Fri. Sep 11th, 2026
?>

آنٹی اور ان کی خوبصورت بیٹی

 

 

میرا نام وقار ہے ۔ میں پنجاب کے ایک گاؤں کا رہنے والا
ہوں ۔ بات اس وقت کی ہے جب میں گاؤں سے بارہویں کی پڑھائی مکمل کرکے پہلی بار شہر  آیا تھا۔ وہاں میرے ایک دوست نے اپنے پڑوس میں
ایک کرائے کا کمرہ دلوا دیا۔ اس مکان میں ایک آنٹی اور ان کی ایک بیٹی رہتی تھیں۔ آنٹی
کے شوہر باہر کاروبار کرتے تھے، اس لیے ان کا گھر آنا جانا کم ہوتا تھا۔ ویسے تو
آنٹی بہت سخت مزاج کی تھیں، لیکن دل کی بہت اچھی تھیں۔ دیکھنے میں بھی آنٹی ایک
زبردست مال تھیں۔ میرے خیال سے جو بھی انہیں دیکھتا ہوگا، وہ ضرور ایک بار انہیں
چودنے کی خواہش کرتا ہوگا۔ مجھے خود بھی انہیں دیکھ کر لگا کہ اگر آنٹی کبھی مجھے
کبڈی کھیلنے کا موقع دیں گی تو مجھ سے زیادہ خوش نصیب کوئی نہیں ہوگا۔

آنٹی کے مکان میں صرف ایک ہی کمرہ تھا جو کرائے پر دیا
جاتا تھا۔ ان سے بات ہوگئی اور آنٹی نے مجھے سارے قواعد و ضوابط سمجھا دیے۔ میں
وہاں رہنے لگا۔ کچھ دنوں بعد جب میرا دل نہیں لگا تو میں چھت پر گھومنے جانے لگا۔ وہاں
پر مکان مالکن کی بیٹی ناہید بھی آ گئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور
میں ہلکے سے مسکرا کر رہ گیا۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ ہیلو بولے گی تو میں بھی ہائے
بول دوں گا۔ مگر وہ میری طرف دیکھ کر واپس نیچے چلی گئی۔ میں حیران ہو گیا کہ یہ
کیا ہوا۔ پھر سوچا کہ شاید شرمیلی ہوگی، اسی لیے واپس چلی گئی۔

کچھ دیر بعد وہ واپس آئی اور اس بار وہ ایک کتاب لے کر
آئی تھی۔ اس کے آتے ہی میں نے اس سے ہیلو کہا۔ وہ بھی مجھ سے ہائے کہہ کر کتاب
پڑھنے لگی۔ پھر ایک دو دن بعد ہماری آپس میں بات چیت شروع ہوئی۔ کبھی کبھار میں اس
کی چھاتیوں کو بڑے غور سے دیکھنے لگتا تھا۔ اس کی چھاتیاں بالکل کسی پلاسٹک کی
بوتل کی طرح لگتی تھیں، نوک ایکدمن سامنے کو تنی ہوئی۔ شاید 28 انچ کے سائز کی
چھاتیاں ہوں گی۔ وہ گھر میں کیپری یا ہاف نکر پسند کرتی تھی، جس سے اس کی سنگ  مرمر جیسی رانوں کو دیکھ کر لنڈ احتجاج کرنے
لگتا تھا۔ اس کے پورے جسم کو چومنے  کا دل
کرنے لگتا تھا۔ اس نے بھی کئی بار یہ نوٹس کیا کہ میں اس کی چھاتیوں اور گانڈ کو
دیکھتا ہوں۔ لیکن اس نے کبھی کچھ نہیں کہا۔ بس ہلکی سی مسکراہٹ دے کر چلی جاتی
تھی۔

بعد میں جب ناہید سے پوری بات چیت شروع ہوئی تو میں نے
اس کی خوبصورتی کی تعریف کرنا شروع کی۔ شروعات میں تو وہ شرما جاتی تھی، لیکن پھر
اسے اپنی تعریف سننا اچھا لگنے لگا اور اب وہ کچھ بن سنور کر میرے سامنے آنے لگی
تھی۔ اسی طرح ایک دن آنٹی جی سے بھی چھت پر ملاقات ہوگئی اور ان سے بھی باتیں شروع
ہوگئیں۔ وہ مجھ سے کچھ زیادہ ہی ہنس کر باتیں کرنے لگی تھیں، جس سے مجھے لگنے لگا
کہ جو جذبات میں ناہید کے لیے اپنے دل میں سوچتا ہوں، وہی جذبات یہ آنٹی میرے لیے
رکھتی ہیں۔ اس کا مطلب صاف لگ رہا تھا کہ آنٹی مجھے کھا جانے کا نظریہ رکھتی تھیں۔
لیکن اتنی جلدی کچھ کہنا مناسب نہیں تھا۔ بس میں آنٹی کی حرکات پر نظر رکھنے لگا
اور ان کے خود سے دکھانے پر میں بڑے غور سے ان کے دودھ اور گانڈ کا دیدار کرنے
لگا۔

وہ بھی اب میرا بہت اچھے سے خیال رکھنے لگی تھیں۔ وہ
مجھ سے کافی قریب ہوگئی تھیں۔ حالت یہ ہوگئی تھی کہ اگر آنٹی کو کوئی کام ہوتا تو
وہ مجھے ہی کہتی تھیں۔ میں بھی فوراً ان کا کام کر دیتا تھا۔ اب میں اپنے کمرے میں
کم اور ان کے گھر میں زیادہ رہنے لگا تھا۔

ایک دن کسی وجہ سے آنٹی جی کو دو دن کے لیے گھر سے باہر
جانا پڑا۔ ان کی بیٹی ناہید رات کو گھر پر اکیلی رہنے والی تھی۔ باہر جانے سے پہلے
آنٹی جی مجھے کہنا بھول گئیں کہ ناہید کا خیال رکھنا اور وہ چلی گئیں۔ رات کو 9
بجے ناہید میرے کمرے میں آئی اور بولی- مجھے ڈر لگ رہا ہے، کیا میں آپ کے ساتھ سو
سکتی ہوں؟ میں نے بھی انکار نہیں کیا۔ مجھے لگنے لگا کہ شاید آج میرا کام ہو جائے
گا۔

وہ آ کر میرے پاس سو گئی۔ دسمبر کا مہینہ تھا تو سردی
بہت زیادہ پڑ رہی تھی۔ میرے پاس ایک ہی رضائی تھی۔ وہ بھی میں نے اسے اوڑھا دی۔ اب
مجھے زیادہ سردی لگنے لگی۔ میں اس کے پاس رضائی میں گھس گیا۔ اس کی گرم گرم سانسیں
میرے اندر میرے دل کو ہلا رہی تھیں۔ میں نے اسے آواز دی کہ اس سے پوچھ لوں کہ اسے
میرے ساتھ اس طرح سونا اچھا لگ رہا ہے یا نہیں۔ مگر اس نے میری آواز کا کوئی جواب
نہیں دیا تو میں بھی بے فکر ہو گیا۔

اب میں اس سے چپک گیا۔ پھر پتہ نہیں میرے دل میں کیا
آیا، میں نے آہستہ آہستہ اس کے مموں پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور اس کی چھاتیوں کو
دبانے لگا۔ وہ شاید جاگ رہی تھی۔ اس کی سانسیں گرم ہونے لگیں۔ میں نے سوچا کہ جو
ہوگا، سو دیکھا جائے گا۔ میں نے اسے اپنی طرف موڑا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ
رکھ دیے۔ وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں ایک دوسرے میں کھوتے
چلے گئے اور میں نے اس کے سارے کپڑے اتار دیے۔

پھر اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے آہستہ آہستہ نیچے کو
بڑھ گیا۔ میں چھاتی کے پاس پہنچ کر اس کے چکنے مموں  کو سہلانے لگا۔ میں نے بہت پیار سے اس کے دودھ
چوسے اور پیٹ پر بوسہ دیتے ہوئے چوت پر آ گیا۔ میں اس کی چوت چاٹنے لگا۔ اس کی چوت
کا ذائقہ بہت ہی مزیدار تھا مجھے بہت مزا آنے لگا۔ میں نے پہلی بار چوت چاٹنے کا
کام کیا تھا۔ پھر ہم دونوں 69 کی پوزیشن میں آ گئے۔ دس منٹ تک ایک دوسرے کی چوت
اور لنڈ چاٹتے رہے اور ہم دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔

ہم نے دوبارہ بوسہ لینا شروع کیا اور آہستہ آہستہ میرا لوڑا
تیار ہو گیا۔ میں نے پاس میں رکھی کریم لی اور تھوڑی اس کی چوت پر لگا دی۔ کچھ
اپنے لنڈ پر بھی لگائی اور اس کی چوت پر لنڈ رکھ کر ایک ہی بار میں دھکا دے دیا۔ میرا
7 انچ کا لوڑا اس کی چوت کو چیرتا ہوا اندر چلا گیا اور وہ درد سے تڑپنے لگی۔ لیکن
میں نے اسے نہیں چھوڑا اور آواز کو بند کرنے کے لیے اس کے منہ پر منہ لگا دیا۔ ایک
منٹ بعد اسے تھوڑا آرام ملا تو میں نے آہستہ آہستہ دھکے دینا شروع کیے۔ وہ پھر سے
عجیب عجیب سی آوازیں نکالنے لگی۔ اس بار اس کی آوازوں میں کاموکتا تھی ‘اور تیز …
آہ اور تیز۔

اس کی آوازیں سن کر میرے بھی دل میں عجیب ہلچل ہونے لگی
اور میں پوری رفتار سے دھکے لگانے لگا۔ کچھ 15 منٹ کے بعد میں جھڑ گیا۔ اس دوران
وہ دو بار جھڑ چکی تھی۔ اسی طرح پوری رات ہم نے چار بار چدائی کی اور صبح وہ اپنے
گھر چلی گئی۔ اب جب بھی ہمیں موقع ملتا، ہم چدائی کر لیتے ہیں۔

ایک دن آنٹی کسی کام کے بہانے باہر چلی گئیں۔ ہمیں پھر
موقع ملا تو ہم دونوں فل گرم ہوکر  چدائی
کرنے لگے۔ لیکن ہمیں خیال نہیں رہا اور میرے کمرے کی کھڑکی کھلی رہ گئی۔ آنٹی بہت
جلدی گھر واپس آ گئیں اور انہوں نے کھڑکی سے ہمیں چدائی کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ وہ
ہمیں کافی دیر سے دیکھ رہی تھیں، اس کا مجھے کچھ اندازہ ہو گیا تھا۔ پھر میں نے بھی
دیکھ لیا کہ وہ بار بار میرے لوڑے کو دیکھ رہی تھیں۔ پہلے تو ڈر لگا، لیکن جب وہ
میرے لوڑے کو دیکھتی ہوئی دکھائی دیں تو میں سمجھ گیا کہ آنٹی کی چوت بھی ملنے
والی ہے۔

اس وقت تو آنٹی نے کچھ نہیں کہا۔ وہ وہاں سے چلی گئیں۔ اس
دن شام کو میں شرم کی وجہ سے آنٹی کے پاس نہیں گیا۔ پھر ناہید کو اگلے دن اسکول
جانا تھا۔ اس کے اسکول جانے کے بعد آنٹی میرے کمرے میں آئیں اور مجھ پر غصہ کرنے
لگیں۔ وہ مجھ سے کمرہ خالی کرنے کے لیے کہنے لگیں۔ میں بھی آنٹی کے سامنے ہاتھ جوڑ
کر کھڑا ہو گیا- آنٹی پلیز مجھے معاف کر دیں، آپ جو کہیں گی … میں کروں گا۔ پلیز
مجھے یہاں سے نہ نکالیں۔

پھر کیا تھا … آنٹی کو شاید یہی سننے کا دل تھا۔ آنٹی
بولیں- جو تو نے میری بیٹی کے ساتھ کیا ہے، وہی میرے ساتھ بھی کرو گے تو ہی یہاں
رہ پاؤ گے۔ میں دل ہی دل میں بہت خوش ہو رہا تھا لیکن اوپر سے انکار کر رہا تھا۔ میں
نے کہا- نہیں آنٹی، آپ ناہید کی ماں ہیں۔ میں آپ کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا۔ آنٹی
بولیں تو تمہیں یہاں سے جانا ہوگا۔

بس پھر کیا تھا … میں نے مجبوری دکھانے کا ڈرامہ کیا
اور ہاں کر دی۔ پھر اپنے سے عمر میں کافی بڑی، آنٹی کے ساتھ بوسہ لینے لگا اور ان
کی چھاتیوں کو چوسنے لگا۔ آنٹی نے جلد ہی اپنے سارے کپڑے اتار دیے۔ قسم سے انہیں
دیکھ کر ایسا بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ ان کی عمر اتنی ہے۔ وہ بالکل نئی لڑکی کی
طرح لگ رہی تھیں۔

آنٹی کو میں نے بستر پر لٹا دیا اور ان کی چوت چاٹنے
لگا۔ شاید ان کی چوت بہت دنوں بعد کسی نے چاٹی تھی اس لیے انہیں چوت چٹوانے میں
بہت مزا آ رہا تھا۔ وہ بار بار میرا سر چوت میں گھسا رہی تھیں اور بول رہی تھیں
وکی  بیٹا اور تیز،وکی  بیٹا اور تیز
!
پھر ہم دونوں 69 کی پوزیشن میں آ گئے اور وہ میرا 7 انچ
کا لوڑا اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگیں۔ میں بھی آنٹی کی چوت چاٹنے لگا۔ کچھ منٹ
کے بعد ہم دونوں جھڑ گئے اور لیٹ گئے۔

دس منٹ آرام کرنے کے بعد ہم دونوں نے دوبارہ بوسہ لینا
شروع کر دیا۔ کچھ منٹ بعد میرا لوڑا پھر سے کھڑا ہو گیا۔ اب شروع ہوا ہمارا چدائی
کا کھیل۔ لگ رہا تھا کہ کافی دنوں سے ان کی چوت چدی ہی نہیں تھی اس لیے بہت ٹائٹ
لگ رہی تھی۔ پھر میں نے اپنا لوڑا ان کی چوت پر رکھا اور ایک زوردار جھٹکا دے دیا۔
تیز شاٹ لگنے سے میرا پورا لوڑا ان کی چوت میں چلا گیا اور وہ درد سے کراہ اٹھیں۔ کچھ
دیر بعد لنڈ چوت کا ملاپ بڑے ہی آنند سے چلنے لگا۔ آنٹی مزے سے چوت رگڑوا رہی تھیں
اور مجھے چوم رہی تھیں۔ کوئی 15 منٹ کی چدائی میں آنٹی دو بار جھڑ چکی تھیں۔ میرا
لنڈ بھی اب جھڑنے کے قریب  تھا۔

میں نے کہا  آنٹی، مال ٹپکنے والا ہے، بتاؤ کہاں نکالوں؟ آنٹی
نے کہا  میرے منہ میں نکالو۔ میں نے اپنا لوڑا
باہر نکال کر ان کے منہ میں رکھ دیا اور چسوانے لگا۔ آنٹی بڑے پیار سے لنڈ کا سارا
پانی پی گئیں ۔ ناہید کے آنے تک ہم دونوں نے تین بار چدائی کی۔ بعد میں آنٹی نے
جاتے ہوئے کہا  اس بارے میں ناہید کو کچھ
پتہ نہیں لگنا چاہیے۔ میں نے بھی کہہ دیا  میرا اشارہ ملتے ہی آپ باہر چلی جایا کرو۔ مجھے ناہید
کی ملتی رہنی چاہیے۔ آنٹی ہنس کر مان گئیں۔

اب جب بھی مجھے موقع ملتا ہے، میں ماں بیٹی دونوں کی
الگ الگ چدائی کر لیتا ہوں۔ مجھے اس دن کا انتظار ہے جب میں دونوں ماں بیٹی کو ایک
ساتھ ایک ہی بستر پر پٹک کر چودوں گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *