر کی
ہوئی تھی اوپر، میں نے وہ چادر اٹھائی اور امی کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا اور چادر
اپنے کندھوں کے اوپر رکھ کر امی کے اوپر لیٹ گیا۔

اُفففففففففففففف دوستو کیا بتاؤں،
امی کے اوپر لیٹتے ہی میرا لنڈ امی کی چوت سے ٹکرا گیا۔ امی ایک دم ہلیں۔ لیکن آپی
کے وہاں ہونے کی وجہ سے کچھ بولی نہیں۔

میں نے ہلکا سا جھٹکا دیا تو فیل ہوا
کہ میرا لنڈ امی کی چوت کے سوراخ سے تھوڑا اوپر ہے۔ اس وقت میرا لنڈ امی کی چوت کے
ہونٹوں میں تھا۔

میں نے خود کو تھوڑا ایڈجسٹ کیا۔ اور
پھر ایک ہلکا سا جھٹکا دیا اور میرا لنڈ پورا امی کی چوت میں گھس گیا۔ امی کی ہلکی
سی آواز نکلی، آآآہہہہ۔

اُففففففففففففففففف اتنی گرم چوت تھی
امی کی، اتنی گرم تو کرن آپی کی چوت بھی نہیں ہے۔ لن اندر جاتے ہی مجھے تو مزہ ہی
آ گیا۔

امی: اپنا منہ میرے
کان کے پاس لاتے ہوئے آہستہ سے بولیں۔ بے غیرت، یہ کیا کر رہا ہے تو ذلیل انسان،
شرم نہیں آتی تجھے۔ اٹھ جا جلدی سے، تیری بہن دیکھ لے گی۔

میں: ہلکے ہلکے جھٹکے
مارنا شروع کیا۔ اب میرے لنڈ پر امی کی چوت کے پانی کی چکنائی محسوس ہو رہی تھی،
امی کی چوت گیلی ہو رہی تھی اور امی نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔

میں نے آپی کو آنکھ مار کر اشارہ کیا
باہر جانے کا۔

کرن آپی: امی، میں ذرا
ہمسائیوں کے گھر سے ہو آؤں۔

امی: جا بیٹا اور
جلدی واپس آنا۔

کرن آپی: اچھا امی، جلدی
آ جاؤں گی۔ یہ کہتے ہوئے کرن آپی باہر نکلیں اور مین گیٹ کھلنے اور پھر بند ہونے
کی آواز آئی۔

میں نے دروازے کی آواز سنتے ہی امی کی
دونوں ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ دیں اور تیزی سے چودنا شروع کیا۔

امی: حرامی، یہ کیا
کر دیا تو نے، اپنی ہی ماں کی چود رہا ہے کتے۔

میں: میں نے تیزی سے
چدائی جاری رکھی اور کچھ ہی منٹوں میں امی نے سسکیاں لینا شروع کر دیں اور کمر
اٹھا اٹھا کر چدائی کروا نے لگیں۔

امی: چود بیٹا، چود،
زور لگا بیٹا، پھاڑ دے آج اپنی ماں کی چوت کو۔

آآآآآآآآآآآہہہہہہہ اووووووہہہہہہہہہہہہہہ
اُفففففففففففففففففففففففففففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ
اُففففففففففففففف آآآآآآآآآآہہہہہہہ اُففففففففففففففف آآآآآآآآآآآہہہہہہہ اووووووہہہہہہہہہہہہہہ
اُفففففففففففففففففففففففففففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ
اُففففففففففففففف آآآآآآآآآآہہہہہہہ اُففففففففففففففف

یہ بہت سالوں سے پیاسی ہے بیٹا، زور
زور سے چود بیٹا، پھاڑ ڈال آج اپنی ماں کی چوت کو بیٹا۔

آآآآآآآآآآآہہہہہہہ اووووووہہہہہہہہہہہہہہ
اُفففففففففففففففففففففففففففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ
اُففففففففففففففف آآآآآآآآآآہہہہہہہ اُفففف آآآآآآآآآآہہہہہہہ اووووووہہہہہہہہہہہہہہ
اُفففففآہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ اُفففففف آآآآآآآآآآہہہہہہہ
اُفففففف

راشد بیٹاااااااا چوووووووووووڈ۔

آآآآآآآآآآآہہہہہہہ اُففففف آہ آہ آہ
آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ اُففففففف آآآآآآآآآآہہہہہہہ اُفففف آآآآآآآآآآآہہہہہہہ
اووووووہ اُفففففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہ اُففففففف آآآآآآآآآآہ
اُففففففف

میں: میں تیزی سے امی
کی چوت کو چاٹ رہا تھا، اب میں نے امی کی ٹانگیں اپنے کندھوں سے ہٹا کر زمین پر
رکھ دیں۔ اور امی کی گاؤن پوری اٹھا کر سر کے پیچھے رکھ دی اور امی کے نپلز باری
باری منہ میں ڈالنے لگا۔

امی: چوس بیٹا، چوس
اپنی ماں کے دودھ پی ان کو۔ اسی دودھ کو پی پی کر تو جوان ہوا ہے بیٹا، زور لگا۔

آآآآآآآآآآآہ اووووووہ اُففففف آہ آہ
آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ اُففففففف آآآآآآآآآہہہہہہہ اُففففف
آآآآآآآآآآآہ اووووووہ اُفففففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہ
اُفففف آآآآآآآآآآہ اُفففف

زور زور سے چود بیٹا اور دودھ بھی دبا
دبا کر چوس۔

میں: میں نے امی کے
نپلز منہ میں ڈالے ہوئے تھے اور چوستا جا رہا تھا اور دونوں نپلز کو باری باری
دانتوں میں دبا رہا تھا اور ساتھ چدائی بھی تیزی سے کر رہا تھا۔

امی: راشددددددددددددددددددد
آآآآآآآآآہہہہہہہ بیٹااااااا میں چھٹنے والی ہوں بیٹا۔ آآآآآآآآآآآہہ۔

آآآآآآآآآآآہہہہہہہ اووووووہہہہہہہہہہہہہہ
اُففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہ اُففآآآآآآہہہہہہہ
اُفففف آآآآآآآآآآآہ اووووووہ اُففف ہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہ
اُففففف آآآآآآآہ اُففففففف

میری چوت چھٹنے لگی ہے بیٹا۔ پانی
چھوڑنے لگی ہوں میں راشددددددددددددددددددد۔

آآآآآآآآآآآہ اوووووہ اُفففففف آہ آہ
آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہ اُففففف آآآآآآآآآآہ اُففففف آآآآآآآآآآآہ
اووووووہ اُفففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ اُفففف آآآآآآآآآآہ
اُفففف

تیز تیز چود بیٹا، میرا پانی چھوووووٹ
رہا ہے راشدددددددددددددددددددددددددددددددد۔

میرا نام لیتے ہوئے امی نے پانی چھوڑ
دیا اور ڈھیل پڑ گئیں۔

میں نے فوراً اپنا لنڈ چوت سے نکالا
اور امی کی چوت کو منہ لگا لیا۔

چوت کو منہ لگاتے ہی امی پھدک کر
پیچھے ہوئیں۔ لیکن میں نے منہ چوت پر سے نہیں ہٹایا۔

امی: بیٹا یہ گندی
جگہ ہے، یہ کیا کر رہا ہے تو راشدددددددددددددددددددد، منہ پیچھے ہٹا لے بیٹا، یہ
گندی جگہ ہے بیٹاااااا۔

میں: میں نے زبان امی
کی چوت کے ہونٹوں میں ڈالی اور تیزی سے زبان اوپر نیچے چوت کے ہونٹوں کے اندر کرنا
شروع کر دیا۔ اب میری زبان امی کی چوت میں ایسی اوپر نیچے ہو رہی تھی جیسے برش سے
کسی چیز کو پینٹ کرتے ہیں۔

کچھ ہی دیر چوت چاٹنے کے بعد امی:
امی: میں مر جاؤں
گی راشد بیٹا، میں مر جاؤں گی اگر اسی طرح چوت کو چوستا رہا تو۔ رُک جا، مجھ سے
برداشت نہیں ہو رہا بیٹا۔

آآآآآآآآآآآہ اووووووہ اُففف آہ آہ آہ
آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُاُف آہ آآآآآہ اُففآآہ اُفففف آآآآآآآآآآآہہہ اووووووہ اُففففف
آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہ اُفآآآآآآآآآہ اُفففہائے
اووووووووووووی راشد، بہت مزہ ہے اس میں بیٹا، مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا
راشدددددددددددددددددددددددددددددددد۔

آآآآآآآآآآآہ اووووووہ اُفففف آہ آہ
آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآہہ اُففففآآآآآآآآآہ اُفففففف آآآآآآآآآآآہ
اووووووہ اُفففف آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ اُفففففآآآآآآآآآآہ
اُفففف

میں پھر سے چھٹنے لگی ہوں بیٹااااااا۔
میں پھر سے چھٹنے لگی ہوں راشددددددددددددددددددددد آآآآآآآآآآآہہہہہہہ۔

آآآآآآآآآآآہہہہہہہ اووووووہ اُففففف آہ
آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہ اُفففف آآآآآآآآآآہہہہہہہ اُفففففف
آآآآآآآآآآآہہہہہہہ اووووووہہہ اُففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ
اُففف آآآآآآآآآآہ اُففف

راشدددددددددددددددددددددددددددددددد
میرے پیارے بیٹے، یہ کیا کر دیا تو نے۔ چاٹ بیٹا، چاٹ اپنی ماں کی چوت کو بیٹا،
چاٹ، میرا پانی چھٹنے لگا ہے بیٹاااااااااا۔

آآآآآآآآآآآہ اووووووہ اُففف آہ آہ آہ
آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ ففففف آآآآآآآآآآہ اُفففففف آآآآآآآآآآآہ
اووووووہ اُفففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ اُففف آآآآآآآآآآہ
اُفففف

یہ کہتے ہوئے امی نے پھر سے پانی چھوڑ
دیا، اس بار پانی میرے منہ میں چھوڑا جو میں نے اچھے سے چاٹ لیا۔

امی: مجھے اپنے اوپر
کھینچتے ہوئے زور سے ہگ کیا اور میرے پورے منہ پر بوسہ کرتے ہوئے بولیں۔ میرا بہت
اچھا بیٹا۔ میرا پیارا بیٹا راشد جوان بھی ہو گیا اور مجھے پتا بھی نہیں چلا۔

میں: امی، اب سے میں
آپ کا شوہر ہوں۔ اور آپ میری بیوی ہوں گی۔ میں اسی طرح روز آپ کی چوت کو چاٹوں گا
بھی اور چودوں گا بھی، یہ کہتے ہوئے میں نے لنڈ پھر سے امی کی چوت میں ڈالا اور
چودنا شروع کر دیا۔

امی: راشد میری جان،
میں تھک گئی ہوں اب۔ جلدی سے اپنا پانی نکال دو میرے پیارے راشد۔

میں: میں نے تیزی سے
امی کو چودنا شروع رکھا۔ کچھ 5-7 منٹ کی چدائی کے بعد امی پھر سے پوری طرح گرم ہو
چکی تھیں۔

امی: راشدددددددددددددددددددد
میری جان، پانی چھوڑ دے اب تو بھی جلدی سے۔آآآآآآآآآآآہ اووووووہہہہ اُفففففف آہ
آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ اُففف آآآآآآآآآآہہ اُففففف آآآآآآآآآآآہ
اووووووہ اُفففف آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہ اُففففف آآآآآآآآآآہ
اُفففففف

تیزی سے چود بیٹا۔ یہ کہتے ہوئے امی
نے مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا اور میری گردن کو دانتوں میں دبانا اور کاٹنا شروع کر
دیا۔

میں: تیزی سے امی کی
چوت کو چودتے ہوئے۔ میں نے بھی امی کی گردن پر دانتوں سے کاٹنا شروع کر دیا۔

آآآآآآآآآآآآآآآآآہ امی میرا پانی بھی
نکلنے لگا ہے امی میرا پانی نکلنے لگا ہے۔

امی: بیٹا زور زور سے
چود، میرا بھی پانی چھٹنے لگا ہے بیٹا۔ زور لگا بیٹا۔

آآآآآآآآآآآ۔۔اوووووووووووف
۔۔۔۔۔آآآآآآآآآآآہ ۔۔۔

میری چوت چھٹنے لگی ہے
راشدددددددددددددددددددددددددددددددد میری جان اووووووہففففففف آہ آہ آہ آہ آہ

میں: امی میرا لنڈ
بھی پانی چھوڑنے لگا ہے۔

آآآآآآآآآآآ آہ آہ آہ آہ آہ اُف اُف
اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہہہہہ اُففففف آآآآآآآآآآآہ اووووووہ اُففففف آہ آہ آہ آہ
آہ اُف اُف اُف اُف اُف اُف آہ آآآآآہ اُفففآآآآآآآآآآہ اُففف

آآآآآآہ ۔۔۔۔۔۔۔امی امی ۔۔اااامی
۔۔اااامی ۔۔

میرا لن
امی کی چوت میں جھٹکے کھانے لگا اور میں اور امی ایک ساتھ ہی فارغ ہوگئے میں نڈھال
ہوکر امی کے اوپر گر پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *